Legal Insights with Adv. Uzair Ali Bosal



Legal Insights with Adv. Uzair Ali Bosal

Contact for legal services : 03161790667
Office 51 District Bar Association Mandi Bahauddin
Office F14 District Bar Association Gujrat

پنجاب پراپرٹی اونر شپ ترمیمی ایکٹ، 36 اضلاع میں ٹربیونلز نامزدلیہ میں محمد پرویز نواز ایڈیشنل سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونل ...
06/06/2026

پنجاب پراپرٹی اونر شپ ترمیمی ایکٹ، 36 اضلاع میں ٹربیونلز نامزد
لیہ میں محمد پرویز نواز ایڈیشنل سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونل مقرر

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب کے 36 اضلاع میں ایڈیشنل سیشن ججز کو ٹربیونلز مقرر کرکے فہرست پنجاب حکومت کو ارسال کردی جبکہ مجموعی طور پر 575 کیسز میں حکمِ امتناعی ختم کرتے ہوئے تمام کیسز ٹربیونلز کو بھجوا دیئے گئے ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی ترمیمی ایکٹ کے تحت 36 ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور ٹربیونلز نامزد کیا ہے۔

لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ سوہل، قصور میں محمد اشفاق، اٹک میں ندیم احمد سہیل چیمہ، بہاولنگر میں محمد صلابت جاوید، بہاولپور میں ساحر اسلام، بھکر میں محمد اعظم جاوید، چنیوٹ میں نعیم عباس، چکوال میں قاسم علی بھٹی، ڈیرہ غازی خان میں سرفراز حسین، فیصل آباد میں عمران شفیع خان، گوجرانوالہ میں محمد فرحان نبی، گجرات میں مظفر نواز ملک، حافظ آباد میں عمر رشید، جھنگ میں عمر فاروق خان، جہلم میں مرزا اورنگ زیب، خانیوال میں عبداللہ عثمان، خوشاب میں محمد بشیر، لودھراں میں حمد ایاز۔۔۔

لیہ میں محمد پرویز نواز، منڈی بہائوالدین میں محمد فخر آفتاب احمد، میانوالی میں عبدالغفور، ملتان میں غزالہ یاسمین، مظفرگڑھ میں محمد احمد حسنین خان، نارووال میں عالم شیر، ننکانہ صاحب میں مجاہد شیر دل چیمہ، اوکاڑہ میں خلیل احمد خان، پاکپتن میں اسد حفیظ، راولپنڈی میں چودھری قاسم جاوید، راجن پور میں محمد اشرف، رحیم یار خان میں محمد بلال، ساہیوال میں محمد نعیم، سیالکوٹ میں عابد رضا خان، شیخوپورہ میں عبدالحمید، سرگودھا میں ظفر حیات، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں محمد کاشف اور وہاڑی میں محمد عمران فرائض انجام دیں گے۔

ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں کمیٹی نے زمینوں پر قبضوں کے خلاف سفارشات مرتب کرکے ٹربیونلز کو بھجوا دی ہیں۔

ٹربیونلز کو اختیار ہوگا کہ وہ قبضہ پولیس کے ذریعے واگزار کروائیں اور جرم ثابت ہونے پر ملزموں کو 3 سے 10 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا دے سکیں، اگر کوئی کیس کسی عدالت میں زیر التوا ہوگا تو دونوں میں سے کوئی بھی فریق درخواست دے کر اسے ڈی سی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو منتقل کرنے کی استدعا کرسکے گا ،تاہم حتمی فیصلہ عدالت کا ہوگا۔

اس سے قبل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے مبینہ غلط استعمال پر حکم امتناعی جاری کیا تھا۔ بعد ازاں پنجاب حکومت نے قانون میں ترمیم کی، جس کے بعد ہائیکورٹ میں زیر التوا تمام حکم امتناعی ختم کر دئیے گئے۔

علاوہ ازیں ایڈیشنل سیشن ججز ٹربیونلز میں فرائض انجام د یں گے، فہرست پنجاب حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے جبکہ حکم امتناعی ختم کرکے 575 کیسز ٹربیونلز کو بھیج دئیے گئے ہیں، ٹربیونلز کو قبضہ پولیس کے ذریعے واگزار کرانے ،جرم ثابت ہونے پر ملزموں کو 3 سے 10 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔


Legal Insights with Adv. Uzair Ali Bosal

حکومتِ پاکستان کی جانب سے گرمیوں کے موسم کے پیشِ نظر کاروباری مراکز کے اوقات کار میں تبدیلی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔نئے ا...
03/06/2026

حکومتِ پاکستان کی جانب سے گرمیوں کے موسم کے پیشِ نظر کاروباری مراکز کے اوقات کار میں تبدیلی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
نئے اوقات کار (فوری طور پر نافذ العمل):
دکانیں، مارکیٹیں، اور شاپنگ مالز: رات 9:00 بجے تک۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات: رات 10:00 بجے تک۔
ریسٹورنٹس اور فوڈ آؤٹ لیٹس: رات 11:00 بجے تک (ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری مستثنیٰ)۔
مستثنیٰ ادارے:
فارمیسی، ہسپتال، بیکریاں، تندور، دودھ دہی کی دکانیں، فیول/CNG پمپس، جم، اور IT کمپنیاں ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔
تمام صوبائی اور علاقائی حکومتوں کو ان اوقات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

میڈم نائلہ ولی سول جج ملکوال کو چوکیدار سول کورٹ کی جانب سے حراساں و بری نیت کی وجہ سے مقدمہ درجLegal Insights with Adv....
02/06/2026

میڈم نائلہ ولی سول جج ملکوال کو چوکیدار سول کورٹ کی جانب سے حراساں و بری نیت کی وجہ سے مقدمہ درج


Legal Insights with Adv. Uzair Ali Bosal

پنجاب میں چار نئے اضلاع کا قیام!یکم جون 2026ء کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق حکومتِ پنجاب نے پنجاب لینڈ ریونیو ایک...
01/06/2026

پنجاب میں چار نئے اضلاع کا قیام!

یکم جون 2026ء کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق حکومتِ پنجاب نے پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967ء کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے صوبے میں چار نئے اضلاع کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں پنجاب میں اضلاع کی مجموعی تعداد 41 سے بڑھ کر 45 ہو گئی ہے۔

نو تشکیل شدہ اضلاع درج ذیل ہیں:

1۔ ضلع پتوکی – سابقہ ضلع قصور سے الگ کر کے قائم کیا گیا، جبکہ اس کا ضلعی ہیڈکوارٹر پتوکی شہر ہوگا۔

2۔ ضلع دیپالپور – سابقہ ضلع اوکاڑہ سے الگ کر کے قائم کیا گیا، جبکہ اس کا ضلعی ہیڈکوارٹر دیپالپور شہر ہوگا۔

3۔ ضلع حاصل پور – سابقہ ضلع بہاولپور سے الگ کر کے قائم کیا گیا، جبکہ اس کا ضلعی ہیڈکوارٹر حاصل پور شہر ہوگا۔

4۔ ضلع ہارون آباد – سابقہ ضلع بہاولنگر سے الگ کر کے قائم کیا گیا، جبکہ اس کا ضلعی ہیڈکوارٹر ہارون آباد شہر ہوگا۔

حکومتِ پنجاب نے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طور پر ضلعی دفاتر کے قیام، وسائل کی فراہمی، انتظامی ڈھانچے کی تشکیل اور عملے کی تعیناتی کے اقدامات مکمل کریں تاکہ نئے اضلاع میں عوام کو بہتر اور مؤثر سرکاری خدمات فراہم کی جا۔ پنجاب میں نئے صوبوں کی بجائے نئے ضلعے بنائے جا رہے ہیں۔ پنجاب کی تقسیم نہیں کی جا رہی



Legal Insights with Adv. Uzair Ali Bosal

بغیر پٹہ ملکیت (صوبائ حکومت والا) رقبہ کی منتقلی پر پابندی ختم---🚨 بریکنگ نیوز | بہاولپور ڈویژن 🚨🌾 سرکاری زرعی اراضی کے ...
31/05/2026

بغیر پٹہ ملکیت (صوبائ حکومت والا) رقبہ کی منتقلی پر پابندی ختم---
🚨 بریکنگ نیوز | بہاولپور ڈویژن 🚨
🌾 سرکاری زرعی اراضی کے ٹیننسی رائٹس کی منتقلی پر عائد پابندی ختم
بہاولپور ڈویژن کے کسانوں، آبادکاروں اور سرکاری زرعی زمین رکھنے والے افراد کے لیے اہم پیش رفت۔
کمشنر بہاولپور ڈویژن کی منظوری سے کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈز ایکٹ 1912 کی دفعہ 19 کے تحت جاری سابقہ پابندی ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد بہاولپور ڈویژن میں سرکاری زرعی زمین کے ٹیننسی رائٹس (Tenancy Rights) کی منتقلی دوبارہ ممکن ہو گئی ہے۔
📄 آرڈر کی اہم نکات:
✅ پابندی فوری طور پر ختم
بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان اضلاع میں سرکاری زرعی اراضی کے ٹیننسی حقوق کی منتقلی، خرید و فروخت، وراثتی انتقال اور دیگر قانونی معاملات دوبارہ شروع ہو سکیں گے۔
⚠️ اوکاڑہ سکیم متاثرین مستثنیٰ
چولستان کے علاقے میں اوکاڑہ سکیم سے متعلق متاثرین کے کیسز پر پابندی بدستور برقرار رہے گی اور تحقیقات مکمل ہونے تک منتقلی کی اجازت نہیں ہوگی۔
💻 RCMS سسٹم لازمی قرار
اب دفعہ 19 کے تحت تمام نئے کیسز اور اپیلیں صرف RCMS (Revenue Case Management System) کے ذریعے دائر کی جائیں گی۔ متعلقہ حکام کو تمام مقدمات کی ماہانہ رپورٹ بھی پیش کرنا ہوگی۔
🌱 کسانوں اور آبادکاروں کے لیے کیا فائدہ؟
✔ رکے ہوئے انتقالات اور زمینی معاملات دوبارہ شروع ہوں گے۔
✔ وراثتی تقسیم اور قانونی منتقلی کا عمل آسان ہوگا۔
✔ لینڈ ریکارڈ مزید شفاف اور ڈیجیٹل ہوگا۔
✔ غیر قانونی لین دین اور فراڈ کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
📌 آرڈر نمبر: PA/158-62
📅 تاریخ اجرا: 29 مئی 2026
🏛 جاری کنندہ: اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو)، بہاولپور ڈویژن
🔹 اہم ہدایت:
کسی بھی زمینی لین دین یا منتقلی سے قبل اپنے متعلقہ تحصیل آفس، پٹواری یا ریونیو حکام سے RCMS پر کیس یا زمین کا اسٹیٹس ضرور چیک کریں تاکہ کسی بھی قانونی پیچیدگی یا فراڈ سے بچا جا سکے۔

🌾📢

ٹیکس نظام میں شفافیت اور انصاف کی جانب ایک بڑا قدم! حکومت پنجاب کا FBR اور PLRA کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کا اقدام جعلی چالا...
29/05/2026

ٹیکس نظام میں شفافیت اور انصاف کی جانب ایک بڑا قدم!
حکومت پنجاب کا FBR اور PLRA کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کا اقدام جعلی چالانوں کے خاتمے اور کرپشن کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اب ٹیکس نظام ہوگا مزید شفاف، مضبوط اور قابلِ اعتماد۔
www.punjab-zameen.gov.pk
www.pulse.gop.pk

لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے گرمیوں کی چھٹیوں کا نوٹیفیکیشن                                       @
25/05/2026

لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے گرمیوں کی چھٹیوں کا نوٹیفیکیشن

@

پنجاب حکومت کا عید الاضحیٰ کے موقع پر 3 چھٹیوں کا اعلان، پنجاب بھر میں 26 مئی سے 28 مئی تک عام تعطیل ہوگی، نوٹیفیکیشن
24/05/2026

پنجاب حکومت کا عید الاضحیٰ کے موقع پر 3 چھٹیوں کا اعلان، پنجاب بھر میں 26 مئی سے 28 مئی تک عام تعطیل ہوگی، نوٹیفیکیشن

* پنجاب میں چوکیدارہ نظام کی بحالی - دیہی تحفظ کی طرف ایک اہم قدم**تعارف*  بورڈ آف ریونیو پنجاب نے 7 مئی 2025 کو ایک اہم...
23/05/2026

* پنجاب میں چوکیدارہ نظام کی بحالی - دیہی تحفظ کی طرف ایک اہم قدم*

*تعارف*
بورڈ آف ریونیو پنجاب نے 7 مئی 2025 کو ایک اہم مراسلہ نمبر 1225-2025/3179-LR-V جاری کیا ہے۔ اس مراسلے میں پنجاب بھر کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو "چوکیدارہ سسٹم" کے حوالے سے واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ یہ اقدام دیہی علاقوں میں صدیوں پرانے تحفظ کے نظام کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش ہے۔

*چوکیدارہ نظام کیا ہے؟*
چوکیدارہ نظام برصغیر کا سب سے پرانا دیہی نگرانی کا نظام ہے۔ ہر گاؤں میں ایک چوکیدار مقرر ہوتا تھا جس کی ذمہ داری رات کو پہرہ دینا، مشکوک افراد پر نظر رکھنا، فصلوں کی حفاظت اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں نمبردار و پٹواری کو اطلاع دینا ہوتی تھی۔ وقت کے ساتھ یہ نظام کمزور پڑ گیا اور اکثر دیہات میں چوکیدار کی آسامیاں خالی پڑی ہیں یا تنخواہیں کئی کئی ماہ التوا کا شکار رہتی ہیں۔

*نئے مراسلے کے اہم نکات*
21 فروری 2025 کو ہونے والے فل بورڈ اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں دو بنیادی ہدایات جاری کی گئی ہیں:

1. *بروقت تنخواہوں کی ادائیگی*: ہر گھر/دکان سے ماہانہ 50 روپے لوکل ریٹ اکٹھا کر کے دیہی چوکیداروں کو بروقت تنخواہ دی جائے گی۔ اس سے چوکیداروں کا معاشی استحصال ختم ہوگا۔
2. *خالی آسامیوں پر بھرتی*: گاؤں کے چوکیداروں کی تمام خالی آسامیاں ترجیحی بنیادوں پر پُر کی جائیں گی۔ اس سے دیہات میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

*اس فیصلے کی اہمیت*
1. *دیہی جرائم میں کمی*: چوری، مویشی چوری اور فصلوں کو نقصان کے واقعات میں کمی آئے گی کیونکہ رات کا پہرہ بحال ہو جائے گا۔
2. *ریونیو عملے کی معاونت*: پٹواری اور نمبردار کو زمینی حقائق کی بروقت اطلاع ملے گی۔ حدبراری، تجاوزات اور آبیانہ کی وصولی میں آسانی ہوگی۔
3. *مقامی نگرانی*: پولیس ہر گاؤں میں 24 گھنٹے موجود نہیں رہ سکتی۔ چوکیدار مقامی سطح پر "ارلی وارننگ سسٹم" کا کردار ادا کرتا ہے۔
4. *معاشی پہلو*: 50 روپے فی گھر ایک معمولی رقم ہے لیکن پورے گاؤں سے جمع ہو کر یہ ایک چوکیدار کا باعزت گزارہ بن سکتی ہے۔

*درپیش چیلنجز*
1. *وصولی کا طریقہ کار*: 50 روپے فی گھر کون اور کیسے جمع کرے گا؟ نمبردار یا پٹواری پر اضافی بوجھ نہ بنے، اس کا واضح میکنزم بنانا ہوگا۔
2. *شفافیت*: جمع شدہ رقم کا ریکارڈ اور چوکیدار کو ادائیگی کا نظام شفاف ہونا چاہیے تاکہ کرپشن نہ ہو۔
3. *چوکیدار کا انتخاب*: میرٹ پر مقامی، ایماندار اور چاق و چوبند افراد کا تقرر ضروری ہے۔ سیاسی مداخلت سے نظام پھر ناکام ہو جائے گا۔

*سفارشات*
1. ہر یونین کونسل کی سطح پر "چوکیدارہ کمیٹی" بنائی جائے جس میں نمبردار، پٹواری اور معززین شامل ہوں۔
2. تنخواہ کی ادائیگی بینک یا جاز کیش کے ذریعے کی جائے تاکہ ریکارڈ رہے۔
3. چوکیداروں کو وردی، ٹارچ، سیٹی اور موبائل کا بنیادی سامان دیا جائے۔
4. DC صاحبان ماہانہ بنیاد پر اس کی مانیٹرنگ کریں جیسا مراسلے میں کہا گیا ہے کہ "letter & spirit" میں عمل ہو۔

چوکیدارہ نظام کی بحالی صرف ایک نوکری کا مسئلہ نہیں بلکہ دیہی پنجاب کے سماجی تحفظ کا مسئلہ ہے۔ اگر 50 روپے فی گھر سے ہر گاؤں محفوظ ہو سکتا ہے تو یہ قیمت بہت کم ہے۔ بورڈ آف ریونیو کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے، اب اصل امتحان ضلعی انتظامیہ کا ہے کہ وہ اسے زمین پر کتنی ایمانداری سے نافذ کرتی ہے۔ فعال چوکیدارہ نظام مضبوط ریونیو نظام کی بنیاد ہے۔@

Punjab Protection of Ownership of Immovable Property (Amendment) Act 2026 ###VII of 202614 May 2026
21/05/2026

Punjab Protection of Ownership of Immovable Property (Amendment) Act 2026
###VII of 2026
14 May 2026

Address

District Judicial Complex Mandi Bahauddin
Malakwal
50400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Insights with Adv. Uzair Ali Bosal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share