Jamil's Law Associates

Jamil's Law Associates jamils-law-associates.business.site

جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے۔ جیسے باپ کو ہمارے مسائل، تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں، یہ نئ...
16/01/2026

جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے۔ جیسے باپ کو ہمارے مسائل، تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں، یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا۔
کبھی کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ "اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی، بچت کی ہوتی، کچھ بنایا ہوتا تو آج ہم بھی، فلاں کی طرح عالیشان گھر، گاڑی میں گھوم رہے ہوتے"۔
"کہاں ہو؟ کب آؤ گے؟ زیادہ دیر نہ کرنا،" جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں۔
"سویٹر تو پہنا ہے، کچھ اور بھی پہن لو سردی بہت ہے"۔ انسان سوچتا ہے کہ اولڈ فیشن کی وجہ سے والد کو باہر کی دنیا کا اندازہ نہیں۔
اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں۔ گھر، گاڑی، پلاٹ، بینک بیلنس ، کاروبار اور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کر خود سرخرو ہو جاتے ہیں۔
"ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھے اسکول میں پڑھتے، کاروبار کرتے"۔
اس میں شَک نہیں کہ اولاد کے لئے آئیڈیل بھی ان کا باپ ہی ہوتا ہے۔ لیکن کچھ باتیں جوانی میں سمجھ نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس لئے کہ ہمارے سامنے وقت کی ضرورت ہوتی ہے، دنیا سے مقابلے کا بھوت سوار ہوتا ہے، جلد سے جلد سب کچھ پانے کی جستجو میں ہم کچھ کھو بھی رہے ہوتے ہیں، جس کا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے۔
بہت سی اولادیں، وقتی محرومیوں کا پہلا ذمہ دار اپنے باپ کو قرار دے کر ، ہر چیز سے بری الزمہ ہو جاتی ہیں۔
وقت گزر جاتا ہے، اچھا بھی اور بُرا بھی اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان پلک جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے اِردگِرد منڈلاتے دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ جوانی، پڑھائی، نوکری شادی، اولاد اور پھر وہی اسٹیج وہی کردار۔۔۔ جو نبھاتے ہوئے ہر لمحہ، اپنے باپ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ آ کر باپ کی ہر سوچ، احساس، فکر، پریشانی، شرمندگی اور اذیت کو ہم پر کھول کے رکھ دیتا ہے۔
باپ کی کبھی کبھی بلاءوجہ خاموشی، کبھی پرانے دوستوں میں بے وجہ قہقہے، اچھے کپڑوں کو ناپسند کر کے، پرانوں کو فخر سے پہننا، کھانوں میں اپنی سادگی پر فخر، کبھی کبھی سر جُھکائے اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مَگن ہونے کی وجہ، کبھی بغیر وجہ تھکاوٹ کے بہانے سر شام بتی بُجھا کر لیٹ جانا، نظریں جُھکائے، انتہائی محویت سے ڈوب کر قرآن کی تلاوت کرنا، سمجھ تو آنا شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن بہت دیر بعد جب ہم خود راتوں کو جاگ جاگ کر دوسرے شہروں میں گئے بچوں پر آیت الکرسی کے دائرے پھونکتے ہیں، جب ہم سردی میں وضو کرتے ہوئے اچانک سوچتے ہیں، پوچھ ہی لیں۔۔۔ "بیٹا آپ کے ہاں گرم پانی آتا ہے؟"
جب قہر کی گرمی میں روم کولر کی خنک ہوا بدن کو چٗھوتی ہے تو پہلا احساس جو دل و دماغ میں ہلچل سی مچاتا ہے، وہ "کہیں اولاد گرمی میں تو نہیں بیٹھی"۔
جوان اولاد کے مستقبل، شادیوں کی فکر، ہزار تانے بانے جوڑتا باپ، تھک ہار کر اللّٰه اور اس کی پاک کلام میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔۔۔ تب یاد آتا ہے کہ ہمارا باپ بھی ایک ایک حرف، ایک ایک آیت پر رُک رُک کر بچوں کی سلامتی، خوشی، بہتر مستقبل کی دعائیں ہی کرتا ہو گا۔
ہر نماز کے بعد اُٹھے کپکپاتے ہاتھ، اپنی دعاؤں کو بھول جاتے ہوں گے۔ ہماری طرح ہمارا باپ بھی ایک ایک بچے کو، نمناک آنکھوں سے اللّٰه کی پناہ میں دیتا ہو گا۔
سر شام کبھی کبھی کمرے کی بتی بجھا کر، اس فکر کی آگ میں جلتا ہوگا کہ میں نے اپنی اولاد کے لئے بہت کم کیا؟
اولاد کو باپ بہت دیر سے یاد آتا ہے۔ اتنی دیر سے کہ ہم اسے چھونے، محسوس کرنے، اس کی ہر تلخی، اذیت، فکر کا ازالہ کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک عجیب احساس ہے، جو وقت کے بعد اپنی اصل شکل میں ہمیں بےچین ضرور کرتا ہے۔ لیکن یہ حقیقتیں جن پر وقت پر عیاں ہو جائیں، وہی خوش قسمت اولادیں ہیں۔
اولاد ہوتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں۔ باپ کا چھونا و پیار کرنا، دل سے لگانا، یہ تو بچپن کی باتیں ہیں۔ باپ بن کر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ پتہ نہیں باپ نے کتنی دفعہ دل ہی دل میں ہمیں چھاتی سے لگانے کو بازو کھولے ہوں گے؟
پیار کے لئے اس کے ہونٹ تڑپے ہوں گے اور ہماری بے باک جوانیوں نے اسے یہ موقع نہیں دیا ہو گا۔
ہم جیسے درمیانے طبقے کے سفید پوش لوگوں کی ہر خواہش، ہر دعا، ہر تمناء، اولاد سے شروع ہو کر اولاد پر ختم ہو جاتی ہے۔
لیکن کم ہی باپ ہوں گے، جو یہ احساس اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں دلا سکے ہوں۔ یہ ایک چُھپا، میٹھا میٹھا درد ہے۔۔۔ جو باپ اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ اولاد کے لئے بہت کچھ کر کے بھی کچھ نہ کر سکنے کی ایک خلش، آخری وقت تک ایک باپ کو بے چین رکھتی ہے۔ اور یہ سب بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے، جب ہم باپ بنتے ہیں۔ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو باپ کے دل کا حال جیسے قدرت ہمارے دلوں میں منتقل کر دیتی ہے۔
اولاد اگر باپ کے دل میں اپنے لئے محبت کو کُھلی آنکھوں سے وقت پر دیکھ لے تو شاید اسے یقین ہو جائے کہ دنیا میں باپ سے زیادہ اولاد کا کوئی دوست نہیں ہے۔♥️
کاپی۔

امریکہ کے ایک ریسٹورنٹ میں ویٹریس نے لنچ کا مینو ایک شخص اور اس کی بیوی کو دیا اور اس سے پہلے کہ وہ مینو کو دیکھتے، انہو...
16/01/2026

امریکہ کے ایک ریسٹورنٹ میں ویٹریس نے لنچ کا مینو ایک شخص اور اس کی بیوی کو دیا اور اس سے پہلے کہ وہ مینو کو دیکھتے، انہوں نے اس سے کہا کہ وہ انہیں دو سستے ترین کھانے پیش کرے کیونکہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ کئی مہینوں سے تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ جس کی وجہ سے وہ مشکل وقت سے گذر رہے ہیں ۔
ویٹریس سارہ نے زیادہ دیر نہیں سوچا۔ اس نے انہیں دو ڈشیں تجویز کیں اور وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مان گئے کہ وہ سب سے سستے ہیں۔ وہ دونوں آرڈر لے کر آئی اور انہوں نے بھوک کی شدت سے جلدی سے کھانا کھایا، اور جانے سے پہلے انہوں نے ویٹریس سے بل مانگا۔ وہ اپنے بلنگ والیٹ میں کاغذ کا ایک ٹکڑا لے کر ان کے پاس واپس آئی جس پر اس نے لکھا تھا کہ : "میں نے آپ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کا بل اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ادا کیا۔ یہ میری طرف سے تحفے کے طور پر ایک سو ڈالر کی رقم ہے، اور میں آپ کے لیے کم سے کم اتنا تو کر سکتی ہوں۔ آپ کی آمد کے لیے شکریہ۔ سارہ کے دستخط شدہ۔
ریستوراں سے نکلتے ہی یہ جوڑا بہت خوش تھا۔
مشکل صورتحال میں مبتلا سارہ کے لئے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس نے اپنے سخت مالی حالات کے باوجود جوڑے کے کھانے کا بل ادا کرنے میں بے حد خوشی محسوس کی۔ حالانکہ وہ تقریباً ایک سال سے ایک آٹومیٹک واشنگ مشین خریدنے کے لئے پیسے بچا رہی تھی کیونکہ پرانی واشنگ مشین سے کپڑے دھونے میں اسے بہت مشکل ہوتی تھی
لیکن جس چیز نے اسے سب سے زیادہ دکھ پہنچایا وہ یہ تھا کہ جب اس کی دوست کو اس معاملے کا پتہ چلا تو سارہ کی دوست نے اسے بہت ڈانٹا۔ کیونکہ اس نے خود اپنی اور اپنے بچے کی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر یہ پیسے بچائے تھے اسے دوسروں کی مدد کرنے سے زیادہ اپنے لئے واشنگ مشین خریدنے کی ضرورت تھی۔
اسی دوران اسے اپنی ماں کا فون آیا جس میں اسے اونچی آواز میں کہا گیا: "سارہ تم نے کیا کیا؟"
اس نے ایک ناقابل برداشت جھٹکے سے ڈرتے ہوئے دھیمی، کانپتی ہوئی آواز میں جواب دیا: ’’میں نے کچھ نہیں کیا۔ کیا ہوا؟"
اس کی والدہ نے جواب دیا: "فیس بک تمہاری تعریف کرنے اور تمہارے طرز عمل کی تعریف کرنے میں زمین آسمان ایک کر رہا ہے۔ اس بندے اور اسکی اہلیہ نے فیس بک پر تمہارا پیغام پوسٹ کیا جب تم نے ان کی طرف سے بل ادا کیا اور بہت سے لوگوں نے اسے شیئر کیا۔ مجھے تم پر فخر ہے۔" ...
اس نے بمشکل اپنی والدہ کے ساتھ اپنی بات چیت مکمل کی تھی جب اسکول کے ایک دوست نے اسے فون کیا جس سے یہ ظاہر ہوا کہ اس کا پیغام تمام ڈیجیٹل سوشل پلیٹ فارمز پر وائرل ہو چکا ہے۔
جیسے ہی سارہ نے اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھولا، اسے ٹیلی ویژن کے پروڈیوسروں اور پریس رپورٹرز کے سینکڑوں پیغامات ملے جن میں اس سے ملنے کے لیے کہا گیا تاکہ وہ اپنے مخصوص اقدام کے بارے میں بات کریں۔
اگلے دن، سارہ سب سے مشہور اور سب سے زیادہ دیکھے جانے والے امریکی ٹیلی ویژن شوز میں سے ایک پر نمودار ہوئی۔ پروگرام پیش کرنے والے نے اسے ایک بہت ہی پرتعیش واشنگ مشین، ایک جدید ٹیلی ویژن سیٹ اور دس ہزار ڈالر دیے۔ اس ایک الیکٹرانکس کمپنی سے پانچ ہزار ڈالر کا پرچیز واؤچر حاصل کیا۔ اس پر تحائف کی بارش ہوئی یہاں تک کہ اس کے عظیم انسانی رویے کی تعریف میں حاصل ہونے والی رقم $100,000 سے زیادہ تک پہنچ گئی۔
دو کھانے جن کی قیمت چند ڈالر + $100 سے زیادہ نہیں تھی نے اس کی زندگی بدل ڈالی۔
سخاوت یہ نہیں ہے کہ جس چیز کی آپ کو ضرورت نہیں ہے وہ کسی کو دے دیں بلکہ سخاوت یہ ہے کہ جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے وہ کسی دوسرے ضرورت مند کو دے دیں۔
حقیقی غربت انسانیت اور رویوں کی غربت ہے۔
Copied

کل پشاور ائیرپورٹ پر ایک شخص کو صرف اس وجہ سے آف لوڈ کر دیا گیا کہ وہ وزٹ ویزے پر دبئی جا رہا تھا۔جب ایف آئی اے نے پوچھا...
16/01/2026

کل پشاور ائیرپورٹ پر ایک شخص کو صرف اس وجہ سے آف لوڈ کر دیا گیا کہ وہ وزٹ ویزے پر دبئی جا رہا تھا۔

جب ایف آئی اے نے پوچھا کہ وہاں جا کر کیا کرو گے؟
تو اس نے سادگی میں جواب دے دیا: “دوسرا ویزہ تلاش کروں گا”

بس یہی ایک جملہ کافی تھا، بھائی کو آف لوڈ کر دیا گیا اور واپس گھر بھیج دیا گیا۔

⚠️ اہم بات:
اگر آپ وزٹ ویزے پر سفر کر رہے ہیں تو ذہن میں بھی وزٹ ہی رکھیں۔
ایئرپورٹ پر یہی کہیں کہ سیر، فیملی وزٹ یا ٹورزم کے لیے جا رہے ہیں۔
غلط یا غیر ضروری بات آپ کے لیے مسئلہ بنا سکتی ہے۔

📌 دوسری بہت ضروری بات:
اگر خدا نخواستہ آپ کو آف لوڈ کر دیا جائے تو سیدھا واپس گھر نہ جائیں۔
ائیرپورٹ کے اندر ہی FIA آفس ہوتا ہے، وہاں جا کر
✔️ آف لوڈ ہونے کی تحریری وجہ (Written Reason) ضرور مانگیں
تاکہ بعد میں اس مسئلے کو کلئیر کیا جا سکے۔

آگاہی رکھیں، احتیاط کریں، اور دوسروں تک یہ بات ضرور پہنچائیں۔
یہ ایک چھوٹی سی غلطی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے
https://whatsapp.com/channel/0029VaojEBDCxoAxFWEPeU0s

Channel • 90 followers • Jameel Law Associates:
Expert Advocates in Civil,
Constitutional, Family,
Special & Taxation Laws
(PAK, US & UK). Holistic
approach, global insights
& client-centric solutions.
Trust us for complex cases,
corporate matters &
exceptional legal expertise.

لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات کے لیے بایومیٹرک تصدیق لازمی قرارلاہور ہائیکورٹ نے عدالتی نظام میں شفافیت اور جعل سازی کے تدار...
16/01/2026

لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات کے لیے بایومیٹرک تصدیق لازمی قرار
لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی نظام میں شفافیت اور جعل سازی کے تدارک کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے مقدمات دائر کرنے والے فریقین کی بایومیٹرک تصدیق لازمی قرار دے دی ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جو 30 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
نوٹیفکیشن
کا اردو ترجمہ....
لاہور ہائیکورٹ، لاہور
نوٹیفکیشن
نمبر: 191/D.G.Jud&CM
مورخہ: 7 جنوری 2026
نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے اجلاس منعقدہ 11 جولائی 2025 میں کیے گئے فیصلے کی روشنی میں، معزز چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، لاہور نے یہ حکم صادر فرمایا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ (پرنسپل نشست اور اس کے تمام ذیلی بینچز) میں مقدمات دائر کرتے وقت فریقین کی بایومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔
یہ اقدام جعل سازی کے تدارک، شفافیت کے فروغ اور عدالتی کارروائی کی ساکھ کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے، جو 20 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
لہٰذا ہدایت کی جاتی ہے کہ ہر نوعیت کے مقدمات دائر کرنے والے تمام سائلین، درخواستیں دائر کرنے والے فریقین، تحریری بیانات اور تحریری جوابات جمع کرانے والے مدعا علیہان یا جواب دہندگان، ضمانتی مچلکے جمع کرانے والے ضامن، اور وہ تمام اشخاص جن سے عدالت کے روبرو بیان درکار ہو، اپنی بایومیٹرک تصدیق نادرا ای سہولت مراکز سے کروائیں گے۔
یہ بایومیٹرک تصدیق عدالتی احاطے میں قائم نادرا ای سہولت مراکز یا مقررہ طریقہ کار کے مطابق عدالتی احاطے سے باہر واقع مراکز سے، مقررہ فیس کی ادائیگی کے بعد حاصل کی جا سکے گی۔
دستخط

16/01/2026

پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ ترمیم کے بعد
پنجاب بھر کے مکینوں کے لیے جائیداد کے تحفظ کے حوالے سے حکومت پنجاب کی جانب سے انتہائی اہم قانونی تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔ ان ترامیم کا مقصد برسوں سے عدالتوں میں لٹکے ہوئے جائیداد کے تنازعات کو ختم کرنا اور قبضہ مافیا کے خلاف گھیرا تنگ کرنا ہے۔ اب ریٹائرڈ ججز کے بجائے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونلز مقرر کیے جائیں گے، جو نہ صرف انصاف کی فراہمی کو شفاف بنائیں گے بلکہ عدالتی وقار کو بھی برقرار رکھیں گے۔ اس نئے قانون کی سب سے اہم بات فیصلے کی مدت ہے؛ اب جائیداد کے قبضے یا حقوق سے متعلق کسی بھی درخواست کا فیصلہ ٹربیونل ہر صورت 60 سے 90 دنوں کے اندر کرنے کا پابند ہوگا۔ یہ اقدام ان شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری ہے جو دہائیوں سے اپنے ہی حق کے لیے کچہریوں کے چکر کاٹ رہے تھے۔
اس قانون کے تحت عملدرآمد کا طریقہ کار انتہائی سخت اور موثر رکھا گیا ہے۔ ٹربیونل کا فیصلہ محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوگا، بلکہ فیصلے کے فوراً بعد متعلقہ ایس ایچ او اور ضلعی انتظامیہ (ڈی سی اور اے سی) پابند ہوں گے کہ وہ پولیس کی موجودگی میں موقع پر جا کر جائیداد کا قبضہ مالک کے حوالے کریں اور ریونیو ریکارڈ میں فوری درستگی یقینی بنائیں۔ اگر کوئی فریق اس عمل میں رکاوٹ ڈالے گا یا مزاحمت کرے گا، تو ٹربیونل کو اسے موقع پر سزا اور بھاری جرمانہ کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔ جہاں تک سول عدالتوں میں پہلے سے چلنے والے کیسز کا تعلق ہے، تو سول جج صاحبان کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے کیس کو جہاں حق واضح ہو یا جہاں مدعی کو ہراساں کیا جا رہا ہو، فوری فیصلے کے لیے ٹربیونل کو منتقل کر سکتے ہیں۔ اس قانون کا مقصد سیاست سے بالاتر ہو کر خالصتاً عوامی مسائل کا حل اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ اب کوئی بھی شخص دھوکہ دہی یا اثر و رسوخ کے زور پر کسی کی وراثت یا خریدی ہوئی زمین پر قابض نہیں رہ سکے گا۔
Jameel law Associates 03007315762

صدیق گھمن نامی ایک شہری کی فیس بک پر "شازیہ سعید" نامی دوشیزہ سے دوستی ہوگئی۔ باتوں باتوں میں شازیہ نے صدیق صاحب سے نیا ...
10/12/2025

صدیق گھمن نامی ایک شہری کی فیس بک پر "شازیہ سعید" نامی دوشیزہ سے دوستی ہوگئی۔ باتوں باتوں میں شازیہ نے صدیق صاحب سے نیا موبائل فون گفٹ کرنے کا مطالبہ کردیا۔ گھمن صاحب کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، تم اپنا ایڈریس بھیجو میں ابھی بھجواتا ہوں۔ شازیہ نے کہا "گھمن تو مروائے گا، میرے گھر موبائل بھجوا کر، یوں کر کہ فلاں TCS کے دفتر کورئیر کروادے میں خود وہاں سے ریسیو کرلوں گی"۔ گھمن صاحب نے نیا OPPO کا فون خریدا اور TCS کی "سیلف کولیکشن" سروس لی کہ یہ موبائل TCS آفس سے صرف شازیہ کو دیا جائے، اسکے عوض گھمن نے موبائل کے انشورنس چارجز بھی ادا کیے۔
چند روز بعد شازیہ نے صدیق گھمن کو فیس بک پر میسج کرکے بتایا کہ مجھے موبائل مل گیا ہے۔ لیکن اس کے بعد رابطہ شابطہ ختم۔۔۔۔کوئی رپلائی نہیں اور بالآخر گھمن صاحب بلاکڈ۔
گھمن نے ہمت نہیں ہاری، TCS سے رابطہ کیا کہ تم نے شازیہ کو موبائل دیا تھا تو اسکا کوئی اتہ پتہ ہوگا وہ مجھے دیا جائے۔ TCS والوں نے ریکارڈ دیکھ کر بتایا کہ ہمارے پاس تو شازیہ نہیں بلکہ عامر نامی لڑکا آیا تھا کہ میں شازیہ کا بھائی ہوں، بہن دفتر نہیں آسکتی تو موبائل مجھے ریسیو کروا دیا جائے، ہم نے کروا دیا۔ گھمن اس پر تپ گیا کہ جب میں نے 'سیلف کولیکشن' سروس لیتے وقت یہ تاکید کہ تھی موبائل صرف شازیہ کو ہی دیا جائے تو پھر تم نے کسی اور کو کیوں دیا؟ گھمن نے TCS کو لیگل نوٹس بھجوا دیا۔
اس پر TCS نے شازیہ کے "بھائی" عامر کو پکڑا۔ جلد ہی عامر نے بتا دیا کہ "میں ہی 'شازیہ سعید' ہوں، میں نے ہی اس نام کی فیک آئی ڈی سے گھمن کو گھیرا اور موبائل منگوایا، یہ پکڑیں موبائل اور گھمن کو واپس کردیں"۔ کمپنی نے موبائل واپس کرنے کیلئے گھمن سے رابطہ کیا۔ ٹوٹے ہوئے دل کے گھمن کو مزید غصہ آگیا، گھمن نے کمپنی سے موبائل کے علاوہ 24 ہزار روپے ہرجانے کا مطالبہ کر دیا کہ یہ کمپنی کی غلطی ہے، "سیلف کولیکشن" سروس کے تحت کمپنی صرف "شازیہ" کو موبائل دینے کی مجاز تھی، اگر وہ نہیں آئی تو موبائل مجھے واپس بھجوایا جاتا۔ کمپنی نے ہرجانہ دینے سے انکار کیا کہ غلطی تمہاری ہے جو تم نے ایک فیک نام کی آئی ڈی پر موبائل بھجوایا۔صدیق گھمن نے کنزیومر کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا، عدالت نے مکمل ٹرائل کے بعد TCS کمپنی کو 24 ہزار انشورنس ہرجانے کے علاوہ مزید ایک لاکھ روپے گھمن صاحب کو ادا کرنے کا حکم دیا کہ گھمن کا جائز مطالبہ پورا نہ کرنے پر اسے مقدمہ کرنا پڑا۔ کمپنی نے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کردی، یہاں صدیق گھمن نے اپنا مقدمہ خود لڑا اور اپنے ساتھ ہوئی زیادتی ثابت کی۔ ہائیکورٹ نے کمپنی کی اپیل خارج کرتے ہوئے کنزیومر کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

یوں گھمن کو شازیہ تو نہ مل سکی، البتہ سوا لاکھ ہرجانہ مل گیا۔

Insha'Allah winner
19/10/2025

Insha'Allah winner

19/10/2025

Address

Mailsi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamil's Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Jamil's Law Associates:

Share