Law Talk With Adv Yousaf Doulat Chaudhary

Law Talk With Adv Yousaf Doulat Chaudhary This is Law information page by Yousaf Doulat Chaudhary Advocate High Court.

10/06/2026
Eid Mubarak
27/05/2026

Eid Mubarak

24/05/2026

اس مقدمہ میں درخواست گزار نے ایک معاہدۂ بیع مورخہ 20-04-2011 کی بنیاد پر دعویٰ برائے تعمیل مختص (Specific Performance) دائر کیا تھا اور ساتھ عبوری حکمِ امتناعی (Temporary Injunction) کی درخواست بھی دی تھی، جسے ٹرائل کورٹ نے منظور کر لیا۔ اس عبوری حکم کے خلاف مدعا علیہ نمبر 3 نے ڈسٹرکٹ جج فیصل آباد کے سامنے آرڈر 43 رول 1 سی پی سی کے تحت اپیل دائر کی۔دورانِ اپیل مدعا علیہ نمبر 3 نے اسٹامپ وینڈر کے رجسٹر کی فرانزک جانچ کے لیے درخواست دائر کی، جسے منظور کرتے ہوئے ریکارڈ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) کو بھجوا دیا گیا۔ فرانزک رپورٹ میں رجسٹر میں مختلف سیاہی، اوور رائٹنگ اور مٹانے کے آثار ظاہر کیے گئے، جس کی بنیاد پر learned District Judge نے نہ صرف عبوری حکمِ امتناعی ختم کر دیا بلکہ درخواست گزار کا پورا دعویٰ بھی آرڈر 7 رول 11 سی پی سی کے تحت خارج کر دیا۔ اس اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج کیا گیا۔

درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف تھا کہ ڈسٹرکٹ جج نے اپنے محدود اپیلی دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا، کیونکہ آرڈر 43 رول 1 سی پی سی کے تحت اپیل صرف عبوری حکم کے جائزہ تک محدود تھی۔ اپیلیٹ عدالت نہ تو متنازعہ حقائق کا فیصلہ کر سکتی تھی اور نہ ہی پورا plaint خارج کرنے کا اختیار رکھتی تھی۔ مزید یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ فرانزک رپورٹ محض معاون یا تائیدی شہادت (Corroborative Evidence) ہوتی ہے، جسے باقاعدہ ٹرائل، شہادت اور جرح کے بغیر حتمی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ آرڈر 7 رول 11 سی پی سی کے تحت plaint کی تنسیخ صرف plaint میں موجود بیانات اور ساتھ لگائے گئے دستاویزات کی بنیاد پر کی جا سکتی ہے۔ مدعا علیہ کا دفاع، بعد میں حاصل ہونے والا مواد یا فرانزک رپورٹ جیسے متنازعہ حقائق plaint خارج کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ڈسٹرکٹ جج آرڈر 43 رول 1(r) سی پی سی کے تحت صرف عبوری حکمِ امتناعی کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے سکتا تھا اور اسے یہ اختیار حاصل نہ تھا کہ وہ مقدمہ کے میرٹس میں داخل ہو کر plaint ہی خارج کر دے۔

عدالتِ عالیہ نے مزید وضاحت کی کہ آرڈر 43 رول 1(r) سی پی سی کے تحت اپیلی اختیار محدود نوعیت کا ہوتا ہے، جبکہ سیکشن 96، سیکشن 107 اور آرڈر 41 رول 33 سی پی سی کے تحت وسیع اپیلی اختیارات صرف اس وقت استعمال کیے جا سکتے ہیں جب کسی حتمی ڈگری کے خلاف باقاعدہ اپیل زیرِ سماعت ہو۔ لہٰذا learned District Judge نے عبوری اپیل سنتے ہوئے وہ اختیارات استعمال کیے جو قانوناً صرف Regular First Appeal میں استعمال ہو سکتے تھے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ فرانزک رپورٹ کو بغیر باقاعدہ ثبوت، جرح اور شہادت کے حتمی ثبوت تصور کرنا قانونی طور پر غلط تھا۔ PFSA رپورٹ کو ٹرائل کے دوران قانون کے مطابق ثابت کیا جانا ضروری تھا۔ مزید یہ کہ plaint کی تنسیخ کا کوئی باقاعدہ معاملہ ڈسٹرکٹ جج کے سامنے زیرِ سماعت ہی نہیں تھا، اس کے باوجود suo motu طور پر plaint خارج کرنا اختیار سے تجاوز اور غیر قانونی اقدام تھا۔

ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ learned District Judge نے عبوری مرحلہ پر ہی پورے مقدمہ کا فیصلہ کر کے فریقین کو شہادت پیش کرنے، ٹرائل کروانے اور بعد ازاں سیکشن 96 سی پی سی کے تحت اپیل کے قانونی حق سے محروم کر دیا، جو منصفانہ ٹرائل اور due process کے اصولوں کے خلاف ہے۔

عدالت نے یہ بھی آبزرو کیا کہ اسٹامپ وینڈر رجسٹر کی فرانزک جانچ کا حکم دینا بھی قانونی دائرۂ اختیار سے تجاوز تھا، کیونکہ معاہدہ کی اصلیت اور صحت سے متعلق سوالات ٹرائل کورٹ میں شہادت کے بعد طے ہونے تھے، نہ کہ عبوری اپیل میں۔

نتیجتاً لاہور ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ جج فیصل آباد کے دونوں احکامات مورخہ 18-12-2025 اور 21-02-2026 کو کالعدم قرار دیتے ہوئے آئینی درخواست منظور کر لی اور حکم دیا کہ عبوری اپیل کو قانون کے مطابق محدود دائرۂ اختیار میں دوبارہ سنا اور فیصلہ کیا جائے۔ عدالت نے آخر میں یہ اہم اصول بھی واضح کیا کہ ہر عدالت اپنے قانونی دائرۂ اختیار کے اندر رہتے ہوئے ہی اختیارات استعمال کرنے کی پابند ہے اور مختلف نوعیت کے اختیارات کو اپنی مرضی سے آپس میں خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔W.P.No. 22348 of 2026 Lahore High Court Lahore

20/05/2026

علاقہ مجسٹریٹ کی سزا کے خلاف اپیل کا طریقہ کار
​جب بھی کسی فوجداری مقدمے میں سرکار (State) کی طرف سے نامزد کردہ ملزم کو علاقہ مجسٹریٹ (Illaqa Magistrate) سزا سناتا ہے، تو قانونِ پاکستان کے تحت اس سزا کے خلاف اپیل کا طریقہ کار درج ذیل ہے:
​1۔ اپیل کہاں دائر ہوگی؟ (Forum of Appeal)
​فورم: علاقہ مجسٹریٹ (خواہ وہ سیکشن 30 کا مجسٹریٹ ہو یا فرسٹ کلاس مجسٹریٹ) کی سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل سیشن کورٹ (Sessions Court) میں دائر کی جاتی ہے۔
​قانونی دفعہ: یہ اپیل ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 408 (Section 408 CrPC) کے تحت سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں دائر ہوتی ہے۔
​2۔ اپیل کتنے دنوں میں دائر کرنی ہوتی ہے؟ (Limitation Period)
​میعادِ سماعت: علاقہ مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی قانونی مدت 30 دن ہے۔
​قانونی حوالہ: قانونِ میعاد سماع (Limitation Act, 1908) کا آرٹیکل 154۔
​وضاحت: یہ 30 دن اس تاریخ سے شروع ہوتے ہیں جس دن مجسٹریٹ نے فیصلہ سنایا ہو۔ فیصلے کی تصدیق شدہ نقل (Certified Copy) حاصل کرنے میں جو دن لگتے ہیں، وہ اس وقت میں سے نکال (Minus کر) دیے جاتے ہیں۔
​3۔ اہم عدالتی نظائر (Relevant Judgements)
​اپیل کے حق پر اصول (PLD 2018 Supreme Court 332):
اس فیصلے کے تحت اپیلٹ عدالت (سیشن کورٹ) پابند ہے کہ وہ مجسٹریٹ کی عدالت کے پورے ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات کا دوبارہ تفصیلی جائزہ لے۔
​دورانِ اپیل سزا کی معطلی اور ضمانت (2021 SCMR 445):
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426 (Section 426 CrPC) کے تحت سیشن کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپیل کا حتمی فیصلہ ہونے تک مجسٹریٹ کی سزا کو معطل کر کے ملزم کو ضمانت پر رہا کر دے۔
​4۔ اپیل کے لیے ضروری دستاویزات (Checklist)
​میمو آف اپیل (Memo of Appeal): جس میں مجسٹریٹ کے فیصلے کے قانونی نقائص اور گواہوں کے بیانات کے تضادات کو چیلنج کیا جاتا ہے۔
​فیصلے کی مصدقہ نقل (Certified Copy of Judgement): علاقہ مجسٹریٹ کے اصل فیصلے کی نقلِ مطابقِ اصل۔
​وکالت نامہ: کونسل/وکیل صاحب کا دستخط شدہ فارم۔
​درخواست زیر دفعہ 426 CrPC: دورانِ اپیل سزا معطلی اور رہائی کے لیے۔

18/05/2026

گواہوں کے بیانات میں اگر معمولی تضادات یا معمولی improvements ہو تو انہیں نظرانداز کیا جانا چاہیے، اور صرف اہم یا بنیادی تضادات کو ہی قابلِ غور سمجھا جائے گا۔

🔴 2017 P Cr. L J 1550 [Balochistan]

Before Zaheer-ud-Din Kakar, J

YASIN and 3 others---Petitioners

Versus

The STATE---Respondent

Criminal Revision No. 43 of 2016, decided on 17th May, 2017.

(a) Penal Code (XLV of 1860)---

----Ss. 337-A(ii), 337-F(i), 337-F(ii) & 34--- Shajjaj-i-madihah, damiyah, badi'ah, common intention---Appreciation of evidence---Ocular account supported by medical evidence---Prosecution case was that accused-appellants while armed with weapon and knives assaulted at the complainant and his brother, resultantly, they sustained injuries---Ocular account was furnished by the witnesses including complainant and injured---Said witnesses attributed specific role to the accused-appellants---In spite of lengthy cross-examination of the eyewitnesses, nothing beneficial could be elicited rendering any help to the case of accused-appellants---Medical evidence furnished by the Medical Officer, who medically examined the injured supported the ocular account---Circumstances established that prosecution had proved the guilt of the accused-appellants to the hilt through cogent, coherent, trustworthy and confidence inspiring evidence---Revision petition was dismissed in circumstances.

(b) Penal Code (XLV of 1860)---

----Ss. 337-A(ii), 337-F(i), 337-F(ii) & 34--- Shajjaj-i-madihah, damiyah, badi'ah, common intention--- Appreciation of evidence---Ocular and medical evidence---Scope---Where there was forthright and convincing eye account same would be preferred as compared to that of medical evidence.

Sarfaraz v. The State 2000 SCMR 1758 and Muhammad Hanif v. State PLD 1993 SC 895 rel.

(c) Criminal trial---

----Occular version/medical evidence---Scope---Medical evidence could not determine question of guilt or innocence but ocular version was required to be taken into consideration at first instance for the purpose.

Machia v. State PLD 1976 SC 695 rel.

(d) Criminal trial---

----Witness---Minor contradictions or improvements in the statements of witnesses---Effect---Minor contradictions or improvements in the statements of witnesses were to be overlooked and only material contradictions were to be considered.

Ranjha v. The State 2007 SCMR 455 rel.

(e) Criminal Procedure Code (XLV of 1898)---

----S. 439---Revisional jurisdiction of High Court---Scope---High Court could exercise revisional jurisdiction if findings of lower forum were shown patently illegal, without jurisdiction or the result of bare misreading and non-reading of material evidence, based on conjectures, presumptions or erroneous assumption.

Haji Muhammad Saleem v. Khuda Bakhsh PLD 2003 SC 315 rel.

Chaudhry Muhammad Iqbal for Petitioners.

Mushtaq Anjum for the Complainant.

Yahya Baloch, DPG for the State.

Date of hearing: 28th April, 2017.

JUDGMENT

ZAHEER-UD-DIN KAKAR, J.---Through this Revision Petition, the petitioners assailed the concurrent judgments dated 03.11.2015 and 25.3.2016, passed by the Judicial Magistrate, Musakhail "the trial Court" and Sessions Judge, Musakhail at Loralai "the appellate Court" respectively, whereby the former has convicted the petitioners as under:

i. Under sections 337-A(ii)/34, P.P.C. to suffer RI for two years.

ii. Under section 337-F(i)/34, P.P.C. to suffer RI for one month and

iii. Under section 337-F(ii), P.P.C. to suffer RI for two years and to pay Daman in the sum of Rs.5000/- (rupees five thousand only) by each accused to each injured persons Amir and Roz Muhammad.

The sentences were ordered to run concurrently with benefit of section 382-B, Cr.P.C. In case of non-payment of Daman convict shall be treated under section 337-Y(2), P.P.C.

While the latter, upheld the judgment of the trial Court with following modification in the quantum of sentence:

i. Sentence of two (02) years' RI each awarded to accused/appellants under section 337-A(ii)/34, P.P.C. is reduced to one (01) year RI each.

ii. Sentence of one (01) month's RI each awarded to accused/appellants under section 337-F(i)/34, P.P.C. shall remain intact.

iii. Sentence of two (02) years' RI each awarded to accused/appellants is reduced to one (01) year's RI each.

The quantum of Daman of Rs.5000/- each as directed by the trial Court and its treating under section 337-Y(2), P.P.C. to remain intact with benefit of section 382-B, Cr.P.C. The sentences were also ordered to run concurrently.

2. Precisely stated facts of the prosecution case are that, on 26.10.2014 complainant Amir Khan got registered a case at Police Station Saddar Musakhail with the allegations therein that on the same date at 3.00 p.m. when he and his brother Roz Muhammad were taking tea in Sada Bahar Hotel, situated at Thoi Sar Mor, accused persons Yasin, Khair Muhammad, Faiz Muhammad and Latif also came there, who after exchange of harsh words attacked upon his brother, out of whom accused Yasin, Khair Muhammad and Latif were having knives in their hands, while accused Faiz Muhammad was equipped with weapon and as such the accused persons caused knife blows to his brother. He further alleged that he attempted to save his brother from the clutches of the accused persons, but the accused Khair Muhammad also caused knife blow at his chest, while his right wrist was also injured and, thereafter, fled away from the scene of occurrence. The complainant stated that Muhammad Yousaf and Miro are the eye-witnesses of the incident and as such requested for taking legal action against the accused persons.

3. On the stated allegations, charge was framed and read over to the convicts/petitioners, to which they pleaded not guilty and claimed trial. To prove accusation, the prosecution produced following eight witnesses:

PW-1 Ameer is injured/complainant of the case, who reiterated the contents of his Fard-e-Bayan Ex-P/1-A.

PW-2 Roz Muhammad injured of the case.

PW-3 Muhammad Yousaf, the eye-witness of the case.

PW-4 Meero is also an eye-witness of the case.

PW-5 Sobedar C/160, witness to recovery memo of Qamis of the injured persons Ex-P/5-A.

PW-6 Dr. Muhammad Nasir Khan, Medical Officer, conducted medical examination of the injured Roz Muhammad and found the following injuries on his person:

1. Wound on right side of head near ear 3" long, l cm wide, 1 cm deep, 5 stitches applied.

2. Wound on left forearm 2" long 1/2 wide skin deep, 4 stitches applied.

3. 2 wounds on left shoulder on back side, 1" long, l cm wide, 3 stitches applied.

4. Wound on left side of neck, 1 cm deep, 2 stitches applied.

5. Wound on right thigh, 3 inch long, 3 cm wide, 2 cm deep, 5 stitches applied.

6. Wound on right side of neck 1/2" long, 2 stitches applied.

7. Wound on right shoulder, 1" long, 1 cm deep, 3 stitches applied.

8. Wound on left hand finger, 1 stitch applied

Massive blood loss.

Nature of wounds grievous

Weapon used Sharp

He issued MLC No.292, which is Ex-P/5-A and identified his signature over the same. On the same date, he also examined the injured Ameer Khan and found the following injuries on his person.

1. Wound on left side of chest below left breast 1-1/2 inch long, 1 cm wide, 1 cm deep, 3 stitches applied.

2. Wound on left wrist, 6 inch long, 1 cm wide, 1 cm deep, 7 stitches applied.

Nature of wound s simple

Weapon used sharp

He issued MLC No.293, which is Ex-P/6-B and identified his signature over the same.

PW-7 Allah Diwaya SI/SHO (1st I.O.) conducted investigation, recorded statements of witnesses, arrested the accused Abdul Latif, recorded statements of injured persons, obtained medical certificates, after completion of investigation to the extent of accused Abdul Latif, submitted challan Ex-P/7-A, produced site map as Ex-P/7-B, submitted incomplete challan Ex-P/7-C, supplementary challan Ex-P/7-D.

PW-8 IP Riaz Ahmed, after obtaining pre-arrest bail by the accused persons Faiz Muhammad, Yasin and Khair Muhammad, conducted investigation and submitted challan Ex P/8-A.

4. The petitioners were examined under section 342, Cr.P.C. wherein they once again denied the prosecution allegations, however, did not opt to make statement on oath nor produced evidence in defence. On conclusion of the trial and hearing the learned counsel for the parties, the trial Court convicted and sentenced the petitioners as mentioned above. Being aggrieved, an appeal was preferred which was also dismissed with modification in the quantum of sentence.

5. Learned counsel for the petitioners contended that both the Courts below have failed to consider the material aspect of the case and have misread the evidence, which is violative of law and has resulted in miscarriage of justice; that the evidence produced by the prosecution is suffered from contradictions/improvements on material facts and not corroborated by any independent piece of evidence, which creates a reasonable doubt. Finally, he prayed for setting aside both the judgments of Courts below.

6. Conversely, the learned DPG assisted by the learned counsel for complainant contended that the prosecution has proved the guilt of the appellant to the hilt through cogent, coherent, trustworthy and confidence inspiring evidence; that defence has failed to shatter the credible testimony of the prosecution; hence the revision is liable to be dismissed.

7. I have carefully examined the respective contentions as agitated on behalf of the petitioners and for the State, scrutinized the entire prosecution evidence and perused the judgments of the trial as well as the appellate Courts. After having gone through the entire evidence, I am of the view that prosecution has established the guilt to the hilt by producing forthright and convincing evidence. In this regard, the statements of complainant Ameer PW-1, Roz Muhammad injured PW-2, Muhammad Yousaf PW-3 and Meero PW-4 can be referred. It is worth mentioning that the incident was witnessed by the PWs-3 and 4, by whom specific role of assaulting has been attributed to the petitioners. In-spite of lengthy and exhaustive cross-examination of the eye-witnesses, nothing beneficial could be elicited rendering any help to the case of petitioners. I have not been persuaded to agree with the contention of the learned counsel for the petitioners that the ocular version could not be substantiated by any corroboratory material being devoid of merit for the simple reasons that ocular version finds full support from the medical evidence as furnished by Dr. Muhammad Nasir Khan, who examined the injured and issued certificates Ex-P/5-A and Ex-P/6-B. Even otherwise, it is well settled by now that if there is forthright and convincing eye account that will be preferred as compared to that of medical evidence. In this regard, I am fortified by the dictum laid down in the cases of Sarfaraz v. The State, (2000 SCMR 1758) and Muhammad Hanif v. State, (PLD 1993 SC 895). Furthermore, it is not the medical evidence to determine the question of guilt or innocence, but it is ocular version, which is required to be taken into consideration at first instance. In this regard, reference can be made to Machia v. State, (PLD 1976 SC 695).

8. It is worth mentioning that the learned counsel for the petitioners emphasizes on the contradictions which, according to him, escaped the notice of the trial court but failed to point out any of them. Even otherwise, it is a settled principle of law that minor contradictions or improvements in the statements of witnesses are to be overlooked and only material contradictions are to be considered. In this regard, we may place reliance on a case of Ranjha v. The State {2007 SCMR 455}, wherein it has been held that:

"The ocular testimony of quite independent witnesses duly supported by the medical evidence, the recovery of empties from the spot, the post-mortem report of the two deceased and prompt lodging of FIR without any deliberation and exaggeration as well as the attending circumstances was found truthful and confidence-inspiring therefore, the minor discrepancy and contradiction pointed out in the statement of witnesses being immaterial would be of no significance."

9. Both the trial as well as appellate Courts have rightly appreciated the evidence in its true prospective and convicted the petitioner. Learned counsel for the petitioner could not find out any illegality or irregularity in the impugned judgments rendered by both the Courts below, which may warrant interference in revision jurisdiction of this Court.

10. Further the scope of revisional jurisdiction is very limited, in which the Court cannot set aside the concurrent findings of facts recorded by a Court of competent jurisdiction nor it can upset the same even if on appreciation of evidence, a different view can be formed unless these findings are shown patently illegal, without jurisdiction or the result of bare misreading and non-reading of material evidence, based on conjectural presumptions or erroneous assumption. Reference, in this regard can be made to case titled Haji Muhammad Saleem v. Khuda Bakhsh {PLD 2003 SC 315}.

11. In view of the above discussion, the instant petition, being meritless, is dismissed. The petitioners were released on bail vide its Court order dated 06.4.2016 in C.M.A. No. 126/2016, the same is hereby recalled.

JK/80/Bal. Revision dismissed.

18/05/2026

دفعہ 144 کا مکمل اور تفصیلی جائزہ:

دفعہ 144 پاکستان کے ضابطہ فوجداری کا ایک اہم قانون ہے، جو حکومت کو مختلف حالات میں عوامی سلامتی اور امن و امان کے تحفظ کے لیے مخصوص پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اس دفعہ کو خاص حالات میں نافذ کیا جاتا ہے، جیسے کسی علاقے میں امن و امان کا مسئلہ ہو یا پھر عوام کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو۔

دفعہ 144 کا پس منظر:

دفعہ 144 پاکستان کے ضابطہ فوجداری (Criminal Procedure Code) کی ایک قانونی دفعہ ہے جو برطانوی نوآبادیاتی دور میں متعارف کرائی گئی تھی۔ اس قانون کا بنیادی مقصد ہنگامی حالات میں امن و امان کو برقرار رکھنا اور عوامی سلامتی کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کا اختیار دینا تھا۔ برطانوی حکومت نے یہ دفعہ 1861 میں نافذ کی تاکہ ہندوستان میں بڑھتی ہوئی آزادی کی تحریکوں کو روک سکے اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر کے عوامی بغاوت یا احتجاج کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔

انگریز حکومت کے دور میں یہ دفعہ اکثر ان علاقوں میں نافذ کی جاتی تھی جہاں حکومت کو خدشہ ہوتا کہ عوام کی جانب سے مزاحمت یا احتجاج ہونے والا ہے۔ چونکہ آزادی کی تحریکوں اور سیاسی جلسوں کے ذریعے برطانوی حکومت کے خلاف عوامی شعور بیدار ہو رہا تھا، لہٰذا دفعہ 144 کو استعمال کر کے بڑے عوامی اجتماعات کو روکا جاتا اور کسی بھی قسم کی مزاحمت کو دبایا جاتا تھا۔

آج بھی یہ قانون پاکستان، انڈیا اور دیگر ممالک میں استعمال ہوتا ہے، بالخصوص اس وقت جب حکومت کو لگتا ہے کہ حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔

دفعہ 144 کیا ہے؟

دفعہ 144 کے تحت ضلعی یا صوبائی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ مخصوص علاقوں میں عوامی اجتماع، جلسے، جلوس یا کسی بھی قسم کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر سکے جو امن و امان کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ اس کے ذریعے حکومت کو حالات کے مطابق کارروائی کرنے اور عوامی سلامتی کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کا حق ملتا ہے۔

دفعہ 144 کب نافذ کی جاتی ہے؟

دفعہ 144 اس وقت نافذ کی جاتی ہے جب حکومت کو یہ اندیشہ ہو کہ کسی علاقے میں امن و امان خراب ہو سکتا ہے یا پھر کوئی ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جس سے عوام کی جان و مال کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو۔ اس کا نفاذ کسی ہنگامی صورتحال، احتجاج، ہڑتال، قدرتی آفات، دہشت گردی کے خطرے یا عوامی اجتماع کو قابو میں رکھنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر:

احتجاجوں یا ہڑتالوں کے دوران عوام کے اجتماع پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

ڈبل سواری پر پابندی عوامی امن و امان کے لیے نافذ کی جا سکتی ہے۔

کورونا وائرس کی وبا کے دوران اسکول، مارکیٹس اور اجتماعات پر پابندیاں لگائی گئیں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

دفعہ 144 کون نافذ کرتا ہے؟

اس دفعہ کو نافذ کرنے کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہوتا ہے، جبکہ ضلعی سطح پر ضلعی انتظامیہ جیسے ضلعی ناظم یا ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) بھی اسے نافذ کر سکتے ہیں۔ اگر کسی ضلع میں ضلعی ناظم موجود نہیں ہے، تو ڈی سی کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی حدود میں دفعہ 144 نافذ کرے۔

قانون کے مطابق، دفعہ 144 کو کسی بھی علاقے میں زیادہ سے زیادہ دو ماہ کے لیے نافذ کیا جا سکتا ہے، تاہم اگر صورتحال زیادہ سنگین ہو تو اس مدت کو بڑھا کر دو ماہ سے زیادہ بھی کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ صوبائی حکومت اس کی منظوری دے۔

دفعہ 144 کے دوران کون سی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں؟

دفعہ 144 کے تحت مختلف قسم کی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں، جو حالات کے مطابق ہوتی ہیں۔ ان میں شامل ہو سکتی ہیں:

1. عوامی اجتماعات پر پابندی: کسی علاقے میں 4 یا زیادہ افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے تاکہ امن و امان قائم رہے۔

2. جلسے، جلوسوں اور احتجاجوں پر پابندی: عوامی مقامات پر احتجاجی جلوسوں اور جلسوں پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

3. ڈبل سواری پر پابندی: بعض اوقات امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ڈبل سواری پر بھی پابندی لگائی جاتی ہے، خاص طور پر بڑے شہروں میں۔

4. کاروباری سرگرمیوں پر پابندی: کچھ ہنگامی حالات میں کاروبار، مارکیٹس، اسکولز یا دیگر تجارتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

5. فضائی آلودگی کے خلاف اقدامات: فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے مثلاً کوڑا کرکٹ جلانے یا اینٹوں کے بھٹے چلانے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

6. پتنگ بازی پر پابندی: بعض مخصوص اوقات جیسے بسنت کے سیزن میں پتنگ بازی کے دوران حادثات کے خدشے کے پیش نظر، پتنگ بازی پر بھی دفعہ 144 کے تحت پابندی لگائی جاتی ہے۔

دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی سزا:

اگر کوئی شخص دفعہ 144 کے تحت لگائی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔ اس دفعہ کے تحت خلاف ورزی کرنے والے کو ایک ماہ سے چھ ماہ تک قید یا جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

دفعہ 144 کی اہمیت:

دفعہ 144 کا مقصد ہنگامی حالات میں حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کا اختیار دینا ہے تاکہ عوامی سلامتی اور امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔ اگرچہ یہ قانون آزادی کی تحریکوں کو دبانے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر آج کے دور میں اسے مختلف نوعیت کے حالات میں امن و امان کی بحالی اور عوامی جان و مال کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

دفعہ 144 کا غلط استعمال:

اگرچہ دفعہ 144 عوامی سلامتی کے لیے ضروری قانون ہے، لیکن بعض اوقات اس کا ناجائز استعمال بھی ہوتا ہے۔ جیسے کہ حکومتوں کی جانب سے اسے پرامن احتجاجوں کو روکنے یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو کہ عوامی حقوق کے خلاف ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ صرف ایمرجنسی حالات میں کیا جائے اور اس کا مقصد عوام کے جان و مال کا تحفظ ہو، نہ کہ ان کے حقوق کو محدود کرنا۔

خلاصہ:

دفعہ 144 ایک اہم قانونی دفعہ ہے جو حکومت کو ایمرجنسی حالات میں عوامی سلامتی کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی اجازت دیتی ہے۔ اس کا نفاذ امن و امان برقرار رکھنے، جان و مال کے تحفظ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس کے استعمال میں اعتدال اور شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ عوامی حقوق متاثر نہ ہوں۔

14/05/2026

2026 PCr.LJ 638
PLJ 2026 Cr.C.209
ایف آئی آر بذریعہ مختار درج کرائی جاسکتی ہے اور مختار کو دیگر فوجداری کارروائی کرنیکا بھی قانونی اختیار حاصل ہے
Registration of FIR or initiation of criminal proceedings through attorney are permissible under the law.

An attorney of a person can lodge an FIR with the police and can also initiate criminal proceedings before a Court for the interest of his Principal. If the proceedings before the court were initiated by the principal, and he becomes unavailable or incapacitated, the attorney can also continue it on his behalf with the permission of the Court. Court should also encourage such practice keeping in view the hardships involved in the case to reduce delays in the criminal process which would restore the confidence of public on the courts of law for acquisition or regulation of their rights. There is no doubt that Court shall decide the matter on production of relevant evidence only that can also be recorded by using modern techniques like through online applications. Misuse of process by attorney, through registration of false FIR or filing of private complaint, can well be met through sound remedial measures including action pursuant to sections 181, 182, 211, 213 and 250 of the Pakistan Penal Code 1860. Thus, contention of learned counsel for the petitioners that FIR cannot be registered through attorney is nothing but farce.
Crl. Misc.53550/25
Mirza Yahya Baig Vs The State etc.

14/05/2026

Judgment of Supreme Court regarding relation of Principal and Agent

*“مؤکل کی وفات کے بعد وکیل کا اختیار، قانونی ورثاء کی لازمی شمولیت، اور منصفانہ ٹرائل کے آئینی تقاضے — آرڈر III رول 4 اور آرڈر XXII CPC کی تشریح کی روشنی میں سپریم کورٹ کا تجزیاتی جائزہ”*

*“Termination of Advocate’s Authority upon Client’s Death, Impleadment of Legal Heirs, and the Constitutional Imperative of Fair Trial — An Analytical Study under Order III Rule 4 and Order XXII CPC”*

2026 SCP 125
جسٹس محمد علی مظاہر ۔۔۔
(1) وکیل اور اس کے مؤکل کے درمیان تعلق “اصیل اور ایجنٹ” (Principal and Agent) کا ہوتا ہے۔

(2) مؤکل کے انتقال کے ساتھ ہی وکیل کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔

(3) وکیل کا پیشہ ورانہ فرض ہے کہ وہ فوراً عدالت کو مؤکل کی وفات سے آگاہ کرے۔

(4) مؤکل کی وفات کو مخفی رکھنا پیشہ ورانہ آداب اور اخلاقیات کے خلاف ہے۔

(5) متوفی کے قانونی ورثاء کی باقاعدہ اجازت کے بغیر وکیل مزید کارروائی جاری نہیں رکھ سکتا۔

(6) اگر وکیل کی وضاحت غیر معقول پائی جائے تو عدالت متعلقہ بار کونسل کو معاملہ بھیج سکتی ہے تاکہ اس کے خلاف پیشہ ورانہ بدانتظامی (Misconduct) کی کارروائی شروع کی جا سکے۔
2026 SCP 125
تفصیلی فیصلہ ۔۔۔۔۔۔
محترم جسٹس Muhammad Ali Mazhar نے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ سب سے پہلے ضابطۂ دیوانی (CPC) کے آرڈر III رول 4 کا جائزہ لینا ضروری ہے، جو “Recognized Agents & Pleaders” یعنی تسلیم شدہ نمائندوں اور وکلاء سے متعلق ہے۔ اس قانون کے مطابق کوئی وکیل کسی شخص کی طرف سے عدالت میں اس وقت تک پیش نہیں ہو سکتا جب تک اسے تحریری وکالت نامہ کے ذریعے مقرر نہ کیا گیا ہو۔ یہ وکالت نامہ عدالت میں جمع کروایا جاتا ہے اور اس وقت تک مؤثر رہتا ہے جب تک عدالت کی اجازت سے ختم نہ کیا جائے، یا مؤکل یا وکیل کی وفات نہ ہو جائے، یا مقدمہ مکمل نہ ہو جائے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اس مقدمہ میں یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت تھی کہ درخواست گزار/جواب دہندہ نمبر 1 کا انتقال 04-11-2024 کو ہو چکا تھا، مگر اس کی وفات سے عدالتِ عالیہ کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً 26-05-2025 کو ایک ایسا حکم جاری ہوا جس میں ایک فوت شدہ شخص کو رینٹ مقدمات میں فریق بنانے کا حکم دے دیا گیا، حالانکہ اس کے قانونی ورثاء کو شامل ہی نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ وکیل پر لازم تھا کہ وہ فوراً عدالت کو اپنے مؤکل کی وفات سے مطلع کرتا، مگر اس نے خاموشی اختیار کی اور مقدمہ ورثاء کی موجودگی کے بغیر فیصلہ کر دیا گیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ وکیل اور مؤکل کا تعلق اصولاً “اصیل اور ایجنٹ” (Principal and Agent) کا ہوتا ہے۔ جب مؤکل وکالت نامہ پر دستخط کرتا ہے تو وہ وکیل کے اقدامات کا پابند ہو جاتا ہے، مگر مؤکل کی وفات کے ساتھ ہی وکیل کی حیثیت بطور ایجنٹ فوراً ختم ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے پاور آف اٹارنی مالک کی وفات کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ مؤکل کی وفات کے بعد وکیل بغیر ہدایات کے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں جاری نہیں رکھ سکتا، اس لیے ہر وکیل کا پیشہ ورانہ فرض ہے کہ وہ فوراً عدالت کو مؤکل کی موت سے آگاہ کرے تاکہ قانونی ورثاء کو مقدمہ میں شامل کیا جا سکے۔ ورثاء چاہیں تو نیا وکالت نامہ دے کر اسی وکیل کو مقرر کریں یا اپنی پسند کا نیا وکیل مقرر کریں۔ وکیل بغیر مناسب اختیار کے مقدمہ جاری نہیں رکھ سکتا۔

عدالت نے قانونی اصول “nullus commodum capere potest de injuria sua proprio” یعنی “کوئی شخص اپنی غلطی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی وکیل کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنے مؤکل کی وفات چھپا کر فائدہ حاصل کرے۔ فوت شدہ مؤکل کے وکالت نامہ یا پاور آف اٹارنی کے استعمال کے نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی نتائج بھی ہوتے ہیں۔ مؤکل کی وفات کو چھپانا نہ صرف حقائق کو مخفی رکھنے کے مترادف ہے بلکہ وکالت کے اخلاقی اصولوں اور پیشہ ورانہ آداب کے بھی خلاف ہے۔ اگر وکیل کی وضاحت غیر معقول پائی جائے تو عدالت متعلقہ بار کونسل کو بھی معاملہ بھیج سکتی ہے تاکہ وکیل کے خلاف پیشہ ورانہ بدانتظامی (Misconduct) کی کارروائی شروع کی جا سکے۔

عدالت نے بھارتی ضابطۂ دیوانی کے آرڈر XXII رول 10-A کا حوالہ بھی دیا جس کے مطابق اگر کسی وکیل کو اپنے مؤکل کی وفات کا علم ہو جائے تو وہ عدالت کو آگاہ کرنے کا پابند ہے، تاکہ قانونی ورثاء کو شامل کیا جا سکے اور مقدمہ مناسب نمائندگی کے بغیر ختم نہ ہو۔

عدالت نے کہا کہ اگر متوفی مدعی یا درخواست گزار کا حق دعویٰ باقی ہو اور “Right to Sue Survives” یعنی دعویٰ کا حق موت کے بعد بھی قائم رہے، تو اس کی وفات کے بعد مقدمہ جاری رکھنے کا حق اس کے قانونی ورثاء کو منتقل ہو جاتا ہے۔ قانونی ورثاء اسی مرحلہ سے مقدمہ آگے بڑھا سکتے ہیں جہاں تک مقدمہ پہنچ چکا ہو۔ اس کا مقصد متوفی کے حقوق اور ذمہ داریوں کا تحفظ اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔

عدالت نے آرڈر VII رول 26 اور آرڈر VIII رول 13 CPC کا بھی حوالہ دیا، جن کے مطابق مدعی اور مدعا علیہ کو پہلے ہی ان افراد کے نام اور پتے فراہم کرنا ہوتے ہیں جو ان کی وفات کی صورت میں بطور قانونی نمائندہ شامل کیے جا سکیں۔

عدالت نے لمیٹیشن ایکٹ 1908 کے آرٹیکل 176 اور 177 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قانونی ورثاء کو فریق بنانے کے لیے 90 دن کی مدت مقرر ہے، مگر اگر تاخیر ہو جائے تو یہ کوئی سخت اور قطعی اصول نہیں کہ ورثاء ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائیں۔ عدالت انصاف کے تقاضوں کے مطابق تاخیر کو معاف کر سکتی ہے کیونکہ وراثتی حقوق محض تکنیکی بنیادوں پر ختم نہیں کیے جا سکتے۔

عدالت نے آرڈر XXII CPC کی مختلف دفعات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اگر “حقِ دعویٰ” باقی رہے تو مدعی یا مدعا علیہ کی وفات سے مقدمہ ختم نہیں ہوتا۔ 1972 کی قانونی اصلاحات کے بعد اب یہ اصول موجود ہے کہ اگر مقررہ وقت میں قانونی ورثاء کو شامل نہ بھی کیا جائے تو عدالت مقدمہ جاری رکھ سکتی ہے اور فیصلہ مؤثر رہے گا، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وکیل اپنے مؤکل کی وفات چھپا کر فوت شدہ وکالت نامہ کے ذریعے مقدمہ چلاتا رہے۔ اگر ایسا تصور قبول کر لیا جائے تو آرڈر XXII کے تحت قانونی ورثاء کو شامل کرنے کا پورا نظام بے معنی ہو جائے گا۔

عدالت نے کہا کہ اگر عدالت کو موت کی اطلاع ہی نہ دی جائے تو عدالت خود بخود اس حقیقت سے کیسے آگاہ ہو سکتی ہے؟ اگر فریق بذاتِ خود پیش ہو رہا ہو تو ورثاء عدالت کو آگاہ کر سکتے ہیں، لیکن جب فریق وکیل کے ذریعے پیش ہو رہا ہو تو یہ وکیل کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت کو فوراً اطلاع دے، کیونکہ مؤکل کی وفات کے ساتھ ہی وکالت نامہ ختم ہو جاتا ہے۔

آخر میں عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ وکیل نے مؤکل کی وفات کے باوجود عدالت میں پیش ہو کر مقدمہ جاری رکھا اور اسی بنیاد پر ہائی کورٹ نے متوفی کے حق میں فیصلہ دیا، اس لیے یہ فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ چنانچہ سپریم کورٹ نے سول پٹیشنز کو اپیلوں میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کیا، ہائی کورٹ کا 26-05-2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، اور معاملہ واپس ہائی کورٹ کو بھجوا دیا تاکہ متوفی کے قانونی ورثاء کو فریق بنا کر تمام آئینی درخواستوں کا ازسرِنو قانون کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔
قانونی تجزیاتی جائزہ
یہ فیصلہ پاکستانی دیوانی قانون، وکالت کے پیشہ ورانہ اصولوں، قدرتی انصاف، اور منصفانہ ٹرائل کے آئینی تقاضوں کے تناظر میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس مقدمہ میں واضح کیا کہ مؤکل کی وفات کے بعد وکیل کا اختیار فوراً ختم ہو جاتا ہے اور وکیل پر لازم ہے کہ وہ عدالت کو اس حقیقت سے فوری آگاہ کرے۔

یہ فیصلہ صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ:

وکیل کی اخلاقی ذمہ داری؛

عدالتی شفافیت؛

منصفانہ ٹرائل؛

ورثاء کے حقِ سماعت؛

اور عدالتی نظام کے تقدس

سے براہِ راست متعلق ہے۔

1۔ وکیل اور مؤکل کا تعلق — Principle & Agent
عدالت نے قرار دیا کہ:

وکیل اور مؤکل کا تعلق “Principal and Agent” کا ہے۔

یہ اصول بنیادی طور پر قانونِ معاہدات (Law of Agency) سے اخذ شدہ ہے۔

متعلقہ قانونی دفعات
Contract Act, 1872
Sections 182–201
خصوصاً:

Section 201 Contract Act
Agency ختم ہو جاتی ہے:

principal کی موت سے؛

insanity سے؛

authority revocation سے۔

یعنی:

مؤکل کی وفات کے بعد وکیل کا اختیار از خود ختم ہو جاتا ہے۔

2۔ Order III Rule 4 CPC کی قانونی تشریح
Order III Rule 4 CPC
یہ دفعہ وکیل کی تقرری اور اختیار سے متعلق ہے۔

اہم نکات:
وکیل صرف تحریری وکالت نامہ پر کارروائی کر سکتا ہے۔

وکالت نامہ عدالت میں فائل ہونا ضروری ہے۔

وکالت نامہ ختم ہوتا ہے:

(a)
مؤکل کی وفات پر

(b)
وکیل کی وفات پر

(c)
مقدمہ ختم ہونے پر

سپریم کورٹ نے یہی قرار دیا:

“Authority of advocate ceases immediately upon death of client.”

3۔ مؤکل کی وفات چھپانا — قانونی اور اخلاقی بددیانتی
عدالت نے انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے:

“Concealment of death is against professional etiquettes.”

یہ صرف procedural irregularity نہیں بلکہ:

Misconduct

Abuse of process

Fraud upon Court

کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

4۔ وکیل کی پیشہ ورانہ ذمہ داری
Legal Profession & Ethics
Pakistan Bar Council
Canons of Professional Conduct and Etiquette
وکیل پر لازم ہے کہ:

عدالت سے سچ نہ چھپائے؛

misrepresentation نہ کرے؛

عدالت کو mislead نہ کرے۔

اگر وکیل جان بوجھ کر مؤکل کی وفات چھپائے تو یہ:

Professional Misconduct
ہو گا۔

5۔ بار کونسل کارروائی — مجوزہ قانونی اثرات
عدالت نے قرار دیا:

معاملہ متعلقہ بار کونسل کو بھیجا جا سکتا ہے۔

متعلقہ قانون
Legal Practitioners and Bar Councils Act, 1973
Section 41
Professional misconduct inquiry

ممکنہ سزائیں:
reprimand

suspension

cancellation of license

6۔ قانونی ورثاء کی شمولیت — بنیادی قانونی تقاضا
Order XXII CPC
یہ پورا Order وفات کے بعد مقدمات کی
continuation
سے متعلق ہے۔

7۔ “Right to Sue Survives” کی تشریح
یہ مقدمہ کا مرکزی اصول ہے۔

مفہوم:
اگر دعویٰ ذاتی نوعیت کا نہ ہو تو:

مقدمہ مرنے سے ختم نہیں ہوتا۔

بلکہ:

قانونی ورثاء مقدمہ جاری رکھ سکتے ہیں۔

8۔ Latin Maxim
عدالت نے دو اہم اصول بیان کیے:

(1)
Nullus Commodum Capere Potest De Injuria Sua Propria
کوئی شخص اپنی غلطی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

یعنی:

وکیل موت چھپا کر فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔

(2)
Actio Personalis Moritur Cum Persona
ذاتی دعویٰ شخص کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔

مگر:

ہر دعویٰ اس اصول کے تحت ختم نہیں ہوتا۔

مثلاً:

property disputes

tenancy disputes

inheritance disputes

ورثاء کو منتقل ہوتے ہیں۔

9۔ Order XXII Rule 3 CPC
مدعی کی وفات
اگر:

مدعی فوت ہو جائے؛

حقِ دعویٰ باقی ہو؛

تو:

عدالت قانونی ورثاء کو شامل کرے گی۔

10۔ Order XXII Rule 4 CPC
مدعا علیہ کی وفات
اگر defendant فوت ہو جائے:

تو legal heirs کو implead کرنا لازم ہے۔

11۔ Law Reforms Ordinance 1972 کی اہمیت
1972 سے پہلے:

مقدمہ خود بخود abate ہو جاتا تھا۔

اصلاحات کے بعد:

عدالت مقدمہ جاری رکھ سکتی ہے۔

مگر:

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ:

وکیل موت چھپا کر کارروائی جاری رکھے۔

سپریم کورٹ نے یہی اصول واضح کیا۔

12۔ Order VII Rule 26 CPC
مدعی کو پہلے سے legal heirs کی تفصیلات دینا ہوں گی۔

یہ ایک اہم procedural safeguard ہے۔

13۔ Order VIII Rule 13 CPC
Defendant
کی possible legal representatives کی معلومات بھی ضروری ہیں۔

14۔ Limitation Act 1908
Article 176
Deceased plaintiff/appellant

Article 177
Deceased defendant/respondent

مدت:
90 دن

15۔ کیا تاخیر ناقابلِ معافی ہے؟
عدالت نے کہا:

نہیں۔

اگر sufficient cause ہو تو:

delay condone ہو سکتی ہے۔

16۔ آئینی پہلو
یہ فیصلہ براہِ راست منسلک ہے:

Article 10-A Constitution of Pakistan
Fair Trial & Due Process
اگر legal heirs کو سنے بغیر فیصلہ ہو:

تو:

natural justice violate
ہوتی ہے؛

fair hearing
متاثر ہوتی ہے۔

17۔ Principles of Natural Justice
Audi Alteram Partem
دوسرے فریق کو بھی سنا جائے۔

ورثاء کو سنے بغیر فیصلہ:

اس اصول کی خلاف ورزی ہے۔

18۔ عدالت کی ذمہ داری
عدالت نے واضح کیا:

اگر موت کی اطلاع ہی نہ دی جائے تو:

عدالت خود کیسے جان سکے گی؟

اس لیے:

وکیل پر heightened duty عائد ہوتی ہے۔

19۔ Ex Parte فائدہ اٹھانے کی ممانعت
عدالت نے دراصل یہ اصول قائم کیا:

وکیل procedural manipulation نہیں کر سکتا۔

20۔ مجوزہ قانونی اصلاحات
یہ فیصلہ پاکستان میں procedural reforms کی ضرورت بھی ظاہر کرتا ہے۔

مجوزہ ترامیم
(1) Mandatory Death Disclosure Rule
CPC
میں نئی دفعہ شامل ہو

وکیل 7 دن کے اندر موت رپورٹ کرے۔

(2) Digital NADRA Verification
عدالتی نظام کو NADRA سے link کیا جائے۔

(3) Automatic Suspension of Proceedings
موت کی اطلاع پر:

کارروائی خودکار طور پر معطل ہو۔

(4) Penal Consequences
جان بوجھ کر concealment پر:

contempt

misconduct

costs

لاگو ہوں۔

21۔ بین الاقوامی قانونی اصول
India
Order XXII Rule 10-A CPC

وکیل پر mandatory duty۔

United Kingdom
Solicitors Regulation Authority (SRA):

duty of candor

duty to court

United States
ABA Model Rules:

Rule 3.3
Candor Toward Tribunal

22۔ اس فیصلہ کے عملی اثرات
یہ فیصلہ مستقبل میں:

fake representation؛

expired vakalatnama؛

fraudulent litigation

کو روکنے میں بنیادی نظیر بنے گا۔

23۔ اہم قانونی اصول جو اس فیصلہ سے اخذ ہوئے
Established Principles
(1)
مؤکل کی وفات سے وکالت نامہ ختم۔

(2)
وکیل فوراً عدالت کو آگاہ کرے۔

(3)
ورثاء کو شامل کرنا لازم۔

(4)
وفات چھپانا misconduct۔

(5)
fair trial ورثاء کی سماعت کے بغیر ممکن نہیں۔

(6)
عدالت procedural technicalities کے بجائے substantive justice کو ترجیح دے گی۔

نتیجہ
یہ فیصلہ پاکستانی عدالتی نظام میں:

وکیل کی امانت داری؛

عدالت کے ساتھ دیانت؛

قانونی ورثاء کے حقوق؛

اور fair trial

کے اصولوں کو مضبوط بناتا ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ:

عدالتیں محض تکنیکی کارروائی نہیں بلکہ انصاف کے ادارے ہیں، اور انصاف تبھی ممکن ہے جب ہر متاثرہ فریق کو سنا جائے اور وکیل اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری دیانت داری سے

Address

Christian Colony, Eid Gah Road, Layyah
Leiah

Telephone

+923007411642

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law Talk With Adv Yousaf Doulat Chaudhary posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Law Talk With Adv Yousaf Doulat Chaudhary:

Share