12/12/2025
جامشورو سے تعلق رکھنے والے نامور قانوندان ایڈوکیٹ راجہ جواد علی نے این ایچ اے اور موٹروے حکام کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا
انہوں نے شاہراؤں کی حالت زار اور ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر ایف آئی آر کے اندراج کے حوالے سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موٹروے حکام کو اوور اسپیڈنگ پر ایف آئی آر درج کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے۔
مزید یہ بھی کہا گیا کہ ڈی آئی جی موٹرویز دار علی خان خٹک خود اوور اسپیڈنگ کرتے رہے ہیں مگر ان کے خلاف کارروائی کا کوئی قانون موجود نہیں نیشنل ہائی وے سیفٹی آرڈیننس 2000 بھی اتھارٹی کو ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔
ایف آئی آر کے اندراج سے لوگوں پر ذہنی دباؤ پڑتا ہے، کردار پر داغ لگتا ہے اور پورا زندگی کا ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے۔ موٹروے پر سفر کرنے والی فیملیز کی عزت اور جان کو اس غیر قانونی عمل کی وجہ سے خطرات لاحق ہیں کیونکہ موٹروے پولیس اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے ایف آئی آر درج کرتی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے چیئرمین این ایچ اے، آئی جی موٹرویز، ڈی آئی جی موٹرویز اور دیگر حکام کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
یہ مقدمہ اب 22.12.2025 کو سماعت کے لیے مقرر ہے۔ یہ تمام اقدام عوامی مفاد میں کیے گئے ہیں تاکہ عام شہریوں کو موٹروے پولیس کے اختیارات کے ناجائز استعمال سے محفوظ رکھا جا سکے۔