Income Tax Filer

Income Tax Filer Advocate and Tax Consultant

10/06/2026

فنانس ایکٹ 2021 کے بعد انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 122 میں کی گئی ترامیم کے نتیجے میں ایف بی آر افسران کے اختیارات میں نمایاں حد تک کمی آئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ٹیکس دہندگان اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں تمام اثاثے، اخراجات اور ذرائع آمدن درست اور مکمل طور پر ظاہر کریں۔ اگر انکم ٹیکس ریٹرن باقاعدگی سے فائل کی گئی ہو اور ٹیکس کنسلٹنٹ نے خصوصاً بینک اسٹیٹمنٹس اور دیگر مالی معاملات کا مکمل جائزہ لے کر ریٹرن تیار کی ہو تو عام حالات میں کسی بھی افسر کے لیے سیکشن 122 کے تحت ریٹرن میں ترمیم کرنا آسان نہیں رہا۔
سیکشن 122(5) کے تحت اسسٹنٹ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کو صرف اسی صورت میں ریٹرن میں ترمیم کا اختیار حاصل ہے جب اس کے پاس ایسی Definite Information موجود ہو جو ٹیکس دہندہ کی جانب سے ظاہر نہ کی گئی آمدن، اثاثوں یا اخراجات کی نشاندہی کرتی ہو۔ عموماً ایسی صورت میں پہلے سیکشن 111 کے تحت کارروائی کی جاتی ہے اور بعد ازاں، اگر قانوناً جواز موجود ہو، تو سیکشن 122 کے تحت ترمیمی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
اسی طرح سیکشن 122(5A) کے تحت ایڈیشنل کمشنر کے اختیارات انتہائی محدود ہیں۔ وہ صرف ایسی واضح غلطی کی اصلاح کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں حکومتی ریونیو کم ہو رہا ہو۔ ایڈیشنل کمشنر کو سیکشن 122(5A) کے تحت انکوائری (Inquiry) کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے اور نہ ہی وہ سیکشن 111 کے تحت نوٹس جاری کر سکتا ہے۔ مزید برآں، قانون میں یہ شرط بھی موجود ہے کہ سیکشن 122 کے تحت جاری کیے گئے شوکاز نوٹس پر افسر کو ایک سال کے اندر اندر فیصلہ کرنا لازم ہے۔
اگر ٹیکس دہندہ نے اپنی آمدن، اخراجات اور اثاثے مکمل اور درست طور پر ظاہر کیے ہوں تو ایسی صورت میں ریٹرن کی مزید جانچ پڑتال کا مناسب قانونی راستہ سیکشن 177 کے تحت آڈٹ ہے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ افسر کو پہلے ڈیسک آڈٹ کرنا اور بعد ازاں کمشنر سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتی ہے۔
لہٰذا اگر ریٹرن، ویلتھ اسٹیٹمنٹ، بینکنگ ٹرانزیکشنز اور دیگر مالی معلومات درست اور مکمل طور پر ظاہر کی گئی ہوں تو محض ڈیکلریشن کی بنیاد پر افسر کے پاس Definite Information کے تحت ٹیکس دہندہ کو نوٹس کرنے کا جواز پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی عدالتوں کے لیئے اس بنیاد پر کی جانے والی ترمیمی کارروائی قانوناً قابلِ قبول ہیں۔ ٹیکس دہندگان کو چاہیے کہ وہ اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ، بینک ریکارڈ اور ٹیکس ریٹرن میں مکمل مطابقت رکھیں تاکہ غیر ضروری ٹیکس تنازعات سے بچا جا سکے۔
میاں محمد افضل بشیر ایڈووکیٹ

ایف بی آر کا اہم وضاحتی سرکلر جاری — بلڈرز و ڈیویلپرز کو بڑا ریلیف۔۔۔اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انک...
03/04/2026

ایف بی آر کا اہم وضاحتی سرکلر جاری — بلڈرز و ڈیویلپرز کو بڑا ریلیف۔۔۔

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس سے متعلق ایک اہم وضاحتی سرکلر نمبر 07 برائے ٹیکس سال 2025-26 جاری کر دیا ہے، جس میں جائیداد کی فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس (سیکشن 236C) کے اطلاق کے حوالے سے بلڈرز اور ڈیویلپرز کے لیے اہم رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔
سرکلر کے مطابق ایف بی آر کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی تھی کہ کنسٹرکشن اور ڈیویلپمنٹ کے شعبے سے وابستہ افراد، جو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 7F کے تحت خصوصی ٹیکس نظام کے تابع ہیں، ان پر سیکشن 236C کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس کے اطلاق میں ابہام پایا جا رہا تھا۔
ایف بی آر نے وضاحت کی ہے کہ سیکشن 7F کے تحت بلڈرز اور ڈیویلپرز کی آمدن کا تعین مجموعی وصولیوں کے ایک مقررہ فیصد کے طور پر کیا جاتا ہے، اور یہ آمدن "بزنس انکم" کے زمرے میں آتی ہے۔ اس نظام کے تحت ٹیکس کی ادائیگی ایک خصوصی طریقہ کار کے تحت ہوتی ہے، جس کے باعث سیکشن 236C کے تحت کٹوتی بعض صورتوں میں اضافی مالی بوجھ کا باعث بن رہی تھی، خاص طور پر جب متعلقہ ٹیکس دہندہ کی دیگر قابلِ ٹیکس آمدن موجود نہ ہو۔
ایف بی آر نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ایسے افراد جو سیکشن 7F کے تحت اپنی ٹیکس ذمہ داری پوری کر چکے ہوں اور ان کی کوئی دیگر قابلِ ٹیکس آمدن نہ ہو، وہ سیکشن 236C کے تحت ایڈوانس ٹیکس کی وصولی سے استثنیٰ حاصل کر سکتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے متعلقہ افراد کو انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 159 کے تحت کمشنر ان لینڈ ریونیو کو درخواست دینا ہوگی، جس کے بعد انہیں استثنیٰ سرٹیفکیٹ جاری کیا جا سکتا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ جائیداد کی فروخت کے وقت ودہولڈنگ ٹیکس کی عدم کٹوتی کی اجازت دے گا۔
ایف بی آر نے تمام کمشنرز ان لینڈ ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسی درخواستوں کا جائزہ کیس ٹو کیس بنیادوں پر لیں اور یہ یقینی بنائیں کہ درخواست گزار تمام قانونی تقاضے پورے کرتا ہو۔ مزید برآں، استثنیٰ سرٹیفکیٹس کے اجرا کے لیے مقررہ وقت کی پابندی بھی لازم قرار دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام بلڈرز اور ڈیویلپرز کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، جس سے ان کے مالی دباؤ میں کمی آئے گی اور کنسٹرکشن سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: مفروضات پر سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔• اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کیا ک...
01/02/2026

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: مفروضات پر سیلز ٹیکس
عائد نہیں کیا جا سکتا۔

• اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کیا کہ سیلز ٹیکس کی ذمہ داری صرف شبہات یا مفروضات کی بنیاد پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

• عدالت نے فیصلہ دیا کہ محکمۂ ان لینڈ ریونیو نے شو کاز نوٹس بغیر آڈٹ یا تحقیق کے جاری کیا، جو Sales Tax Act, 1990 کے تحت غیر قانونی ہے۔

• عدالت کے مطابق، محکمہ نے یہ تصدیق نہیں کی کہ آٹھ سپلائرز نے واقعی سپلائی کی یا ٹیکس خزانے میں جمع کروایا۔
• ٹیکس دہندہ پر الٹا بوجھ (Reverse Onus) ڈالنا اور اسے یہ ثابت کرنے کا کہنا کہ سپلائر نے ٹیکس جمع نہیں کیا، قانون کے اور آئین (آرٹیکل 10A) کے خلاف ہے۔

• سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ان پٹ ٹیکس اور آؤٹ پٹ ٹیکس کی ذمہ داری سپلائر کی ہے اور محکمہ کو ثبوت فراہم کرنا لازم ہے۔

• عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ فنانس ایکٹ 2013 میں شامل دستاویزات جیسے گیٹ پاس اور ٹرانسپورٹ چالان، پچھلے لین دین پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔

• عدالت نے ٹیکس قوانین کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ مالی قوانین میں قیاس آرائی یا مفروضات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

• نتیجتاً، کمشنر ان لینڈ ریونیو کی اپیل مسترد کر دی گئی اور ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ دیا گیا۔

• یہ فیصلہ ٹیکس دہندگان کو من مانی، غیر شفاف اور یکطرفہ ٹیکس کارروائیوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے اور محکمۂ ٹیکس کے لیے واضح قانونی رہنما اصول ہے۔

حوالہ: 2023 SCMR 1797 = 2023 SLD 2353، سپریم کورٹ آف پاکستان
میاں محمد افضل
ایڈووکیٹ / ٹیکس کنسلٹنٹ
میاں اینڈ میاں لاء ایسوسی ایٹس

Address

Saith Center Near Custom House Lahore
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Friday 09:00 - 20:00
Saturday 09:00 - 18:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Income Tax Filer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category