Ch Ali Aftab Gujjar law

Directions

Ch Ali Aftab Gujjar law Ch Ali Aftab Gujjar, Advocate High Court. Providing expert services and legal solutions in Civil, Criminal, Family, Revenue & Tax Law.

27/09/2026

PLD 2026 Lahore 716
PLJ 2026 Lahore 534

Following questions of law arise for determination by this Court:

i. Whether the death of the drawer/defendant during pendency of a summary suit under Order ###VII, Code of Civil Procedure, 1908 ("CPC"), causes the suit to abate in terms of Order XXII, CPC, or whether the right to sue survives?

ii. Whether an objection regarding maintainability of a suit under Order ###VII, CPC, can be raised for the first time, in view of Sections 29 and 29-A of the Negotiable Instruments Act, 1881 ("the Act"), at the appellate stage by legal representatives who, after impleadment, adopted the written statement of the deceased and contested the suit on merits?

iii. Whether, in the facts and circumstances of the case and in view of Section 50, CPC, the impugned decree can be executed against the appellants?

Held that the objection raised by the appellants that the suit was not maintainable, keeping in view Sections 29 and 29-A of the Act as also the ratio laid down in case of Muhammad Abaid Ullah v. Ateeq-ur-Rehman and 8 others (2015 CLC 641 Lahore), is misconceived on account of distinguishable facts inasmuch as in case of Muhammad Abaid Ullah supra, the suit was instituted after death of the drawer therein, whereas in the present case, the suit was validly instituted against the drawer/defendant during his lifetime who sought and obtained leave to defend and contested the claim and upon his demise, the appellants were impleaded and voluntarily stepped into his shoes by adopting his defence and leading evidence. At no stage before the Trial Court did, they question maintainability of the suit on the basis of Sections 29 and 29-A of the Act. On the contrary, they expressly adopted the written statement of the deceased drawer/defendant and led complete defence evidence. Further held that the impugned decree determines liability of the deceased drawer/defendant. Its executability against legal representatives is statutorily circumscribed by Section 50, CPC. The Executing Court is competent to determine, upon objection, whether and to what extent any estate has been inherited and is available for satisfaction of the decree. The decree, therefore, is executable only to the extent of any estate inherited by the appellants, and not beyond.

19/09/2026

رات جاگتی قوم

رات کے دو بجے لاہور کی کسی بڑی سڑک پر نکل کر دیکھیے۔ چائے کے کھوکھے آباد ہیں، ریسٹورنٹس کے باہر گاڑیوں کی قطاریں ہیں، نوجوان سڑک کنارے محفلیں سجائے بیٹھے ہیں۔ کہیں برگر ہے، کہیں کافی، کہیں قہقہے۔

پھر صبح سات بجے کسی بڑے ہسپتال کا رخ کیجیے۔

وہاں بھی رش ہے۔

کسی کا بلڈ پریشر بلند ہے، کسی کی شوگر قابو میں نہیں، کوئی موٹاپے کا شکار ہے، کسی کو نیند کی خرابی ہے، کسی کو سانس کا مسئلہ ہے اور کسی کو دل کی بیماری نے گھیر رکھا ہے۔

یہ منظر محض اتفاق نہیں۔ پاکستان میں غیر متعدی بیماریوں، خصوصاً دل کی بیماری، ذیابیطس، موٹاپے اور دیگر دائمی امراض کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ان بیماریوں میں خوراک، جسمانی سرگرمی، نیند، وزن، تمباکو اور طرزِ زندگی اہم عوامل ہیں۔

اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ ہمیں مزید ہسپتال کتنے چاہئیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ ہمیں مزید مریض بننے سے کیسے روکنا ہے؟

ہم نے اپنی زندگی کی گھڑی بڑی حد تک الٹ دی ہے۔ رات دیر تک جاگنا، غیر ضروری طور پر دیر سے کھانا، مسلسل موبائل استعمال کرنا، جسمانی سرگرمی کم کرنا اور صبح دیر سے اٹھنا اب معمول بنتا جا رہا ہے۔

مسئلہ صرف دیر سے سونے کا نہیں۔ بےترتیب نیند، کم جسمانی سرگرمی اور دن رات کے قدرتی معمول سے مسلسل دوری ہماری صحت، ذہنی کارکردگی اور روزمرہ زندگی پر اثر ڈال سکتی ہے۔

ہم جسم کو مشین سمجھ بیٹھے ہیں کہ جب چاہیں بند کریں اور جب چاہیں چلا دیں، حالانکہ انسانی جسم اپنی ایک biological clock رکھتا ہے۔

لیکن مسئلہ صرف صحت تک محدود نہیں۔

قومیں بیماری سے ہی نہیں، بےترتیبی سے بھی کمزور ہوتی ہیں۔

دنیا کے کامیاب معاشروں میں رات کی تفریح اپنی جگہ موجود ہے، مگر ان کی معاشی اور پیشہ ورانہ زندگی کا بنیادی نظام وقت کی پابندی اور نظم و ضبط کے ساتھ چلتا ہے۔ ہمیں بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی معیشت میں مقابلہ صرف صلاحیت سے نہیں، وقت اور نظم و ضبط سے بھی ہوتا ہے۔

ہمارے گھروں کا معمول بھی بدل گیا ہے۔ کبھی رات جلد سونے اور صبح جلد اٹھنے کا ایک واضح نظام ہوا کرتا تھا۔ آج والدین خود رات گئے تک موبائل میں مصروف ہوں تو بچوں سے وقت کی پابندی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

ہم نے بچوں کو نصیحتیں بہت دی ہیں،
مگر معمول اور مثال کم دی ہے۔

اسلام نے بھی رات کو سکون اور دن کو معاش کا وقت قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈاکٹر، سیکیورٹی اہلکار، فیکٹری ورکر یا ایمرجنسی اسٹاف رات میں کام نہ کریں۔ ضروری night shifts اپنی جگہ ناگزیر ہیں۔

اصل مسئلہ ہے:

بلا ضرورت رات کو دن بنا دینا۔

اس کا حل صرف حکومت کے پاس نہیں۔ ریاست بہتر شہری سہولیات، پارکس، walking spaces، صحت کی آگاہی اور منظم کاروباری اوقات کے ذریعے اپنا کردار ادا کر سکتی ہے، مگر اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔

رات کا کھانا نسبتاً جلد ہو، موبائل سونے سے پہلے ایک طرف رکھا جائے، بچوں کے لیے مناسب bedtime ہو، صبح کا آغاز جلد اور بامقصد ہو، روزانہ کچھ وقت چہل قدمی یا ورزش کے لیے نکالا جائے اور نوجوان اپنے دن کے بہترین اوقات علم، ہنر، کاروبار اور تخلیق کے لیے استعمال کریں۔

ہمیں چائے، دوستوں کی محفلوں یا ریسٹورنٹس سے کوئی دشمنی نہیں۔

مسئلہ تفریح نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ تفریح زندگی کا مرکز بن جائے۔

ہمیں مزید ہسپتال بھی چاہئیں، بہترین ڈاکٹر بھی، جدید diagnostic facilities بھی اور معیاری علاج بھی۔

لیکن ایک صحت مند اور باشعور قوم صرف یہ نہیں پوچھتی کہ بیمار ہونے کے بعد کہاں جانا ہے۔

وہ یہ بھی پوچھتی ہے:

ہم اتنے بیمار ہو کیوں رہے ہیں؟

شاید ہمارے شہروں کو صرف مزید ہسپتالوں کی نہیں،
ایک نئی، صحت مند اور بامقصد صبح کی بھی ضرورت ہے۔

کیونکہ قوموں کی صحت صرف ICU میں محفوظ نہیں ہوتی؛
وہ ان کے گھروں، باورچی خانوں، کھیل کے میدانوں، سونے کے کمروں اور صبح اٹھنے کی عادتوں میں محفوظ ہوتی ہے۔

اور شاید ہمیں اپنے بڑھتے ہوئے ہسپتالوں کو دیکھ کر ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے:

ہمیں صرف مزید beds چاہییں، یا ایسی زندگی بھی بنانی ہے جس میں ہمارے بچوں کو ان beds کی ضرورت کم سے کم پڑے؟

— چوہدری علی آفتاب گجر
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

13/09/2026

جھگڑے اس لیے ختم نہیں ہوتے کہ ہم انہیں ختم کرنے کے لیے بھی جھگڑتے ہیں؛
کچھ آگیں پانی سے نہیں، خاموشی سے بجھتی ہیں۔

عجیب بات ہے کہ ہم ساری زندگی دوسروں کے چہرے پڑھتے رہتے ہیں، ان کی خامیاں تلاش کرتے اور ان کی کمزوریاں گنتے رہتے ہیں، مگر...
07/09/2026

عجیب بات ہے کہ ہم ساری زندگی دوسروں کے چہرے پڑھتے رہتے ہیں، ان کی خامیاں تلاش کرتے اور ان کی کمزوریاں گنتے رہتے ہیں، مگر اپنے ہی وجود کے آئینے کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت کم ہی کرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ دوسروں کی خامیاں دیکھنا آسان ہے، مگر اپنی حقیقت کا سامنا کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔

پھر کبھی زندگی کسی لمحے ہمیں اپنے ہی سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ اور جب انسان واقعی اپنے اندر جھانکتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ جن باتوں کی اسے عمر بھر شکایت رہی، وہ دراصل اُن بے شمار نعمتوں پر پڑا ہوا پردہ تھیں جو ہر لمحہ اس کے حصے میں آتی رہیں، مگر اس نے کبھی انہیں شمار ہی نہیں کیا۔

تب سمجھ آتا ہے کہ شکر کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں ہماری خواہش کے مطابق سب کچھ حاصل ہو جائے۔ شکر تو یہ احساس ہے کہ جو کچھ ملا، وہ ہمارا حق نہیں تھا؛ وہ اُس رب کا کرم تھا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اُس نے ہمیشہ ہماری اوقات، ہماری استطاعت اور ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر عطا کیا۔

اسی طرح لوگوں کو معاف کر دینا کمزوری نہیں، اپنے دل کو آزاد کر دینا ہے۔ جو لوگ ہمیں دکھ دیتے ہیں، ممکن ہے وہ خود اپنے اندر کے کسی زخم، محرومی یا بے سکونی کے ہاتھوں مجبور ہوں۔ ایسے لوگوں کے لیے دل میں نفرت پالنے کے بجائے رحم اور خاموشی اختیار کرنا زیادہ بڑی دانائی ہے۔ کیونکہ دوسروں کی تلخی کو اپنے دل کا مستقل مزاج بنا لینا، دراصل اپنے ہی سکون کو سزا دینا ہے۔

اپنی زندگی کی نوّے فیصد توانائی اُن دس فیصد لوگوں پر صرف نہ کریں جو آپ سے نفرت کرتے ہیں۔ اپنی توجہ اُن لوگوں کے لیے محفوظ رکھیں جو آپ کی قدر کرتے ہیں، آپ کی موجودگی سے خوش ہوتے ہیں اور جن کے لیے آپ کی محبت، وقت اور توجہ واقعی معنی رکھتی ہے۔ زندگی بہت مختصر ہے؛ اسے اُن لوگوں کے نام نہیں کیا جا سکتا جو ہمارے دل میں صرف بوجھ بن کر رہ گئے ہوں۔

اور شاید زندگی کی سب سے بڑی اصلاح یہی ہے کہ انسان دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے اندر کا میل صاف کرے۔ جب دل میں شکوہ کم، شکر زیادہ؛ نفرت کم، درگزر زیادہ؛ اور خواہش کم، رضا زیادہ ہو جائے تو دنیا بھی پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت دکھائی دینے لگتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ رب کو تلاش کرنے سے پہلے انسان کو اپنے آپ سے ملاقات کرنا پڑتی ہے۔ اپنے باطن کی خاموشی میں، اپنی کمزوریوں کے اعتراف میں، اپنی نعمتوں کے احساس میں اور اپنے رب کے سامنے اپنی بے بسی کو تسلیم کرنے میں قربِ الٰہی کی ایک ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے الفاظ پوری طرح بیان نہیں کر سکتے۔

بس ایک بار انسان خود سے سچ بولنے کی ہمت کر لے، پھر بہت سی شکایتیں شکر میں، بہت سے گلے خاموشی میں، بہت سی نفرتیں معافی میں اور بہت سی بے چینیاں رضا میں بدلنے لگتی ہیں۔

شاید یہی خود سے ملاقات کا اصل حاصل ہے:

انسان دوسروں کو سمجھنے سے پہلے خود کو سمجھ لے، دوسروں کو معاف کرنے سے پہلے اپنے دل کو آزاد کر لے، اور نعمتوں کی فہرست بنانے سے پہلے اُن کے عطا کرنے والے کو پہچان لے۔

چوہدری علی آفتاب گجر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

🇵🇰 یومِ دفاعِ پاکستان — 6 ستمبر 🇵🇰کچھ تاریخیں صرف یاد نہیں کی جاتیں،وہ قوموں کے کردار کی گواہی بن جاتی ہیں۔6 ستمبر ہمیں ...
06/09/2026

🇵🇰 یومِ دفاعِ پاکستان — 6 ستمبر 🇵🇰
کچھ تاریخیں صرف یاد نہیں کی جاتیں،
وہ قوموں کے کردار کی گواہی بن جاتی ہیں۔
6 ستمبر ہمیں اُن عظیم سپوتوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے وطن کی حرمت پر اپنی جانیں قربان کر کے ثابت کیا کہ پاکستان کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں، بلکہ ہر محبِ وطن کے دل میں ہوتی ہے۔
شہداء کو سلام، غازیوں کو خراجِ تحسین،
اور پاکستان سے عہدِ وفا۔
🤲 یا اللہ! ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو ہمیشہ امن، سلامتی اور استحکام عطا فرما، اسے ہر اندرونی و بیرونی آفت سے محفوظ رکھ، اور ہمارے شہداء کے درجات بلند فرما۔ آمین یا رب العالمین۔ 🇵🇰
پاکستان زندہ باد! 🇵🇰

05/09/2026

الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَىٰ كُلِّ حَالٍ

شعور کا پہلا درجہخاموش رہنے کی عادت اپنانا۔۔۔شعور کا دوسرا درجہبدتمیزی کا جواب نہ دینا۔۔۔اور شعور کا تیسرا درجہبداخلاقی ...
03/09/2026

شعور کا پہلا درجہ
خاموش رہنے کی عادت اپنانا۔۔۔
شعور کا دوسرا درجہ
بدتمیزی کا جواب نہ دینا۔۔۔
اور شعور کا تیسرا درجہ
بداخلاقی کا جواب اخلاق سے دینا۔۔۔
جو لوگ آپ کو تکلیف دیتے ہیں،
سمجھ لیجیے کہ ان کی مثال تنگ جوتے کی مانند ہے، جو آپ کے سائز کے نہیں ہیں۔
جوتا بدل لیجیے اور خوش رہنے کی کوشش کیجیے۔
خوش رہیے، خوشیاں بانٹیے،
کیونکہ زندگی بہت خوبصورت ہے۔ 🌸

ہر دن ایک نئی زندگی ہے… ایک نیا موقع!نیند سے بیدار ہونا صرف آنکھوں کا کھلنا نہیں، بلکہ زندگی کی طرف دوبارہ لوٹنا ہے۔ گزر...
31/08/2026

ہر دن ایک نئی زندگی ہے… ایک نیا موقع!

نیند سے بیدار ہونا صرف آنکھوں کا کھلنا نہیں، بلکہ زندگی کی طرف دوبارہ لوٹنا ہے۔ گزرے ہوئے کل کی تلخیاں، شکوے اور پریشانیاں اپنے ساتھ اٹھانے کے بجائے ہمیں ہر صبح یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اور دن عطا کیا ہے—اپنی اصلاح، شکر، محبت اور نیکی کے لیے۔

سوچیے، ہر صبح ہمیں زندگی کی کتاب کا ایک نیا صفحہ ملتا ہے، مگر ہم اکثر اسے پرانی شکایتوں، پرانے غصے اور گزرے ہوئے دکھوں سے بھر دیتے ہیں۔
حالانکہ یہی نیا صفحہ کسی کے دل کو سکون دینے، کسی کا ہاتھ تھامنے، کسی کو معاف کرنے اور کسی کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔

دوسروں کو نیچے گرانے کے بجائے انہیں اوپر اٹھائیے؛
کیونکہ زندگی کا سفر ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ آج اگر آپ کسی کا سہارا بنیں گے تو کل، جب آپ کو سہارے کی ضرورت ہوگی، شاید کوئی آپ کا ہاتھ تھامنے کے لیے موجود ہو۔

اور جب زندگی میں کچھ آپ کی خواہش کے مطابق نہ ہو تو صرف اس پر افسوس نہ کیجیے جو غلط ہوگیا؛ بلکہ ذرا اُن چیزوں پر بھی نظر کیجیے جو غلط ہو سکتی تھیں، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے انہیں ہونے نہیں دیا۔
تب شاید فکر کم اور شکر زیادہ محسوس ہوگا۔

آج کے دن بس تین کام ضرور کیجیے:
ایک نعمت پر دل سے شکر ادا کیجیے،
ایک شخص کو دل سے معاف کیجیے،
اور ایک انسان کا ہاتھ تھام کر اسے آگے بڑھنے میں مدد دیجیے۔

باقی سب کچھ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیجیے۔

کیونکہ ہر نئی صبح ہمیں خاموشی سے یہ پیغام دیتی ہے:

گزرا ہوا کل واپس نہیں آ سکتا،
مگر آج کا دن ابھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔
اسے بہتر بنا دیجیے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے آج کو کل سے بہتر، ہمارے دل کو شکر سے معمور، اور ہمارے اعمال کو اپنی رضا کے مطابق فرما دے۔ آمین۔

— چوہدری علی آفتاب گجر
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

Address

DHA
Lahore
5400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ch Ali Aftab Gujjar law posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share