Ch Ali Aftab Gujjar law

Ch Ali Aftab Gujjar law Ch Ali Aftab Gujjar, Advocate High Court. Providing expert services and legal solutions in Civil, Criminal, Family, Revenue & Tax Law.

23/08/2026

وکالت: ایک مقدس پیشہ اور ایک عظیم ذمہ داری

پیسے کی خاطر عدالت میں جان بوجھ کر جھوٹ بولنا، حقائق چھپانا، جعلی دستاویزات پیش کرنا یا عدالت کو گمراہ کرنا محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں، بلکہ وکالت کے معزز پیشے کی بنیادی ذمہ داریوں سے انحراف ہے۔

وکالت صرف ایک ذریعۂ معاش نہیں؛ یہ ایک ایسا معزز پیشہ ہے جس کے ذریعے ایک مظلوم، بے سہارا یا کمزور شخص اپنی آواز عدالت تک پہنچاتا ہے۔ وکیل اپنے مؤکل کے حقوق اور قانونی مفادات کا محافظ ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس پر عدالت، قانون اور اپنے پیشے کے وقار کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔

سماجی ذمہ داری

معاشرے میں وکیل کو قانون اور عوام کے درمیان ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ اپنے وکیل پر اعتماد کرتا ہے کہ وہ اس کا مقدمہ قانون اور حقائق کی حدود میں رہتے ہوئے مؤثر انداز میں پیش کرے گا۔

اگر کوئی وکیل مالی فائدے یا کسی ذاتی مفاد کی خاطر دانستہ طور پر جھوٹے شواہد، جعلی دستاویزات یا جھوٹی گواہی کا سہارا لے تو اس کے اثرات صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں رہتے۔ اس سے:

1. بے گناہ شخص کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں؛
2. حقیقی مجرم قانون کے مطابق سزا سے بچ سکتا ہے؛
3. عدالتی عمل پر عوام کا اعتماد مجروح ہو سکتا ہے؛
4. معاشرے میں قانون کے بجائے طاقت، اثر و رسوخ اور غیر قانونی ذرائع پر اعتماد بڑھ سکتا ہے۔

جب لوگوں کا عدالت اور قانون پر اعتماد کمزور ہوتا ہے تو پورا معاشرتی نظام متاثر ہوتا ہے۔

پیشہ ورانہ اخلاقیات

ایک وکیل کا حق ہے کہ وہ اپنے مؤکل کا بھرپور اور مؤثر دفاع کرے، خواہ مقدمہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ لیکن قانونی دفاع اور دانستہ فریب میں واضح فرق ہے۔

مؤکل کا قانونی دفاع کرنا وکیل کی ذمہ داری ہے، مگر جھوٹا ثبوت گھڑنا، جعلی دستاویز تیار کرنا، جھوٹی گواہی دلوانا، حقائق کو دانستہ مسخ کرنا یا عدالت کو گمراہ کرنا کسی بھی صورت میں وکالت کے وقار کے شایانِ شان نہیں۔

جو شخص وقتی مالی فائدے کے لیے اپنے ضمیر، قانون اور پیشے کے وقار سے سمجھوتا کرتا ہے، وہ بیک وقت تین قیمتی چیزیں کھو سکتا ہے:

انسانیت — کیونکہ کسی کے بنیادی حقوق اور انصاف کے حق کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پیشہ — کیونکہ وکالت کے اعتماد اور وقار کو مجروح کیا جاتا ہے۔

کردار — کیونکہ دولت ختم ہو سکتی ہے، مگر کردار پر لگنے والا داغ دیر تک باقی رہتا ہے۔

کالا کوٹ صرف لباس نہیں؛ یہ قانون، ذمہ داری، وقار اور اعتماد کی علامت ہے۔ اسے ذاتی مفاد یا بدعنوانی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔

طب اور وکالت: ذمہ داری کا ایک اہم پہلو

ڈاکٹر اور وکیل دونوں ایسے پیشوں سے وابستہ ہیں جن میں انسانوں کے حقوق، زندگی، آزادی، عزت اور مستقبل سے متعلق اہم ذمہ داریاں شامل ہوتی ہیں۔

جس طرح طبی شعبے میں دانستہ غفلت یا بددیانتی کسی مریض کی صحت اور زندگی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، اسی طرح وکالت میں دانستہ بددیانتی کسی شخص کی آزادی، عزت، حقوق اور مستقبل کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

اسی لیے دونوں پیشوں میں علم، دیانت، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ اخلاقیات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

جدید دور اور شواہد

آج کا دور جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شواہد کا دور ہے۔ CCTV فوٹیج، کال ریکارڈ، مالیاتی لین دین، ڈیجیٹل دستاویزات، الیکٹرانک ریکارڈ اور دیگر ذرائع نے بہت سے معاملات میں حقائق کی جانچ کو پہلے کی نسبت زیادہ مؤثر بنا دیا ہے۔

اس لیے وقتی فائدے کے لیے اختیار کیا گیا غلط راستہ مستقبل میں نہ صرف مقدمے بلکہ وکیل کی اپنی پیشہ ورانہ ساکھ کے لیے بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

کسی وکیل کے پیشہ ورانہ اصولوں سے انحراف کے پیچھے مختلف عوامل ہو سکتے ہیں، مثلاً:

لالچ:
"ایک مقدمے سے اتنا فائدہ ہو جائے گا کہ زندگی بدل جائے گی۔"

دباؤ:
بااثر افراد، طاقتور فریق یا کسی بھی قسم کا غیر ضروری دباؤ۔

بے حسی:
"سب ہی ایسا کرتے ہیں" جیسی سوچ، جو رفتہ رفتہ ضمیر کی آواز کو کمزور کر دیتی ہے۔

لیکن کوئی بھی مالی فائدہ انسان کے کردار، پیشے کی عزت اور ضمیر کے سکون سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔

اسلامی تعلیمات

اسلام نے عدل، سچائی اور امانت کو بنیادی اخلاقی اصول قرار دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو، خواہ وہ گواہی خود تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔"
(سورۃ النساء: 135)

یہ آیت اس بنیادی اصول کی رہنمائی کرتی ہے کہ انصاف اور سچائی کا تقاضا کسی ذاتی مفاد، رشتے، دباؤ یا مالی فائدے کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔

اسی طرح اسلام میں رشوت، جھوٹی گواہی، دھوکا دہی اور حق تلفی کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان وکیل کے لیے پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ اخلاقی اور دینی ذمہ داری بھی نہایت اہم ہے۔

اصل فرق کو سمجھنا ضروری ہے

اچھا وکیل کسی شخص کو غیر قانونی طریقے سے بچانے کے لیے قانون نہیں توڑتا؛ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مؤکل کا مؤثر دفاع کرتا ہے۔

ہر ملزم کو قانون کے مطابق دفاع کا حق حاصل ہے۔ ایک وکیل کا فرض ہے کہ وہ اپنے مؤکل کے خلاف موجود شواہد کو قانون کے مطابق چیلنج کرے، قانونی نکات اٹھائے اور عدالت کے سامنے اپنے مؤکل کا بہترین قانونی دفاع پیش کرے۔

لیکن:

جھوٹا ثبوت بنانا، جعلی دستاویز تیار کرنا، جھوٹی گواہی دلوانا، عدالت کو دانستہ گمراہ کرنا یا غیر قانونی دباؤ استعمال کرنا دفاع نہیں؛ یہ پیشہ ورانہ اور اخلاقی حدود سے تجاوز ہے۔

بہتری کا راستہ

اس مسئلے کے حل کے لیے چند بنیادی اقدامات ضروری ہیں:

1۔ پیشہ ورانہ احتساب مؤثر بنایا جائے
پیشہ ورانہ بدعنوانی یا misconduct کی شکایات پر قانون اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق مؤثر کارروائی ہونی چاہیے۔

2۔ عدالتی عمل میں شفافیت بڑھائی جائے
جہاں قانون اور عدالتی پالیسی اجازت دے، وہاں جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ریکارڈ کے ذریعے شفافیت اور جواب دہی کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

3۔ عوام میں قانونی شعور پیدا کیا جائے
صرف کم فیس لینے والے وکیل کی تلاش کے بجائے عوام کو وکیل کے علم، تجربے، دیانت، پیشہ ورانہ ساکھ اور قانونی صلاحیت کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔

4۔ وکلاء اپنی پیشہ ورانہ تربیت اور اخلاقیات کو مقدم رکھیں
ایک کامیاب وکیل صرف وہ نہیں جو مقدمہ جیت جائے؛ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مؤکل کا مؤثر دفاع کرے اور اپنے پیشے کے وقار کو بھی برقرار رکھے۔

آخری پیغام

وکالت اعتماد کا پیشہ ہے۔

عدالت میں پہنا جانے والا کالا کوٹ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس پیشے کے ساتھ صرف اختیارات نہیں بلکہ بڑی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔

پیسہ ضروری ہے، مگر کردار سے زیادہ قیمتی نہیں۔

مقدمہ ایک دن ختم ہو جاتا ہے، فیس بھی وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے؛ لیکن دیانت، کردار اور پیشہ ورانہ ساکھ انسان کے ساتھ طویل عرصے تک رہتی ہے۔

آئیے، ہم اپنے پیشے کی عزت کریں، قانون کی بالادستی کا احترام کریں، اپنے مؤکل کا حقِ دفاع پوری دیانت داری سے ادا کریں اور عدالت کے سامنے ہمیشہ حقائق، قانون اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو مقدم رکھیں۔

ایک وکیل کی اصل پہچان اس کے مقدمات کی تعداد یا اس کی فیس نہیں؛ اس کی اصل پہچان اس کا علم، کردار، دیانت اور قانون کے سامنے اس کی وفاداری ہے۔

وکالت کو صرف ذریعۂ معاش نہیں، ایک ذمہ داری سمجھیں؛ کیونکہ مضبوط وکیل صرف مقدمہ نہیں لڑتا، وہ قانون اور انصاف پر عوام کا اعتماد بھی مضبوط کرتا ہے۔

چوہدری علی آفتاب گجر
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

18/08/2026

کسی بے قدرے شخص سے کی جانے والی مخلص محبت آپ کو ساری زندگی کے لئے ذہنی مریض بنانے کے لئے کافی ہوتی ہے ۔۔۔صبح بخیر

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَنہایت رنج و الم اور بوجھل دل کے ساتھ اپنے پیارے چچا جان، جنابِ عزت مآب چوہدری...
12/08/2026

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

نہایت رنج و الم اور بوجھل دل کے ساتھ اپنے پیارے چچا جان، جنابِ عزت مآب چوہدری اصغر علی گجر صاحب، سابق رکنِ صوبائی اسمبلی کے انتقال کی دل خراش خبر آپ سب سے شیئر کر رہے ہیں۔

چچا جان ہمارے لیے صرف ایک عظیم سیاسی شخصیت نہیں تھے، بلکہ ہماری محبت، ہماری طاقت، ہماری عزت اور ہمارے لیے ہمیشہ فخر کا باعث تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ وہ ہر دور میں ہمارے ہیرو رہے۔ ان کی شفقت، محبت، خلوص، وضع داری اور اپنے لوگوں سے بے لوث وابستگی ایسی خوبیاں تھیں جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھیں۔

وہ ہم سب سے بے حد محبت کرتے تھے اور ان کی شفقت و محبت ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ چوہدری اصغر علی گجر صاحب واقعی لیہ کا فخر، اپنی برادری کا معتبر سرمایہ اور اپنے چاہنے والوں کے لیے ایک مضبوط سایہ تھے۔ ان کی رحلت سے پیدا ہونے والا خلا آسانی سے پُر نہیں ہو سکے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے چچا جان کی تمام لغزشوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے، درجاتِ عالیہ بلند فرمائے، قبر کو نور سے منور فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ تمام اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوست احباب اور چاہنے والوں کو یہ عظیم صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

نمازِ جنازہ: بدھ، 12 اگست 2026، شام 6:00 بجے
مقام: چک نمبر 156، ٹی ڈی اے، لیہ

تمام احباب سے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی خصوصی درخواست ہے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

اپنی زندگی میں اپنے ہاتھوں سے اپنا سہارا مت چھینو"کل کا بے تاج بادشاہ، آج سڑک کنارے چند روپوں کی سبزی بیچنے پر مجبور ہے....
11/08/2026

اپنی زندگی میں اپنے ہاتھوں سے اپنا سہارا مت چھینو

"کل کا بے تاج بادشاہ، آج سڑک کنارے چند روپوں کی سبزی بیچنے پر مجبور ہے..."

حافظ آباد کے چاچا لعل الدین کا بھی ایک زمانہ تھا۔

ایک وقت تھا جب ان کے آگے پیچھے نوکروں کی ایک قطار لگی رہتی تھی۔ وہ 100 سے زائد پاور لومز کے اکیلے مالک تھے۔ علاقے میں ان کا نام تھا، عزت تھی، دولت تھی اور ایسا دبدبہ تھا کہ لوگ انہیں دور سے پہچانتے تھے۔

پھر وقت بدلا۔

اولاد جوان ہوئی تو اس باپ نے سوچا کہ زندگی بھر جو کچھ کمایا ہے، آخرکار بچوں کا ہی تو ہے۔ اپنی زندگی میں ہی جائیداد کے حصے کر دیے، کاروبار بانٹ دیا اور فیکٹریاں تقسیم کر دیں۔

مگر شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ جائیداد کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی اہمیت بھی تقسیم ہو جائے گی۔

آج وہی چاچا لعل الدین حافظ آباد کے مین بازار میں ایک دیوار کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ سامنے ایک چھوٹی سی ٹوکری، اس میں تھوڑی سی سبزی، اور آنکھوں میں شاید پوری گزری ہوئی زندگی کی ایک داستان۔

کبھی لاکھوں روپے کے کاروبار کا حساب رکھنے والا شخص، آج دس اور بیس روپے کی سبزی کا حساب کر رہا ہے۔

کبھی جس کے دروازے پر ضرورت مند آتے تھے، آج وہ خود گاہک کے آنے کا انتظار کرتا ہے۔

کبھی جس کے اشارے پر فیکٹریوں کی مشینیں چلتی تھیں، آج وہ خاموشی سے سڑک کنارے بیٹھا ہے۔

اور جب کوئی گاہک اس سے دس، بیس روپے کم کرنے کے لیے بحث کرتا ہے تو چاچا کوئی جواب نہیں دیتے۔

بس ایک پھیکی سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر آتی ہے، وہ سبزی شاپر میں ڈالتے ہیں اور خاموش ہو جاتے ہیں۔

پتا نہیں، اس ایک لمحے میں انہیں اپنی زندگی کے کتنے منظر یاد آتے ہوں گے۔

وہ فیکٹریاں...

وہ ملازمین...

وہ عزت...

وہ دولت...

اور وہ دن، جب ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے دروازے پر آنے والے غریبوں اور بیواؤں کی مدد کے لیے دل کھول کر پیسہ خرچ کیا کرتے تھے۔

وقت نے صرف ان کی دولت نہیں چھینی، شاید ان سے وہ زندگی بھی چھین لی جسے بنانے میں انہوں نے اپنی پوری جوانی لگا دی تھی۔

یہ دنیا واقعی عجیب ہے۔

یہاں کل جس کے دروازے پر لوگ کھڑے ہوتے ہیں، آج وہ خود سڑک کنارے بیٹھا ہوتا ہے۔

کل جس کے پاس لاکھوں ہوں، ضروری نہیں کہ بڑھاپے میں اس کے پاس چند سو روپے بھی ہوں۔

اور سب سے دردناک حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات انسان ساری زندگی اولاد کے مستقبل کے لیے کماتا رہتا ہے، مگر بڑھاپے میں اسی انسان کا اپنا مستقبل تنہائی بن جاتا ہے۔

والدین کی جائیداد میں اپنا حق مانگنے سے پہلے، ان کے بڑھاپے کی ذمہ داری بھی یاد رکھیں۔

کیونکہ باپ جب اپنی جائیداد بانٹتا ہے تو صرف زمین، مکان اور کاروبار نہیں دیتا...

وہ اپنی پوری زندگی کی کمائی اولاد کے حوالے کرتا ہے۔

اور بدلے میں اسے دولت نہیں چاہیے ہوتی۔

صرف عزت، دو وقت کا سکون اور اپنے بچوں کا ساتھ چاہیے ہوتا ہے۔

آج چاچا لعل الدین ایک دیوار کے سہارے بیٹھے ہیں۔

مگر یہ تصویر صرف ایک بوڑھے شخص کی نہیں...

یہ ہر اُس ماں باپ کے مستقبل کا سوال ہے جو اپنی پوری زندگی اولاد کے نام کر دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے اور ہمیں ان کی زندگی میں ہی ان کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

07/08/2026

2026 MLD 671
PLJ 2026 Lahore 1
Although an order which is otherwise sustainable on basis of merits of the case should not be set-aside merely because reference to a judgment based on distinguishable facts and unrelated and irrelevant case law has inadvertently been made in the same, yet where the impugned order is based solely by placing reliance on a judgment which does not discuss or lay down the principle(s) of law subject matter of the case in hand and is distinguishable on facts mentioned therein, and Court gives no other reason for reaching the conclusion that how said case law was relevant, then making reference to such a case-law based on previous judgment to reach the conclusion is not sustainable.
Civil Revision-437-25
MUHAMMAD KHALID CH. ETC VS DR. MANZOOR mm

07/08/2026

2026 SCMR 1344

Investigation---Duty of Investigating Officer---Purpose of investigation was to collect all possible evidence for and against both the complainant and the accused---Once an accused raised a specific plea, the Investigating Officer was bound to investigate the case from that perspective as well.

05/08/2026

FIR & DISQUALIFICATION
صرف FIR کے اندارج سے کوئی آفیشل نااہل نہیں ہوتا جب تک اسے سزا نہ ہو۔۔۔۔
Mere registration of a case does not attract disqualification of an office bearer and only a conviction entails the crystallization of disqualification......

2026 CLC 834

05/08/2026

PLJ 2026 Lahore 513
PLD 2025 Peshawar 59

When litigation ended on the basis of a statement of parties, without conclusive determination of the disputed question of fact on merits between the parties, the same can at best be termed a decision on the basis of a compromise/settlement and; under such circumstances, the principle of res judicata would not attract to subsequent litigation.

نوجوان وکلاء کے نام چند مخلصانہ گزارشاتوکالت ایک عظیم اور باوقار پیشہ ہے، مگر اس میں حقیقی کامیابی صرف ڈگری حاصل کرنے سے...
05/08/2026

نوجوان وکلاء کے نام چند مخلصانہ گزارشات

وکالت ایک عظیم اور باوقار پیشہ ہے، مگر اس میں حقیقی کامیابی صرف ڈگری حاصل کرنے سے نہیں بلکہ علم، کردار، مسلسل محنت، پیشہ ورانہ دیانت اور صبر و استقامت سے حاصل ہوتی ہے۔ اپنے مختصر عملی تجربے کی روشنی میں چند مخلصانہ گزارشات نوجوان وکلاء کی خدمت میں پیش ہیں۔

جب بھی کسی نوجوان وکیل دوست سے ملاقات ہوتی ہے، تو وہ اکثر مجھ سے ایک ہی سوال کرتے ہیں:

"وکالت میں حقیقی کامیابی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟"

میں خود بھی ایک نوجوان وکیل ہوں، اور میرا یقین ہے کہ وکالت میں سیکھنے کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اب تک کے اپنے عملی تجربے نے مجھے ایک بات ضرور سکھائی ہے کہ وکالت میں کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔

میرے نزدیک اپنے ابتدائی پانچ سے دس سال صرف وکالت سیکھنے، اپنے علم کو مضبوط بنانے اور اپنے کردار کی تعمیر پر صرف کرنے چاہییں۔

بار کی غیر ضروری سیاست، وقتی شہرت اور ایسی سرگرمیوں سے حتیٰ الامکان دور رہیں جو آپ کی پیشہ ورانہ ترقی میں معاون نہ ہوں۔ اپنی وابستگی ایسے سینئر، باکردار اور پروفیشنل وکیل سے قائم کریں جو صرف کام نہ کروائے بلکہ آپ کو وکالت کی روح، پیشہ ورانہ اخلاق اور عملی بصیرت بھی سکھائے۔

یہ سیکھیں کہ:

• مقدمہ کیسے تیار کیا جاتا ہے۔
• فائل کا مؤثر تجزیہ کیسے کیا جاتا ہے۔
• قانونی تحقیق (Legal Research) کس انداز سے کی جاتی ہے۔
• مضبوط اور مؤثر ڈرافٹنگ کیسے کی جاتی ہے۔
• عدالت میں مدلل، باوقار اور مؤثر انداز میں دلائل کیسے پیش کیے جاتے ہیں۔
• اور سب سے بڑھ کر، قانون کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق عملی زندگی میں کیسے بروئے کار لایا جاتا ہے۔

یہ مہارتیں صرف کتابیں پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتیں بلکہ عدالتوں میں باقاعدگی سے بیٹھنے، مقدمات کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے، سینئرز سے سیکھنے اور مسلسل محنت کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔

ابتدائی سفر ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ کبھی کام کم ہوتا ہے، کبھی کامیابی دیر سے ملتی ہے، کبھی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محنت کا کوئی صلہ نہیں مل رہا۔

لیکن یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب ایک عام وکیل اور ایک کامیاب وکیل کے درمیان فرق پیدا ہوتا ہے۔ کامیاب لوگ مشکلات کو اپنی منزل کی رکاوٹ نہیں بلکہ اپنی شخصیت، علم اور کردار کی تعمیر کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔

میرا پختہ یقین ہے کہ اگر ہم صحیح سمت میں مسلسل محنت کریں، اپنے علم میں اضافہ کرتے رہیں، اپنے کردار اور پیشہ ورانہ دیانت کی حفاظت کریں اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھیں، تو کامیابی دیر سے سہی، مگر ضرور ملتی ہے۔

میری اپنے تمام نوجوان وکلاء سے مخلصانہ گزارش ہے کہ:

اپنے پہلے پانچ سے دس سال اپنی بنیاد مضبوط کرنے کے لیے وقف کر دیں۔

اپنے سینئرز سے سیکھیں۔

ہر مقدمہ گہرائی سے پڑھیں۔

اپنی قانونی تحقیق اور ڈرافٹنگ کو مسلسل بہتر بنائیں۔

عدالت میں باقاعدگی سے بیٹھیں۔

سینئر وکلاء کے دلائل غور سے سنیں۔

اور ہر نئے دن اپنے آپ کو گزشتہ دن سے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

یاد رکھیے! عدالتیں صرف ڈگری نہیں، بلکہ علم، کردار، تیاری، دیانت اور مسلسل محنت کو پہچانتی ہیں۔

ایک بہترین وکیل صرف قانون جاننے والا نہیں ہوتا بلکہ وہ علم، دیانت، کردار، صبر، بردباری، اعتماد، مضبوط اعصاب اور اعلیٰ اخلاق کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔

ہمیشہ اپنے مؤکل کے جائز حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے پوری دیانت اور جرات کے ساتھ کھڑے ہوں، مگر ہر حال میں اپنے اخلاق، وقار اور پیشہ ورانہ اصولوں کو مقدم رکھیں۔

یہ بھی یاد رکھیے کہ وکالت صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ سیکھنے، سنورنے اور خود کو بہتر بنانے کا ایک مسلسل سفر ہے۔ اس سفر میں ناکامیاں بھی آئیں گی، آزمائشیں بھی، تنقید بھی ہوگی اور کئی مواقع پر خود کو دوبارہ ثابت کرنا پڑے گا، لیکن جو شخص ثابت قدم رہتا ہے، وہ آخرکار اپنی پہچان خود بنا لیتا ہے۔

میں نے اپنے مختصر عملی سفر سے ایک بات سیکھی ہے:

"راستہ بدلنا ناکامی نہیں، اگر منزل حق، انصاف اور بہتری ہو۔"

پہلے اپنے کردار کو بلند کریں۔

پھر اپنے علم کو مضبوط بنائیں۔

پھر اپنی قابلیت کو نکھاریں۔

اپنی پہچان خود بنائیں۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ آپ کے لیے ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔

آخر میں نوجوان وکلاء کے نام صرف ایک پیغام:

اپنے علم میں روز اضافہ کیجیے، اپنے کردار کی حفاظت کیجیے، اپنے پیشے کا احترام کیجیے، اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھیے۔ یقین رکھیے، عزت، مقام اور کامیابی ایک دن خود آپ کا تعارف بن جائیں گے، ان شاء اللہ۔

وکالت کو اپنا وقت، اپنا اخلاص اور اپنی محنت دیجیے؛ وکالت ایک دن آپ کو عزت، مقام اور پہچان ضرور دے گی، ان شاء اللہ۔

علامہ محمد اقبالؒ

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں


05/08/2026

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ایسا کوئی انتظام ہو جائے
سلام کیلیے حاضر غلام ہو جائے

Address

DHA
Lahore
5400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ch Ali Aftab Gujjar law posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share