29/04/2026
⚖️ باپ کے ہوتے ہوئے نانی کو کسٹڈی نہیں مل سکتی؟ لاہور ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سنا دیا!
📘 2025 MLD 401
لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ بچے کی تحویل (Custody) کا فیصلہ صرف رشتے کی بنیاد پر نہیں بلکہ بچے کی بہترین پرورش، تعلیم اور روشن مستقبل کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔ عدالت نے نانی کے حق میں اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے بچی کو والد کے حوالے کرنے کا حکم برقرار رکھا۔
📌 مقدمے کا پس منظر
یہ کیس نابالغ بچی کی کسٹڈی سے متعلق تھا جہاں نانی نے اپنی بیٹی کے ذریعے عدالت میں دعویٰ دائر کیا۔ ابتدائی طور پر گارڈین کورٹ نے نانی کی درخواست مسترد کر دی، مگر اپیلٹ کورٹ نے نانی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ بعد ازاں والد نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
والد کا مؤقف تھا کہ بچی اس کے ساتھ لاہور کے ایک اچھے نجی اسکول میں زیرِ تعلیم ہے، جبکہ نانی کی عمر 80 سال سے زائد، صحت کمزور اور مالی طور پر دوسروں پر انحصار تھا۔
⚖️ لاہور ہائی کورٹ کے اہم مشاہدات
✔️ بچوں کی تحویل کے مقدمات میں سب سے بڑا اصول Welfare of Minor ہے۔
✔️ صرف جذباتی تعلق یا خونی رشتہ کافی نہیں۔
✔️ عدالت بچے کی عمر، تعلیم، ماحول، صحت اور فریقین کی معاشی حیثیت کو دیکھتی ہے۔
✔️ اگر والد نااہل ثابت نہ ہو تو وہ اولاد کی تعلیم و تربیت کا مضبوط حق دار سمجھا جاتا ہے۔
✔️ بزرگ اور بیمار نانی، جو مالی طور پر خودمختار نہ ہوں، بچے کی جدید ضروریات پوری نہیں کر سکتیں۔
🚨 اہم قانونی نکتہ
ہائی کورٹ نے اسٹے آرڈر کے باوجود کارروائی جاری رکھنے والی ماتحت عدالت کے خلاف انکوائری کا حکم بھی دیا، جو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر سخت پیغام ہے۔
📖 اس فیصلے کی اہمیت
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ عدالتیں اب صرف رشتوں کے نام پر نہیں بلکہ بچے کے بہترین مفاد کو ترجیح دیتی ہیں۔ اگر والد بہتر تعلیم، محفوظ ماحول اور مالی استحکام دے سکتا ہو تو اس کا حق مضبوط سمجھا جائے گا۔
💬 آپ کی رائے؟
کیا بچے کی پرورش کے لیے صرف رشتہ کافی ہے، یا بہتر تعلیم، ماحول اور معاشی استحکام زیادہ اہم ہے؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔
📢 اگر یہ معلومات مفید لگیں تو پوسٹ شیئر کریں تاکہ عوام میں قانونی آگاہی بڑھے۔