Paramount Legal Solutions

Paramount Legal Solutions We are offering all types of Legal Assistance to Our Valued Clients in the fields of Corporate,Tax returns,civil, Banking, Family, and Criminal litigation.

Alhamdulillah: Ma Sha Allah..❣️Another International Recognition: Deeply honoured and humbled to be appointed Senior Vic...
23/08/2026

Alhamdulillah: Ma Sha Allah..❣️

Another International Recognition: Deeply honoured and humbled to be appointed Senior Vice President, Association of International Lawyers (AIL) – Punjab Chapter (Lahore Division for 2026.)

Grateful for the trust and confidence reposed in me.

مونال کیس میں سابق چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے رویے پر بھی سوالات اٹھ گئے
13/07/2026

مونال کیس میں سابق چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے رویے پر بھی سوالات اٹھ گئے

عدالتِ عالیہ نے قرار دیا کہ سول سرونٹ فیملی اسسٹنس پیکیج ایک خالصتاً فلاحی (Welfare) اور ہمدردانہ (Compassionate) اسکیم ...
04/07/2026

عدالتِ عالیہ نے قرار دیا کہ سول سرونٹ فیملی اسسٹنس پیکیج ایک خالصتاً فلاحی (Welfare) اور ہمدردانہ (Compassionate) اسکیم ہے، جس کا مقصد دورانِ ملازمت وفات پانے والے سرکاری ملازم کے خاندان کو وقتی مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ملنے والا فائدہ کسی فرد کا مستقل، موروثی یا ناقابلِ تنسیخ قانونی حق نہیں بلکہ پالیسی کے تحت مشروط رعایت (Concession) ہے، جو صرف اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک اس اسکیم کے بنیادی مقاصد اور شرائط موجود رہیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اپیل کنندہ کو کسی باقاعدہ سرکاری عہدہ پر تعینات نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی وہ سرکاری فرائض انجام دے رہے تھے، بلکہ انہیں محض ایکس گریشیا (Ex Gratia) بنیاد پر مالی امداد کے طور پر تنخواہ ادا کی جا رہی تھی۔ لہٰذا ایسی ادائیگی کو آئین یا قانون کے تحت قابلِ نفاذ ملازمتی حق (Enforceable Service Right) قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اپیل کنندہ کی دوبارہ شادی (Re-marriage) کے نتیجے میں وہ خاندانی ڈھانچہ (Family Structure) اور حالات تبدیل ہو گئے جن کی بنیاد پر فیملی اسسٹنس پیکیج کے فوائد فراہم کیے گئے تھے۔ اس لیے ازدواجی حیثیت میں یہ تبدیلی خود بخود اس مالی سہولت کے خاتمہ کے لیے ایک معقول، جائز اور پالیسی سے ہم آہنگ بنیاد فراہم کرتی ہے۔

عدالت نے یہ قانونی اصول بھی واضح کیا کہ فیملی اسسٹنس پیکیج کے تحت تنخواہ اور بعد ازاں پنشن ایک ہی اسکیم کے دو باہم مربوط (Interlinked) اجزاء ہیں، جنہیں الگ الگ یا منقطع انداز میں نہیں پڑھا جا سکتا۔ جب دوبارہ شادی پنشن کے حق کو ختم کرنے کا سبب بنتی ہے تو اسی اصول کے تحت تنخواہ کی ادائیگی بھی جاری نہیں رہ سکتی، کیونکہ دونوں فوائد ایک ہی قانونی و انتظامی پالیسی کا حصہ ہیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اپیل کنندہ کی جانب سے 2017ء کے نوٹیفکیشن کی ایسی تشریح، جس کے مطابق دوبارہ شادی کے باوجود مرحومہ ملازمہ کی متوقع تاریخِ ریٹائرمنٹ تک تنخواہ کی ادائیگی لازمی قرار دی جائے، نوٹیفکیشن کی صریح غلط تعبیر (Misreading) ہے۔ مزید برآں، 2024ء کے نوٹیفکیشن میں پنشن سے متعلق شرائط کا ذکر، تنخواہ کے معاملہ میں اپیل کنندہ کے حق میں کوئی قانونی استحقاق پیدا نہیں کرتا، کیونکہ دونوں مراعات ایک ہی فلاحی اسکیم کے تحت مشترکہ نوعیت رکھتی ہیں۔

عدالت نے اپیل کنندہ کی جانب سے پیش کردہ عدالتی نظائر کو حقائق اور قانون کے اعتبار سے موجودہ مقدمہ سے ممتاز (Distinguishable) قرار دیا اور قرار دیا کہ ان مقدمات میں متعلقہ افراد کو باقاعدہ تقرری، ملازمت اور فرائض کی انجام دہی کا قانونی درجہ حاصل تھا، جبکہ موجودہ مقدمہ میں اپیل کنندہ صرف فلاحی پالیسی کے تحت مالی معاونت حاصل کر رہے تھے۔

ان تمام وجوہات کی بنا پر عدالت نے قرار دیا کہ اپیل کنندہ دوبارہ شادی کے بعد فیملی اسسٹنس پیکیج کے تحت تنخواہ کی مسلسل ادائیگی کا کوئی قانونی یا آئینی حق ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ لہٰذا نمائندگی مسترد کرنے کا حکومتی فیصلہ، سنگل بینچ کا فیصلہ اور تنخواہ کی بندش قانون اور پالیسی کے مطابق قرار دیتے ہوئے انٹرا کورٹ اپیل کو بلا جواز اور ناقابلِ قبول قرار دے کر خارج کر دیا گیا۔

معزز عدالت نے قرار دیا کہ پاکستانی شہری سے شادی کرنے والی افغان خاتون کی پاکستان اوریجن کارڈ (POC) اور پاکستانی شہریت سے...
04/07/2026

معزز عدالت نے قرار دیا کہ پاکستانی شہری سے شادی کرنے والی افغان خاتون کی پاکستان اوریجن کارڈ (POC) اور پاکستانی شہریت سے متعلق درخواستوں پر متعلقہ حکام قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ عدالت نے نابالغ بچوں کے اندراج اور ان کے قانونی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بھی متعلقہ اداروں کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت دی۔

مزید برآں، عدالت نے حکم دیا کہ درخواست گزار خاتون کو وفاقی حکومت کے حتمی فیصلے تک، یا زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت تک، ملک بدر نہ کیا جائے۔

یہ فیصلہ ان تمام پاکستانی شہریوں کے لیے اہم قانونی رہنمائی فراہم کرتا ہے جو غیر ملکی، خصوصاً افغان شہری، سے شادی کر چکے ہیں اور POC، پاکستانی شہریت، نادرا، فارم B، یا امیگریشن سے متعلق قانونی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز POC، پاکستانی شہریت، NADRA، فارم B، بلاک شدہ شناختی دستاویزات، افغان اسپاؤس، امیگریشن یا آئینی درخواست (Writ Petition) سے متعلق کسی قانونی مسئلے کا شکار ہے تو قانونی رہنمائی کے لیے رابطہ کریں۔

جناب عزت مآب اظہر محمود مجسٹریٹ کینٹ کورٹ جناب کی جرت کو سلام جناب نے فاشسٹ اور آلا کار پولیس ڈی آی جی آپریشن کو شٹ اپ ک...
03/07/2026

جناب عزت مآب اظہر محمود مجسٹریٹ کینٹ کورٹ جناب کی جرت کو سلام جناب نے فاشسٹ اور آلا کار پولیس ڈی آی جی آپریشن کو شٹ اپ کال دے کر آج پاکستان کی جوڈیشری کی ساک بچا لی جو پیچلے کچھ سالوں سے پولیس کے ھاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے

'وہ میرے ساتھ زیا۔دتی کرنا چاہتا تھا۔ میں نے چیختے ہوئے کہا کہ میں کنو۔اری ہوں تو وہ رک گیا لیکن دوسرے شخص نے میرے کپڑے ...
03/07/2026

'وہ میرے ساتھ زیا۔دتی کرنا چاہتا تھا۔ میں نے چیختے ہوئے کہا کہ میں کنو۔اری ہوں تو وہ رک گیا لیکن دوسرے شخص نے میرے کپڑے اتا۔رے اور ایک شیشے کا ٹکڑا اٹھا کر میرے نا۔زک عضو کو کاٹنا چاہا' یہ بیان ہے نیدرلینڈ کے ریجن ہالینڈ سے پاکستان آئی خاتون کا جنہیں مبینہ طور پر لاہور میں بلا کر اغو۔اء کیا گیا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس نے ہالینڈ سے 15 پر موصول ہونے والی کال پر ایکشن لیتے ہوئے دو غیر ملکی خواتین کو باز۔یاب کر لیا ہے جبکہ پولیس نے غیر ملکی خواتین کے مبینہ ا۔غوا، تاوان طلب کرنے اور اجتما۔عی زیاد۔تی کے الزام میں مقدمہ بھی درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے چار ملزمان بھی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

لاہور پولیس کے مطابق ہالینڈ اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی خو۔اتین کو لاہور میں اغو۔اء کیا گیا تھا۔ ہالینڈ میں موجود ایک خاتون کے والد نے پاکستان میں پولیس ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے اغو۔اء کی اطلاع دی۔ پولیس کے مطابق اس حوالے سے مقدمہ تھانہ ڈیفنس سی میں درج کیا گیا ہے جہاں متاثر۔ہ خاتون نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ برس اکتوبر میں سنگاپور میں ان کی ملاقات محمد رضا ڈار نامی شخص سے ہوئی تھی۔ مقدمے کے متن کے مطابق ملزم نے انہیں اور ان کی ایک ساتھی خاتون کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور ویزے کے حصول میں بھی مدد فراہم کی۔

ایف آئی آر کے مطابق دونوں خواتین 29 جون کو لاہور پہنچیں جہاں مدعیہ کے بقول نامزد ملز۔م، اس کے مبینہ 'باس' اور تین دیگر افراد نے انہیں اغوا۔ء کر لیا۔ مدعیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اغو۔اء کے بعد ملزمان نے انتہائی جار۔حانہ رویہ اختیار کیا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ دونوں خواتین پر تشد۔د کیا گیا اور ان سے ڈیڑھ ملین ڈالرز تاوا۔ن کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ رقم نہ ملنے کی صورت میں انہیں جان سے مار۔نے کی دھمکیاں دی گئیں اور تیز د۔ھار آلا۔ت سے تشدد بھی کیا گیا۔ خاتون نے بتایا ہے کہ ملزمان نے تاوان کی رقم نہ دینے کی صورت میں ا۔عضا۔ء کا۔ٹ کر کے بیچنے کی دھمکیاں بھی دی۔

ایف آئی آر میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ دونوں خواتین کو متعدد مرتبہ زیا۔دتی کا نشا۔نہ بنایا گیا یا ان کے ساتھ زیاد۔تی کی کوشش کی گئی جبکہ اس دوران ان پر جسما۔نی تشد۔د بھی کیا جاتا رہا۔ مدعیہ مقدمے نے بتایا ہے کہ شیشے کے ذریعے ان کے جسما۔نی ناز۔ک ا۔عضاء کو بھی
— in Lahore.

شناختی کارڈ بلاک ہوا؟ اب قانون بدل گیا! لاہور ہائیکورٹ کا سخت ترین فیصلہ ⚖️🪪Justice Mohsin Akhtar Kayani — فیصلہ 14 صفات...
02/07/2026

شناختی کارڈ بلاک ہوا؟ اب قانون بدل گیا! لاہور ہائیکورٹ کا سخت ترین فیصلہ ⚖️🪪
Justice Mohsin Akhtar Kayani
— فیصلہ 14 صفاتی — 24 جون 2026

پاکستان میں ہزاروں لوگوں کے شناختی کارڈ بلاک ہیں — کچھ کا جائز وجہ سے، کچھ کا بے بنیاد الزام پر۔ لاہور ہائیکورٹ نے اب اس پورے نظام کے لیے واضح اصول طے کر دیے ہیں!

کیس کی تفصیل:
نادرا نے خالد خان اور عطاء اللہ کے شناختی کارڈ بلاک کر کے انہیں "alien" category میں ڈال دیا۔ Joint Verification Committee — جس میں Special Branch، ISI اور IB شامل تھے — نے ان کی پاکستانی شہریت کی تصدیق نہیں کی۔ ماتحت عدالتوں نے ان کے حق میں فیصلہ دیا — لاہور ہائیکورٹ نے وہ فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

عدالت کے 5 بڑے فیصلے:

1️⃣ سول کورٹ شہریت کا فیصلہ نہیں کر سکتی:
شہریت کے تنازعات صرف Pakistan Citizenship Act اور NADRA قوانین کے تحت طے ہوں گے — سول کورٹ میں براہِ راست دعویٰ قابلِ سماعت نہیں۔ (ICT)

2️⃣ 1979 سے پہلے کا ریکارڈ لازمی:
شہریت ثابت کرنے کے لیے 1979 سے پہلے کا سرکاری ریکارڈ — birth certificate، پرانا شناختی کارڈ، passport، سرکاری ملازمت کی دستاویز یا میٹرک سرٹیفکیٹ — دینا لازمی ہے۔ ایسا کوئی دستاویز نہ ہو تو alien category مان لی جائے گی۔ (Ict)

3️⃣ ثبوت کا بوجھ درخواست گزار پر:
شہریت ثابت کرنے کا بوجھ درخواست گزار پر ہے — باپ اور دادا کی پاکستانی شہریت کا ثبوت بھی دینا ہوگا۔ (Befiler)

4️⃣ قومی سلامتی اہم ترین ہے:
شہریت کے کیسز میں قومی سلامتی کے پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا لازمی ہے — Joint Verification Committee کی رپورٹ نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ (Befiler)

5️⃣ 30 اور 60 دن کا فارمولا:
عدالت نے درخواست گزاروں کو 30 دن میں NADRA Verification Board سے رجوع کرنے کا حکم دیا — اور بورڈ کو 60 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دی۔ (Befiler)

شناختی کارڈ بلاک ہونے پر کیا کریں؟
📌 پہلا قدم: NADRA کے اندرونی forums اور اپیل استعمال کریں
📌 دوسرا قدم: NADRA Verification Board کے سامنے 1979 سے پہلے کا ریکارڈ پیش کریں
📌 تیسرا قدم: بورڈ کا فیصلہ آنے کے بعد ہائیکورٹ جا سکتے ہیں

❌ غلط طریقہ: سیدھا سول کورٹ یا ہائیکورٹ جانا — یہ اب کام نہیں آئے گا

⚠️ اہم نوٹ: CNIC ایک سرکاری دستاویز ہے — یہ آپ کی ملکیت نہیں،

وفاقی حکومت کی ملکیت ہے۔ اسے سول کورٹ attachment میں بھی نہیں دیا جا سکتا۔
📲 شناختی کارڈ کے کسی بھی مسئلے کے لیے ابھی WhatsApp کریں اور ہماری لاء فرم کی ٹیم سے رابطہ کریں۔

💬 کیا آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کا شناختی کارڈ بلاک ہے؟ Comment میں بتائیں!

🔁 یہ فیصلہ ہر پاکستانی تک پہنچائیں — Share کریں!
— in Lahore.

اس مقدمے میں تنازعہ ایک مبینہ محبت کی شادی اور جبری شادی کے دعوے کے گرد گھومتا تھا۔ خاتون نے فیملی کورٹ میں دعویٰ تکذیبِ...
02/07/2026

اس مقدمے میں تنازعہ ایک مبینہ محبت کی شادی اور جبری شادی کے دعوے کے گرد گھومتا تھا۔ خاتون نے فیملی کورٹ میں دعویٰ تکذیبِ نکاح (Jactitation of Marriage) دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسے اغوا کیا گیا، اس کی مرضی کے خلاف نکاح کیا گیا اور اسے زبردستی روکے رکھا گیا۔ دوسری جانب محمد جمیل کا مؤقف تھا کہ دونوں کے درمیان پہلے سے محبت کا تعلق موجود تھا، دونوں نے اپنی مرضی سے گھر سے فرار ہو کر نکاح کیا اور بعد ازاں اس نے ازدواجی حقوق کی بحالی (Restitution of Conjugal Rights) کا دعویٰ بھی دائر کیا۔ دونوں مقدمات کو یکجا کر کے سماعت کی گئی۔ ٹرائل کورٹ نے نکاح نامہ اور دیگر دستاویزات کی بنیاد پر مرد کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے خاتون کا دعویٰ خارج کر دیا، تاہم اپیل میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے یہ فیصلہ کالعدم قرار دے کر خاتون کا دعویٰ منظور کر لیا، جس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے اس مقدمے میں ایک نہایت اہم قانونی اصول وضع کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے مقدمات میں جہاں ایک فریق محبت کی شادی کا دعویٰ کرے اور دوسرا اغوا، جبر یا زبردستی نکاح کا الزام لگائے، وہاں عدالت صرف نکاح نامہ یا ہراسمنٹ کی درخواست جیسی دستاویزات پر انحصار نہیں کر سکتی۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا نکاح خاتون کی آزاد، حقیقی اور رضاکارانہ رضا مندی سے ہوا یا نہیں۔ اس لیے عدالت پر لازم ہے کہ وہ نکاح سے پہلے اور بعد کے تمام حالات و واقعات، فریقین کے طرزِ عمل اور مجموعی شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر کسی محبت کی شادی کا دعویٰ کیا جائے تو یہ بھی دیکھا جائے گا کہ دونوں افراد کے درمیان تعلق کیسے قائم ہوا۔ اگر دونوں ایک دوسرے کے رشتہ دار، ہمسایہ، ہم جماعت، ساتھی ملازم یا ایک ہی سماجی ماحول سے تعلق نہیں رکھتے تھے تو پھر عدالت یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ ان کی ملاقات، تعلق اور محبت کا آغاز کیسے ہوا۔ اگرچہ قانون کال ریکارڈ، سوشل میڈیا چیٹس یا تصاویر کو لازمی ثبوت قرار نہیں دیتا، تاہم جب کسی مبینہ محبت کے تعلق کی ابتدا اور ارتقاء کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد وضاحت موجود نہ ہو تو یہ ایک اہم قرینہ بنتا ہے جو رضامندی کے دعوے کو کمزور کر دیتا ہے۔ موجودہ مقدمے میں دونوں فریق مختلف علاقوں کے رہائشی تھے جن کے درمیان تقریباً سو کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ تھا، اس لیے صرف ایک ہی برادری سے تعلق رکھنا محبت کے تعلق کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔

عدالت نے خاتون کے نکاح کے بعد کے طرزِ عمل کو بھی انتہائی اہم قرار دیا۔ اگرچہ خاتون کی جانب سے پہلے ہراسمنٹ کی درخواست دائر کرنا ایک متعلقہ حقیقت تھی، مگر اسے حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ اس کے بعد خاتون کے اہل خانہ نے اغوا کا مقدمہ درج کرایا، خاتون بازیاب ہوئی اور اس نے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 ضابطہ فوجداری کے تحت بیان دیا کہ اسے اغوا کر کے زبردستی نکاح کیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق یہ بعد کے حالات اس بات کا اہم ثبوت ہیں کہ نکاح میں خاتون کی آزادانہ رضامندی موجود نہیں تھی، لہٰذا صرف ہراسمنٹ کی درخواست کی بنیاد پر رضامندی فرض نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ جب کسی خاتون کا بنیادی مؤقف یہ ہو کہ اس کا نکاح ہی قانونی طور پر وجود میں نہیں آیا کیونکہ اس کی رضامندی شامل نہیں تھی، تو ایسے دعویٰ تکذیبِ نکاح کو محض نکاح کی تنسیخ یا علیحدگی کے مقدمے میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے عدالت کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا نکاح قانوناً معتبر تھا یا ابتدا ہی سے رضامندی نہ ہونے کی وجہ سے غیر مؤثر تھا۔

آخر میں لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اپیلیٹ کورٹ نے تمام شواہد کا درست اور جامع جائزہ لیا ہے اور اس کے فیصلے میں نہ تو کسی اہم شہادت کو نظر انداز کیا گیا اور نہ ہی کسی شہادت کو غلط پڑھا گیا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ آئینی اختیار کے استعمال کے لیے کسی قسم کی قانونی بے ضابطگی، دائرہ اختیار کی خرابی یا انصاف کے تقاضوں کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوئی۔ چنانچہ آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا اور ہر فریق کو اپنے اپنے اخراجات خود برداشت کرنے کا حکم دیا گیا۔

71 سال بعد بھی بہنوں کو ملا وراثت کا حق!خواتین کو وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا!سپریم کورٹ آف پاکستان کا تاریخی فیصلہک...
01/07/2026

71 سال بعد بھی بہنوں کو ملا وراثت کا حق!

خواتین کو وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا!
سپریم کورٹ آف پاکستان کا تاریخی فیصلہ

کیا صرف وقت گزر جانے سے کسی خاتون کا وراثتی حق ختم ہو جاتا ہے؟ جواب ہے: نہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے (CPLA No. 1103-L of 2016 | فیصلہ: 30.06.2026) میں ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ خواتین کو غیرقانونی طور پر وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا، چاہے اس معاملے کو کئی دہائیاں ہی کیوں نہ گزر چکی ہوں۔

کیا ہوا تھا؟
1955ء میں مبینہ طور پر بھائیوں نے والد سے جائیداد اپنے نام منتقل کروا لی، جس کے نتیجے میں بہنیں وراثت سے محروم ہو گئیں۔

سپریم کورٹ نے کیا فیصلہ دیا؟
71 سال بعد عدالتِ عظمیٰ نے بہنوں کے حقِ وراثت کو تسلیم کرتے ہوئے سول کورٹ اور ہائی کورٹ کے وہ تمام فیصلے کالعدم قرار دے دیے جن کے ذریعے انہیں وراثتی جائیداد سے محروم رکھا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ صرف یہ دلیل کافی نہیں کہ “بہت عرصہ گزر چکا ہے”، اس لیے خواتین کا حق ختم ہو گیا۔ اگر کسی خاتون کو اس کے جائز وراثتی حق سے محروم رکھا گیا ہو تو عدالت اس کے حق کا تحفظ کر سکتی ہے۔

یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟

خواتین کے آئینی اور قانونی حقوق کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
وراثت سے محروم خواتین کے لیے امید کی نئی کرن ہے۔
یہ پیغام دیتا ہے کہ وراثت میں بیٹی، بہن، والدہ یا بیوہ کا حق شرعی اور قانونی طور پر محفوظ ہے۔

اگر کسی خاتون کو اس کے وراثتی حق سے محروم رکھا گیا ہے تو وہ قانونی مشورہ حاصل کر کے اپنے حق کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔

یہ معلومات عام کریں تاکہ ہر خاتون اپنے قانونی حق سے آگاہ ہو سکے۔

Ch Pervaiz Kamoka Adv
03214800161

’sRights #وراثت

Share for information and awareness

اگر کسی سرکاری ملازم کو ناجائز طور پر نوکری سے نکالا جائے، تو صرف بحالی کافی نہیں—اسے مکمل تنخواہ اور تمام مراعات بھی مل...
01/07/2026

اگر کسی سرکاری ملازم کو ناجائز طور پر نوکری سے نکالا جائے، تو صرف بحالی کافی نہیں—اسے مکمل تنخواہ اور تمام مراعات بھی ملیں گی!
سپریم کورٹِ پاکستان نے کے
Tahir Kazmi v. Inspector General of Police
کیس میں واضح کیا کہ اگر کسی سرکاری ملازم کی برطرفی یا جبری ریٹائرمنٹ غیر قانونی ثابت ہو جائے،
تو قانون اسے ایسے دیکھے گا جیسے وہ ملازمت میں مسلسل موجود رہا ہو۔ اسے “Constructive Continuity” کا اصول کہا گیا، یعنی غلط برطرفی کا حکم قانوناً ختم سمجھا جائے گا اور ملازم اپنی تنخواہ، بقایا جات (back benefits)، الاؤنسز اور دیگر مالی حقوق لینے کا حق رکھے گا۔
عدالت نے کہا کہ بغیر مکمل مالی بحالی کے صرف نوکری واپس دینا ادھورا انصاف ہے، کیونکہ انصاف تبھی مکمل ہوگا جب ملازم کی عزت، سروس اسٹیٹس اور معاشی حقوق بھی بحال ہوں۔
اگر کسی سرکاری ملازم کو ناجائز طور پر نوکری سے نکالا جائے، تو صرف بحالی کافی نہیں—اسے مکمل تنخواہ اور تمام مراعات بھی ملیں گی!

Address

Ground Floor, Nazir Building, 4, Mozang Road
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923214800161

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Paramount Legal Solutions posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Paramount Legal Solutions:

Shortcuts

Share