12/03/2026
سپر ٹیکس: ریفنڈ ایڈجسٹمنٹ کے بعد ہی ریکوری ممکن — ایف ٹی او کی ایف بی آر کو ہدایت۔۔۔
اسلام آباد: Federal Tax Ombudsman (FTO) نے ایک اہم فیصلے میں Federal Board of Revenue (FBR) کو ہدایت دی ہے کہ ٹیکس دہندگان سے سپر ٹیکس کی وصولی صرف اس صورت میں کی جائے جب ان کے زیر التوا ریفنڈ کلیمز کو پہلے ایڈجسٹ کر لیا جائے۔
ایف ٹی او نے قرار دیا کہ اگر کسی ٹیکس دہندہ کا ریفنڈ کلیم موجود ہو تو اس کے باوجود نقد رقم میں ٹیکس کی ریکوری پر اصرار کرنا انتظامی بدانتظامی اور ٹیکس دہندہ کو ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک ٹیکس دہندہ نے ٹیکس سال 2024 کے لیے تقریباً 45 لاکھ روپے کے انکم ٹیکس ریفنڈ کا دعویٰ کیا تھا اور اس حوالے سے درخواست بھی جمع کرا رکھی تھی، تاہم محکمہ کی جانب سے مقررہ مدت کے اندر ریفنڈ درخواست پر فیصلہ نہیں کیا گیا۔
اسی دوران محکمہ نے تقریباً 15.48 لاکھ روپے سپر ٹیکس کی ڈیمانڈ جاری کر دی۔
ٹیکس دہندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے زیر التوا ریفنڈ کو سپر ٹیکس ڈیمانڈ کے ساتھ ایڈجسٹ کر دیا جائے، مگر محکمہ کی جانب سے نقد ادائیگی پر زور دیا جاتا رہا۔
سماعت کے دوران محکمانہ نمائندہ اس پالیسی کے حق میں کوئی واضح قانونی جواز پیش نہ کر سکا۔
فیصلے میں ایف ٹی او نے مشاہدہ کیا کہ ٹیکس دہندہ کی جانب سے ریفنڈ کو اسی ٹیکس سال کی ڈیمانڈ کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کی پیشکش معقول تھی، جبکہ محکمہ کا نقد وصولی پر اصرار غیر منصفانہ اور امتیازی رویہ ہے۔
ایف ٹی او نے ہدایت دی کہ ایف بی آر تمام فیلڈ فارمیشنز کو واضح احکامات جاری کرے کہ سپر ٹیکس سمیت کسی بھی ٹیکس کی ریکوری سے قبل زیر التوا ریفنڈ کلیمز کو ایڈجسٹ کیا جائے اور متعلقہ افسران قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائیں۔