Ikyan Shah

Ikyan Shah My channel does not make any warranties about the completeness, reliability and accuracy of this information.

Legal Consultancy...By Ikyan Shah
Advocate & Solicitor
Civil suits, Family Law, Divorce, Child Custody, Corporate Law, Property Law
Trademark, Copyrights, Intellectual Property. Disclaimer for https://facebook.com/ikyanshah
If you require any more information or have any questions about our disclaimer, please feel free to contact us by email at [email protected]

Disclaimers for https://facebook.com/ikyanshah
All the information on this channel is published in good faith and for general information purpose only. Any action you take upon the information you find on this channel, is strictly at your own risk. I will not be liable for any losses and/or damages in connection with the use of my page. From my channel, you can visit other websites by following hyperlinks to such external sites. While we strive to provide only quality links to useful and ethical websites, we have no control over the content and nature of these sites. These links to other websites do not imply a recommendation for all the content found on these sites. Site owners and content may change without notice and may occur before we have the opportunity to remove a link which may have gone ‘bad'. Please be also aware that when you leave our page, other sites may have different privacy policies and terms which are beyond our control. Please be sure to check the Privacy Policies of these sites as well as their "Terms of Service" before engaging in any business or uploading any information. Consent
By using https://facebook.com/ikyanshah, you hereby consent to our disclaimer and agree to its terms.

06/09/2026

کیا صرف رجسٹرڈ گفٹ ڈیڈ سے وراثتی جائیداد ہتھیائی جا سکتی ہے؟سپریم کورٹ کا دوٹوک اصول: انگوٹھا لگا دینا کافی نہیں!اگر وار...
06/09/2026

کیا صرف رجسٹرڈ گفٹ ڈیڈ سے وراثتی جائیداد ہتھیائی جا سکتی ہے؟
سپریم کورٹ کا دوٹوک اصول: انگوٹھا لگا دینا کافی نہیں!

اگر وارث اَن پڑھ، سادہ دیہاتی یا پردہ نشین خاتون ہو، تو صرف رجسٹری، انگوٹھا یا رجسٹرار کے سامنے حاضری یہ ثابت نہیں کرتی کہ اس نے اپنی قیمتی وراثتی جائیداد اپنی مرضی اور پوری سمجھ بوجھ سے ہبہ کر دی!

2008 SCMR 1384 — سپریم کورٹ آف پاکستان
🔥 رجسٹرڈ گفٹ ڈیڈ؟ پھر بھی وراثتی حق ختم نہیں!

کسی وارث کے ہاتھ پر انگوٹھا لگوا لینا، دستاویز رجسٹر کروا لینا یا اسے سب رجسٹرار کے سامنے پیش کر دینا اپنے آپ میں یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس وارث نے اپنی وراثتی جائیداد کا حق جان بوجھ کر، رضاکارانہ طور پر اور قانونی طور پر معتبر طریقے سے منتقل کر دیا ہے۔

خاص طور پر جب مبینہ عطیہ دینے والی خواتین:

اَن پڑھ ہوں،

سادہ لوح دیہاتی ہوں،

پردہ نشین ہوں،

اور بعد میں یہ مؤقف اختیار کریں کہ انہیں دستاویز کی حقیقت اور اس کے قانونی اثرات کا علم ہی نہیں تھا۔

تو پھر سوال صرف "انگوٹھا کس کا ہے؟" نہیں رہتا۔

اصل سوال یہ ہے: "کیا اسے معلوم بھی تھا کہ وہ کیا دے رہی ہے؟"
⚖️ ہبہ ثابت کرنا ہے؟ تین چیزیں لازماً ثابت کریں!

مسلم قانون کے تحت محض ایک رجسٹرڈ کاغذ کافی نہیں۔

معتبر ہبہ کے لیے بنیادی طور پر یہ تین عناصر ثابت کرنا ضروری ہیں:

1️⃣ ایجاب / اعلانِ ہبہ

کیا عطیہ دینے والے نے واقعی اپنی مرضی سے جائیداد دینے کا اعلان کیا؟

2️⃣ قبولیت

کیا جس شخص کے حق میں ہبہ کیا گیا، اس نے اسے قبول کیا؟

3️⃣ قبضہ کی حوالگی

کیا جائیداد کا قبضہ حقیقتاً منتقل کیا گیا؟

یہ تینوں ثابت کیے بغیر صرف رجسٹری دکھانا کافی نہیں!
🚨 صرف رجسٹری اور انگوٹھا کیوں کافی نہیں؟

مقدمے میں مبینہ عطیہ دہندگان نے اپنی جانب سے ہبہ کرنے کی نیت اور ex*****on ہی سے اختلاف کیا اور دھوکہ دہی، جعل سازی اور ملی بھگت کے الزامات عائد کیے۔

ایسی صورت میں جس شخص کو گفٹ ڈیڈ کا فائدہ حاصل ہو رہا ہو، اس پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف رجسٹرڈ دستاویز پیش کرنے کے بجائے اصل transaction ثابت کرے۔

یعنی یہ ثابت کیا جائے کہ:

دستاویز واقعی اسی نیت سے بنائی گئی تھی،

عطیہ دینے والے کو اس کے مندرجات کا علم تھا،

اس نے شعوری طور پر ہبہ کیا،

ہبہ قبول کیا گیا،

اور

قبضہ بھی منتقل ہوا۔

💥 پردہ نشین اور اَن پڑھ خواتین کے معاملے میں ذمہ داری اور بھی اہم!

جب کسی قیمتی وراثتی جائیداد کی منتقلی ایک ایسی خاتون سے منسوب ہو جو اَن پڑھ اور پردہ نشین ہو، تو محض یہ کہہ دینا کہ:

"اس نے انگوٹھا لگا دیا تھا!"

معاملہ ختم نہیں کرتا۔

عدالت کے سامنے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس خاتون کو کیا بتایا گیا، کس نے بتایا، دستاویز کس طرح سمجھائی گئی، اس کی رضامندی کیا تھی، اور کیا وہ حقیقتاً اپنے وراثتی حق سے دستبردار ہونے یا اسے ہبہ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی؟

⚠️ رجسٹریشن کا مطلب یہ نہیں کہ ہر اعتراض ختم ہوگیا!

رجسٹریشن ایک اہم قانونی عمل ہے، لیکن جب ex*****on اور intention ہی متنازع ہو جائیں تو محض رجسٹریشن کی بنیاد پر یہ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ عطیہ دینے والے نے شعوری طور پر اپنی جائیداد منتقل کر دی تھی۔

اسی طرح رجسٹرار کے سامنے حاضری یا انگوٹھے کا نشان بھی ہر صورت میں شعوری اور رضاکارانہ ہبہ کا حتمی ثبوت نہیں بنتا۔

🚨 ایک اور اہم نکتہ: عدالت کو اصل سوالات طے کرنا ہوں گے!

اگر مقدمے میں یہ تنازع موجود ہو کہ:

ہبہ واقعی ہوا یا نہیں؟

فریق کو دستاویز کا علم تھا یا نہیں؟

رضامندی آزادانہ تھی یا دھوکے سے حاصل کی گئی؟

ہبہ کا اعلان ہوا یا نہیں؟

قبولیت ہوئی یا نہیں؟

قبضہ منتقل ہوا یا نہیں؟

تو عدالت کے لیے ضروری ہے کہ ان بنیادی قانونی اور واقعاتی سوالات کو مناسب issues کی صورت میں طے کرے۔

اہم مسئلہ پر issue ہی نہ بنے تو فریقین اس پر مناسب شہادت کیسے پیش کریں گے؟

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ضروری issues وضع نہ کرنا اور ان کا فیصلہ نہ کرنا material irregularity کا باعث بن سکتا ہے۔

🔥 سپریم کورٹ نے کیا کیا؟

سپریم کورٹ نے ماتحت عدالتوں اور ہائی کورٹ کے فیصلے برقرار نہیں رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ متنازعہ گفٹ ڈیڈز کو محض رجسٹریشن، انگوٹھے کے نشانات یا رجسٹرار کے سامنے حاضری کی بنیاد پر معتبر قرار دینا درست نہیں تھا۔

ہبہ کے بنیادی عناصر — اعلان، قبولیت اور قبضہ کی حوالگی — ثابت کرنا ضروری تھا۔

چونکہ ضروری قانونی اور واقعاتی مسائل مناسب طور پر طے نہیں کیے گئے تھے، اس لیے سپریم کورٹ نے مقدمہ ازسرِنو فیصلہ کے لیے واپس بھیج دیا تاکہ ضروری اضافی issues مرتب کیے جائیں اور فریقین کو مناسب شہادت پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔

⚡ اصل سبق — وراثتی جائیداد کے وارث خبردار!

اگر کسی وارث کی وراثتی جائیداد کے بارے میں گفٹ ڈیڈ سامنے آئے تو صرف یہ دیکھ کر مطمئن نہ ہوں کہ:

"رجسٹری تو ہو چکی ہے!"

قانونی سوالات اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں:

کیا ہبہ کا اعلان ہوا؟

کیا ہبہ قبول کیا گیا؟

کیا قبضہ منتقل ہوا؟

کیا عطیہ دینے والے کو دستاویز کا مکمل علم تھا؟

کیا رضامندی آزادانہ اور شعوری تھی؟

کیا دھوکہ دہی، غلط بیانی یا مشکوک حالات موجود تھے؟

اور کیا عدالت نے ان تمام اہم تنازعات پر باقاعدہ issues مرتب کیے؟

🔴 یاد رکھیں!
"رجسٹرڈ گفٹ ڈیڈ" کا مطلب لازماً "ثابت شدہ ہبہ" نہیں!
انگوٹھا موجود ہونا ≠ شعوری رضامندی
رجسٹری موجود ہونا ≠ معتبر ہبہ
رجسٹرار کے سامنے حاضری ≠ وراثتی حق سے ثابت شدہ دستبرداری
معتبر ہبہ کے لیے قانون کے مطلوبہ بنیادی عناصر ثابت کرنا ہوں گے۔

حوالہ: 2008 SCMR 1384

اہم قانونی حوالہ جات

Specific Relief Act, 1877 — Sections 42 & 54

Registration Act, 1908 — Section 17

Civil Procedure Code, 1908 — Order XIV Rule 1

Constitution of Pakistan, 1973 — Article 185

Muhammadan Law — Clause 149

Qanun-e-Shahadat Order, 1984

اہم نظائر:
PLD 1990 Lah. 229، 1986 SCMR 1427، PLD 2003 SC 676، AIR 1943 PC 83، PLD 1997 Lah. 633، 1999 SCMR 1049، PLD 1991 SC 1140، PLD 1990 SC 642، 1994 SCMR 1939، 2000 PSC 107، 1992 CLC 355، 1997 SCMR 1849، 2001 SCMR 772، PLD 1961 Dacca 65، 1985 CLC 1448، 2005 CLC 970، 2005 MLD 280، 1985 CLC 2028، 1999 SCMR 1782، PLD 1999 SC 35، 1997 SCMR 209، PLD 1988 SC 20، PLD 1991 SC 782۔

مصنفین

ایکیان شاہ، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
انیقہ قریشی، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

پیشہ ور قانونی ماہرین، وکلاء اور قانونی محققین۔ ہائی کورٹ اور سول عدالتوں میں پریکٹس، بالخصوص دیوانی، عائلی، دانشورانہ املاک اور کارپوریٹ قانون کے معاملات میں عملی قانونی خدمات۔

رابطہ: 0302-6111222

قانونی آگاہی اور متعلقہ ویڈیوز:

دستبرداری

یہ مضمون صرف تعلیمی، معلوماتی اور قانونی آگاہی کے مقاصد کے لیے ہے۔ اسے کسی مخصوص مقدمے میں قانونی مشورہ یا حتمی قانونی رائے نہ سمجھا جائے۔ ہر معاملہ اپنے مخصوص حقائق، دستاویزات اور شہادت کی بنیاد پر مختلف قانونی نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ عملی قانونی اقدام سے قبل مستند قانونی ماہر سے مشورہ کیا جائے۔

مصنفین کا کسی فرد، گروہ، ادارے، مذہب، برادری یا کسی حقیقی یا قانونی شخصیت کی دل آزاری، توہین، بدنامی یا نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ کسی شخص، واقعے یا صورتِ حال سے مماثلت محض اتفاقی اور غیر ارادی ہے۔

کیا صرف ریلیز ڈیڈ پر دستخط کروا کر بہن کا وراثتی حق ختم کیا جا سکتا ہے؟سپریم کورٹ کا اہم اصول: محض ریلیز ڈیڈ کافی نہیں —...
06/09/2026

کیا صرف ریلیز ڈیڈ پر دستخط کروا کر بہن کا وراثتی حق ختم کیا جا سکتا ہے؟

سپریم کورٹ کا اہم اصول: محض ریلیز ڈیڈ کافی نہیں — شعوری، رضاکارانہ اور قانونی طور پر معتبر دستبرداری ثابت کرنا ہوگی۔

کیا ایک بہن سے کسی دستاویز پر دستخط کروا کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنی وراثتی جائیداد کا حق ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا؟

ضروری نہیں۔

اگر شواہد یہ ثابت نہ کریں کہ وارث نے اپنے وراثتی حصے سے شعوری، رضاکارانہ اور باخبر طور پر دستبرداری اختیار کی تھی، تو محض ریلیز ڈیڈ کی موجودگی یا اس کی رجسٹریشن کسی وارث کو اس کے قانونی حق سے محروم کرنے کے لیے لازماً کافی نہیں۔

2024 SCMR 916 میں سپریم کورٹ کے سامنے بھی ایسا ہی ایک اہم تنازع آیا۔

اصل معاملہ کیا تھا؟

خواتین قانونی وارثوں کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے ایک رجسٹرڈ ریلیز ڈیڈ کے ذریعے غیر منقولہ جائیداد میں اپنے وراثتی حصے اپنے بھائی کے حق میں چھوڑ دیے تھے۔

لیکن بہنوں کا مؤقف مختلف تھا۔

انہوں نے شعوری طور پر ایسی دستبرداری سے انکار کیا اور دھوکہ دہی اور غلط بیانی کا مؤقف اختیار کیا۔

یہاں سے اصل قانونی سوال پیدا ہوا:

کیا صرف رجسٹرڈ دستاویز دکھا دینا کافی ہے؟

سپریم کورٹ نے معاملے کو محض اس بنیاد پر نہیں دیکھا کہ دستاویز رجسٹرڈ تھی۔

عدالت نے یہ دیکھا کہ:

کیا بہنوں نے واقعی اپنا وراثتی حق چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا؟

کیا ان کی رضامندی حقیقی اور باخبر تھی؟

کیا جائیداد کے عوض کوئی consideration ثابت تھا؟

کیا کوئی متعلقہ family settlement موجود تھا؟

کیا دستاویز کے اجرا کے حالات قابلِ اعتماد تھے؟

اور سب سے اہم:

کیا دستیاب شواہد واقعی شعوری دستبرداری ثابت کرتے تھے؟

شواہد نے کیا بتایا؟

مقدمے میں متعدد اہم حالات سامنے آئے۔

بہنوں کو اس مفہوم کے ساتھ لے جایا گیا تھا کہ جائیداد تمام قانونی وارثوں کے نام منتقل کی جائے گی۔

دستاویز کے marginal witnesses کے بیانات بھی جواب دہندہ کے مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔

متنازعہ جائیداد کے حوالے سے consideration ثابت نہیں ہوئی۔

کوئی متعلقہ family settlement بھی پیش نہیں کیا گیا۔

مزید یہ کہ بہنوں کو دستاویز کے بارے میں آزادانہ مشورہ حاصل نہیں تھا۔

ایسے حالات میں یہ سوال محض ایک دستخط کا نہیں رہتا۔

اصل سوال یہ بنتا ہے کہ:

کیا وارث نے حقیقتاً اپنا وراثتی حق چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، یا دستاویز کسی غلط فہمی، غلط بیانی یا فریب کے نتیجے میں وجود میں آئی؟

دفعہ 25 — ایک اہم قانونی نکتہ

Contract Act, 1872 کی Section 25 نے اس مقدمے میں اہم کردار ادا کیا۔

اگر وراثتی حق سے دستبرداری کے عوض کوئی consideration ثابت نہ ہو اور ساتھ ہی یہ بھی ثابت نہ ہو کہ وارث نے اپنے حق سے شعوری طور پر دستبرداری اختیار کی تھی، جبکہ معاملہ fraud یا misrepresentation سے متاثر ہو، تو ایسی دستاویز کے ذریعے قانونی وارث کو اس کے ملکیتی حق سے محروم کرنا آسانی سے برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

یعنی معاملہ صرف یہ نہیں کہ:

"دستخط موجود ہیں۔"

بلکہ سوال یہ بھی ہے:

"دستخط کس علم، کس رضامندی اور کن حالات میں کیے گئے؟"
کیا رجسٹریشن سب کچھ ختم کر دیتی ہے؟

نہیں۔

رجسٹریشن کسی دستاویز کی موجودگی اور اس کے رسمی عمل کو اہم بناتی ہے، لیکن جب اس کی رضامندی، ex*****on، consideration یا authenticity متنازع ہو اور متعلقہ شواہد سوالات پیدا کر رہے ہوں، تو عدالت ان حالات کا جائزہ لے سکتی ہے۔

لہٰذا کسی وارث کے خلاف صرف یہ کہنا کہ:

"ریلیز ڈیڈ رجسٹرڈ ہے، اس لیے معاملہ ختم ہو گیا"

ہر صورت میں کافی نہیں۔

کیا اسے Gift کہہ کر بچایا جا سکتا ہے؟

یہ راستہ بھی ہر معاملے میں دستیاب نہیں۔

اگر اصل transaction ہی fraud یا misrepresentation سے متاثر ہو تو اسے محض ایک valid gift قرار دینے کے لیے مسلم قانون کے تحت درکار بنیادی عناصر کا موجود ہونا بھی ضروری ہے۔

یعنی کسی متنازعہ دستاویز کو صرف نام تبدیل کرکے خود بخود قانونی تحفظ حاصل نہیں ہو جاتا۔

ہائی کورٹ بھی ہر متفقہ فیصلہ تبدیل نہیں کر سکتی

اس مقدمے کا ایک دوسرا اہم پہلو بھی تھا۔

Trial Court اور First Appellate Court دونوں نے شواہد کا جائزہ لے کر ایک ہی نتیجے پر پہنچتے ہوئے بہنوں کے حق میں فیصلہ کیا۔

معاملہ High Court تک پہنچا اور وہاں revisional jurisdiction کے استعمال کا سوال سامنے آیا۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگر ماتحت عدالتوں کے concurrent findings:

متعلقہ شواہد پر مبنی ہوں؛
perverse نہ ہوں؛
misreading of evidence کا نتیجہ نہ ہوں؛ اور
non-reading of material evidence سے متاثر نہ ہوں،

تو محض اس بنیاد پر کہ شواہد کی کوئی دوسری interpretation بھی ممکن ہے، ان findings کو تبدیل کرنا مناسب نہیں۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا تھا؟

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریلیز ڈیڈ misrepresentation اور deception کے ذریعے حاصل کی گئی تھی اور اس کے نتیجے میں بہنوں کو ان کے وراثتی حصوں سے محروم کیا گیا، جو Section 25, Contract Act, 1872 کے منافی تھا۔

چونکہ Trial Court اور First Appellate Court نے شواہد کا درست جائزہ لے کر concurrent findings دی تھیں، اس لیے High Court کی revisional interference برقرار نہیں رکھی گئی۔

نتیجتاً:

ہائی کورٹ کا فیصلہ ختم کر دیا گیا۔
ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے اور ڈگریاں بحال کر دی گئیں۔
اس فیصلے کا عملی سبق کیا ہے؟

وراثتی جائیداد میں ریلیز یا relinquishment deed تیار کرتے وقت محض دستخط اور رجسٹریشن پر انحصار کافی نہیں سمجھا جا سکتا۔

ریکارڈ سے واضح ہونا چاہیے:

کون سا حق چھوڑا گیا؟

کس مقصد کے لیے چھوڑا گیا؟

کیا consideration موجود تھی؟

کیا family settlement موجود تھا؟

کیا وارث کو دستاویز کے قانونی اثرات کا علم تھا؟

کیا رضامندی آزادانہ اور شعوری تھی؟

کیا ex*****on کے حالات قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت ہوتے ہیں؟

کیونکہ عدالت کے سامنے اصل سوال صرف یہ نہیں ہوتا کہ:

"ریلیز ڈیڈ کہاں ہے؟"

بلکہ یہ بھی ہوتا ہے:

"یہ ریلیز ڈیڈ کس طرح، کن حالات میں اور کس رضامندی سے وجود میں آئی؟"

وراثتی حق کوئی معمولی دعویٰ نہیں۔

اور کسی وارث کو اس کے قانونی حق سے محروم کرنے کے لیے محض ایک دستاویز پیش کر دینا ہر معاملے میں آخری لفظ نہیں ہوتا۔

حوالہ: 2024 SCMR 916

اہم سابقہ نظائر

Ghulam Ali and 2 others v. Mst. Ghulam Sarwar Naqvi — PLD 1990 SC 1

Muhammad Shamim through Legal heirs v. Mst. Nisar Fatima through Legal Heirs and others — 2010 SCMR 18

Sadar Din v. Mst. Khatoon and others — 2004 SCMR 1102

Mirza Abid Baig v. Zahid Sabir (Deceased) through LRs and others — 2020 SCMR 601

مصنفین

ایکیان شاہ، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
انیقہ قریشی، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

پیشہ ور قانونی ماہرین، وکلاء اور قانونی محققین۔ دونوں ہائی کورٹ اور سول عدالتوں میں پریکٹس کرتے ہیں اور دیوانی، عائلی، دانشورانہ املاک اور کارپوریٹ قانون کے معاملات میں عملی قانونی خدمات انجام دیتے ہیں۔

رابطہ: +923026111222

قانونی مضامین سے متعلق ویڈیوز:

یوٹیوب:

قانونی وضاحت

یہ تحریر صرف تعلیمی، معلوماتی اور قانونی آگاہی کے لیے ہے۔ اسے کسی مخصوص مقدمے یا قانونی مسئلے میں حتمی قانونی مشورہ نہ سمجھا جائے۔ ہر مقدمہ اپنے مخصوص حقائق، دستاویزات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر مختلف قانونی نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ کسی عملی قانونی اقدام سے قبل اہل قانونی ماہر سے رائے لینا ضروری ہے۔

مصنفین کی جانب سے کسی فرد، گروہ، ادارے، مذہب، برادری یا کسی حقیقی یا قانونی شخصیت کی توہین، دل آزاری، بدنامی یا نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ کسی شخص، واقعے یا صورتِ حال سے مماثلت محض اتفاقی اور غیر ارادی ہے۔

A request to withdraw a suit with liberty to litigate afresh cannot succeed unless the facts disclosed constitute a lega...
31/08/2026

A request to withdraw a suit with liberty to litigate afresh cannot succeed unless the facts disclosed constitute a legally recognisable ground under Order XXIII, Rule 2(b), C.P.C.

Withdrawal of Suit with Liberty to File Afresh: Requirement of a Legally Recognisable Ground
Legal Principle

Permission to withdraw a suit with liberty to institute a fresh suit under Order XXIII, Rule 2(b), C.P.C. arises only where the application discloses facts constituting a legally recognisable ground whose sufficiency can then be judicially examined.

Ratio Decidendi

Order XXIII, Rule 2(b), C.P.C.—Withdrawal of suit with permission to institute fresh proceedings—Application stating only that plaintiff did not presently wish to proceed and reserved the right to sue later—Such assertion did not constitute a “ground” in law—Question of sufficiency therefore did not arise—Withdrawal without permission to institute a fresh suit was valid—Civil Appeal No.782 of 2014, decided on 14.01.2021.¹

Issue

Whether an application seeking withdrawal of a suit against one defendant with permission to institute fresh proceedings under Order XXIII, Rule 2(b), C.P.C. was required to be allowed or rejected as an indivisible whole where the application disclosed no legally recognisable ground for granting such permission.

Law

The Court considered Order XXIII, Rules 1, 2(b) and 3, C.P.C., particularly the requirement that permission to institute a fresh suit under Rule 2(b) may be granted where “there are other sufficient grounds”. In the Province of Punjab and within the jurisdiction of Lahore High Court, Lahore, the relevant provision was specifically amended through Lahore High Court Notification No. 237/Legis/XI-Y-26 dated 15.08.2018 by inserting the words “after recording reasons” after the words “the Court is satisfied”, which amendment became effective from 01.11.2020. The Court relied upon Muhammad Yar (dec’d) and others v Muhammad Amin (dec’d) and others 2013 SCMR 464² and Karim Gul and another v Shahzad Gul and another 1970 SCMR 141³ while interpreting the statutory scheme.

Analysis

The Supreme Court held that the law stated in Muhammad Yar was correct but required clarification. Before examining whether a disclosed ground is sufficient under Rule 2(b), the facts stated in the application must first amount, in law, to a “ground”. The appellant had merely stated that it did not presently wish to proceed against respondent No. 2 and reserved the right to sue whenever necessity arose. This was no ground in law. Permitting a plaintiff to withdraw and re-enter litigation at will would defeat the consequences contemplated by Rule 3 and could permit repetition without limitation. Since the application disclosed no legally recognisable ground, the trial Court was not required to examine its sufficiency.

Conclusion

The Supreme Court held that the civil Judge had correctly permitted withdrawal of the suit against respondent No. 2 while refusing permission to institute fresh proceedings. As no legally recognisable ground was disclosed under Order XXIII, Rule 2(b), the appellant could not claim liberty to sue afresh. The order required no interference, the High Court had correctly dismissed the revision petition, and the appeal was accordingly dismissed without costs.

Practical Implications

A plaintiff seeking withdrawal with liberty to institute a fresh suit must disclose facts constituting a legally recognisable ground under Order XXIII, Rule 2(b), C.P.C. Mere unwillingness to continue litigation for the time being, coupled with a reservation of a future right to sue, is insufficient. Within Punjab, the applicable amendment further requires the Court to record reasons when exercising satisfaction under the relevant provision. The statutory discretion must therefore operate upon a legally cognisable ground and through a reasoned judicial determination rather than at the unrestricted discretion of the plaintiff.

Footnotes

¹ Civil Appeal No.782 of 2014, Khawaja Bashir Ahmed & Sons Pvt. Ltd. vs M/s Martrade Shipping & Transport etc., decided on 14.01.2021.

² Muhammad Yar (dec’d) and others v Muhammad Amin (dec’d) and others 2013 SCMR 464.

³ Karim Gul and another v Shahzad Gul and another 1970 SCMR 141.

About the Authors

Ikyan Shah and Aneeqa Qureshi both are Advocates High Court, professional legal practitioners, attorneys at law, and researchers with several years of experience. They regularly and actively appears before the High Court and civil courts. Their practice primarily covers civil law, family law, intellectual property law, and corporate law, with a strong focus on practical, rights-oriented legal solutions.

You may reach writers at +923026111222.

The videos of articles are available at [https://youtube.com/](https://youtube.com/)

Disclaimer

This article is intended solely for academic, informational, and legal awareness purposes. It does not constitute legal advice, nor does it create an advocate–client relationship. While every effort has been made to ensure accuracy, errors and omissions are expressly accepted. The author makes no representations or warranties regarding the completeness, correctness, or applicability of the contents to any specific factual situation.

The views expressed are personal and based on general principles of law as understood at the time of writing. Laws, statutory provisions, and judicial interpretations may vary and are subject to change. Readers are strongly advised to consult a qualified legal professional before acting upon any information contained herein.

The authors have no intention whatsoever to hurt, defame, offend, or harm any individual, group, institution, religion, community, or entity, whether real or artificial, living or deceased. Any resemblance to any person, character, incident, or situation is purely coincidental, incidental, and unintentional, and should not be construed otherwise.

29/08/2026

11/08/2026
10/08/2026

Address

Session Court Lahore
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+923026111222

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ikyan Shah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ikyan Shah:

Shortcuts

Share