Ikyan Shah

Ikyan Shah My channel does not make any warranties about the completeness, reliability and accuracy of this information.

Legal Consultancy...By Ikyan Shah
Advocate & Solicitor
Civil suits, Family Law, Divorce, Child Custody, Corporate Law, Property Law
Trademark, Copyrights, Intellectual Property. Disclaimer for https://facebook.com/ikyanshah
If you require any more information or have any questions about our disclaimer, please feel free to contact us by email at [email protected]

Disclaimers for https://facebook.c

om/ikyanshah
All the information on this channel is published in good faith and for general information purpose only. Any action you take upon the information you find on this channel, is strictly at your own risk. I will not be liable for any losses and/or damages in connection with the use of my page. From my channel, you can visit other websites by following hyperlinks to such external sites. While we strive to provide only quality links to useful and ethical websites, we have no control over the content and nature of these sites. These links to other websites do not imply a recommendation for all the content found on these sites. Site owners and content may change without notice and may occur before we have the opportunity to remove a link which may have gone ‘bad'. Please be also aware that when you leave our page, other sites may have different privacy policies and terms which are beyond our control. Please be sure to check the Privacy Policies of these sites as well as their "Terms of Service" before engaging in any business or uploading any information. Consent
By using https://facebook.com/ikyanshah, you hereby consent to our disclaimer and agree to its terms.

وراثت میں عورت کا حصہ:فقہی، اصولیاتی اور پاکستانی قانونی تناظر میں ایک نظریاتی و قانونی توجیہخلاصہقانون میں عدل کا معیار...
02/02/2026

وراثت میں عورت کا حصہ:

فقہی، اصولیاتی اور پاکستانی قانونی تناظر میں ایک نظریاتی و قانونی توجیہ

خلاصہ

قانون میں عدل کا معیار محض عددی مساوات نہیں بلکہ ذمہ داریوں اور مالی بوجھ کی منصفانہ تقسیم ہے۔ عصرِ حاضر میں اسلامی قانونِ وراثت پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ بعض حالات میں عورت کو مرد کے مقابل نصف حصہ دیا جاتا ہے، جسے صنفی امتیاز سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ زیرِ نظر مقالہ استدلال کرتا ہے کہ یہ تعبیر فقہی اور قانونی اعتبار سے ناقص ہے۔ جب اس اصول کو شرعی ذمہ داریوں، کلاسیکی فقہی نظریات اور پاکستانی قانونی نظام کے مجموعی تناظر میں سمجھا جائے تو یہ تناسب رسمی عدم مساوات نہیں بلکہ حقیقی عدل و انصاف کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

مسئلہ

بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا قرآنِ مجید کی وہ ہدایت جس کے تحت مخصوص حالات میں عورت کو مرد کے مقابل نصف حصہ دیا جاتا ہے، صنفی امتیاز ہے یا ایک ایسا قانونی و فقہی انتظام جو ذمہ داریوں کے تناسب سے منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتا ہے۔¹

قانون

اسلامی قانونِ وراثت براہِ راست قرآنی نصوص پر مبنی ہے۔ سورۃ النساء کی آیات 11، 12 اور 176 میں ورثاء کے حصص قطعی طور پر متعین کیے گئے ہیں۔² ان حصص کو فقہائے امت نے “فرائض” قرار دیا ہے جن میں کسی انسانی صوابدید یا ترمیم کی گنجائش نہیں۔³

معتبر تفاسیر واضح کرتی ہیں کہ یہ تقسیم محض اخلاقی رہنمائی نہیں بلکہ شرعی طور پر لازم اور قابلِ نفاذ حقوق ہیں۔⁴ عہدِ نبوی میں انہی حصص کو بلا تغیر نافذ کیا گیا جس سے ان کی قانونی حیثیت مزید مستحکم ہوئی۔⁵

ائمہ اربعہ اور بالخصوص فقہِ حنفی کے اکابرین نے وراثت کو تعبدی اور قطعی باب قرار دیتے ہوئے اس میں سماجی یا سیاسی بنیادوں پر تبدیلی کو ناجائز سمجھا ہے۔⁶ فقہی مآخذ جیسے الہدایہ میں واضح کیا گیا ہے کہ تقسیم کا معیار محض رشتہ نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔⁷

پاکستان میں بھی یہ اصول محض مذہبی ہدایت نہیں بلکہ باقاعدہ قانون ہے۔ مغربی پاکستان مسلم پرسنل لا (شریعت) اپلیکیشن ایکٹ 1962 کے تحت عدالتیں وراثتی معاملات میں اسلامی قانون کے اطلاق کی پابند ہیں۔⁸ اعلیٰ عدلیہ نے متعدد فیصلوں میں خواتین کے حصص کو ناقابلِ تنسیخ قانونی حق قرار دیا ہے۔⁹

تجزیہ

معاصر تنقید کا بنیادی مغالطہ یہ ہے کہ وہ انصاف کو عددی مساوات کے مترادف سمجھتی ہے، جبکہ اسلامی فقہ کا تصور “عدل” ہے جو ذمہ داری اور حق کے باہمی توازن پر مبنی ہے۔¹⁰

اسلامی خاندانی قانون کے تحت مرد پر مہر، نفقہ، بیوی اور اولاد کی کفالت، رہائش اور دیگر اخراجات لازمی طور پر عائد ہوتے ہیں۔¹¹ یہ ذمہ داریاں محض اخلاقی نہیں بلکہ عدالتی طور پر نافذ العمل ہیں۔ اس کے برعکس عورت اپنی ملکیت پر مکمل اختیار رکھتی ہے اور اس پر کسی کی کفالت لازم نہیں۔¹²

چنانچہ مرد کو ملنے والا زیادہ حصہ درحقیقت اخراجات سے مشروط سرمایہ ہے جبکہ عورت کا حصہ اس کی ذاتی اور محفوظ ملکیت رہتا ہے۔ اسی بنا پر فقہائے کرام نے اس تقسیم کو رسمی مساوات کے بجائے تلافیِ ذمہ داری پر مبنی عدل قرار دیا ہے۔¹³

مزید یہ کہ یہ کہنا کہ عورت کو ہمیشہ نصف حصہ ملتا ہے، فقہی طور پر درست نہیں۔ متعدد صورتوں میں عورت مرد کے برابر یا اس سے زیادہ حصہ حاصل کرتی ہے اور بعض اوقات پوری جائیداد کی واحد وارث بھی بنتی ہے۔¹⁴ لہٰذا دو بہ ایک کا تناسب ایک مخصوص قانونی سیاق تک محدود ہے۔

پاکستانی عدالتی نظائر بھی یہی ثابت کرتے ہیں کہ وراثتی حصص قابلِ نفاذ قانونی حقوق ہیں اور انہیں عرف یا نجی معاہدوں کے ذریعے ساقط نہیں کیا جا سکتا۔¹⁵ ¹⁶

نتیجہ

قرآنی نصوص، فقہی استدلال اور پاکستانی قانونی نفاذ کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ عورت کا نصف حصہ امتیاز نہیں بلکہ ذمہ داری کے فرق کو متوازن کرنے کا ایک منصفانہ اور عقلی نظام ہے۔ یہ تقسیم رسمی مساوات کے بجائے عملی عدل کو یقینی بناتی ہے۔ لہٰذا اسلامی قانونِ وراثت صنفی تفریق نہیں بلکہ ذمہ داری کے مطابق حق دینے کا ایک مربوط اور عادلانہ قانونی ڈھانچہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

ایکیان شاہ ایک ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ہیں، پیشہ ور قانونی معالج، اٹارنی ایٹ لا، اور محقق ہیں، جنہیں عملی قانونی تجربہ حاصل ہے۔ وہ باقاعدگی سے ہائی کورٹ اور دیوانی عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔ ان کی پریکٹس بنیادی طور پر دیوانی قانون، خاندانی قانون، دانشورانہ املاک کے قانون، اور کارپوریٹ قانون پر مشتمل ہے، جس میں عملی، حقوق پر مبنی قانونی حل پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
مصنف سے رابطہ درج ذیل نمبر پر کیا جا سکتا ہے: +923026111222
مضامین کی ویڈیوز درج ذیل یوٹیوب چینل پر دستیاب ہیں:
https://youtube.com/

دستبرداری (Disclaimer)

یہ مضمون محض تعلیمی، معلوماتی اور قانونی آگاہی کے مقاصد کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد کسی قسم کا قانونی مشورہ فراہم کرنا نہیں، اور نہ ہی اس سے وکیل اور موکل کے درمیان کسی قسم کا تعلق قائم ہوتا ہے۔ اگرچہ درستی کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے، تاہم کسی بھی قسم کی غلطی یا سہو کو صراحتاً تسلیم کیا جاتا ہے۔ مصنف اس مضمون کے مندرجات کی مکمل درستگی، جامعیت، یا کسی مخصوص صورتِ حال پر اطلاق کے حوالے سے کوئی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔
یہ آراء ذاتی نوعیت کی ہیں اور تحریر کے وقت قانون کے عمومی اصولوں کی بنیاد پر قائم کی گئی ہیں۔ قوانین، قانونی دفعات، اور عدالتی تشریحات وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہیں۔ قارئین کو سختی سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ کسی بھی اقدام سے قبل کسی مستند اور اہل قانونی ماہر سے رجوع کریں۔
مصنف کا کسی بھی فرد، گروہ، ادارے، مذہب، برادری، یا کسی حقیقی یا فرضی وجود کو نقصان پہنچانے، بدنام کرنے، یا دل آزاری کا کوئی ارادہ نہیں۔ کسی شخص، کردار، واقعہ، یا صورتِ حال سے مماثلت محض اتفاقی اور غیر ارادی ہے۔

حوالہ جات

¹ قرآن مجید، سورۃ النساء 4:11–12، 4:176
² ایضاً
³ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، تفسیر آیت 4:11
⁴ الطبری، جامع البیان، جلد 8
⁵ صحیح بخاری، کتاب الفرائض
⁶ کمالی، محمد ہاشم، اصول الفقہ الاسلامی
⁷ المرغینانی، الہدایہ، جلد 6، ابواب الفرائض
⁸ مغربی پاکستان مسلم پرسنل لا (شریعت) اپلیکیشن ایکٹ 1962، دفعہ 2
⁹ PLD 1990 SC 1
¹⁰ حنیف، سہیل، اسلامی عائلی قانون پر تحقیقی مطالعہ
¹¹ فقہی ابواب: النفقہ و المہر
¹² ایضاً
¹³ محمد، ایم۔آئی، Inheritance in Islam
¹⁴ تفہیم القرآن، تفسیر سورۃ النساء
¹⁵ Ghulam Ali v Mst Sarwar Naqvi PLD 1990 SC 1
¹⁶ Ghulam Rasool v Muhammad Hussain PLD 2011 SC 119

31/01/2026

31/01/2026

31/01/2026

31/01/2026

31/01/2026

31/01/2026

31/01/2026

31/01/2026

31/01/2026

31/01/2026

31/01/2026

Address

Session Court Lahore
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+923026111222

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ikyan Shah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ikyan Shah:

Share