08/06/2026
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کوئی شخص اپنی جائیداد اپنی زندگی میں کسی کے نام بطور ہبہ منتقل کر دے اور قبضہ بھی دے دے، تو ایسا ہبہ مکمل اور مؤثر ہوتا ہے۔ بعد ازاں اس ہبہ پر ایسی شرط عائد نہیں کی جا سکتی جو صرف مستفید ہونے والے شخص کی زندگی تک ملکیت کو محدود کرے۔
مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ جائیداد دوسری بیوی کو صرف تاحیات استعمال کے لیے دی گئی تھی، لہٰذا اس کے انتقال کے بعد جائیداد واپس اصل مالک کے ورثاء کو ملنی چاہیے۔ تاہم عدالت نے اسلامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں قرار دیا کہ ہبہ کے ساتھ لگائی گئی ایسی محدود شرط کالعدم ہے اور ہبہ مطلق (Absolute Gift) تصور ہوگا۔ نتیجتاً جائیداد دوسری بیوی کی مکمل اور انفرادی ملکیت بن گئی۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ جب ہبہ قانونی طور پر مکمل اور درست ہو جائے تو سابق مالک کے دیگر ورثاء یا رشتہ دار اس جائیداد پر کوئی حقِ وراثت یا رجوعی مفاد نہیں رکھتے۔ اس لیے وہ بعد میں ہونے والی فروخت یا انتقال کو چیلنج کرنے کے بھی مجاز نہیں رہتے۔
یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ اسلامی قانون کے تحت مکمل ہبہ کے بعد جائیداد ہبہ لینے والے کی مستقل ملکیت بن جاتی ہے اور محض “تاحیات استعمال” جیسی شرائط کے ذریعے ہبہ کی نوعیت کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ وراثت کے دعوے یا بعد ازاں کی گئی قانونی کارروائیاں بھی اسی بنیاد پر ناکام ہو سکتی ہیں۔
حافظ عرفان شبیر کیانی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ