Jinnah Law Firm

Jinnah Law Firm Jinnah Law Firm is a full service law firm operating throughout the country of Pakistan

زنا بالجبر کا جھوٹا مقدمہ درج کروانے اور بعد میں انحرافی بیان دینے پر خواتین کے خلاف لاہور میں پہلا مقدمہ درج۔
05/03/2025

زنا بالجبر کا جھوٹا مقدمہ درج کروانے اور بعد میں انحرافی بیان دینے پر خواتین کے خلاف لاہور میں پہلا مقدمہ درج۔

لاہور ہائیکورٹ میں اپنے آپ کو آگ لگانے والا محمد آصف جاوید آج لاہور کے میو ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ آصف ایک پڑھا لکھا نوجو...
28/02/2025

لاہور ہائیکورٹ میں اپنے آپ کو آگ لگانے والا محمد آصف جاوید آج لاہور کے میو ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ آصف ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا جو Nestle Pakistan میں ملازمت کرتا تھا۔ 9 سال پہلے محنت کشوں کے حقوق کے لئے یونین بنانے کی پاداش میں نیسلے کی انتظامیہ نے اسے ملازمت سے برطرف کردیا۔ کچھ سال کی جدوجہد کے بعد National Industrial Relations Commission میں آصف اپنا کیس جیت گیا اور کمیشن نے اسے ملازمت پر بحال کردیا۔ لیکن انتظامیہ نے اس کو حق دینے کے بجائے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی اور بعد میں ہائکورٹ میں رٹ کردی۔ یہ سلسلہ 9 سال تک چلتا رہا اور ہائکورٹ کے جج صاحب مسلسل تاخیری حربے استعمال کرتے رہے۔

اس عرصے میں آصف کے حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ اسے اپنا گھر اور گاڑی بیچنے پڑے۔ کرائے کے مکان میں کرایہ دینا بھی ممکن نہیں رہا اور حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ بچوں کے لئے تعلیم تو دور کی بات، دو وقت کی روٹی بھی مشکل ہوگئی۔ اس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ حکمران طبقے کی سب سے طاقتور پرت کے سامنے اپنے اور اپنے بچوں کے حق کے لئے ڈٹ گیا۔ لیکن وقت ایک محنت کش کی کمزوری ہے، جیسے جیسے وقت گزرتا رہتا ہے اس کے وسائل کم ہوتے جاتے ہیں اور گھر اور خاندان کی ٹینشن بڑھتی جاتی ہے۔ نیسلے کی انتظامیہ نے وقت کے ہتھیار کو ہی اس نڈر محنت کش کے خلاف استعمال کیا جس نے بالآخر اس کے حوصلے کو توڑ دیا اور خود سوزی پر مجبور کردیا۔

وہ کس قسم کی بے بسی ہوگی کہ ایک یونین لیڈر، جو دوسروں کی زندگی کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرتا تھا، اپنے زندگی ختم کرنے پر مجبور ہوگیا؟ سرمایہ داری نظام کی بنیاد ہی انسان کی اپنی محنت سے بیگانگی پر قائم ہے یعنی ایک ورکر کی حیثیت مشین کے پرزے سے زیادہ نہیں۔ اس کا اندازہ تب ہوتا ہے جب کوئی ورکر آصف کی طرح اپنے حقوق مانگنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو یہ نظام اس کی زات کی نفی کرنے کے لئے اپنی تمام تر طاقت کو بروئے کار لاتے ہوتے اس کی انسانیت کو کچلنے کی کشش کرتا ہے۔ اگر معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو آصف کی اتنی تنخواہ نہیں ہوگی جتنا پیسہ انتظامیہ نے اس کیس میں وکیلوں پر لگایا ہوگا۔ لیکن معاملات صرف معاشیات کے نہیں بلکہ نفسیات کے ہیں۔ اگر ایک ورکر بھی ایسا آجائے جو نہ جھکتا ہے اور نہ ہی بکتا ہے تو پھر دیگر ورکر بھی اس کو دیکھ کر اپنے آپ کو مکمل انسان سمجھنا شروع کردیں گے۔ اور جو نظام لوگوں کی انسانیت کی نفی پر قائم ہو، وہ ایسے شخص کو جس کے لئے عزت نفس اپنے وجود سے زیادہ عزیز ہو، نشان عبرت بنانے کے لئے ہر حد تک جاسکتا ہے۔

کیونکہ نیسلے ایک ملٹی نیشنل کمپنی ہے، میں تھوڑی بات عالمی سرمایہ کاری پر بھی کرنا چاہتا ہوں۔ تیسری دنیا کی ایک تاریخی بدقسمتی یہ ہے کہ کالونیل سسٹم کی لوٹ مار کی وجہ سے یہاں پر پیداواری نظام اتنا کمزور ہے کہ ٹکنالوجی سے لے کر بنیادی اشیا تک ہمیں بیرونی ملکوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہوتا ہے کہ عالمی سرمائے سے کن شرائط پر سمجھوتے ہوں تاکہ اس سرمایہ کاری سے ورکروں اور ملک کو فائدہ ہوسکے۔ پروفیسر Utsa Patnaik لکھتی ہیں کہ عالمی سرمائے کی ہمیشہ دو کوششیں ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ جس ملک میں سرمایہ کاری کریں، وہاں پر لیبر اور ماحولیات کے قوانین بہت کمزور ہوں تاکہ ملک کے وسائل اور اس کے عوام کی محنت کو پوری طرح نچوڑا جاسکے۔ دوسرا یہ کہ وہاں پر لوکل انڈسٹری کمزور رہے تاکہ اس ملک کے قدرتی وسائل پر ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی اجارہ داری قائم رکھیں اور ان کو لوکل انڈنٹری سے مقابلہ نہ کرنا پڑے۔ معیشت دان Jason Hickel کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیوں کی لوٹ مار اتنی زیادہ ہے کہ ہر ایک ڈالر کی سرمایہ کاری کے بدلے وہ تیسری دنیا کے ممالک سے اوسطا 24 ڈالر منافع کماتے ہیں۔

اس نظام کو برقرار رکھنے کا ایک پہلو یہ ہے کہ کسی بھی ملک میں اگر مزدور دوست یا ترقی پسند حکومت برسراقتدار آتی ہے تو عالمی سامراج ملٹی نیشنل کمپنیوں کے "حقوق" کے دفاع کے لئے ان حکومتوں کے تختے الٹانے میں مصروف ہوجاتا ہے۔ اس کی ایک مشہور مثال لاطینی امریکہ کے ملک Guatemala کی ہے جس کو United Fruit Company نے وہاں پر کیلوں (bananas) کی پیداوار پر اجارہ داری قائم کی تھی۔ 1953 میں وہاں ایک ترقی پسند رہنما، Jacob Arbenz, نے جب الیکشن جیتنے کے بعد کمپنی پر لیبر اور دیگر قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ان سے زمین کی ملکیت چھین لی، تو کمپنی نے سی آئی اے کے ساتھ مل کر Arbenz کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور Guatemala کو ایک بار پھر کمپنی، امریکہ اور فوج کے زیر تسلط دے دیا۔ Banana Republic کی اصطلاح اسی تاریخ سے منسوب ہے۔

کچھ بات نیسلے کے بارے میں بھی کرنا ضروری یے جو دنیا بھر میں انسانی حقوق کے اعتبار سے ایک بدنام کمپنی ہے۔ مثال کے طور پر اپنی چاکلیٹ، جس کو Kit Kat کے نام سے جانا جاتا ہے، کو بنانے کے لئے cocoa کی کاشتکاری مغربی افریقہ، اور خصوصی طور پر Ivory Coast میں کی جاتی ہے۔ چند سال پہلے یہ پتہ چلا کہ وہاں پر 12 سے 15 سال کے بچوں سے 10 12 گھنٹے کام کروایا جاتا ہے جو کہ چائلڈ لیبر اور غلامی کے زمرے میں آتا ہے جبکہ ان کو اس کا معاوضہ دن کے ایک ڈالر سے بھی کم ملتا ہے۔ اسی طرح کولمبیا میں تین ورکروں نے جب نیسلے کے خلاف یونین بنائی تو ان تینوں کو قتل کردیا گیا۔ اس کے ساتھ کولمبیا میں نیسلے نے اپنے دفاتر اور زمینوں کو ان paramilitary قوتوں کے حوالے کیا جو لاطینی امریکہ کے خطے میں کمپنی مالکان کے لئے مزدور یونینز کو کچلنے کا کام کرتی ہیں۔

لیکن اس سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ پانی جیسی ایک قدرتی نعمت، جو صدیوں سے لوگوں کے لئے مفت دستیاب تھی، کو تیسری دنیا میں ایک بے پناہ منافع کا ذریعہ بنادیا ہے۔ ایک طرف سے کمپنیاں منافع کے حصول کے لئے ماحولیات کو تباہ کرتی ہیں اور دوسری جانب "صاف پانی" اور "صاف ہوا" پر اجارہ داری قائم کرکے اسی ملک میں بیچتی ہیں۔ جو محنت کش مہنگا پانی نہیں خرید سکتے، ان کے حصے میں بیماریاں اور موت لکھی جاتی ہے۔ اسی لئے پروفیسر علی قادری لکھتے ہیں کہ سرمایہ اپنا منافع غریب عوام اور اقوام کی زندگیاں کم کرکے بڑھا لیتا ہے۔

نیسلے کے خلاف دنیا بھر میں لیبر اور ماحولیات کے حوالے کیس ہوئے ہیں لیکن واشنگٹن میں اس کی لابی بہت مظبوط ہے۔ پاکستان میں اسے سید بابر علی نے متعارف کروایا جو ہمیشہ سے طاقت کے مراکز کے قریب رہے ہیں۔ نیسلے کیخلاف پاکستان میں بھی کئی کیس ہوئے جن میں سب سے بڑا کیس ہمارے ماحولیات اور قدرتی پانی کے وسائل کو تباہ کرنے کا تھا جس میں سپریم کورٹ تک نے ان پر کچھ پابندیاں بھی لگائیں لیکن حال ہی میں ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ نیسلے اس فیصلے کو نظر انداز کرکے اب بھی بے انتہا پانی زمین سے کھینچ رہا ہے جس سے ہمارے آنے والی نسلوں کے لئے پانی کی قلت ناگزیر ہوتی جارہی ہے۔

سزا دینا تو دور کی بات، کسی اخبار میں نیسلے کے خلاف کچھ چھاپنا بھی ناممکن ہے۔ میں خود بہت عرصہ انگریزی اخباروں میں لکھتا رہا ہوں جہاں پر حکومت، حتی کے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بھی مضمون چھاپ دئے جاتے ہیں لیکن کمپنیوں کے خلاف کچھ بھی چھاپنا ناممکن ہے۔ ان حالات میں یہ تعجب کی بات ہرگز نہیں کہ آصف جاوید ایک دن ناامید ہوگیا۔ بلکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ نوجوان خانیوال میں بیٹھا اس ملٹی نیشنل کمپنی، جس کے پیچھے مقامی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ موجود تھی، اکیلا کس طرح نو سال تک اپنے حقوق کے لئے ڈٹا رہا ہے۔ وہ باہمت تھا لیکن جس نظام سے وہ لڑرہا تھا وہ بے انتہا مظبوط تھا جبکہ اس کے ساتھی، یعنی مزدور تحریک، ابھی بہت کمزور تھی۔

اس طرح کی جدوجہد کو دیکھ کر میرے دل میں بابا لطیف انصاری، مولانا شہباز، آل پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کی جنرل سیکرٹری روبینہ جمیل صاحبہ اور مزدور کسان پارٹی کے عرفان کامریڈ، اور خلق یوتھ فرنٹ کے نوجوان وکیل حسن منور کے لئے عزت بہت بڑھ جاتی ہے کیونکہ وہ صرف انقلابی لفاظی نہیں کرتے بلکہ روز مرہ کی بنیاد پر لیبر ڈیپارٹمنٹ میں مزدوروں کو ریلیف دلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حال ہی میں چونگی امرسدھو میں ہم نے ایک دفتر کا بھی افتتاح کیا ہے جس کا مقصد محنت کشوں کو مفت قانونی مدد فراہم کرنا ہے تاکہ ان کو انصاف کے حصول کے لئے رسوا نہ ہونا پڑے۔ اس جدوجہد کا مقصد صرف معاشی انصاف لینا نہیں بلکہ پاکستان میں محنت کشوں کی ایک متبادل قوت کو تشکیل کرنا ہے تاکہ اپنے وسائل کو ملٹی نیشنل کمپنیوں او4 مقامی اسٹیبلشمنٹ کی لوٹ مار کا ذریعہ بنانے کے جائے محنت کشوں کی ترقی کا ذریعہ بنائیں۔ آصف جاوید جٹ ہم سب پر یہ قرض چھوڑ گیا ہے۔

جن کو اب بھی اس سسٹم سے امید ہے کہ یہ عوامی جدوجہد کے بغیر ٹھیک ہوجائے گا تو وہ نوٹ کرلیں کہ کونسی سیاسی پارٹی نے اس ایشو پر تحریک چلانے کی بات کی ہے؟ واحد ایکشن جج صاحبان کی طرف سی لی گئی ہے جنہوں نے آگ میں جھلکتے انصاف کے اس طالب کے مرنے کے بعد کہا ہے کہ ہائکورٹ کی سکیورٹی بڑھا دی جائے تاکہ کورٹ کے قریب ایسے واقعات دوبارا رونما نہ ہوں۔ آگے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس رویے کو شائستہ زبان میں بیان کرنا ناممکن ہے۔

مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن کے حوالے سے حکومت پنجاب کا بڑا فیصلہمحکمہ داخلہ پنجاب نے پرانے مینوئل اسلحہ لائسنس ...
28/02/2025

مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن کے حوالے سے حکومت پنجاب کا بڑا فیصلہ
محکمہ داخلہ پنجاب نے پرانے مینوئل اسلحہ لائسنس کی توثیق اور کمپیوٹرائزیشن کا عمل دوبارہ شروع کر دیا۔ کتابچے والے مینوئل لائسنس کے حامل افراد اپنے متعلقہ ڈویژن کے کمشنر یا ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل، محکمہ داخلہ کو توثیق اور کمپیوٹرائزیشن کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔ قبل ازیں دسمبر 2020 تک کمپیوٹرائزڈ نہ ہونے والے مینوئل اسلحہ لائسنس منسوخ کر دیے گئے تھے تاہم محکمہ داخلہ نے ایسے شہریوں کو لائیسنس کی کمپیوٹرائزیشن کیلئے آخری موقع فراہم کیا ہے۔ تمام امیدواروں کو پنجاب آرمز رولز 2023 میں مقرر کردہ لائسنس کی تجدیدی فیس ادا کرنا ہوگی

پولیس کیخلاف عوام کو شکایات کیلیے مندرجہ ذیل دادرسی کے فورم حاصل ہیں۔۔۔۔لاہور ہائی کورٹ کا ایک خوبصورت فیصلہRemedies Aga...
26/02/2025

پولیس کیخلاف عوام کو شکایات کیلیے مندرجہ ذیل دادرسی کے فورم حاصل ہیں۔۔۔۔لاہور ہائی کورٹ کا ایک خوبصورت فیصلہ
Remedies Against Police.

A Must-Read Judgment for Every Lawyer especially Criminal Lawyers:

2024 MLD 951
[Lahore]
Before Muhammad Amjad Rafiq, J
HAFEEZ ULLAH SHAHID----Petitioner
Versus
ASJ/JOP and others----Respondents

Key Takeaways;

1 Remedies Against Defective Investigation

✓ Sections 166(2) & 186(2) PPC

(Non-Cognizable Offences)

The aggrieved person will first approach the Justice of the Peace (JoP).

The JoP can;

• Issue directions to proceed under Section 155 CrPC.

• Forward the case to the Anti-Corruption Establishment under Section 166 PPC (a scheduled offence).

• Aggrieved to file a Private Complaint.

2 Remedies Against Contempt of Court

Two procedures are available under CrPC for offences under Sections 175, 178, 179, 180, and 228 PPC:

Section 480 CrPC:

The court can take the accused into custody until the rising of the court.

A fine may also be imposed.

Section 482 CrPC:

If the court wishes to proceed further, it must forward the case to a magistrate, who will conduct proceedings as per the law.

Key Note:

Prosecution for these offences requires compliance with Section 195 CrPC (complaint by court or public servant).

Section 228 PPC offences may also be prosecuted under Section 476 CrPC.

3 Remedies Under Police Order, 2002

▲ Misconduct by Police Officers (Article 155)

• Cognizable Offence (Punishment: 3 years imprisonment).

• JoP can order FIR registration, but DIG Police sanction is required for prosecution.

Vexatious Actions (Article 156)

• Covers illegal search, arrest, torture, etc.

• Cognizable Offence (Punishment: 5 years imprisonment).

• JoP can order FIR without an authorized officer's report.

Delay in Producing Arrestees (Article 157)

• Non-Cognizable Offence (Punishment: 1 year imprisonment).

• JoP transfers the case to a magistrate under Section 155 CrPC.

• if cognizable offences arise, they may be investig

زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصلاحات کیا ہیں؟ جانیے اس تحریر میں۔1- موضع :یہ ایک بڑا یونٹ ہوتا ہ...
09/02/2025

زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصلاحات کیا ہیں؟ جانیے اس تحریر میں۔

1- موضع :
یہ ایک بڑا یونٹ ہوتا ہے جو عموماَ ایک بڑے گاؤں یا ایک سے زیادہ چھوٹے گاؤں کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ موضع کا نام اس گاؤں یا ایریا کے نام پر ہی درج ہوتا ہے ۔
2- کھیوٹ نمبر:
جب موضع بن جاتا ہے تو اس میں بہت سارے لوگوں اور خاندانوں کی زمین شامل ہوتی ہے اس کی تقسیم مزید آسان بنانے کے لیے کھیوٹ نمبر دے دیے جاتے ہیں، مثلا یہ ایک سو ایکڑ ایک خاندان کے پاس ہے اسے ایک نمبر دے دیا کہ فلاں موضع کا یہ کھیوٹ نمبر ہے جو فلاں خاندان کے ان ان حصہ داروں کے پاس ہے۔ یا مختلف خاندانوں یا لوگوں کی زمین کو ملا کر بھی ایک کھیوٹ بنایا جاتا ہے۔ اس کا نمبر تبدیل ہو سکتا ہے جب کوئی زمین فروخت کرتا ہے یا ایسی کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو آپ کے کھیوٹ کا نمبر بدل جاتا ہے۔
3- کھتونی نمبر:
موضع بھی بن گیا، اس میں کھیوٹ نمبر بھی لگ گئے اب کھیوٹ میں بہت سارے مالکان ہیں کسی کے پاس پانچ ایکڑ ہے کسی کے پاس دس اور کسی کے پاس دو ایکڑ تو ان کو کیسے پہچانے گے کہ اس کھیوٹ میں کونسے بندے کی کتنی زمین ہے تو اس کے لیے ہر حصہ دار کو ایک کھتونی نمبر لگا دیا جاتا ہے۔ مثلا کھیوٹ نمبر 1 میں دس ایکڑ زمین ہے اور دو مالک ہیں پانچ پانچ ایکڑ کے تو ان دونوں کو الگ الگ نمبر دے دیا جائے گا پانچ پانچ ایکڑ کا جسے کھتونی نمبر کہتے ہیں۔ یہ نمبر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے جب کوئی اپنے حصے سے فروخت کر دے کسی کو یا ایسی کوئی دوسری تبدیلی ہو۔
4- خسرہ نمبر:
اب ایک کھتونی میں جو پانچ ایکڑ تھے (جو ہم نے مثال میں لیے پانچ ایکڑ، حقیقت میں ان کی تعداد جو بھی ہو گی) ہر ایکڑ کو ایک خاص نمبر دیا جاتا ہے جو خسرہ نمبر کہلا تا ہے۔ یہ نمبر کبھی تبدیل نہیں ہوتا چاہے کوئی فروخت کرے مگر کھیت کا خسرہ نمبر ایک ہی رہے گا۔ اور اس میں کھیت کی چاروں طرف سے پیمائش بھی لکھی ہوتی ہے کہ اس خسرہ نمبر کا جو کھیت ہے اس کی لمبائی چوڑائی وغیرہ کیا ہے۔
5- مساوی: (شجرہ)
یہ موضع کا نقشہ ہوتا ہے، کہاں کس کا کھیت ہے کہاں راستہ ہے کہاں کیا ہے سب اس میں ہوتا ہے۔ پٹواری کے پاس یہ نقشہ ایک کپڑے پر بنا ہوتا ہے جسے لٹھا بھی کہا جاتا ہے۔
6- جمعبندی:
اس میں ایک موضع کے کسی کھیوٹ کی کسی کھتونی کے کس خسرہ میں کتنے مالک ہیں سب کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی درج ہوتا ہے کہ مالک کون ہے اور زمین کاشت کون کر رہا ہے ٹھیکہ پر یا کیسے۔ زمین کی فرد بھی اسی رجسٹر کی تفصیل کی بنیاد پر جاری ہوتی ہے۔
7- گردوری:
آپ جس رقبہ کے مالک ہیں یا مزارع ہیں اس رقبہ میں کیا کاشت ہوتا ہے یا کیا کاشت کیا ہوا ہے اس کی تفصیل بھی پٹواری درج کرتا ہے اسے گردوری کہتے ہیں۔
اہم نوٹ: زمین خریدتے وقت ہمیشہ خسرہ نمبر کی فرد کی بنیاد پر زمین خریدیں۔ مثلا فرض کریں ایک بندہ دو ایکڑ کا مالک ہے اس کا کھیوٹ نمبر 1 اور اس کے دو ایکڑ کھیوٹ نمبر 1 کی الگ الگ کھتونی نمبر 5 خسرہ نمبر 50 اوردوسرا ایکڑ کھتونی نمبر 10 میں خسرہ نمبر 100 ہیں۔ آپ اس سے ایک ایکڑ خریدنا چاہتے ہیں اور وہ آپ جو پسند کرتے ہیں اس کا خسرہ نمبر 50 ہے مگر اسے فرد اس 50 نمبر خسرہ کی نہیں بلکہ پوری رقبے کی کھیوٹ سے ملتی ہے جس میں وہ آپ کے نام ایک ایکڑ کروا دیتا ہے تو اب قانوناَ آپ اس کے دونوں ایک میں خسرہ نمبر 50 اور خسرہ نمبر 100 میں آدھے آدھے ایکڑ کے مالک بن جائیں گے اور اگر خسرہ نمبر 50فرد ہی آپ کو دے گا تو اس کی بنیاد پر وہی ایکڑ پورا آپ کے نام لگے گا۔ بیشک وہ آپ کو آپ کا پسند کیا ہوا خسرہ نمبر 50 ہی کاشت کے لیے دے رہا ہو مگر مستقبل میں آپ کے بچوں میں جھگڑا ہو سکتا ہے کہ آپ کے یا اس کے بچے کہیں آپ کا آدھا ایکڑ یہاں بول رہا ہے یہاں جاؤ ہمارا وہاں ہے ہم وہاں جائیں گے وغیرہ۔ یہ تو دو ایکڑ کی مثال تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی زیادہ ایکڑ کے مالک سے زمین خرید لیں تو بعد میں وہ کہتا ہے کہ میں نے یہ ایکڑ نہیں بلکہ کوئی دوسرا دیا تھا لہذا اسے کاشت کرو جا کر وہ چاہے بنجر ہو۔ اس لیے زمین لینے سے پہلے تسلی کر لیا کریں۔
#قراةالعین زینب ایڈووکیٹ

اب جھوٹی درخواستیں دے کر عام آدمی کی زندگی اجیرن بنانے والے   ٹاوٹ ہو جائیں تیار اب عادی درخواست بازوں کا ریکارڈ دیک کر ...
08/02/2025

اب جھوٹی درخواستیں دے کر عام آدمی کی زندگی اجیرن بنانے والے ٹاوٹ ہو جائیں تیار اب عادی درخواست بازوں کا ریکارڈ دیک کر بروقت کارروائی ہوگی مقدمہ بھی درج ہوگا
پنجاب میں اینٹی ریپ ایکٹ کا پہلا مقدمہ مظفرگڑھ میں خاتون کے خلاف درج کرلیا گیا
خاتون نے تھانہ سول لائن میں دو افراد کے خلاف زیادتی کا مقدمہ درج کروایا پھر عدالت میں بیان بھی ریکارڈ کروایا بعد ازاں بیان دیا کہ اس نے مقدمہ غلط فہمی کی بنیاد پر درج کروایا تھا جس پر اب خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔
یعنی اب ان خواتین اور مردوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی جو عادی مقدمہ باز ہیں یا روپوں کی لالچ میں بیگناہ افراد کو پھنسا کر پہلے مقدمات درج کرواتی ہیں اور پھر صلح کرتی ہیں

وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے ایک عدد نیا قانون متعارف کروایا ہے وہ یہ کہ موٹر سائیکل سوار 60 کی سپیڈ س...
05/02/2025

وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے ایک عدد نیا قانون متعارف کروایا ہے وہ یہ کہ موٹر سائیکل سوار 60 کی سپیڈ سے اوپر نہیں چلائے گا
دیکھئیے اس تناظر میں عرض کردوں قانون تو ٹھیک ہے مگر کیسے پتہ چلے گا کہ پولیس نے مقدمہ صحیع دائر کیا یا کسی اور وجہ سے درج کیا ہے ظاہری بات ہے اس محکمہ میں سارے لوگ اچھے بھی نہیں ہیں البتہ بہت سے ایماندار آفیسرز بھی دیکھنے کو ملتے ہیں اس لئے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتی۔ اس حوالے شہریوں کے علم میں چند باتیں لانا چاہوں گا ۔

اگر موٹر سائیکل تیز رفتار نہیں تھی اور پولیس نے بہانے سے دفعہ 279 PPC کے تحت مقدمہ درج کر دیا ہے جیسا کہ آج فیصل آباد میں پہلا پرچہ درج ہوا ہے ، تو آپ درج ذیل طریقوں سے ثابت کر سکتے ہیں کہ پرچہ جھوٹا ہے
اگر کسی بھی جگہ حادثہ نہیں ہوا، تو پولیس کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ واقعی تیز رفتاری سے گاڑی یا موٹر سائیکل چلا رہے تھے۔پولیس کے FIR میں دیے گئے بیان اور اصل حالات کا موازنہ کریں۔

اگر FIR میں لکھا گیا ہے کہ آپ تیز رفتار سے جا رہے تھے لیکن کسی ٹریفک سگنل یا رش کے دوران آپ کی رفتار عام تھی، تو یہ پولیس کے جھوٹ کو بے نقاب کر سکتا ہے اگر علاقے میں CCTV موجود ہیں تو ان کی ریکارڈنگ حاصل کریں۔
عدالت میں درخواست دی جا سکتی ہے کہ متعلقہ ٹریفک کنٹرول اتھارٹی سے رفتار کا ریکارڈ طلب کیا جائے۔
اگر پولیس نے رشوت کے لیے مقدمہ درج کیا ہے ، تو آپ پولیس کے اعلیٰ افسران کو شکایت کر سکتے ہیں۔
اگر پولیس کی بدنیتی ثابت ہو جائے تو مقدمہ 249-A CrPC کے تحت خارج کرایا جا سکتا ۔۔

اگر کوئی حادثہ نہیں ہوا اور آپ کی رفتار معمول کے مطابق تھی، تو پولیس کو عدالت میں ثابت کرنا ہوگا کہ آپ واقعی تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہے تھے۔ اگر پولیس کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے، تو عدالت مقدمہ خارج کر سکتی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج، گواہان، اور پولیس کے جھوٹے بیان میں تضادات آپ کے دفاع میں بہترین شواہد ہوں گے۔۔

سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:1- ملکی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ فرد واحد اپنی...
12/09/2024

سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:

1-

ملکی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ فرد واحد اپنی طاقت بچانے کے لیے پورے ملک کو داؤ پر لگا دے۔ یحیی خان نے بھی اپنی طاقت بچانے کے لئے عوامی لیگ اور شیخ مجیب الرحمن کو دھوکہ دیا تھا۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ایک شخص نے اپنی طاقت اور اقتدار کی طوالت کے لیے ملک کو دولخت کر دیا۔ اس ایک شخص کی غلط پالیسی کی وجہ سے اس وقت ہمارے 90,000 فوجیوں کو قیدی بنا لیا گیا تھا۔ بھٹو نے 50,000 بے گناہ جانوں کے ضیاع کا خود اعتراف کیا تھا حالانکہ اصل گنتی اس سے کہیں ذیادہ تھی۔ ملک کی معیشت کو اس وقت اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا ۔ آج تک ہم اس نقصان کا ازالہ نہیں کر پائے۔آج بھی وہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ آج پھر ایک شخص اپنی طاقت کو بڑھانے اور اقتدار کو طول دینے کے لیے نظام کی جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے اور نظام کو تباہ کر رہا ہے۔

اس ملک کا مٹھی بھر اشرافیہ ملک کے تمام نظام وسائل، اقتدار اور طاقت پر قابض ہے۔ اس قبضہ گروپ کا جب دل چاہتا ہے آئین کی دھجیاں بکھیر دیتا ہے، ججوں کو دھمکیاں دیتا ہے، جمہوریت کی عکاس پارلیمنٹ کے تقدس پر حملہ آور ہو جاتا ہے، عوامی نمائندگان کو اغواء کر لیتا ہے، ہمارے ایم این ایز کے گھر کی خواتین کو اٹھا لیتا ہے۔ اخلاقیات سے عاری یہ مافیا خود کو آئین اور قانون سے بالاتر گردانتا ہے۔ اسی چھوٹے سے طبقے ، اس اشرافیہ نے اس ملک کو غلام بنا کر رکھا ہوا ہے۔آج بھی اپنی ذات کے لئے یہی سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ واحد ادارہ بچا ہوا ہے اب اس پر بھی حملہ آورہو رہے ہیں۔

۲-
ملک میں ظلم و بربریت کا نظام نافذ ہے۔ ترقی اور عہدوں سے نوازنے کا پیمانہ عدلیہ میں تحریک انصاف کے خلاف فیصلے اور حکومت میں فسطائیت ہے۔ اس بات کی تین واضح مثالیں قاضی عیسی فائز، محسن نقوی اور ہمایوں دلاور ہیں-

قاضی فائز عیسی نے ہمارے اوپر مظالم کرنے والوں کو تحفظ دیا ۔ ہم سے ہمارا انتخابی نشان چھینا۔ انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ہماری درخواستیں نہیں سنیں۔ الیکشن میں دھاندلی پر سابق کمشنر راولپنڈی نے چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن کو ذمہ دار قرار دیا تھا ۔اب اسی چیف جسٹس کو دوبارہ مسلط کرنے کے لیے فارم ۴۷ حکومت اور اس کے ہینڈلرز ہر ممکن ہتھکنڈہ اپنا رہے ہیں۔ میرے پاکستانیوں آج اگر آپ قاضی فائز عیسی کی ایکسٹینشن کے خلاف نہ نکلے تو ہمیشہ غلام رہیں گے۔

محسن نقوی نے سب سے زیادہ ظلم ہم پر کیا ہے۔ ظل شاہ کو پولیس نے تشدد کرکے قتل کیا،لاش سڑک پر پھینکی اور ایف آئی آر بھی میرے ہی خلاف کاٹی ۔ہم پر ظلم کرنے کے عوض محسن نقوی کو وزیر داخلہ اور پی سی بی کا چیئرمین بنایا گیا۔

ہمایوں دلاور کی وجہ سے میں اور بشری بی بی آج غیر قانونی طور پر پابند سلاسل ہیں۔اس کے عوض ہمایوں دلاورکو اربوں مالیت کی زمین تحفے میں دے دی گئی ۔خیبر پختونخواہ اینٹی کرپشن کے پاس اسکے سارے ثبوت موجود ہیں ۔ اب ایف آئی اے نے خیبر پختونخواہ اینٹی کرپشن پر کیس کر دیا ہے۔

۳-
نواز شریف کو انھوں نے دبکا لگا کر روکا ہوا ہے،نہیں تو کب کا باہر بھاگ گیا ہوتا۔ مجھے یہ نہ بتائیں کہ کس کس کے پیسے اور جائیدادیں باہر ہیں ، مجھے یہ بتائیں کہ آج اس ملک کے جو ارباب اختیار ہیں ، جو اس نظام کے لاڈلے ہیں ان میں سے کس کے پیسے اور جائیدادیں ملک میں ہیں۔ سعد اللہ بلوچ کی بیوی اور بیٹی کو اٹھا لیا گیا ہے۔ انکو شرم نہیں آتی یہ اسمبلیوں میں گھس گئے اور پارلیمینٹرینز کو پکڑ لیا ۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا،کسی نے پہلے کبھی پارلیمنٹ سے کسی کو گرفتار نہیں کیا۔

۴-
پوری قوم کو کہتا ہوں آزادی بچانے کےلئے سٹریٹ مومنٹ کے لیے نکلنا ہوگا ۔ ہماری تحریک جمہوریت کے لئے جہاد ہے۔عدلیہ سے کہتا ہوں قانون کی حکمرانی کے لئے کھڑے ہوں ۔ قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری نہیں آ رہی۔ پوری پارٹی تیار رہے سڑکوں پر آنے کا اعلان جلد کریں گے۔ یاد رکھیں حقیقی آزادی کے لئے قربانی دینا پڑتی ہے۔ میں اور میری بیوی جیل میں ہیں اور جیل میں رہنا ہمارے لئے عبادت ہے۔ اگر آپ کو بھی جیلیں بھرنی پڑتی ہیں تو اس سے دریغ نہ کریں۔ اگر آپ قربانی نہیں دیں گے تو آپ اور آپ کی آنے والی نسلیں غلام رہیں گی۔

سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ پارٹی کو ہدایت کر رہے ہیں کہ اب اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بات نہیں کرے گا۔ اسٹیبلشمنٹ...
10/09/2024

سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ پارٹی کو ہدایت کر رہے ہیں کہ اب اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بات نہیں کرے گا۔ اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔ اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ آٹھ ستمبر کے جلسے کی تاریخ اسٹیبلشمنٹ نے دی تھی۔ لیکن جلسے میں بھی ہمیں دھوکہ دیا گیا۔ وائس آف امریکہ کے نمائندے عاصم علی رانا کو جیل میں موجود دو ذرائع نے عمران خان کی گفتگو کی تصدیق کی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ یحییٰ خان نے عوامی لیگ اور مجیب الرحمٰن کو اسی طرح دھوکہ دیا تھا۔ مجیب الرحمٰن سے بھی ایک جانب بات کی جا رہی تھی تو دوسری جانب ان کے خلاف آپریشن کا پلان بن رہا تھا۔ ہمارے ساتھ بھی نو مئی کو یہی کیا گیا۔

سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے کسی نے بات نہیں کرنی یہ دھوکے باز ہیں۔ اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ اس کا مطلب آپ اسٹیبلشمنٹ سے بات کر رہے تھے؟ آپ کی جانب سے اسٹیبشلمنٹ سے کون بات کر رہا تھا؟ عمران خان نے کہا میں نے بات چیت کی اجازت دے رکھی تھی۔ اعظم سواتی انہیں کا پیغام لے کر آئے تھے۔ ہمارے پانچ، چھ لوگ ان سے بات چیت کر رہے تھے۔ یہ بات چیت کے نام پر دھوکہ دے رہے ہیں۔ پہلے کبھی بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے۔ آج سے مذاکرات کے دروازے بند کر رہا ہوں۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ 21 ستمبر کو لاہور میں ہر صورت جلسہ کریں گے۔ چاہیں اجازت دیتے ہیں یا نہیں جلسہ کریں گے۔ قوم پُر امن احتجاج کی تیاری کرے۔ کوئی جیل بھرنے سے نہ گھبرائے، جیل کا خوف دل سے نکال دیں۔ 14 ماہ سے وہ بھی جیل میں ہیں۔ قوم نے قربانی نہ دی تو کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو لانے کے لیے پیکج لایا جا رہا ہے۔ یہ جانتے ہیں کہ قاضی فائز عیسیٰ گئے تو الیکشن دھاندلی کھل جائے گی۔

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ علی امین گنڈا پور کو کل رات اسٹیبلشمنٹ نے اٹھایا ہے۔ ایک صوبے کے وزیرِاعلیٰ کو اٹھا کر آپ نفرتیں بڑھا رہے ہیں۔ اس پر صحافی نے سوال کیا کہ علی امین گنڈا پور کے بیانات سے بغاوت کا تاثر جاتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہم نے کون سی بغاوت کی ہے۔ گنڈا پور نے قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ علی امین کے بیان پر معافی مانگنے والے بزدل اور ڈرپوک ہیں۔ انہیں پارٹی میں نہیں ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے ریاستی ادارے اور حکومت عمران خان کے ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو رد کرتا رہا ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو ۱۔ فوج سب کی ہے پوری قوم کی ہے، صرف ایک سیاسی جماعت یا صرف آر...
05/09/2024

سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو
۱۔
فوج سب کی ہے پوری قوم کی ہے، صرف ایک سیاسی جماعت یا صرف آرمی چیف کی نہیں۔ انہوں نے انتخابات میں اتنا بڑا ڈاکہ مارا ہے اور اب آزاد عدلیہ کو بھی چلنے نہیں دے رہے۔انہوں نے پولیس ، نیب اور ایف آئی سمیت تمام ادارے تباہ کر دئیے ہیں ۔ اب ایک سپریم کورٹ بچی ہے جس سے عوام کو امید ہے ۔ پولیس اور نیب کے ادارے کو ہمارے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے ۔ راولپنڈی کمشنر اس سب کا گواہ ہے کہ پنڈی ڈویژن میں انتخابات اس نے کروائے ہیں ۔ راولپنڈی کمشنر نے چیف جسٹس اور الیکشن کمشن کے خلاف سچ باتیں کیں تو اس کو غائب کر دیا گیا ۔۔ چیف جسٹس اگر بے گناہ ہوتا تو لازمی راولپنڈی کمشنر کو اپنی عدالت میں بلاتا۔ اب میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر انہوں نے عدلیہ کو تباہ کرنے کی کوشش کی تو میں سڑکوں پر احتجاج کی کال دوں گا-
مخالف ٹیم کو میدان میں نہیں اترنے دیا گیا پھر بھی یہ بری طرح ہار گئے۔ جن کو بیس سیٹیں نہیں ملیں انھیں جعلی مینڈیٹ دیکر بٹھا دیا گیا ۔۔جو کام دشمن نہیں کر سکا وہ یہ خود کر کے ادارے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

2
قوموں کو تباہ کرنے کے لیے دشمن کے حملے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔اداروں پر کرپٹ اور نااہل لوگ بٹھا دئیے جائیں تو قوم تباہ ہو جاتی ہے۔محسن نقوی کو وزیر داخلہ اور کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنادیا گیا ۔اسکی تقرری بڑے صاحب نے کی ہے اور اس نے کرکٹ کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ۔پاکستان کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش سے وائٹ واش ہوگئی ہے اس سے بری اور شکست کیا ہوگی۔ایسا کون سا ایٹم بم پھٹا کہ تین سال میں ہماری کرکٹ بنگلہ دیش سے کارکردگی میں نیچے آ گئی اور تباہ ہو گئی۔کرکٹ ایک ٹیکنیکل کھیل ہے اس پر آپ نے سفارشی بٹھا دئیے ہیں ۔ محسن نقوی کی کیا قابلیت ہے؟ رمیز راجہ میرا رشتہ دار نہیں تھا ایک پروفیشنل کرکٹر تھا جس کو میں نے چیئرمین پی سی بی بنایا ۔محسن نقوی نے الیکشن کا فراڈ اور گندم فراڈ کیا اور اس کو وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی بڑے صاحب نے مقرر کر دیا۔دبئی لیکس میں محسن نقوی کی بیوی کے پانچ ملین ڈالر سامنے آئے ، کہاں سے آیا وہ پیسہ؟

3
ڈھائی ماہ سے قاضی فائز عیسیٰ نیب ترامیم کیس کا محفوظ فیصلہ نہیں سنا رہے۔ وہ اس لئےکہ وہ چاہتے ہیں کہ القادر یونیورسٹی بنانے کے مضحکہ خیز کیس میں سزا ہونے کے بعد، نیب ترامیم کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا- حالانکہ میں پہلے ہی کہ چُکا تھا کہ اگرچہ مجھے اس ترمیم سے فائدہ ہوگا لیکن میں قوم کے لیے یہ مقدمہ لڑ رہا ہوں۔ یہ پوری گیم کھیلی جا رہی ہے۔ نواز شریف کے چار ، شہباز شریف کے پانچ ، زرداری اور فرنٹ مینوں کے نو ریفرنسز فریز پڑے ہیں لیکن میرے خلاف جھوٹے ریفرنس پوری رفتار سے چل رہے ہیں-

4
نیب نے القادر یونیورسٹی کے عطیات بند کروا دئیے ہیں ۔القادر یونیورسٹی نمل کے بعد دیہاتی علاقے کی دوسری پرائیویٹ یونیورسٹی ہے۔
القادر یونیورسٹی میں سو فیصد طلبہ مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ القادر یونیورسٹی بند ہو جائے۔ یونیورسٹی بند ہونے کا مجھے نہیں طلبہ کو نقصان ہوگا ۔بر صغیر میں تعلیم میں ہم پہلے ہی سب سے پیچھے رہ گئے ہیں ۔شوکت خانم بھی اگر بند ہوتا ہے تو لوگوں کو 10 گنا مہنگا کینسر علاج کروانا پڑے گا-

5-
میں ایک دن بھی جیل کے ہسپتال میں نہیں رہا ۔نواز شریف ، شہباز شریف اور آصف علی زرداری کو ایئر کنڈیشن کمرے اور اٹیچ باتھ دئیے گئے تھے ۔قیدی میرے لیے کھانا بناتا ہے میں نے کبھی کوئی شکایت نہیں کی ۔ایک ہفتے میں صرف تین لوگوں کو مجھ سے ملنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔نواز شریف جیل میں 40 لوگوں کو ملتا تھا اس کے لیے اوپن ہاؤس ہوتا تھا ۔نواز شریف صحافیوں سے بھی اپنے کمرے میں بیٹھ کر باتیں کرتا تھا ۔میں چھ پارٹی لیڈران کے نام بھیجتا ہوں اور ہفتے میں مجھے تیس منٹ کے لیے اپنی پارٹی کے صرف تین لیڈران سے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے ۔ میرے اتنے ذیادہ کیس ہیں لیکن مجھے صرف چھ وکلا سے ملنے دیا جاتا ہے۔ مجھے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے ، دن کے اکیس گھنٹے اپنے سیل میں ہی گزارتا ہوں ۔

6-
گرمی کی وجہ سے سیل اوون بن جاتا ہے مگر کبھی شکایت نہیں کی اور نہ کبھی کہا کہ میں مشکل میں ہوں ۔ مجھے نہانے کے لیے بھی دوسرے کمرے میں جانا پڑتا ہے۔میری بس ایک شکایت ہے کہ مجھے میرے بچوں سے بات نہیں کرنے دی جاتی جو میرا قانونی حق ہے۔پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا جاتا ہے کہ فایئوسٹار سہولیات دی گئی ہیں ۔ میرے پاس وہی سہولیات ہیں جو سزائے موت کے قیدی کو ملتی ہیں ۔ایسا لگتا ہے اوپر مارشل لا ایڈ منسٹریٹر بیٹھا ہوا ہے ۔ کس قانون کے تحت یہ پابندی لگا رہے ہیں کہ صحافی مجھ سے سوال نہیں پوچھ سکتے؟ میں پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں یہ میرا قانونی اور آئینی حق ہے کہ میں اوپن کورٹ میں صحافیوں اور میڈیا سے بات کر سکوں ۔

7-

پاکستانی معاشرہ میں اسلام کی وجہ سے خواتین کا ایک خاص مقام ، حرمت اور عزت ہے ۔ پچھلے سات ماہ سے میری بیوی کو نا حق قید میں رکھا گیا ہے ۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں انہوں نے کبھی حکومتی امور میں دخل نہیں دیا اور نہ ہی ان کا سیاست سے کوئی تعلق ہے۔ ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ میری بیوی ہیں ۔ اسی طرح پچھلے ڈیڑھ سال سے میری جماعت کی خواتین کے ساتھ جو ناروا سلوک رکھا گیا ہے وہ غیر انسانی اور انتہائی افسوسناک ہے۔

جیل کی بیرک میں بھی اگلا دھاڑ رہا ہے۔ اور شیر کی آزاد فضاؤں میں بھی بکری جتنی آواز بھی نہیں نکل رہی! ثمینہ پاشا
02/09/2024

جیل کی بیرک میں بھی اگلا دھاڑ رہا ہے۔ اور شیر کی آزاد فضاؤں میں بھی بکری جتنی آواز بھی نہیں نکل رہی! ثمینہ پاشا

Address

Office Number 1 Tall Plaza 1st Floor 33/Mozang Road Near Safanwala Chowk
Lahore

Telephone

+923026830425

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jinnah Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Jinnah Law Firm:

Share