Fazal Abbas Chaddhar Official

Fazal Abbas Chaddhar Official AL-FALAH LEGAL CONSULTANT

12/02/2026

کم عمری کی شادی کی ممانعت کا انتہائی سخت قانون 11 فروری 2026 سے پنجاب بھر میں نافذالعمل۔
شادی کیلئے لڑکے اور لڑکی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر۔
خلاف ورزی پر انتہائی سخت سزائیں (لمبے عرصہ کیلئے قید با مشقت اور بھاری جرمانے) مقرر۔
کم عمری کی شادی قابل دست اندازی پولیس اور ناقابل ضمانت جرم قرار۔
صرف سیشن کورٹ کو ہی مقدمہ کی سماعت کا اختیار..!!

28/12/2025

پروبیشن (Probation) فوجداری قانون کا ایک اصلاحی اور فلاحی تصور ہے جس کے تحت عدالت کسی جرم میں ملوث شخص کو سزا سنانے کے باوجود یا سزا معطل کرتے ہوئے فوری طور پر قید میں بھیجنے کے بجائے ایک مقررہ مدت کے لیے مشروط آزادی فراہم کرتی ہے، تاکہ وہ اس عرصہ کے دوران اپنے طرزِ عمل، کردار اور قانون پسندی سے یہ ثابت کر سکے کہ وہ اصلاح کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پروبیشن (Probation) کا بنیادی فلسفہ سزا کے بجائے اصلاح، بازتربیت اور مجرم کی سماجی بحالی ہے، تاکہ وہ دوبارہ جرم کے راستے پر نہ جائے بلکہ ایک مفید شہری کے طور پر معاشرے میں ضم ہو سکے۔

📍تعریف (Legal Definition):
قانونی اصطلاح میں پروبیشن (Probation) سے مراد وہ عدالتی رعایت ہے جو عدالت، جرم اور مجرم کے مجموعی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، مجرم کو اچھے چال چلن (Good Conduct) کی ضمانت پر ایک خاص مدت کے لیے دیتی ہے، جس کے دوران سزا معطل رہتی ہے یا سزا سنائے بغیر رہائی دی جاتی ہے۔ پاکستان میں اس اصول کی باقاعدہ قانونی بنیاد Offenders Probation of Good Conduct Ordinance, 1960 میں موجود ہے، جو عدالت کو یہ اختیار فراہم کرتا ہے کہ وہ مناسب مقدمات میں مجرم کو اصلاح کا موقع دے۔

📍دائرۂ اطلاق (Scope & Applicability):
پروبیشن (Probation) کا اطلاق عموماً ایسے مقدمات میں کیا جاتا ہے جہاں ملزم پہلی بار جرم کا مرتکب ہوا ہو، جرم کی نوعیت غیر سنگین ہو، ملزم کی عمر کم ہو یا اس کا سابقہ کردار قابلِ اطمینان ہو۔ اس کے علاوہ ایسے حالات میں بھی پروبیشن دی جا سکتی ہے جہاں جرم کے نتائج سماجی طور پر شدید نہ ہوں اور عدالت اس نتیجے پر پہنچے کہ سخت سزا دینے کے بجائے اصلاح زیادہ مؤثر ہوگی۔ تاہم عادی مجرموں، سنگین جرائم، معاشرتی امن کے لیے خطرہ بننے والے افراد اور ایسے مقدمات جہاں قانون صراحتاً پابندی عائد کرتا ہو، وہاں پروبیشن کا اطلاق محدود یا ممنوع ہوتا ہے۔

📍قانونی اصول و نکات (Legal Principles & Points):
یہ مسلمہ اصول ہے کہ پروبیشن ملزم کا قانونی حق نہیں بلکہ عدالت کا صوابدیدی اختیار (Judicial Discretion) ہے۔ عدالت پروبیشن دیتے وقت جرم کی نوعیت، ارتکاب کے حالات، ملزم کے کردار، سابقہ مجرمانہ ریکارڈ، متاثرہ فریق کے مفادات اور مجموعی عوامی مفاد کو مدنظر رکھتی ہے۔ پروبیشن کی مدت کے دوران عدالت مختلف شرائط عائد کر سکتی ہے، مثلاً اچھے اخلاق کا مظاہرہ، کسی خاص علاقے میں رہائش، ضمانت کی فراہمی، جرمانہ یا معاوضہ، اور پروبیشن افسر کی نگرانی میں رہنا۔ ان شرائط کی خلاف ورزی یا دوبارہ جرم کی صورت میں عدالت کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ پروبیشن منسوخ کر کے اصل سزا نافذ کر دے۔

📍قانونی اثرات و اہمیت:
پروبیشن (Probation) کا ایک اہم قانونی فائدہ یہ ہے کہ مجرم کو جیل کے منفی اثرات، مجرمانہ ماحول اور سماجی بدنامی سے بچایا جاتا ہے، جس سے اس کی شخصیت اور مستقبل بہتر رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ نظام عدالتی بوجھ میں کمی، جیلوں میں غیر ضروری ہجوم کے خاتمے اور اصلاحی انصاف (Reformative Justice) کے فروغ میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ تاہم عدالت اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ پروبیشن کا اطلاق انصاف کے بنیادی اصولوں اور متاثرہ فریق کے حقوق سے متصادم نہ ہو۔

📍مثالیں (Examples):
مثلاً اگر کسی نوجوان نے پہلی بار معمولی نوعیت کا جرم کیا ہو اور اس کے سابقہ کردار سے یہ ظاہر ہو کہ وہ اصلاح کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، تو عدالت اسے مخصوص مدت کے لیے پروبیشن پر چھوڑ سکتی ہے۔ اسی طرح کسی ایسے شخص کے خلاف جس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو اور جرم کی نوعیت غیر سنگین ہو، عدالت سزا سنانے کے بجائے اچھے چال چلن کی ضمانت پر رہائی دے سکتی ہے۔ اگر وہ مقررہ مدت کے دوران کسی بھی شرط کی خلاف ورزی نہ کرے تو سزا نافذ نہیں کی جاتی، بصورتِ دیگر عدالت قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی مجاز ہوتی ہے۔

پروبیشن (Probation) فوجداری نظامِ انصاف کا ایک اہم اصلاحی ستون ہے جس کا مقصد محض سزا دینا نہیں بلکہ انسان کی اصلاح، سماجی تحفظ اور انصاف کے تقاضوں میں توازن قائم رکھنا ہے۔ یہ اصول اس نظریے پر مبنی ہے کہ ہر مجرم ناقابلِ اصلاح نہیں ہوتا اور مناسب نگرانی و عدالتی رہنمائی کے ذریعے اسے قانون پسند اور ذمہ دار شہری بنایا جا سکتا ہے۔

27/11/2025

فوٹو یا ویڈیو ثبوت، بغیر فرانزک ہو تو ملزم ضمانت کا مستحق ہوگا۔

2024 SCMR 205

21/10/2025

2025 SCMR 1099

At bail stage, maximum period of sentence prescribed for an offence is to be considered for determining whether the offence falls under the prohibitory clause of section 497(1) Cr.P.C, 1898.

21/10/2025

Ensure the legal foundation of your business by registering with S.E.C.P and F.B.R. We offer expert guidance at affordable rates for income tax returns, sales tax returns, logo and brand registration, and more.

🔒 Register Your Company Or Business:

- SECP: Private Limited, SMC, Foreign Companies
- Chamber Of Commerce
- Sole Proprietorship
- AOP Firm Registration
- NTN Registration

🌐 Additional Services:

- Import Export License
- Chamber of Commerce
- Logo and Trademark Registration
- ST Registration
- NTN Registration
- Become a filer
- PEC Registration & Renewals
- NGO and IT Company Registration

Contact us for a free consultation via Call/WhatsApp: 03338025770/03402254030

24/08/2025

کریم آقا خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا مبارک مہینہ تمام مسلمانوں کو بہت بہت مبارک ہو ۔۔!!

19/08/2025

جب ملزم ایک دفعہ پسٹل یا بندوق کا ٹرائیگر دبا دے تو خواہ گولی دوسرے شخص کو لگے یا نہ لگے یا جسم کے غیر اھم حصہ پر لگے دفعہ 324 ت پ پوری طرح لاگو ھوگا ۔

🔴 2020 SCMR 1486

Once the triggered is pressed and the victim is effectively targeted, “intention or knowledge” as contemplated by the section ibid is manifested; the course of a bullet is not controlled or steered by assailant’s choice nor can he claim any premium for a poor marksmanship.
Sheqab Muhammad Versus The State and others۔

📍IN THE SUPREME COURT OF PAKISTAN
(Appellate Jurisdiction)

PRESENT:
Mr. Justice Mazhar Alam Khan Miankhel
Mr. Justice Qazi Muhammad Amin Ahmed

Criminal Petition Nos.591 of 2020
(Against the order dated 05.06.2020 in Cr.M (BA) 229-M/2020 passed by the Peshawar High Court, Minhora Bench (Dar-ul-Qaza), Swat

Sheqab Muhammad.…Petitioner(s)

Versus

The State and others….Respondent(s)

For the Petitioner(s): Mr. Abdul Latif Afridi, ASC

For the State: Mr. Anis M. Shahzad, ASC
with Samiullah, SHO and Abdul Kamal, I.O.

For the Complainant: In person

Date of hearing: 07.08.2020.

🔴 ORDER

Qazi Muhammad Amin Ahmed, J.- Petitioner is amongst the array of accused, blamed to have murderously assaulted the PWs at 9:10 a.m. on 10.4.2020 within the precincts of Police Station Himmat Khan Shaheen Kalangi, District Malakand, in the backdrop of a dispute over immovable property; fire shot attributed to the petitioner is confirmed by a medico legal certificate.

2. Heard.

3. Arguments that ocular account stands contradicted by medical evidence and in the absence of an independent witness from the public, petitioner’s general participation, resulting into an injury on a non-vital part of the body, particularly in the absence of repeated fire shot, squarely brings his case within the remit of further probe, are not only beside the mark but also cannot be attended without undertaking an in-depth analysis of the prosecution case, an exercise forbidden by law at bail stage. In a daylight affair, two persons sustained firearm injuries besides the one having endured violence through blunt means and as such requires no public support to drive home the charge; their statements supported by medical examinations of even date, cumulatively bring petitioner’s case prima facie within the mischief of section 324 of the Pakistan Penal Code, 1860, hit by statutory prohibition, in view whereof, he cannot be released on bail in the absence of any consideration within the purview of subsection 2 of section 497 of the Code ibid. Similarly, murderous assault as defined in the section ibid draws no anatomical distinction between vital or non-vital parts of human body. Once the triggered is pressed and the victim is effectively targeted, “intention or knowledge” as contemplated by the section ibid is manifested; the course of a bullet is not controlled or steered by assailant’s choice nor can he claim any premium for a poor marksmanship. Exercise of discretion by the High Court being well within the bounds of law calls for no interference. Petition fails. Leave declined. Judge
Judge
Islamabad, the 7th August, 2020

09/07/2025

Ensure the legal foundation of your business by registering with S.E.C.P and F.B.R. We offer expert guidance at affordable rates for income tax returns, sales tax returns, logo and brand registration, and more.

🔒 Register Your Company Or Business:

- SECP: Private Limited, SMC, Foreign Companies
- Chamber Of Commerce
- Sole Proprietorship
- AOP Firm Registration
- NTN Registration

🌐 Additional Services:

- Import Export License
- Chamber of Commerce
- Logo and Trademark Registration
- ST Registration
- NTN Registration
- Become a filer
- PEC Registration & Renewals
- NGO and IT Company Registration

Contact us for a free consultation via Call/WhatsApp: 03402254030

20/06/2025

Filer services available for Multan Lahore Faisalabad Jhang Mandi Bahao UL dinn and other cities of Punjab with reasonable prices.
Contact me at my WhatsApp
03338025770
03402254030

13/05/2025

شاملات دہ کی ملکیت اور سپریم کورٹ کا فیصلہ – 2025 SCMR 174
تعارف
پاکستان میں شاملات دہ کی زمین ہمیشہ سے تنازعات کا شکار رہی ہے، جہاں قابضین اور روایتی مالکان کے درمیان ملکیتی حقوق پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلے "محمد رمضان بنام ممبر (جوڈیشل-II) بورڈ آف ریونیو، پنجاب، لاہور" (2025 SCMR 174) نے اس معاملے کو واضح کر دیا ہے کہ شاملات دہ کی زمین کی تقسیم اور ملکیت کا تعین کس طرح کیا جائے گا۔

شاملات دہ کیا ہے؟
شاملات دہ ایسی زمین ہوتی ہے جو پورے گاؤں کی مشترکہ ملکیت میں آتی ہے اور عام طور پر چراگاہ، قبرستان، پانی کے ذخائر، اور دیگر عوامی استعمال کے لیے مختص کی جاتی ہے۔ اس زمین پر کسی فرد یا خاندان کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی بلکہ یہ دیہہ کی مشترکہ ملکیت تصور کی جاتی ہے، اور اس کا استعمال مقامی روایات، ریونیو قوانین اور حکومتی پالیسیوں کے تحت طے کیا جاتا ہے۔

مقدمہ: 2025 SCMR 174
اس مقدمے میں ادنیٰ مالکان (Appellants) نے دعویٰ کیا کہ وہ شاملات دہ کی زمین پر قابض ہیں اور اس قبضے کی بنیاد پر انہیں اس زمین کا مالک تسلیم کیا جائے۔ دوسری طرف، اعلیٰ مالکان (Respondents) نے موقف اختیار کیا کہ شاملات دہ کی تقسیم گاؤں کے مالکانہ کھاتہ کے تناسب سے ہونی چاہیے اور محض قبضے کی بنیاد پر ملکیت نہیں دی جا سکتی۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے واضح طور پر فیصلہ دیا کہ:
محض قبضہ ملکیت کا حق نہیں دیتا – اگر کوئی شخص صرف شاملات دہ پر قابض ہے لیکن اس کا نام ملکیت کھاتہ میں نہیں، تو وہ شاملات دہ میں کوئی قانونی حق حاصل نہیں کر سکتا۔
ملکیت کا تعین "حساب رسد کھیوٹ" اور ریونیو ریکارڈ سے ہوگا – شاملات دہ کی تقسیم گاؤں کے اصل مالکانہ حقوق کے مطابق کی جائے گی، نہ کہ محض قبضے کی بنیاد پر۔
1960 کے نوٹیفکیشن اور MLR-64 کا اطلاق – شاملات دہ میں صرف ادنیٰ مالک اور اعلیٰ خود ادنیٰ مالک کو حصہ دیا جا سکتا ہے، لیکن جو لوگ ان زمروں میں نہیں آتے، انہیں محض قبضے کی بنیاد پر کوئی حق نہیں مل سکتا۔
اعلیٰ مالکان کا تصور ختم – سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ MLR-64 کے نفاذ کے بعد اعلیٰ مالک کا تصور ختم ہو گیا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی بھی شخص زمین پر قبضہ کر کے خود کو مالک قرار دے سکتا ہے۔
اس فیصلے کے اثرات
یہ فیصلہ شاملات دہ کے حوالے سے ایک اہم نظیر (precedent) بن گیا ہے اور اس کے درج ذیل اثرات مرتب ہوں گے:
غیر قانونی قبضے کی حوصلہ شکنی ہوگی کیونکہ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ قبضے کی بنیاد پر ملکیت کا حق نہیں مل سکتا۔
ریونیو ریکارڈ کی اہمیت میں اضافہ ہوگا، کیونکہ صرف وہی افراد زمین کے حقدار ہوں گے جن کا نام ملکیت کھاتہ میں درج ہوگا۔
حساب رسد کھیوٹ کے مطابق تقسیم ہوگی، جس سے دیہہ کے اصل مالکان کو ان کا قانونی حق ملے گا اور غیر متعلقہ افراد کے دعوے مسترد ہوں گے۔
ریونیو افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ اس فیصلے کو سامنے رکھتے ہوئے شاملات دہ کے معاملات کو نمٹائیں اور 1960 کے نوٹیفکیشن کی روشنی میں فیصلے کریں۔

نتیجہ
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ شاملات دہ کے حوالے سے ایک اہم اصول طے کرتا ہے کہ ملکیت صرف ریونیو ریکارڈ کی بنیاد پر طے ہوگی، نہ کہ محض قبضے کی بنیاد پر۔ یہ فیصلہ نہ صرف زمینوں کے تنازعات کو کم کرے گا بلکہ ناجائز قبضے کے رجحان کو بھی روکنے میں مدد دے گا۔ اس فیصلے کے بعد، ریونیو حکام اور عدالتوں کے لیے شاملات دہ کی زمین کے مسائل کو قانون کے مطابق حل کرنا مزید آسان ہو جائے گا

27/04/2025

2024 SOME 805
(1) Inconsistencies between the injuries mentioned in the FIR and the medico-legal report (2) Special Medical Board found the injuries fabricated (3) It is not the duty of the Court to monitor the investigation (4) The gravity of the allegation does not impede the grant of pre-arrest bail if reasonable grounds are available.

25/04/2025

2025 SCMR 704

In cases under the Control of Narcotic Substances Act, 1997, where conviction primarily rests upon the recovery of contraband and its subsequent chemical analysis, it is a settled principle that the prosecution must establish an unbroken and unimpeachable chain of custody to ensure the credibility and evidentiary value of the recovered substance. This Court has consistently held that failure to prove the safe custody and secure transmission of the contraband from the place of recovery to the forensic laboratory renders the chemical examiner’s report unreliable and incapable of sustaining conviction. The prosecution is thus required to demonstrate that the custody of the recovered substance remained uninterrupted, free from suspicion, and protected from the possibility of tampering, failing which the accused is entitled to the benefit of doubt.

Crl.P.L.A.828/2024
Muhammad Iqbal v. The State thr. P.G. Sindh

Address

3 Fane Road Lahore
Lahore

Telephone

+923338025770

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fazal Abbas Chaddhar Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Fazal Abbas Chaddhar Official:

Share