11/07/2026
📌 **مرحوم کا قرض ورثاء کے ذمے**
⚖️ **قانونِ وراثت و قرض – لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ**
کیا قرض یا کاروباری لین دین کا چیک جاری کرنے والا شخص وفات پا جائے تو اس کا قرض ختم ہو جاتا ہے؟ لاہور ہائی کورٹ نے نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ اور قانونِ شہادت کے تحت واضح کیا کہ مقروض کے انتقال کے بعد بھی قرض ختم نہیں ہوتا، بلکہ قانونی ورثاء مرحوم کے ترکے کی حد تک اس کی ادائیگی کے پابند ہیں۔ 🏛️
**عدالت کے 6 اہم اصول:**
1️⃣ **ذمہ داری ترکے کی حد تک محدود** — ورثاء کی ذاتی ذمہ داری نہیں بنتی، لیکن مرحوم سے ملنے والی جائیداد کی حد تک وہ قرض کی ادائیگی سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔
2️⃣ **چیک تسلیم ہونے پر قانونی مفروضہ** — اگر ثابت ہو کہ چیک مرحوم کے دستخط سے جاری ہوا، تو قانون فرض کر لیتا ہے کہ یہ کسی جائز قرض کے عوض دیا گیا۔ اس مفروضے کو غلط ثابت کرنے کا بوجھ ورثاء پر ہے۔
3️⃣ **"خالی چیک" کا محض زبانی دعویٰ ناکافی** — ایسے دعوے کے لیے ٹھوس دستاویزی شہادت درکار ہے، ورنہ فیصلہ چیک ہولڈر کے حق میں ہوگا۔
4️⃣ **وکیل کی زبانی دستاویز پیش کرنا ناکافی** — ہر دستاویز کو اہل گواہ کے ذریعے کٹہرے میں ثابت کرنا ضروری ہے۔
5️⃣ **جائیداد نہ چھوڑنے کا زبانی انکار قابلِ قبول نہیں** — یہ دعویٰ بھی ثبوت سے ثابت کرنا ہوگا۔ اس کیس میں مرحوم کی جائیداد ثابت ہونے پر 6 لاکھ روپے کی وصولی کا حکم برقرار رکھا گیا۔
6️⃣ **وفات کے بعد ورثاء پر براہِ راست مقدمہ قابلِ سماعت** — ورثاء نے جواب دعویٰ دے کر کیس لڑا، اس لیے انہیں کوئی قانونی نقصان نہیں پہنچا۔
یہ فیصلہ ان تمام افراد کے لیے بڑی راحت ہے جن کے پیسے کسی کے انتقال کی وجہ سے پھنس جاتے ہیں۔ حقوقِ العباد اور جائز قرض کبھی ضائع نہیں جاتا۔
📄 **RFA No.108/2016**