07/02/2026
خواتین کو زبردستی "خلع" دے کر ان کا حقِ مہر ختم نہیں کیا جا سکتا!
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک حالیہ فیصلے (CPLA No. 3767 of 2025) میں خواتین کے حق میں ایک بہت بڑی رکاوٹ دور کر دی ھے۔
کیس کیا تھا؟
ایک خاتون (مسماۃ نائلہ جاوید) نے اپنے شوہر کی دوسری شادی اور تشدد کی بنیاد پر طلاق مانگی تھی۔ لیکن فیملی کورٹ اور ہائی کورٹ نے اسے "خلع" قرار دے دیا، جس کی وجہ سے خاتون کا 12 لاکھ روپے کا حق مہر ختم ہو گیا۔
سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ:
عدالت کی من مانی ختم: اگر عورت نے "خلع" نہیں مانگی بلکہ شوہر کی غلطی (دوسری شادی یا تشدد) کی بنیاد پر طلاق مانگی ھے، تو عدالت اسے اپنی مرضی سے خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی۔
حقِ مہر کا تحفظ: سپریم کورٹ نے خاتون کو خلع کے بجائے طلاق کا حقدار قرار دیا اور شوہر کو حکم دیا کہ وہ 12 لاکھ روپے حقِ مہر ادا کرے۔
بغیر اجازت دوسری شادی: اگر شوہر پہلی بیوی یا ثالثی کونسل کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرے گا، تو یہ بیوی کے لئے طلاق لینے کی ٹھوس قانونی بنیاد ھے اور اس صورت میں مہر معاف نہیں ھوگا۔
نتیجہ: اب کوئی بھی عدالت کسی خاتون کو اپنا حقِ مہر چھوڑنے (خلع لینے) پر مجبور نہیں کر سکے گی اگر شوہر قصوروار ھے۔..