Irshad Law Associates

Irshad Law Associates We are a group of professional lawyers who have aim to provide quality law related services with ded

01/07/2025

𝐃𝐞𝐚𝐫 𝐒𝐢𝐫/ 𝐌𝐚𝐝𝐚𝐦,
FBR will be opening "𝗜𝗻𝗰𝗼𝗺𝗲 𝗧𝗮𝘅 𝗥𝗲𝘁𝘂𝗿𝗻 𝗙𝗶𝗹𝗶𝗻𝗴" for the 𝐜𝐮𝐫𝐫𝐞𝐧𝐭 𝐲𝐞𝐚𝐫 𝐢.𝐞. 𝟐𝟎𝟐𝟓. To avoid delays and penalties, please ensure compliance by filing through "𝙄𝙧𝙨𝙝𝙖𝙙 𝙇𝙖𝙬 𝘼𝙨𝙨𝙤𝙘𝙞𝙖𝙩𝙚𝙨".
We offer expert filing for:
✅ Salaried individuals
✅ Business Individual
✅ Existing and new filers

We are just a phone call away.
📞 0345-3663663 (Telenor)
📲 0345-6666690 (Ufone)
📲 0345-4222242 (Warid)
📲 0345-4004090 (Telenor)
📧 [email protected]
🏢 9-Fane Road, Near Punjab Bar Council , Lahore.
🏫 ⚖️ 𝙄𝙧𝙨𝙝𝙖𝙙 𝙇𝙖𝙬 𝘼𝙨𝙨𝙤𝙘𝙞𝙖𝙩𝙚𝙨
Regards
𝗘𝗷𝗮𝘇 𝗙𝗮𝗿𝗼𝗼𝗾 𝗕𝗵𝗮𝘁𝘁𝗶
(𝓐𝓭𝓿𝓸𝓬𝓪𝓽𝓮 𝓗𝓲𝓰𝓱 𝓒𝓸𝓾𝓻𝓽)

11/01/2025

الحمدللہ کینٹ سیٹ: افلاطون جکھڑ

لاہور بار درج زیل امیدواروں نے میدان مار لیا
صدر۔۔۔۔مںشر رحمان چوہدری
سنئیر نائب صدر ۔۔۔میاشرجیل
نائب صدر۔۔۔
سیف الموک کھوکھر
نائب صدر ماڈل ٹاؤن
وقاص اسم کاہلوں
نائب صدر
کینٹ۔افلاطون جھکڑ
جنرل سیکرٹری۔۔۔ نصیر بھلہ
سیکرٹری۔۔۔۔ ملک شرجیل
جوائنٹ سیکرٹری شجاعت علی
فنانس سیکرٹری اعجاز گجر

Most Important Articles of Qanun-E-Shahdat With Urdu ExplanationArticle 5 Communication During Marriageکسی بھی شخص کو مج...
10/11/2024

Most Important Articles of Qanun-E-Shahdat With Urdu Explanation

Article 5 Communication During Marriage
کسی بھی شخص کو مجبور نہں کیا جاسکتا کہ وہ دوسرے شخص کے راز افشاں کرے جس سے اسکی شادی ہوئی ہو

Article 38 Confession To Police officer not to be proved
پولیس کے سامنے دی جانے والی شہادت کی کوئی اہمیت نہیں

Article 44 Accused Person to be laible to cross-Examination

Article 59 Opinion of Expert
عدالت کسی ٹیکنکل ثبوت وغیرہ کے اس شعبہ کے ماہر کی راے لے سکتی ہے
Article 67 In Criminal Cases previous good character is relevant
فوجداری مقدمات میں اگر ملزم کا سابقہ ریکارڈ اچھا ہوگا تو ملزم کو اسکا فائدہ دیا جاے گا
Article 71 oral evidence must be direct
زبانی شہادت کا براہ راست ہونا ضروری ہے

Article 73 Primary Evidence

پرائمری شواھد سے مراد اصل کاغذات پیش کرنا ہے

Article 74 Secondry evidence
پرائمری شہادت سے مراد وہ شہادت جو اصل کی کاپی ہو یا زبانی شہادت ہو

Article 85 Public Documents
تمام وہ کاغذات جو سرکاری دفاتر ,پٹوار خانہ ,پولیس روز نامچہ اور عدالتی فائلیں وغیرہ پبلک ڈاکومنٹ ہیں جس کا مشاھدہ پاکستان کا ہر شہری کرسکتا ہے

Article 86 Private Documents
مذکورہ بالا کاغذات کے سوا باقی ہر قسم کے کاغذات پرایویٹ کاغذات ہیں

Article 114 Estoppel
اس سے مراد جب کوئی بات بندہ کہہ دے تو اس سے مکر نہیں سکتا

Article 117 Burdun of proof
اس سے مراد جو بھی عدالت کچھ پیش کرتا ہے تو اسکو ثابت کرنا بھی اس شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے

Article 136 Leading Questions
ایسے سوالات جس میں گواہ کو ہاں یا نا میں جواب دینا ہوتا ہے

Article 138 When leading Question may by asked
لیڈنگ سوالات جرح میں کہے جا سکتے.

27/10/2024
25/10/2024

جسٹس فائز عیسیٰ نے عدلیہ میں مداخلت روکنے کی بجائے اس کے دروازے کھول دیے: جسٹس منصور علی شاہ کا خط
بی بی سی اردو

سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے الوداعی فل کورٹ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے پانچ ججز نے شرکت نہیں کی۔

ان میں سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس شہزاد احمد خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔اس الوداعی ریفرنس میں مجموعی طور پر 16 ججز نے شرکت کی جن میں سپریم کورٹ کے دو ایڈہاک ججز کے علاوہ فیڈرل شریعت کورٹ کے بھی دو ججز شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کے سینئیرجج جسٹس منصور علی شاہ نے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے الوداعی فل کورٹ میں شرکت نہ کرنے سے متعلق وضاحت جاری کی ہے۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو لکھے گئے خط میں جسٹس منصورعلی شاہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے الوداعی فل کورٹ ریفرنس میں بھی شرکت نہیں کی تھی کیونکہ ان کی تعیناتی قواعد سے ہٹ کر کی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کا الوداعی ریفرنس میں شرکت نہ کرنے کی وجوہات مذید پرشان کن ہیں۔

اپنے خط میں جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کا کردار عوام کے حقوق کا تحفّظ کرنے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کا دفاع کرنا بھی ہے لیکن اس معاملے میں قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ پر بیرونی دباؤ نظر انداز کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس نے عدلیہ میں مداخلت روکنے کی بجائے اس کے دروازے کھول دیے۔ اس خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ میں مداخلت اور اس کے ساتھ ساتھ عدلیہ میں مداخلت قاضی فائز عیسیٰ کی ملی بھگت سے ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ میں مداخلت پر شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبائے رکھا۔

جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ قاضی فائزعیسیٰ عدلتی رواداری اور ہم آہنگی قائم کرنے میں ناکام رہے اور ان کی نظر میں عدلیہ کے فیصلوں کی کوئی قدروقمیت نہیں ہے۔

قاضی فائز عیسی کے اختلافی نوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں کہا کہ انھوں نے شرمناک انداز میں کہا کہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔

انھوں نے اپنے خط میں یہ بھی کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ساتھی ججز میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی اور ججز میں تفریق کے اثار تادیر عدلیہ پر رہیں گے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ان کے اس خط کو فل کورٹ ریفرنس کے ریکارڈ کے طور پر رکھا جائے۔

جسٹس منصور علی شاہ کے علاوہ دیگر جن چار ججز نے اس الوداعی ریفرنس میں شرکت نہیں کی انھوں نے اپنی عدم شرکت کی وجوہات کا ذکر نہیں کیا۔

01/10/2024

فائلر ہونا اور ٹیکس دینا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ٹیکس سب دیتے ہیں مگر فائلر کوئ نہیں ہونا چاہتا کیوں کہ اس میں اپنے اثاثے declare کرنے پڑتے ہیں۔
ٹیکس return فائل کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کا جو ٹیکس بنتا تھا وہ ادا کرنے کے بعد جو اضافی ٹیکس govt کے پاس چلا گیا ہے اس کا return claim کِرنا۔
لیکن چونکہ اثاثے declare کرنے کا فارم بھی ساتھ fill کرنا ہوتا ہے اس لئے ٹیکس filling کو ہمارے معاشرے میں negative sense میں لیا جاتا ہے۔

اہم بات اگر آپ اس سال یا اگلے سال میں کوئی بھی پراپرٹی خریدنا یا بیچنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس 14 دن ہیں فائلر ہونے یا اپنے گوشوارے جمع کروانے کے لیے کیوں کہ اگر آپ ابھی فائلر ہو جاتے ہیں تو آپ کو اگلے ایک سال میں پراپرٹی کے لین دین میں کافی فائدہ ہو سکتا ہے آپ 12 پرسنٹ کی جگہ 3 پرسنٹ FBR فیس کے اہل ہو جائیں گے اگر آپ مقررہ تاریخ 30 ستمبر (جو کہ اب توسیع کے بعد 14 اکتوبر کر دی گئی ھے) تک فائلر ہو جاتے ہیں اور 2023-24 کے گوشوارے جمع کروا دیتے ہیں تو آپ ریگولر فائلر کی لسٹ میں آ جائیں گے اگر آپ 14 اکتوبر کے بعد فائلر ہوں گے تو 2026 تک آپ کو late filer کی فہرست میں رہنا ہو گا
اس لیے اگر آپ اس سال یا اگلے سال میں کوئی بھی پراپرٹی خریدنا یا بیچنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس آخری 14 دن ہیں (گوشوارے جمع کروانے میں 14 دن کی توسیع کر دی گئی ھے) فائلر ہونے یا اپنے گوشوارے جمع کروانے کے لیے اور ٹیکس میں چھوٹ حاصل کرنے کے لیے..
Ejaz Farooq Bhatti
(Advocate High Court)
Telenor 03453663663
Warid 03454222242
Ufone 03456666690

30/09/2024
PLD 2024 SC 942 سٹیچوٹری گراؤنڈ پر ضمانت کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک انتہائی اہم اور تاریخ ساز فیصلہ ! فیصلے کی تفصیل ...
24/08/2024

PLD 2024 SC 942
سٹیچوٹری گراؤنڈ پر ضمانت کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک انتہائی اہم اور تاریخ ساز فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :

روحان احمد نامی ملزم کے خلاف چھبیس مئ دو ہزار بیس کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو پچانوے بی ، دو سو اٹھانوے سی ، ایک سو بیس بی ، ایک سو نو، چونتیس اور پیکا ایکٹ کے دفعہ گیارہ کے تحت اس وجہ سے ایف آئی آر کا اندراج کیا جاتا ہے کہ ملزم روحان پر یہ الزام ہوتا ہے کہ اس نے شکایت کنندہ کو نہ صرف موبائل ایس ایم ایس بلکہ واٹسپ پر بھی گستاخانہ مواد بھیجا بلکہ بعد میں ایف آئی اے کی جانب سے چھاپے کے دوران گستاخانہ مواد برآمد بھی ہوا۔ ایف آئی اے کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج کے بعد ملزم کو چھبیس مئ دو ہزار بیس کو ہی گرفتار کر دیا جاتا ہے جس کے خلاف ملزم عدالت سے رجوع کر کے درخواست ضمانت دائر کر دیتا ہے لیکن ملزم کی یہ درخواست عدالت کی جانب سے چھبیس اگست دو ہزار اکیس کو خارج کر دیتی ہے جس کے بعد ملزم عدالت عالیہ لاہور سے نہ صرف میرٹ پر بلکہ سٹیچوٹری گراؤنڈ پر بھی ضمانت کی استدعا کرتا ہے لیکن بائیس اگست دو ہزار تئیس کو ملزم کی یہ درخواست بھی کر دی جاتی ہے۔ عدالت عالیہ لاہور سے درخواست ضمانت خارج ہونے کے بعد ملزم کی جانب سے بدیں وجہ سپریم کورٹ میں لیو ٹو اپیل کی درخواست دائر کی جاتی ہے جس کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ بشمول جسٹس سید منصور علی شاہ صاحب ، جسٹس جمال مندوخیل صاحب اور جسٹس اطہر من اللہ صاحب کے سامنے مقرر کیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کا آغاز اس نکتے سے کیا ہے کہ ملزم کو پولیس کی جانب چھبیس مئ دو ہزار بیس کو گرفتار کیا گیا لیکن شومئی قسمت کہ ٹرائل کے دوران ملزم کی جانب سے ضابطہ فوجداری کے دفعہ دو سو پینسٹھ-سی کے تحت ایک درخواست جمع کی جاتی ہے کہ مجھے وہ تمام کاغذات مہیا کئے جائیں جن کا زکر پولیس رپورٹ میں ہے لیکن ٹرائل کورٹ ملزم کی یہ درخواست خارج کر دیتی ہے جس کے بعد ملزم ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ لاہور سے رجوع کرتا ہے جس پر عدالت عالیہ نے سات ستمبر دو ہزار اکیس کو درخواست پر فیصلے کی بجائے ملزم کے خلاف کارروائی کو عدالت عالیہ کے فیصلے تک ملتوی کرنے کا حکم دے دیتی ہے جس کے بعد اصل مسئلہ یہاں پر پیدا ہوا کہ ملزم کی اس درخواست پر ایک طرف عدالت عالیہ کی جانب سے سماعت نہیں ہورہی تو دوسری طرف ملزم کے ٹرائل کی کاروائی بھی ملتوی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے مسئلے کی تہ تک پہنچنے کے بعد ضابطہ فوجداری کے دفعہ چار سو ستانوے میں مذکور سٹیچوٹری گراؤنڈ پر آتی ہے جس کے تحت اگر کوئ ملزم کسی ایسے الزام میں قید ہو کہ جس کی سزا؛ سزائے موت ہو تو ایسی صورت میں اگر ملزم کے قید میں دو سال گزر جائیں اور اس کے خلاف ٹرائل کا اختتام نہ ہو اگر ٹرائل میں تاخیر ملزم کی جانب سے نہ ہوئ ہو تو ملزم کا یہ آئینی و قانونی حق ہے کہ ملزم کو فی الفور ضمانت پر رہا کیا جائے۔ یہاں پر جسٹس صاحب نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ملزم کو حاصل یہ حق صرف سٹیچوٹری نہیں بلکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل چار ، نو اور دس اے کے تحت یہ ملزم کا بنیادی آئینی حق ہے۔

مندرجہ بالا نکات کی صراحت کے ساتھ وضاحت کے بعد جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے ایک بحث اس موضوع پر باندھی ہے کہ وہ کونسے ایسے عوامل ہیں جن کی موجودگی میں ملزم کو سٹیچوٹری گراؤنڈ دستیاب نہیں ہوگا تو اس بابت سپریم کورٹ نے لکھا ہے کہ ملزم کے خلاف یہ ثابت کیا جائے گا کہ اس نے قصدا ٹرائل کو موخر کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے لئے یہ واضح کیا جائے گا کہ ملزم نے مسلسل نے ٹرائل کے اہم مواقع یعنی جرح وغیرہ کے وقت ٹرائل کو ملتوی کرنے کی درخواستیں دی ہیں۔ یہاں پر جسٹس صاحب نے ایک انتہائی اہم نکتہ بیان کیا ہے کہ صرف درخواستوں کو شمار کرنے سے کام نہیں ہوگا کہ کس نے زیادہ درخواستیں ٹرائل کو موخر کرنے کے لئے دی ہیں اور چونکہ اس کیس میں تاخیر عدالت عالیہ کی جانب سے ہوئ ہے کیونکہ عدالت عالیہ نے تین سال گزرنے کے بعد بھی ملزم کی جانب سے پیش کی جانے والی درخواست پر فیصلہ نہیں دیا۔ یہاں پر جسٹس صاحب نے عدالت عالیہ کے پاس کیسز کو ملتوی یعنی سٹے دینے کے اختیار کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر ایک طرف عدالت کے پاس یہ اختیار ہے تو اس اختیار کا استعمال نہایت احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیے اور ایک دفعہ یہ اختیار استعمال کیا جائے تو پھر درخواست پر جلد از جلد فیصلہ دینا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے مندرجہ بالا امور واضح کرنے کے بعد ملزم کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے اس کیس کو نہ صرف رپورٹ کرنے کی منظوری دی بلکہ عدالت عالیہ لاہور کے زریعے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے سامنے رکھنے کا بھی حکم دیا تاکہ آئندہ ایسے امور میں بہتری آئے۔

فوجداری مقدمات میں سٹیچوٹری گراؤنڈ پر ضمانت پر ضمانت کے حوالے سے اس تاریخ ساز یعنی لینڈ مارک فیصلے کا خلاصہ یہ ہے کہ ضابطہ فوجداری کے دفعہ چار سو ستانوے کے تحت ملزم کو حاصل سٹیچوٹری گراؤنڈ کے اس حق کو آئین پاکستان کے آرٹیکل چار ، نو اور دس اے کے تناظر میں دیکھا جائے گا اور بدیں وجہ ملزم کو اس حق کے حصول سے صرف اس وجہ سے محروم نہیں کیا جائے گا کہ ملتوی کرنے کی درخواستوں کو شمار کیا جائے بلکہ ملزم کو اس حق سے محروم کرنے کے لئے لازمی ہے کہ ملزم کے خلاف یہ ثبوت ہوں کہ اس نے قصدا مسلسل کوششوں کے زریعے ٹرائل کے اہم تاریخوں پر کیس کو موخر کیا ہے۔

یہ انتہائی اہم فیصلہ، سپریم کورٹ کے جج ، جسٹس سید منصور علی شاہ صاحب نے لکھا ہے جس کو Crl.P.894-L/2023 پر پڑھا اور دیکھا جا سکتا ہے۔
PLD 2024 SC 942

13/08/2024

𝐓𝐡𝐞 𝟐𝟎 𝐌𝐚𝐱𝐢𝐦𝐬 𝐨𝐟 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲

Equity is an ancient judicial system originating in England by which courts apply principles of general fairness in situations where application of the common law would bring about injustice. Article III of the U.S. Constitution extends the judicial power of courts to both cases in law and in equity. While the Federal Rules of Civil Procedure combined law and equity into a single type of suit—the civil action—in 1938, the distinction between law and equity is still very much alive. Claims in equity afford different remedies, do not permit a right to trial by jury under the Seventh Amendment (indeed, equitable claims must be decided by the judge even if a jury is deciding other claims at law), and equitable remedies are generally unavailable when there is an “adequate remedy at law.”

While they do not constitute binding precedent in US courts, equitable claims and the courts that preside over them are traditionally guided by the 20 Maxims of Equity, which are certainly persuasive precedent. The 11th Circuit was kind enough to recently gather 13 of these maxims in one place in Slater v. U.S. Steel Corp., 820 F.3d 1193, 1247 (2016), but of course we pride ourselves in creating a more comprehensive list:

1. 𝐎𝐧𝐞 𝐰𝐡𝐨 𝐬𝐞𝐞𝐤𝐬 𝐞𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐦𝐮𝐬𝐭 𝐝𝐨 𝐞𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲: this is “[p]erhaps one of the most basic maxims of equity.” Anstalt v. Ness Energy Int’l, Inc., Case No. 10-1218-D (W.D. Okla. Mar. 28, 2012). Simply put, a party petitioning the court for equitable relief must be willing to fulfill all of its own obligations.

2. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐧𝐨𝐭 𝐬𝐮𝐟𝐟𝐞𝐫 𝐚 𝐰𝐫𝐨𝐧𝐠 𝐭𝐨 𝐛𝐞 𝐰𝐢𝐭𝐡𝐨𝐮𝐭 𝐚 𝐫𝐞𝐦𝐞𝐝𝐲: “The equitable power of a court is not bound by cast0iron rules but exists to do fairness and is flexible and adaptable to particular exigencies so that relief will be granted when, in view of all the circumstances, to deny it would permit one party to suffer a gross wrong at the hands of the other.” PCS Nitrogen, Inc. v. Ross Dev. Corp., 126 F. Supp. 3d 611, 642 (D.S.C. 2015) (quoting Hooper v. Ebenezer Sr. Servs. & Rehab. Ctr., 386 S.C. 108 (2009)).

3. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐫𝐞𝐠𝐚𝐫𝐝𝐬 𝐚𝐬 𝐝𝐨𝐧𝐞 𝐰𝐡𝐚𝐭 𝐨𝐮𝐠𝐡𝐭 𝐭𝐨 𝐛𝐞 𝐝𝐨𝐧𝐞: “It is a fiction of equity designed to effectuate the obvious intention of the parties and to promote justice.” Rodeck v. U.S., 697 F. Supp. 1508 (D. Minn. 1988).

4. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐢𝐬 𝐚 𝐬𝐨𝐫𝐭 𝐨𝐟 𝐞𝐪𝐮𝐚𝐥𝐢𝐭𝐲: “As the FMCRA is silent on the question of priority, and as ‘equity is equality,’ we find that the proper course here is to distribute the limited funds on a ratable basis, such that each claimant receives ‘a share of the fund proportionate to their share of the total judgment figure.’” Commercial Union Ins. Co. v. U.S., 999 F.2d 581 (D.C. Cir. 1993) (citing Dobbs, The Law of Remedies § 2.12 at 130).

5. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐚𝐢𝐝𝐬 𝐭𝐡𝐞 𝐯𝐢𝐠𝐢𝐥𝐚𝐧𝐭, 𝐚𝐧𝐝 𝐧𝐨𝐭 𝐭𝐡𝐨𝐬𝐞 𝐰𝐡𝐨 𝐬𝐥𝐮𝐦𝐛𝐞𝐫 𝐨𝐧 𝐭𝐡𝐞𝐢𝐫 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬: This is the basis for the equitable defense of laches. See Eason v. Whitmer, Case No. 20-12252 (E.D. Mich. Sep. 9, 2020) (quoting Hays v. Port of Seattle, 251 U.S. 233, 239 (1920)).

6. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐢𝐦𝐩𝐮𝐭𝐞𝐬 𝐚𝐧 𝐢𝐧𝐭𝐞𝐧𝐭 𝐭𝐨 𝐟𝐮𝐥𝐟𝐢𝐥𝐥 𝐚𝐧 𝐨𝐛𝐥𝐢𝐠𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧: Near performance of a general obligation is sufficient unless the law requires perfect performance. See Union Trust Co. of Maryland v. Townsend, 101 F. 2d 903 (4th Cir. 1939).

7. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐚𝐜𝐭𝐬 𝐢𝐧 𝐩𝐞𝐫𝐬𝐨𝐧𝐚𝐦: Equity acts on the duties of people, not objects, or “[e]quity acts in personam, not in rem.” Diallo v. Redwood Invs., LLC, Case No. 18-cv-1793 (S.D. Cal. Aug. 6, 2019). Today, the term “people” includes legal entities like corporations.

8. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐚𝐛𝐡𝐨𝐫𝐬 𝐚 𝐟𝐨𝐫𝐟𝐞𝐢𝐭𝐮𝐫𝐞: Largely foreclosed (pun intended) today by statute, the original theory was that if one failed to make a payment for property received on time and had that property seized at law, they could pay the debt late and recover the property in equity. Today, it may be more important to understand the “exception to the general rule that ‘equity abhors a forfeiture’ . . . [which] states that ‘forfeiture is favored, when, instead of working a loss or injury contrary to equity, it promotes justice and equity and protects the owner against the indifference, laches, and injurious conduct of the lessee.” Bezilla v. Tug Hill Operating, LLC, Case No. 5:17-cv-123 (N.D.W. Va. Nov. 13, 2017) (internal citations omitted).

9. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐝𝐨𝐞𝐬 𝐧𝐨𝐭 𝐫𝐞𝐪𝐮𝐢𝐫𝐞 𝐚𝐧 𝐢𝐝𝐥𝐞 𝐠𝐞𝐬𝐭𝐮𝐫𝐞: “‘If the employee desires reinstatement for strategic purposes, that is a valid basis for denial’ . . . ‘Equity does not engage in idle gestures,’ and the Court will not order Plaintiff to work as a material handler at Volvo without it being unambiguously clear that she still wants this job.” Arroyo v. Volvo Grp. N. Am., LLC, Case No. 12-cv-6859 (N.D. Ill. Jul. 13, 2017) (internal citations omitted).

10. 𝐇𝐞 𝐰𝐡𝐨 𝐜𝐨𝐦𝐞𝐬 𝐢𝐧𝐭𝐨 𝐞𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐦𝐮𝐬𝐭 𝐜𝐨𝐦𝐞 𝐰𝐢𝐭𝐡 𝐜𝐥𝐞𝐚𝐧 𝐡𝐚𝐧𝐝𝐬: “The equitable defense of unclean hands requires that ‘[h]e who comes into equity must come with clean hands.’” E.O.H.C. ex rel. M.S.H.S. v. Barr, Case No. 5:19-cv-06144-JDW (E.D. Pa. Jan. 22, 2020) (citing Keystone Driller Co. v. Genn. Excavator Co., 290 U.S. 240, 241 (1933).

11. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐝𝐞𝐥𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬 𝐭𝐨 𝐝𝐨 𝐣𝐮𝐬𝐭𝐢𝐜𝐞, 𝐚𝐧𝐝 𝐧𝐨𝐭 𝐛𝐲 𝐡𝐚𝐥𝐯𝐞𝐬: “At the remedy stage – a violation having been established – it may be appropriate to resolve marginal doubts against the wrongdoers. Courts should not be gruding in remedying injustice. ‘Equity delights to do justice, and not by halves.’” Jeffers v. Clinton, 756 F. Supp. 1195 (E.D. Ark. 1990).

12. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐭𝐚𝐤𝐞 𝐣𝐮𝐫𝐢𝐬𝐝𝐢𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐭𝐨 𝐚𝐯𝐨𝐢𝐝 𝐚 𝐦𝐮𝐥𝐭𝐢𝐩𝐥𝐢𝐜𝐢𝐭𝐲 𝐨𝐟 𝐬𝐮𝐢𝐭𝐬: Good luck today with this one. While the spirit of this maxim may remain alive, it has largely been subsumed by rules concerning MDL, class actions, collective actions, and case law on the topic. “This case does not come within the principle that equity will take jurisdiction to avoid a multiplicity of suits.” Ohio Farmers’ Ins. v. Yoas, 65 F.2d 651 (9th Cir. 1933).

13. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐟𝐨𝐥𝐥𝐨𝐰𝐬 𝐭𝐡𝐞 𝐥𝐚𝐰: “As Justice Story explained, ‘[w]here a rule [of] . . . the statute law is direct and governs the case with all its circumstances, or the particular point, a court of equity is as much bound by it, as a court of law.’” Ibson v. United Healthcare Servs., Inc., 877 F.3d 384 (8th Cir. 2017) (quoting Joseph Story, Commentaries on Equity Jurisprudence § 64 (12th ed. 1877).

14. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐧𝐨𝐭 𝐚𝐬𝐬𝐢𝐬𝐭 𝐚 𝐯𝐨𝐥𝐮𝐧𝐭𝐞𝐞𝐫: “An unjust enrichment claim will not lie, however, if the benefit is conferred ‘by a volunteer or intermeddler.’” Al-Sabah v. World Bus. Lenders, LLC, Case No. SAG-18-2958 (D. Md. Jul. 9, 2020). And conversely, in restitution claims, equity will not create a quasi-contract to a promisee if no consideration was provided (a “volunteer” in 18th Century English).

15. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐧𝐨𝐭 𝐜𝐨𝐦𝐩𝐥𝐞𝐭𝐞 𝐚𝐧 𝐢𝐦𝐩𝐞𝐫𝐟𝐞𝐜𝐭 𝐠𝐢𝐟𝐭: “Equity will not make [a trust] where none has been clearly declared. A defective or imperfect gift will not be converted into a trust.” Weil v. Commissioner of Internal Revenue, 82 F.2d 561 (5th Cir. 1936).

16. 𝐖𝐡𝐞𝐫𝐞 𝐞𝐪𝐮𝐢𝐭𝐢𝐞𝐬 𝐚𝐫𝐞 𝐞𝐪𝐮𝐚𝐥, 𝐭𝐡𝐞 𝐥𝐚𝐰 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐩𝐫𝐞𝐯𝐚𝐢𝐥: “In any event the equity of the taxpayer is no greater than that of the United States and when equities are equal, the legal title will prevail.” Travel Industries of Kansas v. U.S., 425 F.2d 1297 (10th Cir. 1970).

17. 𝐁𝐞𝐭𝐰𝐞𝐞𝐧 𝐞𝐪𝐮𝐚𝐥 𝐞𝐪𝐮𝐢𝐭𝐢𝐞𝐬 𝐭𝐡𝐞 𝐟𝐢𝐫𝐬𝐭 𝐢𝐧 𝐨𝐫𝐝𝐞𝐫 𝐨𝐟 𝐭𝐢𝐦𝐞 𝐬𝐡𝐚𝐥𝐥 𝐩𝐫𝐞𝐯𝐚𝐢𝐥: The general principle with regard to real property is “first in time, first in right.” Bank of Am., N.A. v. Esplanade at Damonte Ranch Homeowners’ Ass’n, 3:16-CV-00116-RCJ-VPC (D. Nev. May 23, 2017). Comparing timing with legal and equitable claims, “[u]nder the common law, an earlier claim had priority over a later claim if both claims were legal claims . . . The same was true if both claims were equitable . . . [order in time] only mattered under the common law where [one party] had a legal claim and a competing earlier claim to the property was purely equitable.” Id.

18. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐧𝐨𝐭 𝐚𝐥𝐥𝐨𝐰 𝐚 𝐬𝐭𝐚𝐭𝐮𝐭𝐞 𝐭𝐨 𝐛𝐞 𝐮𝐬𝐞𝐝 𝐚𝐬 𝐚 𝐜𝐥𝐨𝐚𝐤 𝐟𝐨𝐫 𝐟𝐫𝐚𝐮𝐝: “Courts of equity, independently of any statute, will relieve against fraud, if proceedings are seasonably brought after its discovery. Indeed, to use the language of Lord Cottenham, a court of equity will wrest property fraudulently acquired, not only from the perpetrator of the fraud, but ‘from his children and his children’s children,’ or, as was said in another English case, ‘from any person to whom he may have parcelled out the fruits of his fraud.’” Citizens Bank v. Leffler, 228 Md. 262, 269 (Md. 1962).

19. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐧𝐨𝐭 𝐚𝐥𝐥𝐨𝐰 𝐚 𝐭𝐫𝐮𝐬𝐭 𝐭𝐨 𝐟𝐚𝐢𝐥 𝐟𝐨𝐫 𝐰𝐚𝐧𝐭 𝐨𝐟 𝐚 𝐭𝐫𝐮𝐬𝐭𝐞𝐞: Even if a trustee dies before the creation of a testamentary trust, for example, or if the trustee is incompetent at the time she accepts the position, these failures would not cause the creation of the trust to fail. See, e.g., Fulk & Needham, Inc. v. U.S., 288 F. Supp. 39, 44 (M.D.N.C. 1968).

20. 𝐄𝐪𝐮𝐢𝐭𝐲 𝐫𝐞𝐠𝐚𝐫𝐝𝐬 𝐭𝐡𝐞 𝐛𝐞𝐧𝐞𝐟𝐢𝐜𝐢𝐚𝐫𝐲 𝐚𝐬 𝐭𝐡𝐞 𝐭𝐫𝐮𝐞 𝐨𝐰𝐧𝐞𝐫: Another historical maxim that no longer applies—common law once provided no action by the beneficiary of a trust against the trustee, but that has since changed with the common law claim for breach of fiduciary duty.

Address

3rd Floor, Hatif Chambers, 9-Fane Road
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

00923454004090

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Irshad Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Irshad Law Associates:

Share

Category