Ghani badshah khan adv Law Firm

Ghani badshah khan adv Law Firm Legal Practitioner and advisor. Professional Lawyer

مہلک حادثات میں متوفی کے وارثین کو مالی معاوضہ( Damages)پر عدالت کا اہم ترین فیصلہ: یہ فیصلہ پاکستانی عدالتی نظام میں ای...
17/02/2025

مہلک حادثات میں متوفی کے وارثین کو مالی معاوضہ( Damages)پر عدالت کا اہم ترین فیصلہ:

یہ فیصلہ پاکستانی عدالتی نظام میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، خاص طور پر Fatal Accident Act 1855 کے تحت معاوضے کے تعین اور مالک اور ملازم کی ذمہ داریوں کے تعین کے حوالے سے۔

ذیل میں اس فیصلے کے کلیدی پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے:

1. قانونی بنیاد اور مقدمے کا پس منظر
- یہ مقدمہ Fatal Accident Act 1855 کے تحت دائر کیا گیا، جس کا مقصد لاپرواہی سے ہونے والے مہلک حادثات میں متوفی کے قانونی وارثین کو مالی معاوضہ فراہم کرنا ہے۔
- واقعہ 13 اکتوبر 2018 کو کراچی کے ہب ریور روڈ پر پیش آیا، جہاں ڈمپر ٹرک کے ڈرائیور (ڈیفنڈنٹ نمبر 1) کی لاپروائی سے دو افراد (محمد سرفراز، 33 سال؛ ابو بکر، 13 سال) ہلاک ہوئے۔
- ڈرائیور کے پاس صرف LTV لائسنس تھا، جو بھاری گاڑی چلانے کے لیے ناکافی تھا۔(تحریر: قانون دان ٹیم) گاڑی کا مالک (ڈیفنڈنٹ نمبر 2) بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا، کیونکہ اُس نے ڈرائیور کو غیرموزوں لائسنس کے باوجود گاڑی چلانے کی اجازت دی۔

2. معاوضے کا تعین
- محمد سرفراز (33 سال):
- ماہانہ آمدنی: 50,000 روپے۔
- متوقع عمر (65 سال تک): 32 سال (384 ماہ)۔
- کل معاوضہ: 19,200,000 روپے۔
- ابو بکر (13 سال):
- ممکنہ آمدنی (بڑھتی عمر کے ساتھ): 50,000 روپے ماہانہ۔
- متوقع کام کرنے کی مدت (65 سال تک): 47 سال (564 ماہ)۔
- کل معاوضہ: **28,200,000 روپے۔
- دونوں کا کل معاوضہ:47,400,000 روپے(سود سمیت 15% سالانہ اضافہ)۔

3. مشترکہ اور انفرادی ذمہ داری (Composite Negligence):
- عدالت نے National Logistic Cell vs. Irfan Khan کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ جب دو یا زیادہ فریقوں کی مشترکہ لاپروائی سے نقصان ہو، تو ہر فریق مشترکہ اور انفرادی طور پر ذمہ دار ہوتا ہے۔
- مالک (ڈیفنڈنٹ نمبر 2) کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا، کیونکہ اُس نے ڈرائیور کو غیرمناسب لائسنس کے ساتھ گاڑی چلانے دی، جو Pakistan Railways vs. Abdul Haq کے فیصلے کے مطابق "مالک کی ذمہ داری" ہے۔

4. فیصلے کی سماجی اور قانونی اہمیت:
- احتساب کا فروغ: عدالت نے زور دیا کہ معاوضے کا مقصد نہ صرف متاثرین کو انصاف دلانا ہے، بلکہ معاشرے میں لاپروائی کرنے والوں کے لیے ڈیٹرنس (Deterrence) بھی پیدا کرنا ہے۔
- وارثین کے حقوق: شریعت کے اصولوں کے مطابق معاوضہ وارثین میں تقسیم کیا جائے گا، جو قانونی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے اہم ہے۔
- عدالتی عمل کی رفتار: ڈیفنڈنٹس کی طرف سے تاخیر اور غیرحاضری کے باوجود، عدالت نے معاملے کو بروقت نمٹا کر **انصاف تک رسائی کو یقینی بنایا۔ اور دعویٰ دائر کرنے کے وقت سے سود سمیت معاوضہ دینے کا پابند کیا۔

یہ فیصلہ پاکستانی عدالتی تاریخ میں ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں نہ صرف قانونی اصولوں کو واضح کیا گیا، بلکہ معاشرتی احتساب اور متاثرین کے حقوق کو بھی اولیت دی گئی۔ عدالت نے Fatal Accident Act 1855 کو جدید تقاضوں کے مطابق لاگو کرتے ہوئے ایک متوازن اور انصاف پر مبنی فیصلہ دیا، جو آنے والے مقدمات کے لیے رہنما اصول ثابت ہوگا۔

16/02/2025
آج وہی سلسلہ جاری ۔۔۔پڑھیے درخت کبھی نہ کٹتا اگر کلہاڑی میں لکڑی کا دستہ نہ ہوتا.. ہمیشہ اپنے ہی دھوکہ دیتے ہیں، اپنے ہی...
15/03/2024

آج وہی سلسلہ جاری ۔۔۔پڑھیے
درخت کبھی نہ کٹتا اگر کلہاڑی میں لکڑی کا دستہ نہ ہوتا..
ہمیشہ اپنے ہی دھوکہ دیتے ہیں، اپنے ہی غیروں کے ساتھ مل کر جڑیں کاٹتے ہیں. ہندوستان میں انگریزوں کی تعداد کبھی بھی پچیس ہزار سے زیادہ نہیں رہی. انگریزی فوج کے ساتھ مل کر لڑنے والے یہی پنجابی پٹھان سندھی بلوچ تھے. ٹیپو سلطان کے خلاف برطانوی فوج میں لڑنے والے کون تھے؟
یونہی نہیں پڑیں ہیں دراڑیں فصیل میں
لڑتے رہے ہیں میرے سپاہی میرے خلاف
سنہ 1650 سے 1950 تک تین سو سال میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستانیوں کے ذریعے ہی حکومت کی. مجھے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں شہاب نامہ میں قدرت اللہ شہاب نے کافی تفصیل لکھی ہے. میں کچھ اقتباسات پیش کر دیتا ہوں، ملاحظہ فرمائیں

"جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے جنوبی ایشیا میں تجارت کے پردے میں سیاست کا جال پھیلایا تو اس کے جلو میں ملازمین کا ایک لاؤ لشکر بھی اس خطہ ارض پر ٹڈی دل کی طرح امڈ آیا۔ یہ ملازم عام طور پر کمپنی کے ڈائریکٹروں کے بیٹے بھانجے بھتیجے یا ان کے دوست احباب کے عزیز و اقارب ہوتے تھے۔ ان کی تنخواہ 5 پاؤنڈ ماہوار تک مقرر تھی۔ لیکن اس کے علاوہ ذاتی تجارت کرنے کی بھی ان کو کھلی چھٹی تھی۔ چنانچہ اکثر ملازم کمپنی کا کام کم اور نجی تجارت زیادہ کرتے تھے۔
مقامی راجوں، رجواڑوں زمینداروں اور رئیسوں سے زبردستی نذرانے وصول کرنے کا رواج بھی عام تھا۔ اور اس طرح اکثر ملازم چند سال میں لاکھوں روپے سمیٹ کر انگلستان واپس چلے جاتے تھے۔ واپسی پر وہ ایک آدھ ملازم چھوکرا یا طرحدار آیا بھی اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور جب وہ انگلینڈ کے مضافات میں بیش قیمت جائیدادیں خرید کر اپنا ٹھاٹھ جماتے تھے تو وہاں کی سوسائی میں "نبان" کہلاتے تھے۔
مال و دولت سمیٹنے کا یہ نیا راستہ دیکھ کر دوسرے انگریزوں کی بھی رال ٹپکنے لگی۔ اور ہندوستان میں کمپنی کی ملازمت حاصل کرنا ایک باقاعدہ مہم کی صورت اختیار کر گیا۔ اب لندن میں ڈائریکٹڑوں کی بر آئی اور انھوں نے بھی کھلے بندوں ہاتھ رنگنے شروع کر دیے۔ چنانچہ کمپنی کی اسامیاں فروخت ہونے لگیں۔ ڈائریکٹر صاحبان ایک ایک اسامی کی قیمت دو ہزار سے تین ہزار پاؤنڈ تک وصول کرتے تھے۔
اسامی سفارش سے ملی ہو یا قیمت دے کر خریدی گئی ہو، کمپنی کے ملازمین کا واحد مقصد یہی ہوتا تھا کہ ہندوستان آ کر وہ کم سے کم عرصہ میں زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹیں اور پھر وطن عزیز واپس جا کر عیش و آرام کی زندگی بسر کریں۔ اس مقصد براری کی دھن میں میں انھیں طرح طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے تھے۔
جب ایسٹ انڈیا کمپنی کا نیا ملازم ہندوستان پہنچ کر جہاز سے اترتا تھا تو سب سے پہلے اسے یہاں کا بنیا ہاتھوں ہاتھ لیتا تھا۔ ہر انگریز کے ساتھ ایک ایک بنیا ہر وقت اس طرح چپکا رہتا تھا جس طرح جسم کے ساتھ سایہ لگا رہتا ہے۔ انگریزوں کی ذاتی تجارت کے لیے سرمایہ بنیا فراہم کرتا تھا۔ اسمگلنگ کے کاروبار کے نت نئے راستے وہ نکالتا تھا۔ گھروں کے لیے فرنیچر آرائش و زیبائش کا سامان وہ لاتا تھا۔ باورچی خانے کی روزمرہ ضروریات اس کے دم قدم سے پوری ہوتی تھیں۔ گھریلو ملازمین کا چناؤ اس کے مشورہ سے ہوتا تھا۔ نذرانہ وصول کرنے کے لیے موٹی موٹی اسامیوں کی نشان دہی بھی بنیا کرتا تھا۔ اور اپنے فرنگی آقاؤں کی جنسی حاجات پر بھی وہ بڑے رکھ رکھاؤ سے اپنی نظر التفات ہر دم مرکوز رکھتا تھا۔
زندگی کے ہر شعبے میں ہر طرح کے مسائل کو آناً فاناً حل کرنے میں بنیے نے کچھ ایسے مہارت حاصل کر رکھی تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے اکثر ملازم اس کے بنے ہوئے پیچیدہ جال میں بے بس مکڑیوں کی طرح جکڑے بندھے رہتے تھے۔ ابتدا میں انگریزوں اور ہندو بنیوں کا گٹھ جوڑ شروع تو تجارتی لین دین سے ہوا تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ ایک عالمگیر بلا (Octopus) کی طرح اس نے باہمی خیر سگالی کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
انگریزوں اور ہندوؤں کے درمیان ایک بہت بڑی قدر مشترک یہ تھی کہ دونوں مسلمانوں کو اپنا واحد دشمن تصور کرتے تھے۔ یہ ملی بھگت خوب رنگ لائی۔ جب انگریزوں نے برصغیر پر اپنا تسلط جمانے کا آغاز کیا تو تجارتی بنیا ان کا دست راست تھا۔ اور آزادی کے بعد جب انھوں نے خطہ ارض چھوڑا تو سیاسی بنیا ان کا ہمدم و ہمراز تھا۔ یہ محض حسن اتفاق ہی نہ تھا کہ ہندوؤں نے جس انگریز سے چھٹکارا حاصل کیا تھا اسی انگریز کو برضا و رغبت بھارت کا پہلا گورنر جنرل بھی تسلیم کر لیا۔ برٹش فراست اور بنیا سیاست کی یہ کامیابی چانکیہ کے فلسفہ ریاست کے عین مطابق ہے۔ جس میں راج نیتی کے کاروبار میں جھوٹ اور فریب واجب ہے اور ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانے میں کوئی ہرج نہیں۔
ڈیڑھ دو سو سال پہلے ان دونوں کا نصب العین مسلمانوں کے بنے بنائے اقتدار کو پامال کرنا تھا۔ آزادی کے بعد دونوں کا مقصد ایک نئی ابھرتی ہوئی اسلامی مملکت کو درہم برہم کرنا بن گیا۔ یوں تو بنیا گیری عام طور پر ایک انفرادی پیشہ تھا۔ لیکن کلکتہ میں چند منچلوں نے مل کر بنیوں کی ایک کمپنی بھی کھول لی تھی۔ اس فرم کا نام "چار یار" تھا اور یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ بڑے بڑے ٹھیکوں کا کام کیا کرتی تھی۔
4 مئی 1799ء کا وہ منحوس دن تھا جب سرنگا پٹم کے تاریخی معرکے میں ٹیپو سلطان شہید ہو گئے۔ اور ہندوستان پر قبضہ جمانے کے لیے انگریزوں کا راستہ بالکل صاف ہو گیا۔ اس فتح کی خوشی میں لارڈ کارنوالس نے کلکتہ تھیٹر میں ایک شاندار محفل رقص و سرور منعقد کرنے کا اہتمام کیا۔ ہال میں جگہ جگہ "دشمن" سے چھینے ہوئے سامان حرب کی نمائش لگائی گئی۔ دیواروں پر بڑے بڑے آئینوں کے سامنے معرکہ سرنگا پٹم کے مختلف مناظر کی قد آدم تصویریں بنا کر لٹکائی گئیں۔ ستونوں پر بڑی خوبصورتی سے رنگ برنگ ریشم کے تھان منڈھے گئے۔ چھت سے رنگین سلک کی بڑی بڑی چادروں کو شامیانوں کی صورت میں آویزاں کیا گیا۔
انگریزوں کی جس جس رجمنٹ نے سرنگا پٹم کی جنگ میں حصہ لیا تھا۔ ان کے جھنڈے ہال کے عین وسط میں لہرائے گئے۔ ان کے عین نیچے سلطان ٹیپو شہید کے جھنڈوں کو الٹا لٹکایا گیا۔ ڈانس رات گیارہ بجے شروع ہوا۔ اور صبح پانچ بجے تک جاری رہا۔ میموں نے سفید ساٹن کی چست وردیاں پہنی ہوئی تھیں جن پر ریشم کے دھاگے سے 4 مئی کے الفاظ جلی حروف میں کاڑھے ہوئے تھے۔ ڈانس کے درمیان جب مے نوشی کے لیے کچھ وقفہ ہوتا تھا تو زرق برق کپڑوں میں ملبوس ہندوستانی ناچنے اور گانے والیاں مبارکبادی کے نغمے گا کر معزز مہمانوں کا دل بہلاتی تھیں۔ ارباب نشاط کے ان طائفوں کو ”چار یار" نے بڑے اہتمام کے ساتھ بنارس سے فراہم کیا تھا۔ اس تقریب کے لیے خاص طور پر ”چار یار" کے بنیوں نے یہ انوکھی اپچ نکالی تھی کہ ٹیپو سلطان کا درباری لباس اس محفل میں کام کرنے والے خدمتگاروں اور چپراسیوں کو پہنایا گیا تھا۔
اپنے اپنے بنیے کی سرپرستی سے کمپنی کے انگریز ملازموں کی پانچوں گھی میں اور سر اکثر کڑاہی میں رہتا تھا۔ صبح سات بجے کے قریب جب صاحب بہادر کی آنکھ کھلتی تھی، تو سب سے پہلے حمال دبے پاؤں کمرے میں داخل ہو کر کھڑکیاں اور دروازے کھولتا تھا۔ مسالچی بستر پر تنی ہوئی مچھر دانی سمیٹتا تھا۔ ایک طرف سے بیرا ”چھوٹا حاضری" کی چائے پیش کرتا تھا۔ دوسری جانب سے حجام لپک کر بڑھتا تھا اور صاحب کے سر کے نیچے دو تین تکیے رکھ کر لیٹے ہی لیٹے اس کی شیو بنا دیتا تھا۔ چلمچی اور آفتابہ لا کر بستر ہی میں اس کا ہاتھ منہ دھلا دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد جب وہ بریک فاسٹ کے لیے بیٹھا تھا، تو یہی حجام کرسی کے پیچھے کھڑا ہو کر اس کے سر کی ہلکی ہلکی مالش کرتا تھا، بال بناتا تھا، وگ جماتا تھا۔ کانوں کی میل نکالتا تھا اور ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کو چٹخاتا تھا۔
ناشتا ختم ہوتے ہی حقہ بردار حقے کی نلکی اس کے منہ میں دے کر خود پیتل کی ایک چمکدار پھکنی سے چلم کی آگ سلگاتا رہتا تھا۔ حقے کی پہلی گڑگڑاہٹ کے ساتھ ہی صاحب کا بنیا جھک جھک کر سلام کرتا ہوا کمرے میں داخل ہوتا تھا۔ اس کے بعد ملازموں کی فوج ظفر موج کا ریلا اندر آتا تھا۔ خانساماں، بیرا، مسالچی، حمال، مالی، بہشتی، کتے والا، پنکھے والا، دھوبی، درزی۔ سب باری باری سلام کر کے اپنی دن بھر کی ضروریات پیش کرتے تھے۔ بنیا انھیں پورا کرنے کا بیڑا اٹھاتا تھا۔ اس کے بعد دفتر کے منشی، متصدی، پیشکار، ہرکارے، چوبدار اور چراسی پیش ہوتے تھے۔ دس بجے صاحب کمرے سے برآمد ہو کر اپنی حیثیت کے مطابق گھوڑے یا پالکی یا فٹن پر سوار ہوتے تھے۔ ان کے سر پر چھاتا کھلتا تھا اور آگے پیچھے دس پندرہ چوبداروں، برقندازوں اور چپراسیوں کا جلوس چلتا تھا، جو بڑی خوبصورت رنگین وردیوں میں ملبوس ہوتے تھے۔ کچھ وقت دفتر میں گزار کر سارے مقامی انگریز ایک بجے ٹفن کے لیے جمع ہو جاتے تھے۔ لنچ میں پندرہ سے اٹھارہ تک کھانے کے کورس اور چار پانچ قسم کی شرابیں ہوتی تھیں۔
چار بجے کھانے سے فارغ ہو کر شام کے سات بجے تک قیلولہ ہوتا تھا۔ اس کے بعد باربر ایک بار پھر ان کے کان کی میل نکالتا تھا، انگلیوں کے جوڑ چٹخاتا تھا اور بال سنوار کر سر پر وگ جماتا تھا۔ آٹھ بجے سب لوگ اپنی اپنی سواریوں پر ہوا خوری کے لیے نکلتے تھے اور دس بجے ڈنر کے لیے بیٹھ جاتے تھے۔ ڈنر کے بعد رات گئے تک حقے اور شراب کا دور چلتا تھا۔
اس محنت شاقہ کے عوض یہ لوگ چند برس میں لکھ پتی بن کر اپنے وطن سدھارتے تھے۔ دولت سمیٹنے کے اس کاروبار میں نذرانوں کی وصولی کو بڑا اہم مقام حاصل تھا۔ نذرانہ دراصل رشوت ہی کا دوسرا نام تھا۔ سب سے بڑا نذرانہ لارڈ کلائیو نے بنگال کے غدار میر جعفر سے وصول کیا تھا۔ اس نذرانے کا تخمینہ تیس لاکھ پاؤنڈ کے لگ بھگ تھا۔ اپنی تاریخی غداری کے شکرانے میں اس تنگ دنیا ننگ دین ننگ وطن میر جعفر نے اپنی وصیت میں بھی ساڑھے تین لاکھ روپے کے جواہرات اور ڈیڑھ لاکھ روپے کا سونا کلائیو کے لیے ان القابات کے ساتھ چھوڑا تھا: ”ہمارے ہیرو، ہماری آنکھوں کے نور نواب والی قدر لارڈ کلائیو کے نام جو میدان جنگ میں چٹان کی طرح ثابت قدم رہتے ہیں"۔ نذرانوں کے علاوہ میر جعفر کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور لارڈ کلائیو کمپنی پر بھی بے دریغ ہاتھ صاف کرتا رہتا تھا۔ ایک بار اپنی تنخواہ وغیرہ کے علاوہ اس نے دو برس کے متفرق اخراباب کا جو بل ایسٹ انڈیا کمپنی سے وصول کیا تھا۔۔۔۔۔اس کا ٹوٹل 333895 روپیہ تھا۔
اپنے اپنے بنیوں کے تعاون سے کمپنی کے بہت سے انگریز ملازم خفیہ طور پر چھوٹے چھوٹے مقامی حرم بھی قائم کر لیتے تھے۔ لیکن باقاعدہ شادی وہ صرف میموں سے ہی رچاتے تھے۔ اس مقصد کے لیے کمپنی کے ڈائریکٹر انگلستان سے آنے والے ہر بحری جہاز میں شادی کی خواستگار میموں کی کھیپ بھی ہندوستان بھیجتے تھے۔ یہ خواتین نئے نئے فیشن کے ملبوسات اور سامان آرائش سے لدی پھندی آتی تھیں۔ اور اپنے دل پسند خاوند کا شکار کرنے کے لیے طرح طرح کے دامن تنویر بچھا کر بیٹھ جاتی تھیں۔ ان کے دل کو نوجوانوں کی نسبت بڈھے خاوند زیادہ پسند آتے تھے۔
عمر رسیدہ انگریز ہندوستان کی آب و ہوا میں سالہا سال کی بسیار خوری اور مے نوشی کے بعد قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہوتے تھے۔ اور ان کی جوان بیویاں بہت جلد ان کی سمیٹی ہوئی دولت کی وارث بن جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ خاوند کے مرتے ہی بیوہ کے نام عمر بھر کے لیے تین سو پاؤنڈ سالانہ کی پینشن بھی مقرر ہو جاتی تھی۔ جو عورت ہندوستان آنے کے بعد ایک سال تک خاوند پھانسنے میں کامیاب نہ ہو سکے اسے کمپنی کے خرچ پر واپس انگلستان بھیج دیا جاتا تھا۔
البتہ ایک طرحدار میم مس ہالڈین نے انگلستان واپس جانے سے صاف انکار کر دیا۔ کیونکہ اس نے ہندوستان میں کسی خاوند کا سہارا لیے بغیر ہی دولت کمانے کا ایک نیا راستہ تلاش کر لیا تھا۔ ہندوؤں کی ریت ہے کہ دیوالی کی رات وہ لکشمی دیوی کی پوجا کرتے ہیں تا کہ سارا سال ان پر مایا کی بارش برستی رہے۔ اگر کنورای کنیا کے برہنہ جسم پر سونے چاندی کے سکے رکھ کر پوجا پاٹھ کی جائے تو لکشمی دیوی کا دل زیادہ آسانی سے خوش ہو جاتا ہے۔ چند بنیوں کی مدد سے مس ہالڈین نے دیوالی کی راتوں کے لیے کنواری کنیا کا روپ دھار لیا۔ دولت کے پجاری اس کے عریاں تن بدن کو بڑی فنکاری سے روپوں اور اشرفیوں سے سجاتے تھے اور پھر اس کے قدموں میں بیٹھ کر ساری رات بڑی عقیدت سے لکشمی دیوی کو برماتے اور اپنے قلب و نظر کو گرماتے تھے۔
رفتہ رفتہ مس ہالڈین "ہلدی دیوی" کہلانے لگی۔ ”دھن کی موج ہلدی دیوی، من کی کوج ہلدی دیوی" کی بھپتیوں کے ساتھ اس کا چرچا دور دور تک پھیل گیا۔ پوجا پاٹھ کے لیے اس کی مانگ اتنی بڑھ گئی کہ ہر رات دیوالی کی رات بننے لگی۔ کمپنی کے ملازمین ایک سفید فام عورت کی ان حرکات پر بڑے چراغ پا تھے۔ ایک طویل سازش کے بعد آخر انھوں نے مس ہالڈین کو زبردستی انگلستان واپس بھجوا دیا۔ اس نے اپنی واپسی کے خلاف عدالتوں میں ہاتھ پاؤں مارنے کی کوشش کی تو بہت کی، لیکن کہیں کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ کیونکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی عدالتیں مقدموں کا فیصلہ انصاف کی رو سے نہیں بلکہ مصلحت کی رو سے کرنے کی پابند تھیں۔
کمپنی کے عدالتی نظام میں کسی گورے کے ہاتھوں کالے کا قتل بڑا جرم شمار نہ ہوتا تھا۔ ایسے مقدمات میں مقتول اکثر بنگلوں اور دفتروں کے پنکھا قلی ہوتے تھے۔ انھوں نے دن رات مسلسل پنکھا کھینچنے کی بڑی مہارت حاصل کر رکھی تھی۔ بسا اوقات وہ پنکھے کی رسی اپنے پاؤں کے انگوٹھے کے ساتھ باندھ کر فرش پر لیٹ جاتے تھے۔ اس حالت میں اگر کبھی انھیں اونگھ بھی آ جاتی تھی، تو ان کی ٹانگ متواتر چلتی رہتی تھی اور پنکھا بدستور ہلتا رہتا تھا۔ لیکن اگر شومئی قسمت سے کسی وقت پنکھا بند ہو جائے تو گرمی، نیند اور شراب کے خمار میں بوکھلایا ہوا ”صاحب“ ہڑبڑا کر اٹھتا تھا اور سوئے ہوئے قلی کے پیٹ میں زور سے ٹھوکر مار کر اسے بیدار کرتا تھا۔ کئی بار اس ٹھوکر کی ضرب سے بچارے قلی کی تلی پھٹ جاتی تھی اور وہ وہیں لیٹے لیٹے دم توڑ دیتا تھا۔ اس جرم کی پاداش میں صاحب کو کبھی ایک روپیہ جرمانہ ہو جاتا تھا، کبھی محض وارننگ ملتی تھی، کبھی بالکل باعزت بری۔
ہندوستانیوں کو سب سے کڑی سزا چوری کے جرم پر ملتی تھی۔ مجرم عورتیں ہوں یا مرد، عام طور پر انھیں چوراہوں میں بر سر عام ہر روز 39 کوڑے اس وقت تک لگائے جاتے تھے جب تک کہ وہ چوری کا مال واپس نہ کر دیں۔ تپتے ہوئے گرم لوہے سے چہرہ، ہاتھ اور ٹخنے داغنا بھی ایک عام سزا تھی۔ کچھ قیدیوں کو ہفتے میں ایک یا دو بار کاٹھ بھی مارا جاتا تھا۔ کسی کو لکڑی کے شکنجے میں کس کر اس کی نمائش کرنے میں جسمانی تکلیف کی نسبت تذلیل و تشہیر کا عنصر زیادہ نمایاں ہوتا تھا۔ اکثر مقامات پر ہندوستانیوں کے لیے انگریزوں کے سامنے کسی سواری پر بیٹھنا ممنوع تھا اور بارش یا دھوپ میں چھاتا کھول کر چلنے کی بھی ممانعت تھی۔
کوئی دو سو برس تک اسی طرح من مانی کارروائیوں سے کمپنی بہادر نے ایک ہاتھ سے لوٹ مار کا بازار گرم رکھا اور دوسرے ہاتھ سے ملک گیری کی مہم ایسی کامیابی سے چلائی کہ 1853ء میں اس کا تجارتی کاروبار قانونی طور پر بند ہو گیا اور برصغیر پر انگریزوں کی باقاعدہ حکمرانی کا دور شروع ہو گیا۔ نئے سامراجی تقاضوں کے پیش نظر سب سے پہلے آئی سی ایس کی داغ بیل ڈالی گئی اور لارڈ میکالے کی قیادت میں اس سروس کو باضابطہ منظم کیا گیا۔ اب اس میں داخلہ صرف مقابلے کے امتحان کے ذریعہ ہونے لگا۔ آئی سی ایس کا پہلا امتحان لندن میں 1855ء میں منعقد ہوا۔ 1864ء میں پہلا ہندوستانی اس امتحان میں کامیاب ہوا۔ 1871ء میں ان کی تعداد چار ہو گئی۔ اگلے چالیس پچاس برس تک اس سروس میں جتنے ہندوستانی داخل ہوئے وہ زیادہ تر ہندو ہی تھے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب اس برصغیر میں مسلمانوں کے تعلیم و ترقی کے بھی دروازے بند کر دیے گئے تھے۔ لارڈ میکالے کا فتویٰ تھا کہ یہاں پر جو نظام تعلیم رائج کیا جائے وہ ایسے انسان پیدا کرے جو رنگت میں تو بیشک ہندوستانی ہوں لیکن چال اعمال، فہم و فراست، ذوق و مذاق، اخلاق و اطوار اور ذہنی اعتبار سے انگریز ہوں۔ اس پالیسی کے تحت جب فارسی کی جگہ انگریزی کو سرکاری زبان بنا دیا گیا تو برصغیر کے ہزاروں مسلمان علما و فضلاء بہ یک نوک قلم غیر تعلیم یافتہ قرار دے دیے گئے۔ اس فیصلے کا ہندوؤں نے بڑی گرم جوشی سے خیر مقدم کیا۔ اس لیے نہیں کہ انھیں انگریزی سے کوئی خاص محبت تھی بلکہ صرف اس لیے کہ انھیں فارسی سے چڑ تھی، کیونکہ اس زبان کا رابطہ مسلمانوں سے تھا۔
یوں بھی جب 1857ء میں سلطنت مغلیہ کا آخری چراغ گل ہو گیا تو انگریزوں اور ہندوؤں کی ایک مشترکہ کوشش یہ تھی کہ اس برصغیر میں ہر اس امکان کو ختم کر دیا جائے جس میں مسلمانوں کے دوبارہ سر اٹھانے کا ذرا سا شائبہ بھی موجود ہو۔ یہاں پر مسلمان ہی ایک ایسی قوم تھی جس میں حکومت کرنے کی صلاحیت بھی تھی، روایت بھی تھی اور ہزار سالہ تجربہ بھی حاصل تھا۔ چنانچہ اس قوم کا سر کچلنا دونوں کا فرض منصبی قرار پایا۔
اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے انگریزوں نے سب سے پہلے اقتصادی طور پر ہندوؤں کو آگے بڑھانے اور تعلیمی طور پر مسلمانوں کو پیچھے دھکیلنے کی پالیسی کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا۔ یہ تجربہ بڑا کامیاب رہا۔ حکومت انگلشیہ نے نظام تعلیم کو سیکیولر بنا کر اسے براہ راست سرکاری سرپرستی میں لے لیا۔ اس طرح مسلمانوں کے تہذیبی، تمدنی اور علمی گہواروں کا رشتہ اس نظام تعلیم سے بالکل منقطع ہو گیا۔ اسلامی مدرسے اور دار العلوم تو حکومت کی سرپرستی سے محروم ہو کر اپنے اپنے خود حفاظتی خ*ل میں چلے گئے، لیکن کرسچین مشنری اسکولوں کی تعداد روز بروز بڑی تیزی سے بڑھنے لگی۔ مسلمان طلبہ گورنمنٹ اسکولوں میں داخل ہونے سے بڑے طویل عرصہ تک ہچکچاتے رہے۔
اس کی تین وجوہات تھیں۔ ایک تو انگریزوں کا رویہ مسلمانوں کی طرف ویسا ہی تھا جیسا کہ فاتح کا مفتوح کی طرف ہوتا ہے۔ اس لیے مسلمان قدرتی طور پر ان اداروں میں جانے سے استنکاف محسوس کرتے تھے، جو غالب قوم نے خاص اپنے اغراض و مقاصد کے لیے قائم کیے تھے۔ دوسرے گورنمنٹ اسکولوں میں دینی تعلیم پر مکمل پابندی تھی۔ یہ بات مسلمانوں کے لیے ناقابل فہم تھی۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ اس بات کی شاہد تھی کہ دین کے بغیر تعلیم کا کوئی نظام نہ مکمل ہو سکتا تھا نہ قابل قبول۔ چنانچہ انگریزوں کا یہ اقدام مسلمانوں کی نظر میں شکوک و شبہات سے اٹا اٹ بھرا ہوا تھا۔
تیسری وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے سیاسی زوال سے شہ پا کر اس زمانے میں عیسائی مشنریوں نے بھی برصغیر پر یورش شروع کر دی اور وہ بڑی شدت سے مسیحیت کی تبلیغ میں مصروف ہو گئے۔ یہ پادری جگہ جگہ مسلمان علما کو مناظرے کا چیلنج دیتے تھے۔ مناظرے اکثر گورنمنٹ اسکولوں کی گراؤنڈ پر منعقد ہوتے تھے۔ مقامی انگریز افسر شامیانوں کا بندوبست بھی کرتے تھے اور ہر ممکن طریقے سے پادریوں کی پشت پناہی کا سامان بھی کرتے تھے۔
اس سے مسلمانوں کے ذہن میں یہ شبہ اور بھی پختہ ہو گیا کہ گورنمنٹ اسکولوں، انگریزوں اور مسیحی پادریوں کے درمیان مسلمانوں کے خلاف ضرور کوئی خفیہ گٹھ جوڑ ہے اور مسلمانوں کا سیاسی زور توڑنے کے بعد اب یہ لوگ سرکاری نظام تعلیم کے پردے میں ان کے دین کے درپے ہو رہے ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کے دینی تعلیمی ادارے اور حکومت کے سرکاری اسکول الگ الگ متوازی خطوط پر چلنے لگے۔ آزادی کے بعد بھی یہ سلسلہ اب تک کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔
اس صورت حال کا نتیجہ یہ تھا کہ 1880-1881ء میں سارے برصغیر میں انگریزی ہائی اسکولوں میں 36686 ہندو اور صرف 363 مسلمان طلبہ پڑھتے تھے۔ اسی طرح اس سال پورے ہندوستان میں 3155 ہندو اور فقط 75 مسلمان گریجویٹ تھے۔ قدرتی طور پر ملک کے انتظامی اور معاشی نظام میں بھی ہندوؤں کا تناسب اسی لحاظ سے تھا۔
مسلمانوں کی پسماندگی کے اس جمود کو سر سید احمد خان کی تحریک علی گڑھ نے بڑے موثر طور پر توڑا.

فوجی عدالتوں میں کیس کیسے ٹرائل ہوگا اور اسکے خلاف وکیل کرنے اور اپیل کرنے کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیں
04/06/2023

فوجی عدالتوں میں کیس کیسے ٹرائل ہوگا اور اسکے خلاف وکیل کرنے اور اپیل کرنے کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیں

‏نیب کی جانب سے عمران خان کی  غیر قانونی گرفتاری اور غیر قانونی وارنٹ کا اجراءچیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے چئیرمین نیب...
01/06/2023

‏نیب کی جانب سے عمران خان کی غیر قانونی گرفتاری اور غیر قانونی وارنٹ کا اجراء

چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے چئیرمین نیب کیخلاف بھرپور قانونی چارہ جوئی کا آغاز

چئیرمین نیب لفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کو 15 ارب ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا گیا

نوٹس چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل ابوذر سلمان نیازی کی جانب سے بھجوایا گیا

عمران خان کے وارنٹ گرفتاری یکم مئی کو چھٹی کے روز جاری کیے گئے، نوٹس

وارنٹ جاری ہونے کے بعد ان کو 8 روز تک خفیہ رکھا گیا، نوٹس

عمران خان کو 9 مئی کو رینجرز کے ذریعے ایک دہشتگرد یا کالعدم تنظیم کے رکن کی طرح گرفتار کیا گیا، نوٹس

وارنٹ گرفتاری نیب آرڈیننس کی دفعہ 24 کے مطابق غیر قانونی تھے، نوٹس

قانونی تقاضے کے مطابق عمران خان کو بار بار نوٹسز نہیں بھجوائے گئے، نوٹس

نیب انکوائری کو تفتیش میں خفیہ طور پر تبدیل کر دیا گیا، نوٹس

نیب قانون کے سیکشن 13 کے مطابق انکوائری کو تفتیش میں تبدیل کرتے وقت ملزم کو آگاہ کرنا لازم ہے ، نوٹس

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیا، نوٹس

چیئرمین نیب نے عمران خان کے بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے، نوٹس

چیئرمین نیب نے دانستہ طور پر غیر قانونی کارروائی کی جس سے ان کی بدنیتی واضح ہے، نوٹس

بدنیتی کی صورت میں چیئرمین نیب کو قانونی کارروائی سے کسی قسم کا تحفظ یا استثنا حاصل نہیں ہے، نوٹس

چیئرمین نیب فوری طور پر چیئرمین تحریک انصاف سے غیرمشروط معافی مانگیں، نوٹس

لفٹیننٹ جنرل (ر) نزیر احمد تحریک انصاف کو 15 ارب بطور ہرجانہ ادا کریں، نوٹس

چیئرمین نیب نے معافی نہ مانگی تو قانونی کارروائی آگے بڑھائیں گے، نوٹس
غنی بادشاہ خان ایڈووکیٹ

19/04/2023

پنجاب میں تمام جیلوں کے قیدیوں کو لواحقین سے وڈیو لنک پر بات کرنے کی اجازت

ملک میں پیدا غیر یقینی صورتحال اور ججز کے آئین کے مطابق فیصلہ پر وکلا سپریم کورٹ ہائیکورٹ لاہور نے سیاستدانوں کے واویلہ ...
12/03/2023

ملک میں پیدا غیر یقینی صورتحال اور ججز کے آئین کے مطابق فیصلہ پر وکلا سپریم کورٹ ہائیکورٹ لاہور نے سیاستدانوں کے واویلہ کے خلاف متفقہ قرارداد منظور

بیوی جب شوھر سے ناراض ہوکر میکے چلی جاتی ہے تو کس طریقے سے نان و نفقہ حاصل کرسکتی ہے ۔۔ایک مکمل تفصلی وڈیو میں جانیں    ...
19/02/2023

بیوی جب شوھر سے ناراض ہوکر میکے چلی جاتی ہے تو کس طریقے سے نان و نفقہ حاصل کرسکتی ہے ۔۔
ایک مکمل تفصلی وڈیو میں جانیں

Woman can get big sum of maintenance allowance by proving husband financial status through documentary evidence of his earnings and property

سابقہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ارشد شریف کی والدہ کی وکالت کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا. ان سے پہلے تمام وکلاء جن سے ارشد شریف ک...
16/02/2023

سابقہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ارشد شریف کی والدہ کی وکالت کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا. ان سے پہلے تمام وکلاء جن سے ارشد شریف کی فیملی نے رابطہ کیا، نے مقدمہ لڑنے سے انکار کر دیا.
یاد رہے یہ وہی شوکت عزیز صدیقی ہیں جنہیں 2018 میں بار کونسل کے اجلاس میں سچ بولنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے منصب سے برطرف کر دیا گیا تھا اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا نے بھرپور تنقید کا نشانہ بنایا تھا.
غنی بادشاہ خان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
03139900099

شجرہ نسب معلوم کرنے کا بہترین طریقہ جس میں علاقہ ذات پات وغیرہ کی مکمل معلومات جاننا بالکل آسان اور قابل بھروسہ ہے
10/02/2023

شجرہ نسب معلوم کرنے کا بہترین طریقہ جس میں علاقہ ذات پات وغیرہ کی مکمل معلومات جاننا بالکل آسان اور قابل بھروسہ ہے

قوم ذات یا اپنے آباؤاجداد تک شجرہ نسب معلوم کرنے کا آسان طریقہ

Address

Lahore
EDU

Telephone

03139900099

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ghani badshah khan adv Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ghani badshah khan adv Law Firm:

Share