Online Legal Advice

Online Legal Advice Legal Service Provider. Get Legal Advice Free From Experince Team. Online Legal Advice Free We provide Free Legal Advice.

We are the Team of top Barristers and lawyer who have lot of experience in litigation and consultation.

01/12/2025

24/11/2025

















19/11/2025

📢 اہم قانونی اطلاع

اب جانشینی کا سرٹیفکیٹ صرف اور صرف سول عدالتوں سے ہی جاری کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے نادرا کو دیے گئے اختیارات واپس لے لیے ہیں۔

اگر آپ کو جانشینی سرٹیفکیٹ، وراثت، جائیداد کی تقسیم، فیملی یا سول مقدمات سے متعلق کوئی بھی قانونی رہنمائی درکار ہو تو ہم مکمل پروفیشنل سروس فراہم کرتے ہیں۔

📞 رابطہ کریں: قابلِ اعتماد اور تیز قانونی معاونت کے لیے

🌟

📢 Important Legal Update

The Succession Certificate will now be issued only through Civil Courts.
The government has withdrawn the powers that were previously granted to NADRA for issuing succession certificates.

If you need assistance regarding succession certificates, inheritance issues, property distribution, civil or family matters — we provide professional and reliable legal services.

📞 Contact for fast and trusted legal consultation

14/11/2025

لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں بریت یا خارج شدہ مقدمات کو ظاہر کرنا غیرقانونی قرار

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم مقدمے میں واضح حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ (PRC) میں ایسے مقدمات کو ظاہر نہ کیا جائے جن میں متعلقہ فرد کو عدالت سے بری یا مقدمہ خارج ہو چکا ہو۔

یہ فیصلہ جسٹس طارق سلیم شیخ نے ڈاکٹر عظمٰی حمید صدیقی کی درخواست پر سنایا۔ درخواست گزار نے بتایا کہ ان پر اور ان کے اہل خانہ پر FIR نمبر 570/2016 تھانہ اسلام پورہ، لاہور میں دھوکہ دہی، جعلسازی (دفعہ 420، 468، 471 تعزیراتِ پاکستان) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جبکہ اس وقت وہ میڈیکل اسٹوڈنٹ تھیں۔

درخواست گزار کے مطابق پولیس تفتیش کے بعد دفعہ 173 Cr.P.C. کے تحت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی اور عدالت نے 31 جولائی 2017 کو مقدمہ خارج کر کے بری کر دیا۔ اب درخواست گزار نے آسٹریلیا میں تعلیم کے حصول کے لیے پولیس ریکارڈ سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جس پر پرانے اور ختم شدہ مقدمے کا حوالہ موجود تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ جب کسی شخص کو عدالت باعزت بری کر چکی ہو یا مقدمہ ریاست نے واپس لے لیا ہو، تو پولیس کو یہ حق نہیں کہ وہ ایسے معاملات کو کریکٹر سرٹیفکیٹ میں ظاہر کرے۔

عدالت نے مزید کہا کہ کسی بھی شخص کو ایسا ریکارڈ فراہم کرنا، جس سے اس کی ساکھ متاثر ہو، غیرقانونی، غیرآئینی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

فیصلے میں پولیس کو آئندہ کے لیے پابند کیا گیا ہے کہ صرف ان ہی مقدمات کا ذکر PRC میں کیا جائے جو زیرِ سماعت ہوں یا جس میں سزا ہو چکی ہو۔ ختم شدہ، بریت یا عدم شمولیت والے مقدمات کا حوالہ دینا شہریوں کے لیے غیرمنصفانہ ہے۔

یہ فیصلہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک واضح ہدایت ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں، خاص طور پر تعلیم اور روزگار کے مواقع میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔

Nikah Nama Could Transform Family Courts in PakistanFamily courts across Pakistan are burdened with thousands of cases r...
12/10/2025

Nikah Nama Could Transform Family Courts in Pakistan

Family courts across Pakistan are burdened with thousands of cases related to dowry claims after divorce or khula. These cases often take years to conclude due to lack of documentary evidence and conflicting statements from both parties.

A simple yet revolutionary step could resolve this problem — by adding a 26th column to the Nikah Nama (marriage contract).

Proposed 26th Column

The suggested column should state:

“Was dowry (jahez) given by the bride’s side at the time of marriage? If yes, specify the approximate value and details.”

This single addition could help determine future disputes at the very first stage of marriage documentation.

How It Would Help

Transparency: If no dowry was given, the bride’s family cannot later file a false claim for dowry recovery after separation.

Fairness: If dowry was indeed given, the groom’s side would be legally bound to return items or pay the declared amount in case of divorce or khula.

Speedy Justice: Judges will have a clear written record, allowing quick decisions—sometimes on the very first hearing.

Reduced Litigation: Fewer unnecessary cases will be filed, saving time, money, and emotional stress for both families.

A Step Toward Justice and Social Reform

This reform would not only reduce the workload on family courts but also discourage the toxic social practice of exaggerated dowry demands. It would bring fairness, documentation, and accountability to one of the most sensitive aspects of marriage in our society.



A 26th Column in Nikah Nama Can Change Everything!
If a new column is added to the Nikah Nama stating whether dowry was given and its value, thousands of family court cases could be decided in a single hearing.
No dowry — no false claim.
Dowry taken — must return it or pay its value.
This one reform can bring justice, save time, and reduce courtroom stress for countless families.



🇵🇰

نکاح نامے میں 26واں کالم سب بدل سکتا ہے!
اگر نکاح نامے میں یہ کالم شامل کر دیا جائے کہ "کیا جہیز دیا گیا؟ اگر ہاں تو کتنی مالیت کا؟"
تو ہزاروں فیملی کیسز ایک ہی تاریخ پر فیصل ہو سکتے ہیں۔
جہیز نہیں لیا — تو دعویٰ نہیں۔
جہیز لیا — تو واپس یا رقم ادا کریں۔
یہ ایک تبدیلی انصاف، وقت اور معاشرتی سکون لا سکتی ہے۔

31/08/2025

⚖️ علی کا چیک

علی لاہور کا ایک چھوٹا بزنس مین تھا۔ اُس نے اپنے ایک پرانے دوست پر بھروسہ کرتے ہوئے 36 لاکھ روپے کا مال سپلائی کیا۔ بدلے میں اُسے چیک ملا۔

جب علی نے چیک بینک میں جمع کروایا تو جواب آیا: "ڈس آنرڈ – رقم ناکافی ہے"۔

یہ لمحہ علی کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا۔ اُس کا بھروسہ بھی ٹوٹا اور محنت کی کمائی بھی خطرے میں پڑ گئی۔

👉 مگر علی نے غصے یا دھمکیوں کے بجائے قانونی راستہ اختیار کیا۔
پاکستانی قانون کے مطابق سیکشن 489-F پی پی سی کے تحت باؤنس چیک دینا ایک فوجداری جرم ہے۔ علی نے ایف آئی آر درج کروائی اور عدالت سے رجوع کیا۔

چند ہی ماہ میں کیس آگے بڑھا اور علی کی آواز عدالت میں سنی گئی۔

سبق:
✔️ اپنے حق پر کبھی خاموش نہ رہیں۔
✔️ پاکستانی قانون آپ کو تحفظ دیتا ہے—اسے استعمال کریں۔
✔️ ہر معاملے کو تحریری شکل دیں اور مشکل وقت میں وکیل سے رابطہ کریں۔

💬 سوال آپ کے لیے:
اگر آپ علی کی جگہ ہوتے تو کیا بڑے مالی معاملات میں دوست پر بھروسہ کرتے یا ہمیشہ تحریری ثبوت رکھتے؟

28/08/2025

*طلاق اور علیحدگی کے بدلتے اصول: "گریے ڈائیورس" کا بڑھتا ہوا رجحان*



سماج کے اصول وقت کے تابع ہیں۔ وقت بدلتا ہے تو اصول بدلتے ہیں اور اس کے نتیجے میں معاشرہ بھی بدل جاتا ہے۔ یہ تبدیلی صرف خیالات یا نظریات تک محدود نہیں رہتی بلکہ معاشرتی اکائی یعنی میاں بیوی کے تعلق اور روزمرہ کے طور طریقوں پر بھی اپنا بھرپور اثر ڈالتی ہے۔

کچھ سال پہلے جو الفاظ سننے میں بھی نہیں آتے تھے، آج روز خبروں کی زینت بن رہے ہیں۔ مجھے اپنے دادا اور نانا کا گھر یاد ہے، جہاں مردانہ اور زنانہ حصے الگ الگ ہوا کرتے تھے۔ میاں بیوی کے مشترکہ بیڈروم کا اُس وقت کوئی تصور نہ تھا۔ ان کی الگ الگ چارپائیاں اور کمرے ہوا کرتے تھے۔ البتہ کھانے کی محفلیں خاندان کو ایک جگہ اکٹھا کر دیتی تھیں۔

یہ مشترکہ خاندانی نظام تھا، نیوکلئیر فیملی سسٹم نہیں۔ یہاں میاں بیوی ایک بڑے خاندان کا حصہ ہوتے، خاندانی رسم و رواج میاں بیوی کے آپسی تعلق سے زیادہ طاقت ور تھے۔ میاں بیوی کی اپنی زندگی یا اپنے فیصلے کی چنداں اہمیت نہ تھی۔ وہ اپنی زندگی کیسے گزاریں گے، یہ زیادہ تر خاندان بالخصوص اور معاشرہ بالعموم طے کرتا تھا۔

وقت بدلا، اصول بدلے اور ان تغیرات کا اثر خانگی معاملات پر بھی نمایاں ہونے لگا۔ مشترکہ خاندان کمزور ہوا، نیوکلئیر فیملی کو رواج ملا، میاں بیوی کے لیے ایک بیڈروم، ایک اٹیچڈ باتھ روم اور ایک ساتھ وقت گزارنے کا تصور سماج میں اچانک ایک اہم قدر بن گیا۔ لیکن اس باقاعدہ طے شدہ قربت کے باوجود آج معاشرے میں "گریے ڈائیورس" (Gray Divorce) کی بازگشت زیادہ سنائی دیتی ہے، یعنی زیادہ عمر میں طلاق یا علیحدگی۔ یہ اصطلاح مغربی معاشروں میں مقبول ہوئی، جہاں اعداد و شمار کے مطابق پچاس سال سے زائد عمر کے افراد میں طلاق کی شرح پچھلی چند دہائیوں میں تیزی سے بڑھی ہے۔

پاکستان میں تاریخی طور پر طلاق کی شرح بہت کم رہی ہے، لیکن اب اس میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لاہور اور کراچی کی فیملی کورٹس کے باہر بڑھتے ہوئے رش اس تبدیلی کی گواہی دیتے ہیں، جہاں اب صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ ادھیڑ عمر جوڑے بھی طلاق کے کیس فائل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ذاتی مشاہدہ ہے کہ اگرچہ خوفِ فسادِ خلق کے باعث میاں بیوی باضابطہ طلاق نہ بھی لیں اور ایک ہی چھت کے نیچے رہنے پر مجبور ہوں، تو اکثر جوڑے الگ الگ کمروں میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ مشترکہ لاؤنج یا تو خانگی جنگ کے میدان میں بدل جاتا ہے یا پھر اسے دونوں فریق خاموش گزرگاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ اگرچہ باضابطہ طلاق نہیں لیکن ہم اسے شاید "سافٹ گریے ڈائیورس" کہہ سکتے ہیں۔

یک دم علیحدگی نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی طلاق کو ایک داغ یا بدنامی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے میاں بیوی کے درمیان رشتہ خرابی کے اس نہج تک پہنچ چکا ہوتا ہے جہاں وہ آپس میں بات چیت کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اکثر جب بچے گھر سے رخصت ہو جاتے ہیں تو پیدا ہونے والا خالی پن ایک دوسرے کی موجودگی سے پُر نہیں ہو پاتا۔ میاں بیوی کے درمیان نہ کوئی جذباتی تعلق باقی رہتا ہے، نہ فکری رشتہ اور بسا اوقات تو احترام کا رشتہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ یوں باقی تعلق صرف گھریلو اخراجات اور معمولی بات چیت تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔

ہمارے ہاں شادی کو قائم رکھنے کے تین بڑے سہارے ہوتے ہیں: بچے، مصروفیات اور سماجی دباؤ۔ جیسے ہی بچے یونیورسٹی، کالج یا ملازمت کے سلسلے میں گھر چھوڑ دیتے ہیں، مصروفیات کم ہونے لگتی ہیں اور سماجی دباؤ کی گرفت بھی ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔ تب وہ تمام اختلافات، جو ساری عمر دبے رہے، اچانک کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ اس مرحلے پر کئی جوڑے یہ طے کر لیتے ہیں کہ وہ ایک ہی چھت کے نیچے رہ تو سکتے ہیں لیکن پرامن طریقے سے، بغیر زیادہ بات چیت کیے یا محض رسمی گفتگو کے سہارے۔ اس کے برعکس کچھ جوڑے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر حال میں علیحدگی چاہتے ہیں اور بالآخر طلاق کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔

اس رجحان کو سب سے زیادہ تقویت دینے والا عنصر خواتین کی مالی خودمختاری (Financial Independence) ہے۔ ماضی میں خواتین معاشی طور پر مکمل طور پر شوہر پر انحصار کرتی تھیں، اس لیے علیحدگی یا طلاق جیسا فیصلہ اُن کے لیے ممکن ہی نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اب جب خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہیں تو وہ اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہیں۔ تعلیم اور روزگار نے عورت کو انفرادیت اور عزتِ نفس کا شعور دیا ہے۔

ہماری نانی اور دادیوں کے دور میں یہ سوچنا بھی ممکن نہ تھا کہ بڑھاپے میں کوئی طلاق لے سکتا ہے یا میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہو سکتی ہے۔ اُس وقت یہ سب کچھ معاشرتی عوامل کے زیرِ اثر تھا، نہ کہ ذاتی انتخاب کے طور پر۔ لیکن آج کی پڑھی لکھی، باشعور اور خود کمانے والی عورت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ کیا وہ اپنی بقیہ عمر شوہر کے ساتھ گزارنا چاہتی ہے، اکیلے رہنا چاہتی ہے یا اپنی اولاد کے ساتھ۔ یہ عورت اب معاشرے کے اُس فلسفۂ قربانی کے ساتھ نہیں کھڑی جو صرف عورت ہی سے توقع رکھتا تھا۔ آج وہ انفرادیت (Individualism) کو بھی اہمیت دیتی ہے۔ جہاں اُسے محسوس ہو کہ کسی رشتے میں جذباتی وابستگی باقی نہیں رہی اور یہ رشتہ اس کی ذہنی و جسمانی صحت کو متاثر کر رہا ہے، وہاں وہ الگ ہو کر اپنی زندگی سکون اور عزت کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کر لیتی ہے۔

یوں شادی کا رشتہ اب ایک نئے معنی اختیار کرتا جا رہا ہے۔ صرف سماجی دباؤ، داغ یا برداشت کی بنیاد پر اسے زیادہ دیر قائم رکھنا ممکن نہیں رہا۔ جہاں بھی یہ رشتہ ذہنی سکون اور باہمی احترام کی بنیادوں کو پامال کرتا ہے، وہاں طلاق کو ایک نئے زاویے سے دیکھا جانے لگا ہے۔ یہی معاملہ مردوں کے ساتھ بھی ہے۔ وہ بھی عورت کی طرح الگ ہونے کی خواہش رکھ سکتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ معاملات کو باوقار طریقے سے انجام دیا جائے۔

کسی کو برا لگے شاید، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ عمر کی طلاق اور علیحدگی ہمارے معاشرے میں آہستہ آہستہ قبولیت حاصل کر رہی ہے۔


کیس سے بریت کے بعد کریکٹر سرٹیفکیٹ سے FIR کا ذکر ختم کر دیا جائے گا اور بالکل صاف کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گاپشاور ...
26/05/2025

کیس سے بریت کے بعد کریکٹر سرٹیفکیٹ سے FIR کا ذکر ختم کر دیا جائے گا اور بالکل صاف کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا
پشاور ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے (PLD 2025 pesh. 67) میں قرار دیا ہے کہ اگر ملزم کیس سے بری ہو جائے خواہ وہ صلح کی شکل میں ہو تو اس کیس کا تذکرہ پھر اس کے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں بھی نہیں کیا جائے گا
رٹ کے فیصلے میں عدالت عالیہ پشاور نے ڈی پی او (DPO) کو ہدایات جاری کی ہیں کہ پٹیشنرز(درخواست گزاروں) کو کسی بھی FIR اور اس کے فیصلے کے تذکرے کے بغیر کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں کیونکہ جس کیس میں ملزم بری ہو جائے تو وہ اس طرح ہی ہو گا جیسے وہ کیس کبھی درج ہی نہ ہوا ہو
اگر آپ بھی FIR سے بری ہو چکے ہیں تو ڈی پی او کو درخواست دیں ،اگر پھر بھی ایف آئی آر شو ہو رہی ہو تو ہائی کورٹ میں رٹ کر کے صاف کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں














Whatsapp
00923110476430

25/05/2025

قانونی مسئلہ درپیش ہے؟ ماہر وکلاء سے رابطہ کریں!
ہم پاکستان بھر میں قابلِ اعتماد قانونی خدمات فراہم کرتے ہیں — چاہے وہ سول، فوجداری، خاندانی یا کارپوریٹ قانون ہو۔

ہمیں کیوں منتخب کریں؟

تجربہ کار اور پروفیشنل وکلاء

شفاف مشورے اور فوری رہنمائی

قابلِ برداشت فیس

رازداری اور کلائنٹ پر مبنی سروس

اپنے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں — آج ہی ہم سے رابطہ کریں!

مشورہ مفت ہے۔

#انصاف

Facing Legal Issues? Let the Experts Handle It!we offer trusted legal services across Pakistan — from civil and criminal...
25/05/2025

Facing Legal Issues? Let the Experts Handle It!
we offer trusted legal services across Pakistan — from civil and criminal law to family disputes and corporate matters.

Why Choose Us?

Experienced legal team

Transparent advice

Affordable consultations

Confidential & client-first approach

Protect your rights with the legal support you deserve.

Contact us today – Your first consultation is FREE!

Address

Sadiq Plaza, Lahore High Court The Mall Lahore
Lahore
540000

Telephone

+923219564808

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Online Legal Advice posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Online Legal Advice:

Share

Category

Our Story

We provide Free Legal Advice. We are the Team of top Barristers and lawyer who have lot of experience in litigation and consultation.