19/05/2026
“بارِ ثبوت”. (Burden Of Proof )
فوجداری نظامِ انصاف کا وہ سنہری اصول جس نے صدیوں پرانا قانونی ڈھانچہ بدل دیا
سن 1762 میں قائم ہونے والے ایک سخت قانونی نظریے نے طویل عرصے تک یہ تصور قائم رکھا کہ ملزم اپنی بے گناہی خود ثابت کرے۔
پھر سن 1935 میں ایک تاریخی عدالتی فیصلے نے دنیا کو یہ اصول دیا کہ جرم ثابت کرنا ہمیشہ استغاثہ کی ذمہ داری ہے۔
اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی اعلان کر دیا تھا:
“البینۃ علی المدعی” — ثبوت دعویٰ کرنے والے پر ہے۔
اسی عظیم اصول نے بعد ازاں پاکستان کے قانونِ شہادت، عدالتی نظائر اور فوجداری نظامِ انصاف کی بنیاد رکھی۔
معقول شک کوئی فنی کمزوری نہیں بلکہ شہری کی آزادی اور ریاستی اختیار کے درمیان کھڑی آخری قانونی دیوار ہے۔
مہذب معاشروں میں عدالتیں الزام پر نہیں بلکہ ناقابلِ تردید ثبوت پر فیصلے کرتی ہیں، کیونکہ ایک بے گناہ کو سزا دینا پورے نظامِ انصاف کی ناکامی ہے۔