Adv Chaudhary Usama Akbar Gill

Adv Chaudhary Usama Akbar Gill Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Adv Chaudhary Usama Akbar Gill, Criminal lawyer, Office 31, 3rd Floor Sadiq Plaza Mall Road, Lahore.

Where Legal Expertise Meets Trusted Advocacy ⚖️
Criminal | FIA | Family | Civil | Banking | Anti-Terrorism
Agreements • Contracts • Legal Drafting • Dispute Resolution
Bail Matters • Court Representation • Legal Consultancy

🤙 03076753065

صدر مملکت کی "ڈیفنس فورسز آف پاکستان بل 2026" کی توثیق کے بعد یہ باقاعدہ قانون کا درجہ حاصل کرکے مورخہ 20 اگست 2026 کو س...
21/08/2026

صدر مملکت کی "ڈیفنس فورسز آف پاکستان بل 2026" کی توثیق کے بعد یہ باقاعدہ قانون کا درجہ حاصل کرکے مورخہ 20 اگست 2026 کو سرکاری گزٹ میں شائع ہوکر ملک بھر میں نافذ العمل بھی ہوچکا ہے ۔
نوٹ: وفاقی کابینہ نے 20 اگست 2026 کو اس بل کی منظوری دی تھی۔ اسی روز ہی اس بل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش گیا اور اسی روز قومی اسمبلی سے منظوری کے فوری بعد 20 اگست کو ہی سینٹ کے اجلاس میں پیش کرکے منظور کرایا گیا اور اسی روز یعنی 20 اگست کو ہی صدر مملکت کی توثیق کے بعد اسی روز 20 اگست کے سرکاری گزٹ میں بھی شائع کردیا گیا

The Defense Forces of Pakistan Act, 2026
(Act No. XLVII of 2026)
20 August 2026

21/08/2026

اہم قانونی نکات

1. شناخت پریڈ میں محض ملزم کی شناخت کافی نہیں، بلکہ گواہ کو یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ وقوعہ میں ہر ملزم نے کیا کردار ادا کیا۔

2. گواہوں نے صرف درخواست گزاران اور شریک ملزم چند کو شناخت کیا، مگر ان کی ظاہری حلیہ یا وقوعہ میں مخصوص کردار بیان نہیں کیا۔

3. ایسی شناخت پریڈ آرٹیکل 22، قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے تقاضوں کے مطابق نہیں سمجھی جائے گی۔

4. جس شناخت پریڈ میں ملزم کے مبینہ کردار کی وضاحت نہ ہو، وہ اپنی **مؤثر شہادتی حیثیت کھو دیتی ہے**۔

5. ایسی شناخت پریڈ کو سزا کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

6. سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ملزم کی شناخت کو اس کے مبینہ کردار سے جوڑنا ضروری ہے؛ محض شناخت بذاتِ خود قابلِ اعتماد شہادت نہیں۔

7. عدالت نے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس اصول کو دوبارہ واضح کیا کہ **Role-less Identification Parade has no evidentiary value.**

# # # عنوان

**2025 SCMR 1742 — شناخت پریڈ میں ملزم کا مخصوص کردار بیان نہ ہو تو شناخت بےحیثیتِ شہادت ہے**

Muhammad Ramzan v. The State
J.P. No. 213/2024

2026 SCMR 480 — اہم قانونی نکات1. قتلِ عمد کے مقدمہ میں قانونی ورثاء نے ٹرائل کورٹ کے سامنے ملزم کے ساتھ صلح اور معافی ک...
20/08/2026

2026 SCMR 480 — اہم قانونی نکات

1. قتلِ عمد کے مقدمہ میں قانونی ورثاء نے ٹرائل کورٹ کے سامنے ملزم کے ساتھ صلح اور معافی کے بیانات دیے۔

2. تمام قانونی ورثاء نے حلف نامے جمع کرائے اور عدالت میں گواہی دی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ملزم کو معاف کر دیا ہے اور کسی قسم کا معاوضہ وصول نہیں کیا۔

3. قانونی ورثاء نے ملزم کی بریت پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔

4. بعد ازاں قانونی ورثاء اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوگئے، تاہم انہوں نے ٹرائل کورٹ میں ریکارڈ کیے گئے صلح کے بیانات کو ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا۔

5. سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایک مرتبہ قانونی ورثاء کے بیانات عدالت میں ریکارڈ ہوجائیں اور انہیں چیلنج نہ کیا جائے تو بعد میں محض ان بیانات سے انحراف کرکے معاملہ دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

6. ملزم تقریباً 10½ سال ڈیتھ سیل میں قید رہا، جو سزا کے تعین میں ایک اہم امر تھا۔

7. سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صلح اور معافی کے حالات میں ملزم کو دی گئی سزائے موت برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

8. عدالتِ عظمیٰ نے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت کو تبدیل کرکے عمر قید میں تبدیل کر دیا۔

9. درخواست زیرِ دفعہ 338-E PPC بمعہ دفعہ 345 Cr.P.C. جزوی طور پر منظور کی گئی۔

10. اصول: قانونی ورثاء کی جانب سے عدالت میں باقاعدہ صلح، معافی اور عدمِ اعتراض کے بیانات ریکارڈ ہونے کے بعد بعد ازاں محض زبانی طور پر ان سے انحراف کی قانونی حیثیت محدود ہوجاتی ہے، خصوصاً جب سابقہ بیانات کو بروقت چیلنج نہ کیا گیا ہو۔

عنوان

2026 SCMR 480 — قانونی ورثاء کے صلح کے بیانات سے بعد ازاں انحراف، سزائے موت کا عمر قید میں تبدیل ہونا

سپریم کورٹ کا عمران خان صاحب کی ہسبتال منتقلی اور ملاقات کا آرڈر۔
18/08/2026

سپریم کورٹ کا عمران خان صاحب کی ہسبتال منتقلی اور ملاقات کا آرڈر۔

زمین پر ناجائز قبضے کے معاملے میں متعلقہ سرکاری ادارے کو شکایت دینے کے باوجود کارروائی نہیں ہو رہی یا غیر ضروری تاخیر کا...
17/08/2026

زمین پر ناجائز قبضے کے معاملے میں متعلقہ سرکاری ادارے کو شکایت دینے کے باوجود کارروائی نہیں ہو رہی یا غیر ضروری تاخیر کا سامنا ہے؟

ایسی صورت میں آپ دفتر محتسب پنجاب سے رجوع کر سکتے ہیں۔ محتسب پنجاب سرکاری اداروں کی بدانتظامی، غفلت یا غیر ضروری تاخیر سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے کوشاں ہے۔

ہیلپ لائن: 1050

Facing issues due to illegal land occupation?

If you have approached the concerned government department regarding an illegal land occupation or encroachment, but your complaint has not been addressed or is facing unnecessary delay, you may approach the Office of the Ombudsman Punjab.

The Office addresses complaints regarding maladministration, inaction, or undue delay by government departments.

Helpline: 1050

Ombudsman Punjab | Complaint Redressal | Complaint Registration | Helpline 1050 | Mohtasib Punjab

16/08/2026

ضمانت کے حکم میں دی گئی آراء عارضی (Tentative) ہوتی ہیں اور صرف ضمانت کی درخواست کے فیصلے تک محدود رہتی ہیںں، ان سے فریقین کے حقوق یا مقدمے کے میرٹ پر حتمی فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

Observations made in bail order are tentative and confined solely to the disposal of bail application and shall not prejudice the rights of the parties or the case on its merits.

2026 SCMR 917

رجسٹرڈ مختارنامہ کے تحت زمین فروخت کرنے کا اختیار معاہدۂ فروخت تک وسیع ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہدیو...
13/08/2026

رجسٹرڈ مختارنامہ کے تحت زمین فروخت کرنے کا اختیار معاہدۂ فروخت تک وسیع ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ
دیوانی اپیل نمبر 435-L اور 436-L از 2012
فیصلہ: 10 اگست 2026
مقدمہ: سعد یونس وغیرہ بنام غلام باری وغیرہ
اس مقدمہ میں اصل تنازع یہ تھا کہ زمین کے مالک کی طرف سے بنائے گئے رجسٹرڈ مختارنامے کے تحت مختار کو زمین فروخت کرنے کا اختیار حاصل تھا یا نہیں، اور کیا اس اختیار کے تحت وہ زمین فروخت کرنے کا معاہدہ بھی کر سکتا تھا۔

سپریم کورٹ کے سامنے اصل سوال یہ تھا اکہ کیا ہائی کورٹ نے نظرثانی کے اختیار میں ماتحت عدالتوں کی کنکریٹ فائنڈنگز میں مداخلت کرکے درست کیا؟
اور:
کیا زمین فروخت کرنے کا اختیار رکھنے والا مختار، واضح پابندی نہ ہونے کی صورت میں زمین فروخت کرنے کا معاہدہ بھی کر سکتا ہے؟
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ رجسٹرڈ مختارنامے کو قانون کے تحت خاص اہمیت حاصل ہے۔
قانونِ شہادت کے آرٹیکل 95 کے مطابق باقاعدہ تصدیق شدہ مختارنامے کے بارے میں عدالت اس کے درست طور پر بنائے جانے کا مفروضہ رکھتی ہے، جب تک اس کے خلاف مضبوط ثبوت پیش نہ کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے اس اصول کی وضاحت کے لیے متعدد سابقہ فیصلوں کا حوالہ بھی دیا، جن میں:
Mst. Iqbal Bibi v. Kareem Hussain Shah — 2024 SCMR 1233
Anjuman-e-Khuddam-ul-Qur'an v. Lt. Col. (R) Najam Hameed — PLD 2020 SC 390
Abdul Aziz v. Abdul Hameed — 2022 SCMR 842
شامل ہیں۔
نظرثانی کے اختیار پر سپریم کورٹ کا اہم اصول۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ نظرثانی کی عدالت، اپیل کی عدالت نہیں ہوتی۔
اگر ماتحت عدالت اور پہلی اپیل کی عدالت دونوں نے شواہد کا جائزہ لے کر ایک ہی نتیجہ نکالا ہو تو ہائی کورٹ صرف اس وجہ سے ان نتائج کو تبدیل نہیں کر سکتی کہ اسے شواہد کی دوسری تشریح زیادہ مناسب محسوس ہوتی ہے۔
نظرثانی میں مداخلت کے لیے واضح قانونی خرابی، اختیارِ سماعت کی غلطی، اہم شواہد کو غلط پڑھنا یا نظرانداز کرنا، یا ایسا فیصلہ ہونا ضروری ہے جو واضح طور پر ناقابلِ قبول ہو۔
صرف دوسری رائے ممکن ہونا نظرثانی میں مداخلت کی کافی وجہ نہیں ہے۔
زمین فروخت کرنے کا اختیار اور معاہدۂ فروخت
سپریم کورٹ نے اس نکتے پر بھی ہائی کورٹ سے اختلاف کیا۔ عدالت نے معاہدہ قانون کی دفعات 188 اور 189 کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ جب اصل مالک کسی شخص کو کوئی کام کرنے کا اختیار دیتا ہے تو اس کام کو مکمل کرنے کے لیے ضروری اور معمول کے ضمنی کام بھی اس اختیار میں شامل ہو سکتے ہیں، جب تک مختارنامے میں واضح پابندی موجود نہ ہو۔
لہٰذا اگر کسی مختار کو زمین فروخت کرنے کا اختیار دیا گیا ہے تو عام طور پر اس اختیار میں زمین فروخت کرنے سے پہلے معاہدۂ فروخت کرنے کا اختیار بھی شامل ہو سکتا ہے۔
کیا احمد دین پر کوئی پابندی تھی؟
سپریم کورٹ نے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا جس سے ثابت ہو کہ احمد دین کو زمین فروخت کرنے کا معاہدہ کرنے سے واضح طور پر منع کیا گیا تھا۔
اس لیے زمین فروخت کرنے کا اختیار ہونے کی صورت میں اس مقصد کے لیے معاہدہ کرنا بھی اس کے اختیار کے دائرے میں تھا۔
35 ہزار روپے کا بیعانہ
احمد دین نے 35,000 روپے بطور بیعانہ وصول کیے تھے اور اس رقم کو غلام باری کے زرعی بینک کے قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اس عمل کو بھی مقدمے کے دوسرے شواہد کے ساتھ اہم سمجھا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ محمد یونس معاہدہ پورا کرنے کے لیے تیار تھا اور معاہدہ مکمل نہ ہونے کی وجہ اس کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں بلکہ غلام باری کی جانب سے مختارنامہ ختم کرنا تھا۔
سپریم کورٹ نے نظرثانی کے اختیار اور ماتحت عدالتوں کے بیک وقت نتائج کے بارے میں متعدد سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیا، جن میں:
Sultan Muhammad v. Muhammad Qasim — 2010 SCMR 1630
Muhammad Sarwar v. Hashmal Khan — PLD 2022 SC 13
Mst. Zarsheda v. Nobat Khan — PLD 2022 SC 21
Salamat Ali v. Muhammad Din — PLJ 2023 SC 8
Mst. Farzana Zia v. Mst. Saadia Andaleeb — 2024 SCMR 916
شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ
سپریم کورٹ نے دونوں اپیلیں منظور کر لیں۔
لاہور ہائی کورٹ کا 30 مارچ 2012 کا فیصلہ ختم کر دیا گیا۔
اس کے بجائے:
سینئر سول جج رحیم یار خان کا 29 جولائی 1986 کا فیصلہ بحال کر دیا گیا۔
اور
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج رحیم یار خان کا 25 جولائی 2011 کا فیصلہ بھی بحال کر دیا گیا۔

ڈگری کی تصدیق ادارے کریں گے، میڈیا ٹرائل نہیں!دونوں وکلاء کی LLB ڈگریاں متعلقہ یونیورسٹی اور HEC سے باقاعدہ تصدیق شدہ ہی...
12/08/2026

ڈگری کی تصدیق ادارے کریں گے، میڈیا ٹرائل نہیں!

دونوں وکلاء کی LLB ڈگریاں متعلقہ یونیورسٹی اور HEC سے باقاعدہ تصدیق شدہ ہیں، اس کے باوجود City42 کی جانب سے انہیں مشکوک یا جعلی ظاہر کرنا انتہائی سنگین اور ناقابلِ قبول عمل ہے۔

ہمارا دوٹوک مطالبہ ہے ۔City42 ثبوت پیش کرے کہ ڈگریاں جعلی کیسے ہیں، بصورتِ دیگر فوری تردید، وضاحت اور معذرت نشر کرے۔
پنجاب بار کونسل سے مطالبہ ہے کہ فوری نوٹس لے، ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے اور وکلاء کے وقار و ساکھ کا تحفظ یقینی بنائے۔
پنجاب بار کونسل کو اب یہ باور کرانا ہوگا کہ کوئی بھی ٹک ٹاکر، سوشل میڈیا انفلوئنسر یا دو ٹکے کا میڈیا چینل محض اپنی مرضی سے کسی وکیل کی عزت، ڈگری اور پیشہ ورانہ ساکھ کو نشانہ نہیں بنا سکتا۔
وکلاء کے وقار کے تحفظ کے لیے بار کو مؤثر اور عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔
Raza Subhani Adv (Candidate MPBC)

📜 زمین کے ریونیو ریکارڈ کی اہم اصطلاحات(Land Revenue & Record Terms)اگر آپ زمین یا جائیداد خرید رہے ہیں یا اپنے ریونیو م...
11/08/2026

📜 زمین کے ریونیو ریکارڈ کی اہم اصطلاحات
(Land Revenue & Record Terms)
اگر آپ زمین یا جائیداد خرید رہے ہیں یا اپنے ریونیو مسائل کا حل چاہتے ہیں، تو ان بنیادی اصطلاحات کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے:
1️⃣ انتقال (Mutation): ملکیت کی منتقلی کا سرکاری اندراج۔
2️⃣ خسرہ نمبر (Khasra Number): زمین کے ہر ٹکڑے کا منفرد شناختی نمبر۔
3️⃣ کھاتہ ملکیت (Khewat): مالکانِ اراضی کا مشترکہ ملکیتی ریکارڈ۔
4️⃣ کھتونی (Khatooni): زمین کے قبضہ اور کاشت کا ریکارڈ۔
5️⃣ گرداوری (Girdawari): فصلوں اور زیرِ کاشت زمین کا موسمی معائنہ۔
6️⃣ تتمہ (Tatima): خسرہ نمبر کی ذیلی تقسیم کا ریکارڈ۔
7️⃣ عکس شجرہ (Aks Shajra): گاؤں کے نقشے کی مصدقہ نقل۔
8️⃣ مثل حقیقت (Misal Haqiat): حقوقِ ملکیت کا بنیادی ریونیو ریکارڈ۔
9️⃣ حد بندی (Demarcation): زمین کی قانونی حدود کا تعین۔
🔟 تقسیمِ اراضی (Partition): مشترکہ زمین کو شریک مالکان میں قانونی طور پر تقسیم کرنا۔
1️⃣1️⃣ قبضہ (Possession): زمین پر عملی تصرف یا کنٹرول۔
1️⃣2️⃣ موضع (Revenue Estate): ریونیو ریکارڈ میں الگ شناخت رکھنے والا گاؤں۔
1️⃣3️⃣ فردِ ملکیت (Fard): ملکیت کی مصدقہ نقل۔
1️⃣4️⃣ رجسٹری (Registry / Sale Deed): ملکیت کی منتقلی کی رجسٹرڈ دستاویز۔
1️⃣5️⃣ محصولِ اراضی (Land Revenue): زرعی زمین پر حکومت کی جانب سے عائد ریونیو۔
💡 پیغام:
درست ریکارڈ، محفوظ مستقبل — اپنے حقوق جانیں اور اپنے زمین کے کاغذات مرتب رکھیں۔
👤 ایڈووکیٹ اسامہ اکبر گل
🏢 لغاری لاء ایسوسی ایٹس
📞 رابطہ نمبر: 03076753065

اہم عدالتی تقرریصدرِ پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک سالہ مدت کے لیے 10 وکلاء کو ایڈیشنل ججز مقرر کر دیا۔ تقرریاں حلف...
11/08/2026

اہم عدالتی تقرری
صدرِ پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک سالہ مدت کے لیے 10 وکلاء کو ایڈیشنل ججز مقرر کر دیا۔ تقرریاں حلف اٹھانے کی تاریخ سے مؤثر ہوں گی۔

Address

Office 31, 3rd Floor Sadiq Plaza Mall Road
Lahore
51420

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Chaudhary Usama Akbar Gill posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Adv Chaudhary Usama Akbar Gill:

Shortcuts

Share