Adv Chaudhary Usama Akbar Gill

Adv Chaudhary Usama Akbar Gill Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Adv Chaudhary Usama Akbar Gill, Criminal lawyer, Office 31, 3rd Floor Sadiq Plaza Mall Road, Lahore.

Where Legal Expertise Meets Trusted Advocacy ⚖️
Criminal | FIA | Family | Civil | Banking | Anti-Terrorism
Agreements • Contracts • Legal Drafting • Dispute Resolution
Bail Matters • Court Representation • Legal Consultancy

🤙 03076753065

⚠️ توجہ! آخری تاریخ کا انتظار نہ کریں—ابھی اپنی ٹیکس ریٹرن فائل کریںاگر آپ تنخواہ دار فرد، کاروباری شخصیت، فری لانسر، دک...
24/09/2026

⚠️ توجہ! آخری تاریخ کا انتظار نہ کریں—ابھی اپنی ٹیکس ریٹرن فائل کریں

اگر آپ تنخواہ دار فرد، کاروباری شخصیت، فری لانسر، دکاندار، پراپرٹی کے مالک، کرایہ وصول کرنے والے یا بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہیں تو اپنے مالی معاملات کا بروقت جائزہ لیں اور ٹیکس سال 2026 کی انکم ٹیکس ریٹرن 30 ستمبر تک لازمی فائل کروائیں۔

کچھ لوگ یہ سوچ کر انتظار کر رہے ہیں کہ شاید ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ بڑھا دی جائے۔ ایسی غیر مصدقہ اطلاعات پر بھروسا نہ کریں۔ آخری دنوں میں IRIS سسٹم پر رش، دستاویزات کی کمی یا تکنیکی خرابی آپ کے لیے مشکل پیدا کر سکتی ہے۔

✅ اپنی آمدن اور اخراجات درست ظاہر کریں
✅ بینک اکاؤنٹس، جائیداد، گاڑی اور دیگر اثاثوں کی تفصیل چیک کریں
✅ ویلتھ اسٹیٹمنٹ اور ٹیکس ریٹرن میں مطابقت رکھیں
✅ جرمانے اور غیر ضروری ٹیکس پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے بروقت فائلنگ کریں

30 ستمبر کا انتظار نہ کریں—آج ہی اپنی ٹیکس ریٹرن مکمل کروائیں۔
03076753065

#فائلر #پاکستان

23/09/2026

لاہور ہائی کورٹ، لاہور

23/09/2026
پنجاب جوڈیشل سروس رولز 1994 میں اہم ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ سول جج کم مجسٹریٹ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سی...
22/09/2026

پنجاب جوڈیشل سروس رولز 1994 میں اہم ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ سول جج کم مجسٹریٹ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے مقابلے کے امتحان میں امیدوار کو زیادہ سے زیادہ تین مواقع حاصل ہوں گے، جبکہ جنرل نالج کے پرچے میں MCQs کے ساتھ Fill in the Blanks اور مختصر سوالات بھی شامل ہوں گے۔

Important decision of the supreme court regarding the proof of possession of the property by installing the electric cit...
22/09/2026

Important decision of the supreme court regarding the proof of possession of the property by installing the electric city metre.

Important decision about pension
22/09/2026

Important decision about pension

لاہور ہائی کورٹ کا عطائیت کے خلاف بڑا فیصلہ! میڈیکل اسٹور لائسنس کے تحت الپیتھک علاج اور انجیکشن لگانا غیر قانونی قرار۔ک...
21/09/2026

لاہور ہائی کورٹ کا عطائیت کے خلاف بڑا فیصلہ! میڈیکل اسٹور لائسنس کے تحت الپیتھک علاج اور انجیکشن لگانا غیر قانونی قرار۔

کیا ڈسپنسر کا لائسنس اور میڈیکل اسٹور کا پرمٹ آپ کو انجیکشن لگانے یا علاج کرنے کا قانونی حق دیتا ہے؟ لاہور ہائی کورٹ کا اہم اور بڑا فیصلہ!

جانئے مکمل تفصیلات اس تحریر میں!

Case No: W.P. No.33544 of 2022

Court: Lahore High Court, Lahore

Judge: Honorable Mr. Justice Munawar Iqbal Duggal

Parties:
Punjab Healthcare Commission VERSUS District & Sessions Judge, Faisalabad and another (Respondent No.2)

Date of Hearing / Decision: 03.09.2026

Final Decision Of Court

لاہور ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ جج فیصل آباد کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی آئینی درخواست منظور کر لی۔ عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ میڈیکل اسٹور چلانے یا ڈسپنسر کا ڈپلومہ رکھنے سے کسی شخص کو آزادانہ طور پر مریضوں کا الپیتھک علاج کرنے یا انجیکشن لگانے کا اختیار حاصل نہیں ہو جاتا۔ ڈسپنسر سرٹیفکیٹ پر واضح درج ہوتا ہے کہ یہ کسی کو کلینک کھولنے یا آزاد پریکٹس کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شخص دباؤ یا جبر کا الزام لگاتا ہے تو اسے ٹھوس ثبوت پیش کرنا ہوں گے، محض زبانی دعویٰ کافی نہیں۔ نیز بغیر کسی احتجاج کے جرمانہ جمع کرا دینا بھی اعترافِ جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا ہیلتھ کیئر کمیشن کی کمیٹی کی طرف سے عائد کردہ 3,000,000 روپے کا جرمانہ قانونی طور پر بالکل درست ہے۔

اہم قانونی نکات (Important Legal Findings):

میڈیکل اسٹور بمقابلہ علاج:
ڈرگ سیل لائسنس صرف ادویات فروخت کرنے یا اسٹور کرنے کا حق دیتا ہے، یہ مریضوں کا علاج کرنے یا انجیکشن لگانے کا پرمٹ نہیں ہے۔

ڈسپنسر کی حد:
پنجاب میڈیکل فیکلٹی کا ڈسپنسر سرٹیفکیٹ آزادانہ کلینکل پریکٹس کی اجازت نہیں دیتا۔

جبر اور دباؤ کا اثبات: ا
گر کوئی فریق یہ دعویٰ کرے کہ اس سے بیانیہ یا حلف نامہ دباؤ کے تحت لیا گیا، تو قانون شہادت کے تحت اس کا ثبوت فراہم کرنا اسی فریق کی ذمہ داری ہے۔

مریض کا بیان لازمی نہیں:
PHC قوانین کے تحت عطائیت ثابت کرنے کے لیے مریض کا بیان یا نسخہ پیش کرنا لازمی نہیں ہے، دیگر شواہد بھی کافی ہیں۔
جرمانے کا اختیار
: پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی سماعت کمیٹی کو عطائیت کے خلاف قانونی کارروائی اور جرمانہ عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

درخواست گزار (Petitioner) کی طرف سے پیش کردہ عدالتی حوالہ جات:

Punjab Healthcare Commission vs District and Session Judge, Faisalabad, etc. (W.P. No.61047/2019)

Punjab Healthcare Commission versus District and Session Judge, Sargodha, etc. (W.P. No. 17513/2019)

مخالف فریق (Respondent) کی طرف سے پیش کردہ عدالتی حوالہ جات:
M. Hamad Hassan versus Mst. Isma Bukhari (2023 SCMR 1434)

Mst. Tayyeba Ambareen versus Shafqat Ali Kiyani (2023 SCMR 246)

Shajar Islam Versus Muhammad Siddique (PLD 2007 SC 45)

Muhammad Tariq Javed vs Punjab Healthcare Commission etc. (2024 LHC 5323)

اگر آپ ہماری پیج پر فراہم کردہ قانونی معلومات اور آگاہی سے مستفید ہو رہے ہیں، تو براہِ کرم اس تحریر کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک اور فالو کریں۔

اب ہر سیشن اور مجسٹریٹ کورٹ ایف آئی آر کی تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین کرے گی اور رپورٹ آئی جی کو بھیجے گی۔قابلِ دست ...
21/09/2026

اب ہر سیشن اور مجسٹریٹ کورٹ ایف آئی آر کی تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین کرے گی اور رپورٹ آئی جی کو بھیجے گی۔
قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملنے کے باوجود ایف آئی آر درج نہ کرنا یا تاخیر کرنا جس سے ثبوت ضائع ہوں، محض طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ جرم کے ثبوت مٹانے (Section 201 PPC) کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک اہم فیصلہ (Judgment) ہے، جسے جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا ہے اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ بھی اس بنچ کا حصہ تھے۔

1. کیس کا پس منظر اور فیصلہ
* سزا کی توثیق: سپریم کورٹ نے ملزم علی رضا سیال کی درخواستِ اپیل مسترد کر دی ہے۔ ملزم کی عمر قید اور 1,000,000 روپے ہرجانے کی سزا (جو اسے قتل کے جرم میں دی گئی تھی) کو برقرار رکھا گیا ہے۔
* واقعہ: یہ واقعہ 30 اپریل 2012 کو دادو (سیتا روڈ) میں پیش آیا تھا، جہاں ملزم نے اپنے والد کی شہ پر عاشقان علی (مقتول) کو خنجر مار کر قتل کر دیا تھا۔
* عدالتی موازنہ: عدالت نے قرار دیا کہ مقتول کے بیٹے (مستغیث) اور بھتیجے کی گواہی بالکل سچی، اعتماد کے قابل اور میڈیکل رپورٹ (ڈاکٹر کی رپورٹ) سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔ آلۂ قتل (خنجر) بھی ملزم کی نشاندہی پر برآمد ہوا تھا۔ گواہوں کی آپسی رشتہ داری یا وقت گزرنے کے باعث معمولی تضادات سے مرکزی کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
2. ایف آئی آر (FIR) میں تاخیر اور پولس کی غفلت
* پولیس کا رخ: واقعہ 30 اپریل 2012 کی رات 8:30 بجے ہوا، اور پولیس کو 8:40 بجے ہی اطلاع مل گئی تھی (روزنامچے اور لاش جانچ فارم کے مطابق پولیس 9:00 بجے موقع پر موجود تھی)۔ اس کے باوجود ایف آئی آر 3 دن بعد (3 مئی 2012) درج کی گئی۔
* شہری کا دفاع: عدالت نے واضح کیا کہ ایف آئی آر میں یہ تاخیر مدعی/مستغیث کی طرف سے نہیں بلکہ پولیس کی غفلت کی وجہ سے ہوئی۔ لہٰذا، پولیس کی سستی یا ناہلی کی سزا شاکی (فریادی) کو نہیں دی جا سکتی۔
3. پولیس اصلاحات اور عدالتی ہدایات
عدالت نے سندھ اور دیگر صوبوں کی پولیس کے رویے اور نظام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل اہم احکامات جاری کیے:
* نوآبادیاتی (Colonial) الفاظ کا خاتمہ:
* پولیس کے کاغذات میں "فریادی" یا "بخدمت جناب ایس ایچ او" جیسے الفاظ کے استعمال کو سختی سے منع کر دیا گیا۔
* عدالت نے کہا کہ شہری اپنے حق کے لیے پولیس کے پاس آتے ہیں، رحم کی بھیک یا التجا (Cry/Lamentation) کے لیے نہیں۔ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، مالک نہیں۔
* پولیس افسران کے خلاف سیشن 201 PPC کے تحت کارروائی:
* اگر پولیس کو قابلِ دست اندازی (Cognizable) جرم کی اطلاع مل جائے اور وہ قصداً ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کرے جس سے ثبوت یا فارنزک ثبوت ضائع ہوں، تو یہ صرف طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ جرم کے ثبوت مٹانے (Section 201 PPC) کے زمرے میں آئے گا اور متعلقہ پولیس اہلکار کے خلاف پرچہ درج ہو سکتا ہے۔
* عدالتی اداروں (Trial Courts) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایف آئی آر میں پولیس کی جانب سے تاخیر کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی و محکماتی کارروائی کا حکم دیں۔
* آئی جی ایس (IGPs) کو توہینِ عدالت کی تنبیہ:
* سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس فیصلے کے بعد اگر ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر یا پرانے نوآبادیاتی الفاظ کا استعمال جاری رہا، تو تمام آئی جی پیز (IGPs)، ایس پیز (SP Investigation) اور ایس ڈی پی اوز (SDPOs) کے خلاف توہینِ عدالت (Contempt of Court) کی کارروائی کی جائے گی۔
* دیگر انتظامی احکامات:
* پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو حکم دیا گیا کہ وہ 1 جنوری 2025 سے فیصلے کی تاریخ تک کے تمام قتل کے مقدمات کا ریکارڈ (جس میں 24 گھنٹے سے زیادہ تاخیر سے FIR درج ہوئی) 2 ماہ کے اندر عدالت کے چیمبر میں جمع کرائیں۔
* رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ 'محمد بخش کیس' کے سابقہ تاریخی فیصلے کا سندھی زبان میں ترجمہ کروا کر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کریں تاکہ عام عوام اپنے حقوق سے آگاہ ہو سکے۔
نتیجہ: سپریم کورٹ نے ملزم کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی اور ساتھ ہی سندھ پولیس میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور تحکمانہ زبان کے استعمال پر سخت قانونی قدغنیں عائد کر دیں۔

Adv Ghulam Qadir Chohan
03339921969

سپریم کورٹ کا خلع اور ظلم کی بنیاد پر تنسیخ نکاح سے متعلق تاریخی فیصلہPLJ 2026 SC 406Mst. Selab Akhtar Vs Quwat KhanCPLA...
21/09/2026

سپریم کورٹ کا خلع اور ظلم کی بنیاد پر تنسیخ نکاح سے متعلق تاریخی فیصلہ
PLJ 2026 SC 406

Mst. Selab Akhtar Vs Quwat Khan
CPLA No. 4792 of 2025 - فیصلہ 06 جنوری 2026
بنچ: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس شکیل احمد

پس منظر کیس:
فریقین کی شادی 19.09.2016 کو تحصیل مٹہ ضلع سوات میں شریعت محمدی کے مطابق ہوئی، 30 تولہ سونا حق مہر مقرر ہوا۔ بیوی کا موقف تھا کہ شوہر اور سسرال نے ظلم، جبر، ذہنی اذیت اور تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر سے نکال دیا۔
بیوی نے فیملی کورٹ سوات میں دعویٰ دائر کیا: 1) ظلم کی بنیاد پر تنسیخ نکاح، 2) 30 تولہ حق مہر کی واپسی، 3) نان نفقہ۔
فیملی کورٹ نے 29.06.2019 کو فیصلہ دیا: ظلم ثابت نہیں ہوا لیکن عدالت نے خود ہی نکاح کو *خلع کی بنیاد پر* ختم کر دیا۔ اور کہا کہ 10 تولہ بیوی پہلے ہی وصول کر چکی ہے، باقی 20 تولہ خلع کے تحت واپس کرنا ہوگا۔ صرف عدت کا خرچ 5000 روپے ماہانہ دیا، ماضی کا نان نفقہ خارج۔
اپیلٹ کورٹ اور پھر پشاور ہائیکورٹ مینگورہ بنچ (22.09.2025) نے بھی یہی فیصلہ برقرار رکھا۔ جس پر بیوی نے سپریم کورٹ میں اپیل کی۔

سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی سوال:
کیا جب بیوی ظلم کی بنیاد پر خلع کا دعویٰ کرے اور ظلم ثابت نہ کر سکے، تو کیا فیملی کورٹ اسے زبردستی خلع پر مجبور کر کے اس کا حق مہر ضبط کر سکتی ہے؟

سپریم کورٹ نے قرار دیا:

1. ظلم اور خلع میں مالی فرق بہت بڑا ہے:
اگر ظلم ثابت ہو جائے تو بیوی کو پورا حق مہر ملتا ہے اور اسے معاف نہیں کرنا پڑتا۔ لیکن اگر خلع کی بنیاد پر نکاح ختم ہو تو بیوی کو حق مہر واپس کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے عدالت بیوی کے دعویٰ کو میکینکل طور پر خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی۔ اس سے بیوی کے قیمتی مالی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

2. خلع بیوی کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا:
سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلوں _Ibrahim Khan vs Mst. Saima Khan (PLD 2024 SC 645)_ اور _Dr. Faryal Maqsood vs Khurram Shehzad Durrani (PLD 2025 SC 262)_ کا حوالہ دے کر کہا:
خلع ایک الگ قانونی راستہ ہے جو بیوی کے واضح اور رضاکارانہ فیصلے پر مبنی ہے۔ اگر بیوی نے صرف ظلم کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے تو عدالت کو اس سے *واضح طور پر پوچھنا ہوگا* کہ کیا وہ ظلم والا دعویٰ چھوڑ کر خلع لینا چاہتی ہے؟ اس کی باخبر اور آزاد مرضی معلوم کرنا ضروری ہے۔

3. اگر نکاح ناقابل تلافی حد تک ٹوٹ چکا ہو تو کیا ہوگا؟
عدالت نے کہا کہ حقیقت سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ اگر:
- ظلم قانون کے مطابق ثابت نہ ہو
- لیکن شادی حقیقت میں مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہو، میاں بیوی الگ رہ رہے ہوں، نفرت بڑھ چکی ہو اور بیوی واپس جانے سے صاف انکار کر رہی ہو
تو عدالت زبردستی ان کو ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ ایسی صورت میں عدالت کو بیوی کو *آپشن (Choice)* دینا چاہیے کہ وہ اپنا دعویٰ واپس لے یا قانونی شرائط پر خلع قبول کر لے۔ مردہ رشتے کو صرف کاغذوں میں زندہ نہیں رکھا جا سکتا۔

4. ظلم کا مطلب اب صرف جسمانی تشدد نہیں:
سپریم کورٹ نے وضاحت کی کہ ظلم کا دائرہ اب بہت وسیع ہو چکا ہے۔ اس میں شامل ہے:
مسلسل تذلیل، جذباتی تشدد، جبر، کنٹرول، محرومی، بے عزتی اور ایسا رویہ جس سے ساتھ رہنا ناقابل برداشت ہو جائے۔ ذہنی ظلم بھی ظلم میں شامل ہے۔

*5. ثبوت کا معیار:*
فیملی کیسز میں ثبوت کا معیار _Preponderance of Probabilities_ ہے، یعنی فوجداری مقدمات کی طرح سخت ثبوت کی ضرورت نہیں۔ حالات، رویہ اور ریکارڈ کو دیکھا جائے گا۔

موجودہ کیس میں سپریم کورٹ کا حکم:
سپریم کورٹ نے اس نکتے کو بہت اہم قرار دیا کہ فیملی کورٹ نے بیوی سے اس کی واضح مرضی معلوم کیے بغیر اس کا دعویٰ خلع میں بدل کر اس کا 20 تولہ حق مہر ضبط کر لیا، جو درست نہیں۔

یہ فیصلہ تمام فیملی وکلاء اور خلع کے کیسز کے لیے ایک رہنما فیصلہ ہے۔

مزید اہم قانونی فیصلوں اور اپڈیٹس کے لیے ہمارے پیج کو فالو کریں۔

Address

Office 31, 3rd Floor Sadiq Plaza Mall Road
Lahore
51420

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Chaudhary Usama Akbar Gill posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Adv Chaudhary Usama Akbar Gill:

Shortcuts

Share