Muaz Law Firm

Muaz Law Firm Helping People to Protect Their Fundamental Rights Guaranteed By The Constitution Of Islamic Republ

22/09/2025
13/06/2025

آج درجہ حرارت 49 ڈگری تک جا پہنچا یہ گزشتہ دو دہائیوں کا سب سے گرم دن ہے کیا ہم آنے والی نسلوں کو ایک جلتی ہوئی زمین پر چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں
کیا ہم اپنے بچوں کو وہ سبز درخت، ٹھنڈی ہوائیں اور نیلا آسمان نہیں دینا چاہتے جو کبھی ہمارے بچپن کا حصہ تھا؟
یہ صرف گرمی نہیں، یہ فطرت کا انتباہ ہے۔
اگر آج ہم نے فطرت کا ساتھ نہ دیا تو کل فطرت ہمیں جینے نہیں دے گی۔
🌳 درخت لگائیں

اب بھی وقت ہے ادھار لیں یا قسطیں کروالیں خرچے کم کرلیں یا ایک مہینہ اور کچھ بھی نہ خریدیںکچھ بھی کریں لیکن ایک کام ضرور ...
19/05/2025

اب بھی وقت ہے ادھار لیں یا قسطیں کروالیں خرچے کم کرلیں یا ایک مہینہ اور کچھ بھی نہ خریدیں
کچھ بھی کریں لیکن ایک کام ضرور کریں
کہ اس بار گندم اپنی ذاتی خرید کر رکھ لیں
یقین جانیں سال بھر میں آپ کو اپنے خرچوں میں واضح کمی محسوس ہوگی
آپ چاول نہیں کھا سکیں گے کڑھائیاں نہیں کھا پکا سکیں گے سالن نہیں پکے گا
کم از کم انڈے یا پیاز سے روٹی تو کھا لیں گے
گندم گھر کی ہو تو ٹینشن نہیں رہتی
روکھی کھالیں گے لیکن روٹی تو ہوگی پیٹ تو بھر لیں گے نمک مرچ کے ساتھ
گندم کی نئی فصل آ گئی ہے
اور گورنمنٹ نے 2400 روپے فی من قیمت مقرر کی ہے
لیکن بیوپاری 2100 سے 2200 پر ہو رہا ہے
فی من پانچ سو روپے بھی پسائی اور خرچے کے لگا لیں تو 2700 روپے فی من بنے گا
جبکہ عام آدمی کو 20 کلو آٹے کا تھیلا 2800 روپے کا مل رہا ہے یعنی 5600 روپے من
اس وقت جو بندہ بھی افورڈ کر سکتا ہے وہ پہلی فرصت میں سال بھر کی گندم لے لے
اور ہر مہینے حسب ضرورت گندم پسوا کے گھر کا خالص آٹا استعمال کرے۔ بازاری آٹے سے سوجی میدہ چھان نکال لیتے ہیں جس سے وہ معدے و آنتوں کیلئے مضر ہوجاتا ہے
ورنہ دو نمبر آٹا بھی اپ 150 روپے کلو خریدیں گے جس میں سے 18 چیزیں نکال کر غذائیت سے خالی خولی آٹا اپ کو ملے گا اور وہ آپ کو خریدنا پڑے گا.

04/04/2023

‏مصنوعی بیروزگاروں کا ملک

جب میں نے دو سال قبل یورپ کو خیر باد کہہ کر گراس روٹ لیول پر کُچھ کرنے کی غرض سے گاؤں میں کھیتی باڑی اور سسٹین ایبل ایگریکلچر کو عملی طور پر متعارف کروانے کی غرض سے کمر باندھی تو میرے ذہن میں کُچھ ازمپشنز یا مفروضے تھے۔۔۔۔سرفہرست جن میں یہ کہ گاؤں کے بیروزگار نوجوانوں کو گاؤں میں ہی کُچھ کرنے کے مواقع ملیں گے۔ انویسٹمنٹ شہر کی بجائے گاؤں میں ہوگی تو لوکل آبادی کو روزگار ملےگا اور وہ اس سے براہ راست فوائد حاصل کرینگے۔
آج مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ مفروضہ بلکل غلط ثابت ہوا۔ گاؤں تو سفید کاٹن پوش چودھریوں کی آماجگاہ تھا۔ نوجوان سارا دن بن سنور کر 125 پر گلیوں میں "کتے بُھونکاتے" یا پھر غربت اور بیروزگاری پر حکمرانوں کو کوستے نظر آتے۔ دو مہینے تک ہمیں مقامی مستری مزدور نہ ملے کہ فارم کی تعمیر شروع کی جا سکے۔ اُن کے نخرے آسمانوں پر تھے۔ بلاآخر لیہ اور بھکر سے لیبر آئی اور فارم تعمیر ہوا۔
تعمیر کے بعد ورکرز کی ضرورت تھی۔ سولر سسٹم پر بجلی کی 24/7 مفت فراہمی اور لینٹر پلستر والی پکی رہائش ود فلش سسٹم، مفت سبزیاں، جدید زرعی آلات کے ساتھ آسان کام، ایک اچھا سیلری پیکیج اور دیگر متعدد سہولیات مہیا کرنے کے باوجود ہمیں گاؤں کا کوئی مقامی ورکر نہ مل سکا۔ بلاآخر kpk کے کُچھ لوگ آ کر فارم پر آباد ہوے۔ آج بھی فارم کی ایکسپینشن میں جو سب سے بڑی رکاوٹ آڑے آتی ہے وہ ایماندار اور محنتی لیبر کا نہ ہونا ہے۔
جون کا مہینہ تھا۔ فارم کے گرد تصویر میں کانٹے دار تار کی جو باڑ نظر آ رہی ہے وہ لگوانی تھی۔۔۔دو ہفتے انتظار کے بعد جب کوئی نہ ملا تو بلآخر سیمنٹ کے پِلر ہتھ ریہڑی پر لاد کر خود ہی ساری باڑ لگا ڈالی۔ اس مہم جوئی میں ناتجربہ کاری کی وجہ سے ہاتھ بھی زخمی ہوے مگر۔۔۔۔لگی والیاں نوں چین نہ آوے۔۔۔اور
میسّر آتی ہے فُرصت فقط غلاموں کو
نہیں ہے بندۂ حُر کے لیے جہاں میں فراغ
آجکل گندم کی کٹائی کا سیزن ہے، ہارویسٹر قیمتی ڈیزل کی وجہ سے ایک تو مہنگا پڑتا ہے دوسرا دانے اور بھوسہ بھی ضائع ہوتے ہیں۔ مگر کسان ہارویسٹر اسلیئے استعمال کرنے پر مجبور ہے کہ لیبر نہیں ملتی۔ ایک ایکڑ گندم کی ہتھ کٹائی پر پانچ من گندم دی جاتی ہے۔ لوگ اگر یہ کام کر لیں تو سال بھر کا آٹا کما سکتے ہیں مگر اُنہیں شہر جا کر خیراتی آٹے کے ٹرک کے پیچھے لائنوں میں لگنا گوارہ ہے اپنے گاؤں میں کام کرتے شان گھٹ جائیگی۔ لوگ کہیں گے چودھری صدیق, ملک صاحب دا کامہ بن گیا اے ✋

۔ابنِ اعوان کی چشم کُشا تحریر

24/12/2022

لڑکے نے تصویر مانگی آپ نے دے دی.
لڑکے نے نمبر مانگا آپ نے دے دیا.
لڑکے نے ویڈیو کال کا کہا آپ نے کر لی.
لڑکے نے دوپٹہ ہٹانے کا کہا آپ نے ہٹا دیا.
لڑکے نے کچھ دیکھنے کی خواہش کی آپ نے پوری کر دی.
لڑکے نے ملنے کا کہا آپ ماں باپ کو دھوکا دے کر عاشق سے ملنے پہنچ گئیں.
لڑکے نے باغ میں بیٹھ کر آپ کی تعریف کرتے ہوئے آپ کو سرسبز باغ دکھائے آپ نے دیکھ لیے.
پھر جوس کارنر پر جوس پیتے وقت لڑکے نے ہاتھ لگایا، اشارے کئے، مگر کوئی بات نہیں اب جدید دور ہے یہ سب تو چلتا ہی ہے..
پھر لڑکے نے ہوٹل میں کمرہ لینے کی بات کی، آپ نے شرماتے ہوئے انکار کر دیا کہ شادی سے پہلے یہ سب اچھا تو نہیں لگتا نا...
پھر دو تین بار کہنے پر آپ تیار ہو گئیں ہوٹل کے کمرے میں جانے کیلئے.....
آپ دونوں نے مل کر خوب انجوائے کیا.. انڈرسٹینڈنگ کے نام پر دولہا دلہن بن گئے بس بچہ پیدا نہ ہو اس پر دھیان دیا..........
پھر ایک دن جھگڑا ہوا اور سب ختم کیونکہ حرام رشتوں کا انجام کچھ ایسا ہی ہوتا ہے...
لیکن لیکن...
یہاں سراسر مرد غلط ہے، وہ بھیڑیا ہے، وہ مجرم ہے، وہ سب کچھ ہے.
کیونکہ آپ نے تو تصویر نہیں دی تھی وہ زبردستی آپ کے موبائل میں گھس کر تصویر لے گیا تھا.
آپ نے تو اپنا نمبر نہیں دیا وہ لڑکا خود آپ کے موبائل سے نمبر لے گیا تھا...
آپ نے تو ویڈیو کال نہیں کی وہ لڑکا خود آپ کے گھر پہنچ گیا تھا آپ کو لائیو دیکھنے...
جوس کارنر پر بھی وہ آپ کو زبردستی لے گیا تھا گن پوائنٹ پر...
ہوٹل کے کمرے تک بھی وہ آپ کو زبردستی آپ کے گھر سے لے گیا تھا.....
تو مجرم تو صرف لڑکا ہے آپ تو بالکل بھی نہیں...
بچی ہیں آپ کوئی چار سال کی؟
آپ کو سمجھ نہیں آتی؟
یہ کچرے میں پڑی لاشیں دیکھ کر بھی آپ کو عقل نہیں آتی؟
یہ بنا سر کے ملنے والے دھڑ آپ کی عقل پر کوئی چوٹ نہیں دیتے؟
یہ سوشل میڈیا پر آنے دن زیادتی کے بڑھتے ہوئے کیسز آپ کو کچھ نہیں بتاتے؟
جوس کارنر پر جانا، اپنی برہنہ تصاویر کسی غیر مرد کو دے دینا...
آپ کو نہیں پتا تھا کہ ایک ہوٹل کے کمرے میں یا چار دیواری میں جسموں کی پیاس بجھائی جاتی ہے، برہنہ ہو کر شرم کے چیتھڑے بکھیرے جاتے ہیں؟
سب پتا تھا آپ کو، سب پتا ہے آپ کو....
ہوٹل کے کمرے میں محبت کے افسانے نہیں لکھے جاتے، وہاں دینی تعلیمات نہیں سیکھی جاتی، وہاں کوئی عبادات کی درس گاہیں نہیں ہیں....
پھر شکوہ کے چار لڑکوں نے گروپ ریپ کر دیا...
آپ ایک ہی لڑکے کے پاس بھی کیوں جا رہی ہیں؟
کیا لگتا ہے وہ آپ کا جو وہ آپ کی عزت کا خیال رکھے جو خود آپ کو اسی مقصد کیلئے لے کر جا رہا ہے؟
اپنی غلطی کو تسلیم کریں اور یہ سوشل میڈیا پر یہ ماڈرن مجرے، آزاد خیالی، انڈرسٹینڈنگ، فیشن، میرا جسم میری مرضی چھوڑ دیں یہ سب...
اپنی حدود میں رہیں گی تو آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا...
اور جب آپ خود بھی تیار ہیں تو اسے ریپ یا زیادتی کا نام مت دیں..
اسے sexual harassment مت کہیں...
اسے understanding کہیں..
اسے sexual lust کہیں..
اسے enjoyment کہیں...
اسے entertainment کہیں..
اسے دو طرفہ need کہیں...
اسے بھی پھر time pass کہیں..
اسے modernism کہیں...
اسے fashion کہیں...
مگر مگر یہ r**e نہیں ہے. ..
خدا راہ اپنے آپ کو اس گندگی سے بچا لیں.Copied

30/10/2022

#نامرد

میرا شوہر نامرد ہے اور مجھے خلع چاہیے۔ وہ تنسیخ نکاح کا عام سا کیس تھا۔
اچھی پڑھی لکھی فیملی تھی۔ دو پیارے سے بچے تھے کیوٹ اور معصوم سے لیکن خاتون بضد تھی کہ اسکو ہر حال میں خلع چاہیے، جبکہ میرا موکل مدعا علیہ (شوہر) شدید صدمے کی کیفیت میں تھا - - -
ِجج صاحب اچھے آدمی تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ میاں بیوی کو چیمبر میں لیجا کر مصالحت کی کوشش کرلیں شاید بات بن جائے۔ مدعاعلیہ (شوہر) کا وکیل ہونے کے ناطے اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق میں نے فوری حامی بھر لی۔ جبکہ مدعیہ (بیوی) کے وکیل نے اس پر اچھا خاصہ ہنگامہ بھی کیا لیکن خاتون بات چیت کے لئیے راضی ہوگئی۔

چیمبر میں دونوں میاں بیوی میرے سامنے بیٹھے تھے:-
" ہاں خاتون۔! آپ کو اپنے شوہر سے کیا مسئلہ ہے"؟ - -

" وکیل صاحب یہ شخص مردانہ طور پر کمزور ہیں". - -
میں اسکی بے باکی پر حیران رہ گیا۔ میرے منہ سے ایک موٹی سی گندی سی گالی نکلتے نکلتے رہ گئی۔ البتہ منہ میں تو دے ہی ڈالی۔ ویسے تو کچہری میں زیادہ تر بے باک خواتین سے ہی واسطہ پڑتا ہے لیکن اس خاتون کی کچھ بات ہی الگ تھی۔
اسکے شوہر نے ایک نظر شکایت اس پر ڈالی اور میری طرف امداد طلب نظروں سے گھورنے لگا۔ میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے ذرا بھی شرم حیا نہیں ہے - -
بہرحال میں نے بھی شرم و حیا کا تقاضا ایک طرف رکھا
اور تیز تیز سوال کرنا شروع کر دیے۔
جب اس سے پوچھا :-
" کیا اس کا اپنے مرد سے گزارہ نہیں ہوتا"؟ - -
تو کہتی ہے کہ:-
" ماشاءاللہ دو بچے ہیں ہمارے۔ یہ جسمانی طور پہ تو بالکل ٹھیک ہیں" - - -

" تو بی بی پھر مردانہ طور پر کمزور کیسے ہوئے"؟ - -
میں نے استفسار کیا۔۔۔

وکیل صاحب! میرے بابا دیہات میں رہتے ہیں اور زمینداری کرتے ہیں۔ ہم دو بہنیں ہیں اور میرے والد ہمیں کبھی" دھی رانی" سے کم بلایا ہی نہیں جبکہ میرے شوہر مجھے" کتی " کہہ کے بلاتے ہیں - - -" یہ کونسی مردانہ صفت ہے وکیل صاحب ؟- - "
مجھ سے کوئی چھوٹی موٹی غلط ہو جائے تو یہ میرے پورے میکے کو ننگی ننگی گالیاں دیتے ہیں؟ - -" آپ ہی بتائیں جی اس میں میرے مائیکے کا کیا قصور ہے - - - یہ مردانہ صفت تو نہیں نا کہ دوسروں کی گھر والیوں کو گالی دی جائے - -
وکیل صاحب۔! میرے بابا مجھے شہزادی کہتے ہیں - - - اور یہ غصے میں مجھے " کنجری" کہتے ہیں - -
وکیل صاحب ! مرد تو وہ ہوتا ہے نا جو کنجری کو بھی اتنی عزت دے کہ وہ کنجری نہ رہے اور یہ اپنی بیوی کو ہی کنجری کہہ کر پکارتے ہیں - - - یہ کوئی مردانہ بات تو نہیں ہوئی نہ - - - ؟؟
وکیل صاحب اب آپ ہی بتائیں کیا یہ مردانہ طور پر کمزور نہیں ہیں" ؟ - -
میرا تو سر شرم سے جھک گیا تھا۔ اس کا شوہر بھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسکی طرف دیکھ رہا تھا
" اگر یہی مسئلہ تھا تو تم مجھے بتا سکتی تھیں نا۔ مجھ پر اس قدر ذہنی ٹارچر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔" ؟
شوہر منمنایا۔۔۔

" آپ کو کیا لگتا ہے آپ جب میری ماں بہن کے ساتھ ناجائز رشتے جوڑتے ہیں تو میں خوش ہوتی ہوں۔۔؟ - -
اتنے سالوں سے آپکا کیا گیا یہ ذہنی تشدد برداشت کر رہی ہوں اس کا کون حساب دے گا؟ " - -
بیوی کا پارہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔۔

خیر جیسے تیسے منت سماجت کر کے سمجھا بجھا کے انکی صلح کروائی ۔۔
میرے موکل نے وعدہ کیا کہ وہ آئئندہ اب کبھی اپنی بیوی کو گالی نہیں دے گا اور پھر وہ دونوں چلے گئے۔۔۔

میں کافی دیر تک وہیں چیمبر میں سوچ بچار کرتا رہا کہ گالیاں تو میں نے بھی اس خاتون کو اس کے پہلے جواب پر دل ہی دل میں بہت دی تھیں تو شاید میں بھی نامرد ہوں اور شاید ہمارا معاشرہ نامردوں سے بھرا پڑا ہے...
#منقول

Stamp Duty Reduced.
29/09/2022

Stamp Duty Reduced.

Lahore High Court Declared, E Challan  illegal.
07/06/2022

Lahore High Court Declared, E Challan illegal.

Address

Office # 133F, Raja Center, Main Boulevard Gulberg
Lahore

Opening Hours

Monday 10:00 - 19:00
Tuesday 10:00 - 19:00
Wednesday 10:00 - 19:00
Thursday 10:00 - 19:00
Friday 10:00 - 19:00
Saturday 10:00 - 17:00

Telephone

00923334719926

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muaz Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share