Muhammad Asif Liaqat Virk

Muhammad Asif Liaqat Virk ❤️❤️"ہزاروں درود، ہزاروں سلام، بر روحِ محمد مصطفیٰ ﷺ"❤️❤️

Lawyer, Writer,Political and Social worker

It is not what a lawyer tells me I may do; but what humanity, reason, and justice tell me I ought to do.

06/08/2026

پنجاب حکومت کا اہم اقدام
اشٹام فروشوں کی اجارہ داری ختم
؛
اب آپ وکلاء سمیت ہر شخص آن لائن اشامپ پیپر ڈاؤں لوڈ کرسکتا ہیں
📌 پنجاب ای اسٹمپ پیپر آن لائن حاصل کرنے کا مکمل طریقہ کار (Step by Step Guide)

اگر آپ گھر بیٹھے ای اسٹمپ پیپر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو درج ذیل مراحل پر عمل کریں:

✅ مرحلہ 1:
Punjab e-Stamping System کی ویب سائٹ پر جائیں۔

✅ مرحلہ 2:
اپنا موبائل نمبر درج کر کے OTP کے ذریعے تصدیق (Verification) مکمل کریں۔

✅ مرحلہ 3:
اسٹمپ پیپر کی نوعیت (مثلاً اقرار نامہ، کرایہ نامہ، حلف نامہ، شراکت نامہ، پاور آف اٹارنی وغیرہ) منتخب کریں۔

✅ مرحلہ 4:
خریدار اور متعلقہ فریقین کی معلومات درج کریں، جیسے نام، شناختی کارڈ نمبر اور پتہ۔

✅ مرحلہ 5:
اسٹمپ ڈیوٹی کی رقم درج کریں اور سسٹم سے Payment Slip Identification (P*S) حاصل کریں۔

✅ مرحلہ 6:
P*S کے ذریعے مقررہ رقم بینک، ATM، موبائل بینکنگ، ایزی پیسہ یا جاز کیش کے ذریعے جمع کروائیں۔

✅ مرحلہ 7:
ادائیگی کی تصدیق کے بعد سسٹم سے ای اسٹمپ پیپر ڈاؤن لوڈ کریں۔

✅ مرحلہ 8:
ڈاؤن لوڈ شدہ ای اسٹمپ پیپر کا پرنٹ نکالیں اور مطلوبہ قانونی دستاویز کے ساتھ استعمال کریں۔

⚖️ اہم نوٹ:
✔️ ای اسٹمپ پیپر پر موجود یونیک نمبر اور QR کوڈ کے ذریعے اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔
✔️ معلومات درج کرتے وقت شناختی کارڈ نمبر، نام اور اسٹمپ کی نوعیت احتیاط سے درج کریں۔

لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کے میٹر، بلنگ تنازعات اور تکنیکی معاملات پر سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کردیاٹیسٹنگ رپورٹ، کی...
20/07/2026

لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کے میٹر، بلنگ تنازعات اور تکنیکی معاملات پر سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کردیا

ٹیسٹنگ رپورٹ، کیلکولیشن اور میٹر ریڈنگ کے تنازعات الیکٹرک انسپکٹر کے پاس بھیجے جائیں۔فیصلہ

بجلی کے میٹر کی درستی، تیز یا سست چلنے کے تکنیکی فیصلے صرف الیکٹرک انسپکٹر کر سکتا ہے۔فیصلہ

الیکٹریسٹی ایکٹ 1910 کے تحت بجلی کے میٹروں کی جانچ پڑتال سول عدالتوں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔فیصلہ

بجلی چوری، ڈائریکٹ ہکنگ اور میٹر ٹمپرنگ جیسے معاملات تکنیکی تنازعات کے زمرے میں نہیں آتے۔فیصلہ

بجلی چوری اور فراڈ کے کیسز میں سول عدالتیں شواہد کی بنیاد پر سماعت کا اختیار رکھتی ہیں۔فیصلہ

اگربجلی کمپنی کا اقدام غیر قانونی یا فراڈ پر مبنی ہو تو سول عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔فیصلہ

عوامی شکایات کے ازالے کے لیے نیپرا اور صوبائی حکومت کے تکنیکی فورمز ہی حتمی اتھارٹی ہیں۔فیصلہ

عدالت نے فوت شدگان یاقانونی ورثاء کو شامل کیے بغیر دائر سول درخواست ناقابل سماعت قراردےدی

صارف عبدالکریم کی وفات کے بعد سردار محمد یاسین کی طرف سے دائر دعویٰ قانوناً غلط تھا۔فیصلہ

وراثت کے جائز قانونی ورثاء کو شامل کیے بغیر کیس کی کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔فیصلہ

جسٹس محسن اختر کیانی نے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا

عدالت نے لیسکو کی سول اپیل منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

درخواست گزار نے2 لاکھ 5 ہزار روپے سے زائد کا بجلی بل ادا کرنے کا پابند ہے۔وکیل اپیل کنندہ لیسکو

صارف نے زرعی زمین پر ساڑھے 7 ہارس پاور کی موٹر لگا رکھی تھی، اپیل کنندہ لیسکو کا موقف

لیسکو نے بل میں 19 ہزار سے زائد اضافی یونٹس شامل کیے جو کہ غیر قانونی ہیں۔فریق مخالف کا موقف

بجلی کا بل ضرورت سے زیادہ اور ٹیکنیکل غلطی پر مبنی ہے۔فریق مخالف صارف کاموقف

عدالت اضافی بل کو حذف کرنے کا حکم دے۔صارف کی استدعالاہور ہائیکورٹ نے بجلی کے میٹر، بلنگ تنازعات اور تکنیکی معاملات پر سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کردیا

ٹیسٹنگ رپورٹ، کیلکولیشن اور میٹر ریڈنگ کے تنازعات الیکٹرک انسپکٹر کے پاس بھیجے جائیں۔فیصلہ

بجلی کے میٹر کی درستی، تیز یا سست چلنے کے تکنیکی فیصلے صرف الیکٹرک انسپکٹر کر سکتا ہے۔فیصلہ

الیکٹریسٹی ایکٹ 1910 کے تحت بجلی کے میٹروں کی جانچ پڑتال سول عدالتوں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔فیصلہ

بجلی چوری، ڈائریکٹ ہکنگ اور میٹر ٹمپرنگ جیسے معاملات تکنیکی تنازعات کے زمرے میں نہیں آتے۔فیصلہ

بجلی چوری اور فراڈ کے کیسز میں سول عدالتیں شواہد کی بنیاد پر سماعت کا اختیار رکھتی ہیں۔فیصلہ

اگربجلی کمپنی کا اقدام غیر قانونی یا فراڈ پر مبنی ہو تو سول عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔فیصلہ

عوامی شکایات کے ازالے کے لیے نیپرا اور صوبائی حکومت کے تکنیکی فورمز ہی حتمی اتھارٹی ہیں۔فیصلہ

عدالت نے فوت شدگان یاقانونی ورثاء کو شامل کیے بغیر دائر سول درخواست ناقابل سماعت قراردےدی

صارف عبدالکریم کی وفات کے بعد سردار محمد یاسین کی طرف سے دائر دعویٰ قانوناً غلط تھا۔فیصلہ

وراثت کے جائز قانونی ورثاء کو شامل کیے بغیر کیس کی کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔فیصلہ

جسٹس محسن اختر کیانی نے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا

عدالت نے لیسکو کی سول اپیل منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

درخواست گزار نے2 لاکھ 5 ہزار روپے سے زائد کا بجلی بل ادا کرنے کا پابند ہے۔وکیل اپیل کنندہ لیسکو

صارف نے زرعی زمین پر ساڑھے 7 ہارس پاور کی موٹر لگا رکھی تھی، اپیل کنندہ لیسکو کا موقف

لیسکو نے بل میں 19 ہزار سے زائد اضافی یونٹس شامل کیے جو کہ غیر قانونی ہیں۔فریق مخالف کا موقف

بجلی کا بل ضرورت سے زیادہ اور ٹیکنیکل غلطی پر مبنی ہے۔فریق مخالف صارف کاموقف

عدالت اضافی بل کو حذف کرنے کا حکم دے۔صارف کی استدعا

17/07/2026

سپریم کورٹ نے بچوں کے خرچہ (Maintenance) میں سالانہ اضافے کا طریقہ واضح کر دیا

اگر عدالتی ڈگری میں صرف یہ لکھا ہو کہ ہر سال 20 فیصد اضافہ ہوگا لیکن یہ نہ بتایا گیا ہو کہ اضافہ سادہ (Simple) ہوگا یا مرکب (Compound)، تو کیا ایگزیکیوٹنگ کورٹ خود کمپاؤنڈ اضافہ لگا سکتی ہے؟

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس اہم قانونی سوال کا جواب دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نہیں۔

عدالت نے قرار دیا:

🔹 اگر ڈگری کمپاؤنڈ اضافے کا واضح طور پر ذکر نہیں کرتی تو اضافہ سادہ بنیاد (Simple Basis) پر ہوگا۔

🔹 ہر سال 20 فیصد اضافہ اصل مقررہ رقم پر شمار کیا جائے گا، نہ کہ گزشتہ سال بڑھی ہوئی رقم پر۔

🔹 ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو ڈگری میں نئی شرائط شامل کرنے یا اس میں تبدیلی کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

🔹 اگر کمپاؤنڈ اضافہ مقصود ہو تو اسے ڈگری میں واضح الفاظ میں لکھنا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت کی کہ آئندہ فیملی کورٹس Maintenance کی ڈگریوں میں واضح کریں کہ سالانہ اضافہ Simple Basis پر ہوگا یا Compound Basis پر، تاکہ بعد میں غیر ضروری مقدمات سے بچا جا سکے۔

⚖️ محمد وقار واثی بنام مسز عنبر عابد و دیگر

Civil Petition No. 3204 of 2022

سپریم کورٹ آف پاکستان

08/07/2026

PERA Force
کے خلاف FIRدرج نہیں ہو سکتی
لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ 2026

مختصر حقائق

درخواست گزار نے الزام لگایا کہ Punjab Enforcement and Regulatory Authority (PERA) کے افسران نے قابلِ دست اندازیِ پولیس (Cognizable Offences) جرائم کا ارتکاب کیا، لیکن SHO نے دفعہ 154 ضابطہ فوجداری (Cr.P.C.) کے تحت FIR درج نہیں کی۔

اس کے بعد درخواست گزار نے دفعہ 22-A/22-B Cr.P.C. کے تحت جسٹس آف پیس سے رجوع کیا، مگر جسٹس آف پیس نے بھی درخواست مسترد کر دی، جس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی۔



عدالت کے سامنے بنیادی سوال

کیا PERA افسران کے خلاف عام پولیس کے ذریعے دفعہ 154 Cr.P.C. کے تحت FIR درج کرائی جا سکتی ہے، یا اس کے لیے PERA Act, 2024 میں دیا گیا خصوصی طریقہ اختیار کرنا ہوگا؟



لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

عدالت نے قرار دیا کہ:

* Punjab Enforcement and Regulation Act, 2024 ایک خصوصی قانون (Special Law) ہے۔
* اس قانون میں PERA افسران کے خلاف کارروائی، شکایت، نمائندگی (Representation) اور مقدمہ درج کرنے کا مکمل طریقہ کار پہلے سے موجود ہے۔
* لہٰذا ایسے معاملات میں دفعہ 154 Cr.P.C. کے تحت عام FIR درج کرانے کا راستہ دستیاب نہیں۔



PERA Act کے تحت دستیاب قانونی راستے

عدالت نے واضح کیا کہ متاثرہ شخص کے پاس درج ذیل قانونی علاج موجود ہیں:

1۔ سیکشن 16

متاثرہ شخص 30 دن کے اندر Hearing Officer کے سامنے Representation دائر کر سکتا ہے۔

2۔ سیکشن 49

ضرورت پڑنے پر Sub-Divisional Enforcement Officer قانون کے مطابق خود بھی FIR درج کر سکتا ہے۔

3۔ سیکشن 53

اگر PERA افسر اختیارات کا ناجائز استعمال کرے تو متاثرہ شخص Grievance Redressal Commissioner (GRC) کے سامنے شکایت دائر کر سکتا ہے۔



عدالت کی قانونی آبزرویشن

عدالت نے کہا کہ:

جب کسی خصوصی قانون میں شکایت، FIR، نمائندگی اور ازالۂ شکایت کا مکمل نظام موجود ہو، تو اسی قانون پر عمل کیا جائے گا اور عام قانون یعنی Section 154 Cr.P.C. کا اطلاق نہیں ہوگا۔



حتمی فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے آئینی درخواست نمٹا دی اور درخواست گزار کو ہدایت کی کہ:

* وہ Punjab Enforcement and Regulation Act, 2024 کے تحت دستیاب تمام قانونی فورمز استعمال کرے۔
* PERA افسران کے خلاف کارروائی کے لیے عام پولیس میں FIR کے بجائے اسی خصوصی قانون میں دیا گیا طریقہ اختیار کیا جائے۔

اہم قانونی اصول (Key Principle)

“جہاں کسی Special Law میں شکایت، FIR اور کارروائی کا مکمل طریقہ کار موجود ہو، وہاں عام قانون (Cr.P.C.) کی دفعات، خصوصاً Section 154 Cr.P.C.، لاگو نہیں ہوتیں۔

حکم امتناعی کا وقت طے 30 دن کے اندر فیصلہدرخواست حکم امتناعی  پر تیس دن کے اندر اندر فیصلہ کرے نوٹیفکیشن جاری ہو گیا ہے ...
08/07/2026

حکم امتناعی کا وقت طے 30 دن کے اندر فیصلہ
درخواست حکم امتناعی پر تیس دن کے اندر اندر فیصلہ کرے نوٹیفکیشن جاری ہو گیا ہے
پہلے بھی 2025 میں نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا اس میں 15 دن کا وقت طے ہوا تھا لیکن افسوس کے ساتھ اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا دونوں نوٹیفکیشن لف ہے

7 دن گزرے تو سپرداری کا حق ختم! لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ    پنجاب فوڈ اتھارٹی کا بڑا فیصلہ، سامان واپس کیوں نہ ملا؟در...
08/07/2026

7 دن گزرے تو سپرداری کا حق ختم! لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

پنجاب فوڈ اتھارٹی کا بڑا فیصلہ، سامان واپس کیوں نہ ملا؟

درخواست گزار نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ پٹیشن دائر کی اور استدعا کی کہ 12-09-2025 کا ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیا جائے، جس کے ذریعے اس کی سپر داری کی درخواست مسترد کی گئی تھی، اور ضبط شدہ سامان (چِلنگ مشینیں، ڈیپ فریزر، ڈرم، اسٹیل باکس، گاربر مشین، گیس سلنڈر، چولہا، واٹر کولر وغیرہ) واپس کرنے کا حکم دیا جائے۔

حقائق:

* 28-05-2025 کو پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011 کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج ہوئی۔
* تفتیش کے دوران فوڈ سیفٹی آفیسر نے مذکورہ سامان دفعہ 13 کے تحت ضبط کر لیا۔
* درخواست گزار نے سامان کی واپسی کے لیے 21-08-2025 کو درخواست دائر کی، یعنی ضبطی کے تقریباً تین ماہ بعد۔
* ٹرائل کورٹ نے 12-09-2025 کو درخواست مسترد کر دی۔

درخواست گزار کا مؤقف:

* ضبط شدہ سامان اس کی ملکیت ہے، اس لیے آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کے تحت اسے ملکیت رکھنے کا حق حاصل ہے۔
* درخواست بروقت نہ دینے کی وجہ اس کی والدہ کا انتقال تھا۔
* ٹرائل کورٹ نے بلاجواز درخواست مسترد کی۔

عدالت کا فیصلہ:
عدالت نے قرار دیا کہ:

* دفعہ 13(3) پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011 کے مطابق ضبط شدہ سامان کی واپسی کے لیے صرف سات (7) دن کے اندر عدالت سے رجوع کرنا لازمی ہے۔
* اگر سات دن کے اندر درخواست نہ دی جائے تو دفعہ 13(5) کے تحت سامان خود بخود پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حق میں ضبط (Forfeit) ہو جاتا ہے۔
* درخواست گزار نے تقریباً تین ماہ بعد درخواست دائر کی، اس لیے وہ قانون کے مطابق قابلِ سماعت نہیں تھی۔
* والدہ کے انتقال کا عذر بھی ثابت نہیں کیا گیا کیونکہ نہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا اور نہ کوئی حلف نامہ۔

نتیجہ:
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کا حکم قانون کے مطابق ہے، اس میں کوئی غیر قانونی یا اختیارات سے تجاوز نہیں ہوا، لہٰذا آئینی اختیار (آرٹیکل 199) استعمال کرتے ہوئے مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔

حتمی حکم:
رِٹ پٹیشن خارج (Dismissed) کر دی گئی، البتہ ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی گئی کہ مقدمے کا فیصلہ کرتے وقت ضبط شدہ سامان کی قانونی حیثیت اور اس کے تصرف کے بارے میں مناسب حکم صادر کرے۔

قانونی اصول (Legal Principle):

پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011 کی دفعہ 13 کے تحت ضبط شدہ سامان کی سپرداری حاصل کرنے کے لیے سات دن کے اندر درخواست دینا لازمی ہے، بصورتِ دیگر سامان قانوناً پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حق میں ضبط (Forfeit) ہو جاتا ہے، اور تاخیر سے دائر درخواست قابلِ قبول نہیں ہوتی

Mobile No: 0313-04990117 دن گزرے تو سپرداری کا حق ختم! لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

پنجاب فوڈ اتھارٹی کا بڑا فیصلہ، سامان واپس کیوں نہ ملا؟

درخواست گزار نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ پٹیشن دائر کی اور استدعا کی کہ 12-09-2025 کا ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیا جائے، جس کے ذریعے اس کی سپر داری کی درخواست مسترد کی گئی تھی، اور ضبط شدہ سامان (چِلنگ مشینیں، ڈیپ فریزر، ڈرم، اسٹیل باکس، گاربر مشین، گیس سلنڈر، چولہا، واٹر کولر وغیرہ) واپس کرنے کا حکم دیا جائے۔

حقائق:

* 28-05-2025 کو پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011 کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج ہوئی۔
* تفتیش کے دوران فوڈ سیفٹی آفیسر نے مذکورہ سامان دفعہ 13 کے تحت ضبط کر لیا۔
* درخواست گزار نے سامان کی واپسی کے لیے 21-08-2025 کو درخواست دائر کی، یعنی ضبطی کے تقریباً تین ماہ بعد۔
* ٹرائل کورٹ نے 12-09-2025 کو درخواست مسترد کر دی۔

درخواست گزار کا مؤقف:

* ضبط شدہ سامان اس کی ملکیت ہے، اس لیے آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کے تحت اسے ملکیت رکھنے کا حق حاصل ہے۔
* درخواست بروقت نہ دینے کی وجہ اس کی والدہ کا انتقال تھا۔
* ٹرائل کورٹ نے بلاجواز درخواست مسترد کی۔

عدالت کا فیصلہ:
عدالت نے قرار دیا کہ:

* دفعہ 13(3) پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011 کے مطابق ضبط شدہ سامان کی واپسی کے لیے صرف سات (7) دن کے اندر عدالت سے رجوع کرنا لازمی ہے۔
* اگر سات دن کے اندر درخواست نہ دی جائے تو دفعہ 13(5) کے تحت سامان خود بخود پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حق میں ضبط (Forfeit) ہو جاتا ہے۔
* درخواست گزار نے تقریباً تین ماہ بعد درخواست دائر کی، اس لیے وہ قانون کے مطابق قابلِ سماعت نہیں تھی۔
* والدہ کے انتقال کا عذر بھی ثابت نہیں کیا گیا کیونکہ نہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا اور نہ کوئی حلف نامہ۔

نتیجہ:
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کا حکم قانون کے مطابق ہے، اس میں کوئی غیر قانونی یا اختیارات سے تجاوز نہیں ہوا، لہٰذا آئینی اختیار (آرٹیکل 199) استعمال کرتے ہوئے مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔

حتمی حکم:
رِٹ پٹیشن خارج (Dismissed) کر دی گئی، البتہ ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی گئی کہ مقدمے کا فیصلہ کرتے وقت ضبط شدہ سامان کی قانونی حیثیت اور اس کے تصرف کے بارے میں مناسب حکم صادر کرے۔

قانونی اصول (Legal Principle):

پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011 کی دفعہ 13 کے تحت ضبط شدہ سامان کی سپرداری حاصل کرنے کے لیے سات دن کے اندر درخواست دینا لازمی ہے، بصورتِ دیگر سامان قانوناً پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حق میں ضبط (Forfeit) ہو جاتا ہے، اور تاخیر سے دائر درخواست قابلِ قبول نہیں ہوتی

قسطوں میں مہر کی ادائیگی- مہر (حقِ مہر) شوہر پر واجب الادا قرض ہے، جس کی وصولی قانونی طریقۂ کار کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔-...
08/07/2026

قسطوں میں مہر کی ادائیگی
- مہر (حقِ مہر) شوہر پر واجب الادا قرض ہے، جس کی وصولی قانونی طریقۂ کار کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔
- ڈگری پر عمل درآمد (Ex*****on) کا مقصد مقروض کو سزا دینا نہیں بلکہ عدالتی فیصلے پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔
- ڈگری کی رقم قسطوں میں ادا کرنے کی اجازت دینا عدالت کا صوابدیدی (Judicial Discretion) اختیار ہے، جسے انصاف، معقولیت اور مساوات کے اصولوں کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے۔
- قسطوں کی اجازت دیتے وقت عدالت مقروض کی مالی استطاعت، ڈگری کی نوعیت اور اس امر کو مدنظر رکھے گی کہ مناسب مدت میں ڈگری کی مؤثر تکمیل ممکن ہو۔
- اگر عدالت مقروض کی ادائیگی کی صلاحیت اور ڈگری ہولڈر کے حقوق میں توازن قائم کیے بغیر قسطوں کی درخواست مسترد کر دے تو یہ قانون کے مطابق صوابدیدی اختیار کا درست استعمال نہیں ہوگا۔
- خاندانی مقدمات میں عدالتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہمدردانہ، عملی اور متوازن رویہ اختیار کریں تاکہ غیر ضروری سختی سے بچتے ہوئے فریقین کے قانونی حقوق کا مؤثر تحفظ کیا جا سکے۔

فیصلہ:

نے رٹ پٹیشن منظور کرتے ہوئے درخواست گزار کو حکم دیا کہ وہ ڈگری شدہ مہر کی رقم 25,000 روپے ماہانہ قسطوں میں ادا کرے۔ یکم ستمبر 2023 سے 31 دسمبر 2025 تک کے بقایا جات بھی اسی شرح سے (یا یکمشت) ادا کیے جائیں، جس کے بعد ماہانہ اقساط جاری رہیں گی تاوقتیکہ پوری ڈگری کی ادائیگی مکمل ہو جائے۔ اگر درخواست گزار مسلسل دو ماہ قسط ادا نہ کرے تو مدعیہ قانون کے مطابق جبری عمل درآمد (Coercive Process) کے ذریعے ڈگری نافذ کرانے کی مجاز ہوگی۔

یہ ٹریکنگ ڈیوائس آپ کو بھی لگ سکتی ہے اگر آپ پنجاب میں رہتے ہیں اور عادی مجرم قرار دیے جاتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ آپ کا مو...
04/07/2026

یہ ٹریکنگ ڈیوائس آپ کو بھی لگ سکتی ہے اگر آپ پنجاب میں رہتے ہیں اور عادی مجرم قرار دیے جاتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ آپ کا موبائل، لیپ ٹاپ وغیرہ ضبط کر کے آپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کیے جا سکتے ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں 8 جون 2026 کو قانون و پارلیمانی امور کے پارلیمانی سیکرٹری خالد محمود رانجھا نے ایک بل پیش کیا جو اب سپیکر پنجاب اسمبلی کی 'لاعلمی' کے بعد متنازعہ ہوگیا ہے۔ مجوزہ بل کے متن کے مطابق صوبے میں عادی مجرمان اور ایسی 'اینٹی سوشل سرگرمیوں' کا تدارک کرنا ہے جو ریاست کی رٹ کو متاثر کرتی ہیں یا عوامی اذیت کا باعث بنتی ہیں اور معاشرے کو جرائم کے خطرے سے دوچار کرتی ہیں۔ اس مجوزہ بل کو 'پنجاب کنٹرول آف ہیبچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیویئر بل 2026' کا نام دیا گیا ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اتوار کے روز اسمبلی اجلاس میں مجوزہ بل پر سخت ردعمل دیا جس کے بعد سپیکر نے اس متنازعہ بل کی منظوری کا عمل روک دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب یہ بل ایوان میں پیش کیا گیا تو انہیں کیوں آگاہ نہیں کیا گیا؟ سپیکر نے بل پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس قانون سازی کا کوئی علم نہیں تھا اور سوال کیا کہ یہ سٹینڈنگ کمیٹی تک ان کی اطلاع کے بغیر کیسے پہنچا؟ انہوں نے اجلاس کے دوران اسمبلی سیکرٹریٹ کے عملے کی سرزنش کی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ دی۔ یاد رہے کہ بل پیش کرنے کے دوران اجلاس کی صدارت سپیکر کی بجائے پینل آف چیئر کے رکن افتخار احمد چھچھڑ کر رہے تھے۔
اب اطلاعات کے مطابق اس بل پر اگست تک عملدرآمد روک دیا گیا ہے لیکن اگر یہ بل پاس ہوجاتا تو کیا ہوتا؟ پہلے ذرا بل ملاحظہ کیجیے۔

متنازعہ بل میں کیا ہے؟

اس مجوزہ بل کے تحت تین سطحوں پر انٹیلیجنس کمیٹیاں قائم کی جائیں گی جس میں صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی کمیٹیاں شامل ہوں گی۔ صوبائی اور ضلعی انٹیلیجنس کمیٹیاں وہی ہوں گی جو پنجاب ہائی سکیورٹی زونز (اسٹیبلشمنٹ) ایکٹ 2026 کے تحت پہلے سے موجود ہیں اور یہ نئے قانون کے تحت بھی اپنے فرائض انجام دیں گی۔ ڈویژنل سطح پر نئی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کے کنوینر ڈویژنل کمشنر ہوں گے جبکہ ریجنل پولیس افسر(آر پی او) یا کیپیٹل سٹی پولیس افسر(سی سی پی او)، سپیشل برانچ اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی) کے ریجنل افسران، وفاقی انٹیلیجنس اداروں کے نمائندے اور متعلقہ ضلع کے ایڈیشنل کمشنر (کوآرڈینیشن) اس کے رکن ہوں گے۔ یہ کمیٹیاں کم از کم ماہانہ ایک اجلاس منعقد کریں گی اور ان کے اجلاس کے کوائف خفیہ تصور ہوں گے۔

انٹیلیجنس کمیٹیوں کے مجوزہ فرائض

بل کے شق نمبر 5 کے مطابق انٹیلیجنس کمیٹیوں کو وسیع نوعیت کے فرائض تفویض کیے گئے ہیں۔ ان میں دہشتگردی کے خطرات کا جائزہ لینا اور حکمت عملی بنانا، غیر ملکیوں کی حفاظت، مذہبی و سماجی نوعیت کی تقریبات کی نگرانی، اقلیتوں کے تحفظ کے اقدامات اور مذہبی عبادت گاہوں، فلاحی اداروں اور نجی تنظیموں کا اندراج اور ریکارڈ رکھنا شامل ہے۔

اس کے ساتھ کمیٹیوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کی نگرانی اور کرائے داروں و مہمانوں پر نظر رکھنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے اور وہ ضلعی پولیس سربراہ کو کسی شخص کو 'عادی مجرم' قرار دینے کے لیے کارروائی کی ہدایت کر سکتی ہیں۔

اینٹی سوشل بیہیویئر

مجوزہ بل کے شق نمبر 6 میں 'اینٹی سوشل بیہیویئر' کے حوالے سے بتایا گیا ہے جس میں شراب و قمار خانے چلانا، جھوٹی گواہی یا جعلی دستاویزات کے ذریعے روزی کمانا، فحش یا توہین آمیز زبان کا عوامی مقامات پر استعمال، خواتین، لڑکیوں یا 18 سال سے کم عمر افراد کو ہراساں کرنا، عوامی مقامات پر فحش حرکات، دھمکیوں، سوشل میڈیا یا تحریری ذرائع سے خوف و ہراس پھیلانا یا جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلانا، پولیس یا مسلح افواج کی طرز پر گاڑیوں پر لائٹس یا گارڈز کے ساتھ سرکاری اہلکار کا روپ دھارنا، چوری شدہ مال کی خرید و فروخت، اسلحے یا چاقو کی نمائش کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد شائع کرنا، ہوائی فائرنگ، جعل سازی، دھوکہ دہی یا بلیک مارکیٹنگ، جعلی کرنسی کا استعمال، الیکٹرانک یا پرنٹ یا سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی معلومات پھیلانا جو کسی شخص کے علم میں غلط اطلاعات یا غلط معلومات پر مبنی ہوں، منظم جرائم پیشہ گروہوں یا سائبر کرائم، آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ، سائبر بُلینگ یا منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونا، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد یا تشدد پر اکسانے والے مواد کی نمائش، جانوروں سے بدسلوکی، اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بننے والی رکاوٹیں نصب کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بل میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی اپنی صوابدید پر کسی بھی سرگرمی کو "اینٹی سوشل' قرار دے سکتی ہے۔

شناختی کارڈ بلاک کرنا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہٹانا

بل کے شق نمبر 7 کے مطابق ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی پولیس افسر، اسسٹنٹ کمشنر یا کسی شہری کی تحریری شکایت پر انکوائری شروع کر سکتی ہے اور ملزم کو شنوائی کا موقع دینے کے بعد متعدد اقدامات میں سے کوئی بھی نافذ کر سکتی ہے۔ ان اقدامات میں 6 ماہ تک کے لیے ضمانتی بانڈ کا مطالبہ، شخص کا نام صوبائی نیشنل آئیڈینٹیفکیشن لسٹ (PNIL) پر ڈالنے کی سفارش، پاسپورٹ ضبط یا بلاک کرنے، شناختی کارڈ بلاک کرنے، سائبر سپیس سے اکاؤنٹ ہٹانے اور اس مقصد کے لیے موبائل فون، لیپ ٹاپ جیسے آلات ضبط کرنے اور ان سے حاصل شدہ معلومات مستقبل میں فرد جرم کے لیے استعمال کرنے، اسلحہ لائسنس منسوخ اور ضبط کرنے، منقولہ جائیداد کی ضبطی یا غیر منقولہ جائیداد پر اٹیچمنٹ، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور جدید ٹیکنالوجی یا الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس کے ذریعے فرد کو نگرانی میں رکھنے کی سفارش شامل ہے۔ بل کے مطابق ایسا کوئی بھی حکم تین ماہ کے لیے نافذ رہے گا تاہم کمیٹی اسے توسیع دے سکتی ہے۔

اس مجوزہ بل کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام اقدامات کسی عدالتی فرد جرم یا باقاعدہ مقدمے کے فیصلے سے پہلے محض ضلعی انتظامی کمیٹی کی سفارش پر اٹھائے جا سکتے ہیں تاہم جائیداد کی ضبطی کے لیے مجسٹریٹ کی منظوری مطلوب ہے جبکہ پاسپورٹ، شناختی کارڈ، بینک اکاؤنٹ اور موبائل ڈیٹا سے متعلق اقدامات کے لیے بل میں عدالتی منظوری کی شرط شامل نہیں۔

اب یہ عادی مجرم کون ہوگا؟ ان کو اپیل کا حق کہاں دیا گیا ہے اور چند معاملات میں کیوں نہیں دیا گیا؟ ایسے مجرمان کو مزید کتنے سال کی سزا سنائی جائے گی اور کتنا جرمانہ ہوگا؟ ٹرئکنگ ڈیوائس کن کو پہنائی جائے گی اور اس کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟ سپیکر پنجاب اسمبلی کو علم کیسے نہیں تھا؟ بل پر اپوزیشن اور حکومتی اتحادی جماعت نے کیا کہا؟ ان تمام پہلوؤں پر تفصیلی سٹوری کی ہے جو پن کمینٹ میں موجود ہے ملاحظہ فرمائیے۔

ادیب یوسفزئی

Landmark judgmentسپریم کورٹ  نے 71 سال قبل انتقال ہبہ کے ذریعے جائیداد سے محروم کی جانیوالی بہنوں اور والدہ کو وراثتی جا...
03/07/2026

Landmark judgment
سپریم کورٹ نے 71 سال قبل انتقال ہبہ کے ذریعے جائیداد سے محروم کی جانیوالی بہنوں اور والدہ کو وراثتی جائیداد میں سے حصہ دینے کا حکم دے دیا۔ماتحت عدالتوں کے فیصلے اور انتقال ہبہ کالعدم قرار .
وراثت مردوں کی مہربانی نہیں بلکہ شرعی و قانونی حق ہے، خواتین کو محروم کرنے کے لئے جعلی ہبہ، فراڈ اور خاندانی دباؤ ہرگز قبول نہیں، 1955ء میں والد کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں نے وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی اور زبانی ہبہ کو بنیاد بنا کر والدہ اور بہنوں کو جائیداد سے محروم کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے نور محمد کی اپیل پر 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، عدالت نے واضح کیا کہ وراثت خاندان کے مرد افراد کی مہربانی یا صوابدید نہیں بلکہ ہر وارث کا شرعی اور قانونی حق ہے، جو مورث کے انتقال کے ساتھ ہی خود بخود منتقل ہو جاتا ہے۔

فیصلے میں قرار دیا کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کیلئے جعلی ہبہ، جعلی انتقال، فراڈ، خاندانی دباؤ یا رسم و رواج کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا، عدالتوں پر لازم ہے کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی ہر ٹرانزیکشن اور معاہدے کا انتہائی احتیاط سے جائزہ لیں تاکہ کسی بھی خاتون کے بنیادی حق کو سلب نہ ہونے دیا جائے۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے فیصلے میں لکھا کہ خواتین کے وراثتی حصے علامتی یا اختیاری نہیں بلکہ لازمی حقوق ہیں، خواتین کو خاندانی عزت، روایت یا سماجی دباؤ کے نام پر وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ریاست، عدالتیں اور ریونیو حکام خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں، جبکہ خواتین کو صرف کاغذی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ان کا حق ملنا چاہیے، عدالت نے مزید قرار دیا کہ قانون کا جھکاؤ خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کی طرف ہونا چاہیے، نہ کہ ان کے خاتمے کی طرف۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ 1955ء میں والد کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں نے وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی اور زبانی ہبہ کو بنیاد بنا کر والدہ اور بہنوں کو جائیداد سے محروم کر دیا، درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ زبانی ہبہ جعلسازی کے ذریعے منظور کرایا گیا سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ زبانی ہبہ ثابت کرنے کا بوجھ اس فریق پر ہوتا ہے جو اس سے فائدہ حاصل کر رہا ہو۔

عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے بارِ ثبوت کا درست جائزہ لینے کے بجائے خود ہبہ کو ہی ثبوت تسلیم کر لیا، جو قانون کے سراسر منافی تھا، عدالت کے مطابق ٹرائل کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے حقائق اور قانون دونوں کے برعکس تھے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ ہائی کورٹ نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ زبانی ہبہ کو کئی دہائیوں تک چیلنج نہیں کیا گیا، تاہم تاخیر کے باوجود ہبہ ثابت کرنا فائدہ اٹھانے والوں کی ذمہ داری تھی، ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ معاہدے کے بعد کئی برس تک والدہ اور بہنوں کو زمین کی آمدن میں حصہ ملتا رہا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں مبینہ ہبہ سے لاعلم رکھا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے تاخیر سے دعویٰ دائر کرنے کی بنیاد بھی مسترد کرتے ہوئے درخواست گزاروں کی اپیل منظور کر لی اور تمام ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ ریونیو حکام کو وراثتی ریکارڈ قانون کے مطابق درست کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

The right of inheritance is not a bounty to be bestowed at the pleasure of male family members nor a concession dependent upon custom, convenience or familial goodwill. It is a vested Shari and legal right which devolves upon the heirs immediately upon the death of the predecessor-in-interest and cannot be defeated through private arrangements, social pressures, dubious revenue entries or procedural stratagems. This Court has repeatedly emphasized that the law of inheritance occupies a unique position in Islamic jurisprudence because it embodies the Divine scheme of distribution of wealth and seeks to ensure economic justice within the family and society at large. The experience of the courts, however, demonstrates that women continue to be deprived of their lawful inheritance through a variety of devices, including fabricated gifts, manipulated revenue entries, fraudulent relinquishments, coercive family arrangements and prolonged litigation designed to exhaust those asserting their rights.

The Constitution of the Islamic Republic of Pakistan does not countenance the deprivation of women from their lawful inheritance. Article 2A incorporates the principles of democracy, freedom, equality, tolerance and social justice as enunciated by Islam, while Article 25 guarantees equality before law and equal protection of law. Articles 23 and 24 recognize and protect the right to acquire, hold and enjoy property and prohibit deprivation thereof save in accordance with law. Article 35 further obligates the State to protect the family, the mother and the child. Article 227 further mandates that all laws shall be brought in conformity with the Injunctions of Islam. These constitutional guarantees, when read in conjunction with the Islamic injunctions relating to inheritance, leave no room for ambiguity. The State is not a passive spectator where women are deprived of property lawfully devolving upon them through succession. The constitutional guarantee of equality before law becomes illusory if women are denied ownership of property that has vested in them by operation of law. Likewise, the constitutional protection of property rights is rendered meaningless if inheritance rights can be defeated through coercion, fraud, social pressure, manipulated revenue entries, dubious family arrangements or prolonged litigation. The Constitution, therefore, imposes a positive obligation upon all organs of the State, including the courts and revenue authorities, to ensure that female heirs are able to obtain, retain and enjoy their lawful inheritance in a practical and effective manner and not merely as a matter of abstract legal entitlement. Any custom, practice, arrangement or device which has the effect of excluding a female heir from her lawful share not only offends the injunctions of Islam but is also inconsistent with the constitutional commitment to equality, dignity, social justice and protection of property rights.

The responsibility, however, does not rest upon the State alone. Families, Community leaders, Islamic Scholars and Orators, members of the legal profession, revenue authorities and civil society all share a collective obligation to ensure that the rights conferred by Almighty Allah are neither diluted nor defeated. A society that celebrates the virtues of justice while tolerating the deprivation of women from their lawful inheritance suffers from a contradiction that cannot be reconciled with either constitutional values or Islamic principles. The true measure of a legal system lies not in the rights it proclaims but in the rights it protects. Courts must, therefore,remain vigilant to ensure that inheritance laws are not circumvented through artificial devices and that women receive, in substance and not merely in theory, the shares to which they are lawfully entitled.

We accordingly observe that all courts and revenue authorities dealing with inheritance disputes must remain mindful that the law leans in favour of protecting, rather than defeating, the inheritance rights of women, the vulnerable segment of the society, and any transaction having the effect of excluding a female heir from succession must be examined with the utmost care, caution and judicial scrutiny.

C.P.L.A.1103-L/2016
Noor Mohammad,etc v. Ghulam Haider,etc
Mr. Justice Shahid Bilal Hassan
30-06-2026

The government has revised the ATL Surcharge. Previously, filing a tax return and depositing a challan of Rs. 1,000 was ...
03/07/2026

The government has revised the ATL Surcharge. Previously, filing a tax return and depositing a challan of Rs. 1,000 was sufficient to be included in the Active Taxpayers List (ATL). This has now been increased to a challan of Rs. 25,000

Address

LAHORE HIGH Court LAHORE
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Asif Liaqat Virk posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Muhammad Asif Liaqat Virk:

Shortcuts

Share