23/07/2026
دستخط شدہ چیک کی چوری کا مؤقف —
جب چیک ڈس آنر ہو جاتا ہے اور ملزم کے خلاف FIR درج ہوتی ہے، تو اکثر ملزم یہ مؤقف اپناتا ہے کہ اس کا دستخط شدہ چیک چوری ہو گیا تھا۔
عدالتیں عموماً اس مؤقف کو مشکوک نظر سے دیکھتی ہیں، خصوصاً جب ملزم یہ ثابت نہ کر سکے کہ چوری کی رپورٹ بروقت درج کرائی گئی تھی
محض یہ دعویٰ کہ چیک "چوری ہوا" کافی نہیں — ملزم پر یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری آتی ہے کہ چوری واقعتاً ہوئی، اور اس کی مصدقہ رپورٹ (FIR) بھی موجود ہو
اگر دستخط اصلی ثابت ہوں اور چوری کا دعویٰ غیر مصدقہ ہو، تو محض زبانی مؤقف عدالت کے لیے ناکافی تصور ہوتا ہے
دفعہ 489-F ت پ کے تحت استغاثہ کو چار بنیادی ارکان ثابت کرنے ہوتے ہیں: چیک کا اجراء، بددیانتی کی نیت، کسی ذمہ داری کی موجودگی، اور چیک کا ڈس آنر ہونا
2010 SCMR 806 —
📌 نوٹ: مذکورہ فیصلہ سیکشن 489-F کے چار ارکان بیان کرتا ہے۔ استعمال سے قبل مکمل فیصلہ دیکھ کر تصدیق کر لیں کہ آپ کا مخصوص نکتہ اسی فیصلے سے منسوب ہے۔