18/03/2026
قرآن میں ایک سورت ہے جو ایک خاص احساس کے لیے نازل ہوئی تھی۔ غم کے لیے نہیں، خوف کے لیے نہیں، تنہائی کے لیے نہیں۔ بلکہ اُس احساس کے لیے جب آپ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ کام نہیں بن رہا ہوتا۔ اور اللہ کا جواب... آپ کو رُلا دے گا۔
اس سورہ کے نازل ہونے سے پہلے نبی ﷺ کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کے بارے میں زیادہ لوگ بات نہیں کرتے۔ وحی رک گئی تھی۔ ہفتوں تک—کچھ علماء کے مطابق مہینوں تک جبرائیل علیہ السلام نہیں آئے۔ نہ کوئی آیات، نہ کوئی ہدایت۔ بس... خاموشی۔
اور نبی ﷺ — جو اللہ کے سب سے محبوب تھے — سوچنے لگے: "کیا مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی؟ کیا میرے رب نے مجھے چھوڑ دیا ہے؟ کیا وہ مجھ سے ناراض ہے؟" قریش کے دشمنوں نے ان کا مذاق اڑایا اور کہا: "تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے۔" اس بات نے انہیں گہرا دکھ پہنچایا۔
پھر اللہ نے اس خاموشی کو توڑا۔ کسی تنبیہ یا حکم کے ساتھ نہیں، بلکہ ایک قسم کے ساتھ:
وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ
"قسم ہے صبح کی روشنی کی، اور رات کی جب وہ چھا جاتی ہے۔"
اور پھر وہ آیت نازل ہوئی جو انسان کی زندگی کی ہر تاریک رات کا جواب بن جاتی ہے:
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ
"تمہارے رب نے نہ تمہیں چھوڑا ہے اور نہ وہ تم سے ناراض ہوا ہے۔"
اللہ نے یہ نہیں کہا کہ 'صبر کرو' یا 'اور زیادہ کوشش کرو'، اس نے بس یہ کہا کہ میں نے تمہیں چھوڑا نہیں ہے، میں کبھی گیا ہی نہیں تھا۔
اللہ نے انہیں کوئی پانچ قدموں والا منصوبہ نہیں دیا، بلکہ ان کی اپنی زندگی کی تاریخ کو دلیل بنا دیا۔ گویا فرمایا: "اپنی زندگی کو دیکھو۔ دیکھو میں نے پہلے تمہارے لیے کیا کیا ہے۔ میں اُس وقت بھی تمہارے ساتھ تھا۔ تو اب کیوں تمہیں چھوڑ دوں گا؟" اللہ اپنے نبی ﷺ کی زندگی کی کہانی ہی یاد دلاتا ہے:
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ۔ وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ۔ وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ
"کیا اس نے تمہیں یتیم نہیں پایا اور پناہ دی؟ کیا اس نے تمہیں راستہ تلاش کرتے نہیں پایا اور ہدایت دی؟ کیا اس نے تمہیں محتاج نہیں پایا اور غنی کر دیا؟"
رات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چلا گیا ہے۔ خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ناراض ہے۔ کبھی کبھی اللہ خاموش ہو جاتا ہے، اس لیے نہیں کہ اُس نے تمہیں چھوڑ دیا ہے بلکہ اس لیے کہ جو آنے والا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے جو پہلے تھا۔
وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَىٰ
"اور آخرت تمہارے لیے پہلی زندگی سے بہتر ہے۔" (93:4)
اور یہ ہر دور پر لاگو ہوتا ہے۔ ہر باب پر، ہر موسم پر، ہر انتظار کے وقت پر۔ جو آنے والا مرحلہ ہے وہ اس مرحلے سے بہتر ہے جو ابھی ہے۔
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ
"اور عنقریب تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔" (93:5)
اس نے "شاید" نہیں کہا، اس نے کہا "عنقریب"۔ اس نے کہا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔ اسے ان دنوں کے لیے سنبھال کر رکھو جب خاموشی برداشت کے قابل نہ لگے۔
اور پھر اللہ وہ کام کرتا ہے جو نہ کوئی انسانی معالج، نہ کوئی سیلف ہیلپ کتاب اور نہ ہی کوئی موٹیویشنل اسپیکر کبھی کر سکا۔ اگر آپ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں، دعا کر رہے ہیں مگر وہ قبول ہوتی محسوس نہیں ہو رہی، آپ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں مگر کچھ بدلتا نظر نہیں آ رہا اور آپ کو لگنے لگا ہے کہ شاید اس خاموشی کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہی میں کوئی کمی ہے... تو یہ سورت آپ کے لیے ہے۔ یہ صرف ایک یاد دہانی نہیں، بلکہ ایسے ہے جیسے اللہ اُس حصے سے براہ راست بات کر رہا ہو جو اندر سے ڈرتا ہے کہ شاید اسے بھلا دیا گیا ہے
❤️