Legal Nexus

Legal Nexus Your Partner for Personal and Business Needs

we continuously seek ways to improve our specialized kn

موبائل کو الٹا کر کے دیکھو 🤣🤣🤣🤣🤣
24/07/2025

موبائل کو الٹا کر کے دیکھو 🤣🤣🤣🤣🤣

17/07/2025


















اپنی کمپنی S.E.C.P اور F.B.R سے رجسٹرڈ کرائیں اور اپنے کاروبار کو قانونی تحفظ دیں  اس کے علاوہ انکم ٹیکس ریٹرن،سیلزٹیکس ...
16/07/2025

اپنی کمپنی S.E.C.P اور F.B.R سے رجسٹرڈ کرائیں اور اپنے کاروبار کو قانونی تحفظ دیں
اس کے علاوہ انکم ٹیکس ریٹرن،سیلزٹیکس ریٹرن ، لوگو اینڈ برانڈ رجسٹریشن کی رہنمائی۔

✅ NTN Registration
✅ Income Tax Return
✅ Sole Proprietorship Registration
✅ SECP Company Compliances
✅ Private Limited Company
✅ Single Member Company
✅ LLP Registration
✅ GST Registration
✅ Trade Mark Registration
✅ Chamber of Commerce Registration
✅ PRA Registration
✅ Audit Reports of the Company

Stay on top of your taxes with Taxave!
Our expert team provides comprehensive tax services in Pakistan. Let handle it for you!
Contact us today!
⁨0313 7447447⁩

15/07/2025

↪️CLARIFICATION ON TAX ON CASH MODE RECOVERY ABOVE 2 LACS. . . FA 2025↩️

گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا، واٹس
ایپ گروپس اور حتیٰ کہ مین اسٹریم میڈیا پر بھی ایک خبر گردش کرتی رہی کہ حکومت نے بینک میں دو لاکھ روپے یا اس سے زائد رقم جمع کروانے پر 20 فیصد سے زائد ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ مختلف چینلز نے نہ صرف عوام کو ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا بلکہ کچھ کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو کیش کی ادائیگی سے گریز کرنے کی ہدایات بھی دی گئیں۔ کچھ نے تو ٹیکس کی شرح 40 فیصد تک بھی بتا دی۔

لیکن یہ ساری بات غلط فہمی یا شاید جان بوجھ کر پھیلائی گئی افواہوں پر مبنی ہے۔ اصل میں، یہ ساری بات مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں کی گئی انکم ٹیکس آرڈیننس 2002 کی کچھ شقوں میں ترمیم سے متعلق ہے — لیکن اس کا عام بینک صارف یا کوئی تنخواہ دار شخص سے کوئی لینا دینا نہیں۔

یہ ترامیم صرف اور صرف کاروباری اداروں اور کمپنیوں پر لاگو ہوتی ہیں، وہ بھی مخصوص حالات میں۔ ترمیم کا مقصد یہ ہے کہ کاروبار نقد لین دین سے ہٹ کر بینکنگ چینلز یا ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ترجیح دیں تاکہ ٹرانزیکشنز کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اصل میں تبدیلی کیا ہے؟
انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 21 کے مطابق، اگر کوئی کاروبار کسی سپلائر کو دو لاکھ روپے یا اس سے زائد کیش میں ادائیگی کرتا ہے، تو اس کی وہ ادائیگی مکمل طور پر بطور اخراجات شمار نہیں کی جائے گی۔ صرف 50 فیصد اخراجات ہی انکم ٹیکس ریٹرن میں قابل قبول ہوں گے، جبکہ باقی رقم کاروبار کے منافع میں شامل ہو جائے گی جس پر ٹیکس لاگو ہو گا۔

اسی طرح اگر کوئی کمپنی کسی ایسے شخص کو ادائیگی کرتی ہے جو نان فائلر ہے (یعنی جس کا نیشنل ٹیکس نمبر/NTN نہیں)، تو اس ادائیگی کا 10 فیصد بھی اخراجات میں شمار نہیں ہوگا۔

لیکن یہاں ایک اہم بات یاد رکھنے کی ہے: یہ قانون صرف کاروباری اداروں پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر آپ ایک عام شہری ہیں اور آپ نے اپنے بینک اکاؤنٹ میں دو لاکھ یا اس سے زیادہ رقم جمع کروائی ہے، تو اس پر کوئی براہ راست ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ نہ ہی ایسا کوئی قانون موجود ہے کہ بینک کی طرف سے آپ کی رقم پر کٹوتی کی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط فہمی کیوں؟
یہ خبر غالباً اس وقت غلط انداز میں عوام تک پہنچی جب انکم ٹیکس آرڈیننس کی ترامیم کو سادہ لفظوں میں بیان کرنے کے بجائے سنسنی خیز انداز میں رپورٹ کیا گیا۔ بعض میڈیا ہاؤسز نے ٹیکس کی اصل نوعیت کو سمجھائے بغیر عوامی خوف و خدشات کو بڑھاوا دیا۔

یہ بھی ممکن ہے کہ بعض عناصر نے جان بوجھ کر یہ افواہ پھیلائی تاکہ لوگ کیش میں لین دین سے گریز کریں، یا شاید مارکیٹ میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے دباؤ پیدا کیا جائے۔

مثال کے طور پر، اگر کسی کمپنی نے سال بھر میں 60 لاکھ روپے کا مال نان فائلر سپلائر سے خریدا اور کیش میں ادائیگی کی، تو کمپنی صرف 54 لاکھ روپے اخراجات میں شامل کر سکتی ہے، باقی چھ لاکھ روپے اس کے منافع میں شمار ہوں گے، جس پر اسے انکم ٹیکس دینا پڑے گا۔

دوسری مثال میں، اگر کوئی گندم کا تاجر کسی سپلائر کو دو لاکھ سے زیادہ رقم کیش میں ادا کرتا ہے، تو اس ادائیگی کا آدھا حصہ اخراجات میں شامل نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس رقم پر کاروباری منافع کے حساب سے ٹیکس دینا پڑے گا۔

کسان اور براہ راست خریداری کی رعایت
حکومت نے اس بات کا بھی خیال رکھا ہے کہ اگر کوئی شخص براہِ راست کسی کسان سے زرعی پیداوار خریدتا ہے، تو نان فائلر ہونے کے باوجود یہ مکمل اخراجات تسلیم کیے جائیں گے۔ تاہم اگر خریداری مڈل مین کے ذریعے ہو، تو قانون لاگو ہو گا۔

نتیجہ:-
اس تمام بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ بینک میں دو لاکھ روپے یا اس سے زائد رقم جمع کروانے پر کوئی نیا یا اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے، کم از کم عام شہریوں کے لیے نہیں۔ یہ قوانین صرف کاروباری دنیا سے متعلق ہیں اور ان کا مقصد نقد لین دین کو محدود کرنا اور مالیاتی نظام کو زیادہ شفاف بنانا ہے۔

لہٰذا، اگر آپ ایک عام صارف ہیں تو بے فکر ہو کر بینک میں رقم جمع کروا سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ایک کاروباری شخصیت ہیں، تو بہتر ہے کہ ادائیگیاں ڈیجیٹل یا بینکنگ ذرائع سے کریں تاکہ انکم ٹیکس کے مسائل سے بچا جا سکے
For more information please contact:
0313 7447447

10/07/2025

السلام علیکم محترم کلائنٹس،
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ایف بی آر (FBR) نے حال ہی میں انکم ٹیکس ریٹرن فائلنگ کے عمل میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ یہ تبدیلیاں S.R.O. 1212(I)/2025 کے تحت متعارف کرائی گئی ہیں، جن کا مقصد سسٹم کو مزید شفاف، ڈیجیٹل اور ذمہ دار بنانا ہے۔
ہم آپ کو اس SRO کے تحت ہونے والی دو بڑی تبدیلیوں کی تفصیل سے آگاہ کر رہے ہیں تاکہ آپ بہتر تیاری کر سکیں:

🔷 1. پن کوڈ (PIN) کا نیا نظام

پہلے ہم خود PIN جنریٹ کرکے ٹیکس ریٹرن فائل کر دیتے تھے، مگر اب یہ ممکن نہیں:

اب FBR خود PIN بھیجے گا، وہ بھی ٹیکس دہندہ کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر۔

وہ PIN ٹیکس دہندہ ہمیں فراہم کرے گا، تب جا کر ہم ریٹرن سبمٹ کر سکیں گے۔

یہ PIN دراصل ایک ڈیجیٹل ڈیکلریشن ہے کہ "یہ معلومات میری معلومات کے مطابق درست ہے اور میں اس کا ذمہ دار ہوں۔"

🔷 2. ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں “ویلیوایشن ڈیٹا” کا اضافہ

پہلے ہم اثاثہ صرف اس قیمت پر ظاہر کرتے تھے جس پر وہ خریدا گیا تھا۔
لیکن اب نیا کالم شامل کیا گیا ہے جس میں درج کرنا ہوگا:

اثاثہ کتنے میں خریدا؟

موجودہ سال میں اس کی مارکیٹ ویلیو کتنی ہے؟

اگلے سالوں میں اس کی ویلیو میں کیا فرق آیا؟یہ ڈیٹا FBR کو ریسک پروفائلنگ اور مانیٹرنگ میں مدد دے گا۔

---

🔶 مثال:

اگر کسی نے ویلتھ میں 50 تولہ سونا شو کیا ہے، اور فی تولہ قیمت 356,000 روپے ہے:

> 50 × 356,000 = 17,800,000 روپے
لیکن آمدنی صرف 12 یا 15 لاکھ روپے شو کی گئی ہے۔

ایسی صورت میں FBR اس کو High Risk Profile "مختلف زمروں
میں شامل کر کے مستقبل میں نوٹس جاری کرے گا کہ:

> “اتنی کم آمدنی کے ساتھ اتنے بڑے اثاثے کیسے بنے؟ وضاحت کریں!”
✅ کیا کرنا چاہیے؟

آمدنی حقیقت کے مطابق شو کریں۔

ویلتھ اسٹیٹمنٹ کو آمدنی کے مطابق متوازن رکھیں۔

اگر آپ کے اثاثے زیادہ ہیں تو کچھ اضافی ٹیکس ادا کر کے آمدنی بڑھا دیں تاکہ آپ کی فائل مضبوط ہو۔

🔸 گروپ ممبران اور کلائنٹس سے گزارش:
آپ سب ان تبدیلیوں کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ اب FBR کی مانیٹرنگ اور ڈیجیٹل ویری فکیشن سسٹم بہت سخت اور جدید ہو چکا ہے۔
اگر آپ کو سمجھنے یا فائلنگ میں مدد درکار ہو تو ہم ہر وقت حاضر ہیں۔
Contact No. 0313 7447447

اپنی کمپنی S.E.C.P اور F.B.R سے رجسٹرڈ کرائیں اور اپنے کاروبار کو قانونی تحفظ دیں  اس کے علاوہ انکم ٹیکس ریٹرن،سیلزٹیکس ...
08/07/2025

اپنی کمپنی S.E.C.P اور F.B.R سے رجسٹرڈ کرائیں اور اپنے کاروبار کو قانونی تحفظ دیں
اس کے علاوہ انکم ٹیکس ریٹرن،سیلزٹیکس ریٹرن ، لوگو اینڈ برانڈ رجسٹریشن کی رہنمائی۔

✅ NTN Registration
✅ Income Tax Return
✅ Sole Proprietorship Registration
✅ SECP Company Compliances
✅ Private Limited Company
✅ Single Member Company
✅ LLP Registration
✅ GST Registration
✅ Trade Mark Registration
✅ Chamber of Commerce Registration
✅ PRA Registration
✅ Audit Reports of the Company

Stay on top of your taxes with Taxave!
Our expert team provides comprehensive tax services in Pakistan. Let handle it for you!
Contact us today!
0313 7447447

08/07/2025
08/07/2025

The government will announce major changes in the Finance Bill (2025-26) on June 26 to relax punishments for the biggest sales tax evaders and those involved in tax fraud within the business community for unknown reasons.

Under the revised section 14AC (bar on operations of bank accounts), this section applies:
* When the Commissioner has reason to believe that a person is engaged in the supply of taxable goods without registration under this Act.
* The Commissioner must provide three consecutive opportunities for the person to obtain registration under this Act
* If the person fails to do so, the Commissioner shall have the power to direct banking companies, scheduled banks, and other financial institutions, through a written order, to intermittently suspend the operation of the bank account for three working days.
* The Commissioner may repeat the suspension specified in sub-section (2) two more times, with an interval of one week between suspensions

If any online marketplace, payment intermediary, or courier fails to furnish the prescribed monthly statement by the due date, they will be liable to pay a penalty of Rs. 300,000 for the first default. If they fail to furnish the prescribed statement for two consecutive months, the penalty will increase to Rs. 1 million for each subsequent default within one year.

If any online marketplace or courier allows the use of its services in e-commerce by unregistered persons, they will also be liable to pay a penalty of Rs. 300,000 for the first default and Rs. 1 million for each subsequent default.

Any person who commits or causes tax fraud, as defined under sub-clauses (a), (b), (c), (d), (e), and (f) of clause (37) of section 2, will be liable, upon conviction by a Special Judge, to imprisonment for a term of up to ten years, a fine of up to ten million rupees, or both. They will also be liable to pay an amount equal to the tax loss confirmed by the Special Judge, including a 100 percent penalty of the tax loss and default surcharge under section 34 of the Act.

Any person who commits or causes tax fraud as defined under sub-clauses (g), (h), (i), (j), and (k) of clause (37) of section 2 will be liable, upon conviction by a Special Judge, to imprisonment for a term of up to five years, a fine of up to five million rupees, or both. They will also be liable to pay an amount equal to the tax loss confirmed by the Special Judge, including a 100 percent penalty of the tax loss and default surcharge under section 34 of the Act.

Address

Gulberg
Lahore

Telephone

+923137447447

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Nexus posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category