Lawyer from Supreme Court Bar Association of Pakistan

Lawyer  from Supreme Court  Bar  Association of  Pakistan law assistance,human rights, civic education.
(1)

29/05/2026

ائیرپورٹ پر کسی بھی مسافر کو FIA بغیر کسی وجہ
آف لوڈنگ کے اقدام کو عدالت نے آف لوڈنگ کو غیر قانونی، من مانا اور آئین کی خلاف ورزی قرار دیا
محمد عباس، جو اپنے دل میں #روشن مستقبل کے #خواب سجائے 31 جنوری 2026 کی ایک سرد صبح سیالکوٹ انٹرنیشنل #ایئرپورٹ پہنچا۔ اس کے پاس نائجیریا کا #جائز ـویزا، #واپسی کا #کنفرم-ٹکٹ اور تمام سفری دستاویزات موجود تھیں۔ ایئرلائن کے کاؤنٹر سے اسے بورڈنگ کارڈ جاری ہو چکا تھا اور یہاں تک کہ امیگریشن کے عملے نے بھی اس کے پاسپورٹ پر روانگی کی مہر ثبت کر دی تھی
محمد عباس کے قدم جیسے ہی جہاز کی طرف بڑھے، اسے لگا کہ اب وہ اپنے بہنوئی ناصر فاروق سے ملنے نائجیریا پہنچ جائے گا، جو وہاں ہوٹل اور باربر شاپس کا کاروبار کرتے تھے اور جن کی دستاویزات عباس نے اپنے ساتھ رکھی ہوئی تھیں۔وہ پرامید تھا کہ اپنوں کے پاس جا کر وہ اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دے گا، لیکن وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھا کہ وہ مایوس ہونے والا ہے۔
امیگریشن ڈپارٹمنٹ کا شفٹ انچارج اچانک سامنے آیا اور اس نے محمد عباس کو روک لیا۔ بغیر کسی واضح وجہ کے، عباس کو جہاز پر سوار ہونے سے روک کر آف لوڈ کر دیا گیا۔اس پر یہ مبہم سا الزام لگایا گیا کہ وہ نائجیریا جانے کے بہانے دبئی میں ہی رک جائے گا اور پاکستان واپس نہیں آئے گا۔اس کے بعد اس کے ہاتھ میں ایک آف لوڈنگ پروفارما تھما دیا گیا جس پر صرف دو لکیریں لکھی تھیں: "ناپائیدار مالی حالات" اور "سفر کا غیر واضح مقصد"۔ عباس نے گڑگڑا کر کہا کہ اس کا بہنوئی وہاں موجود ہے، وہ اس کی کفالت کا ذمہ دار ہے، لیکن امیگریشن حکام نے اس کی ایک نہ سنی۔وہ کروڑوں روپے کے مالی نقصان، ذہنی اذیت اور مسافروں کے سامنے ہونے والی اس شدید ذلت کے ساتھ ایئرپورٹ سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ معاملہ صرف ایک مسافر کے رکنے کا نہیں تھا، بلکہ یہ ریاست کے ایک طاقتور ادارے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے اس لامحدود اور بے لگام اختیار کا سوال تھا جو وہ ایئرپورٹس پر استعمال کرتا ہے۔ محمد عباس نے اس ناانصافی کے خلاف ہتھیار ڈالنے کے بجائے قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا اور اپنے وکیل کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن نمبر 27534/2026 دائر کر دی۔عدالت عالیہ کے سامنے جب یہ کیس سماعت کے لیے آیا، تو قانون اور انتظامی طاقت کے درمیان ایک بڑا معرکہ شروع ہو گیا۔
عدالت کے کمرے میں سسپنس اس وقت بڑھ گیا جب وفاق کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے FIA کا دفاع کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ امیگریشن حکام کے پاس یہ قانونی حق ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت اور ویزے کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کسی بھی مسافر کی مالی حیثیت اور سفری مقصد کی جانچ پڑتال کریں ، انہوں نے دلیل دی کہ عباس کے پاس خاطر خواہ رقم نہیں تھی، اس لیے اسے روکنا قانون کے دائرے میں تھا۔
دوسری طرف، عباس کے وکیل نے آئین پاکستان کے آرٹیکلز 4، 9، 10-A اور 15 کا حوالہ دیتے ہوئے گرجدار آواز میں کہا کہ ملک کے کسی بھی شہری کو قانون کے بغیر اس کے سفر کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ نہ تو عباس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں تھا، نہ ہی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں، اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی مجرمانہ انکوائری زیر التوا تھی، تو پھر کس قانون کے تحت ایک شہری کی آزادی کو سلب کیا گیا؟
جسٹس راحیل کامران نے دونوں فریقین کے دلائل کو انتہائی غور سے سنا اور ریکارڈ کا معائنہ کیا۔ جج نے جب ریمارکس دیے تو FIA کے حکام کے پسینے چھوٹ گئے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ "ناپائیدار مالی حالات" کا فیصلہ کس ترازو میں کیا گیا؟ کیا حکومت نے نائجیریا جانے کے لیے کسی رقم کی حد مقرر کر رکھی ہے؟ اگر نہیں، تو امیگریشن افسر نے اپنی ذاتی پسند ناپسند پر ایک شہری کو کیسے روک دیا؟ جج نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں صوابدیدی اختیارات کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہیں کہ جسے جب چاہا، جیسے چاہا گھما دیا، بلکہ جنرل کلازز ایکٹ 1897 کی دفعہ 24-A کے تحت ہر سرکاری افسر کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے فیصلے کی ٹھوس اور معقول وجوہات تحریر کرے۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں محمد عباس کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے FIA کے اس اقدام کو مکمل طور پر غیر قانونی، من مانا اور آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔ عدالت نے نہ صرف عباس کو مستقبل میں تمام قانونی تقاضے پورے کر کے دوبارہ سفر کرنے کی اجازت دی، بلکہ اسے یہ حق بھی دیا کہ وہ اپنی اس ذلت اور مالی نقصان کے خلاف دیوانی عدالت سے ہرجانے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ اس کیس میں جسٹس راحیل کامران نے مستقبل کے لیے ایک تاریخی گائیڈ لائن جاری کر دی، جس کے تحت اب ایئرپورٹ پر کسی بھی مسافر کو آف لوڈ کرنے سے پہلے افسر کو تمام سوال و جواب تحریری یا الیکٹرانک شکل میں محفوظ کرنے ہوں گے، ٹھوس وجوہات لکھنی ہوں گی اور اس کی ایک کاپی فوری طور پر مسافر کو فراہم کرنی ہوگی تاکہ آئندہ کوئی بھی افسر کسی دوسرے محمد عباس کے خوابوں کو ایئرپورٹ کے لاؤنج میں پامال نہ کر سکے۔

Congratulations to Tauqeer bhie enrolled as Advocate Supreme Court
21/05/2026

Congratulations to Tauqeer bhie enrolled as Advocate Supreme Court

21/05/2026
With ex Presidents of Lahore Bar and High Court Bar.
04/05/2026

With ex Presidents of Lahore Bar and High Court Bar.

I am really honored to work for overseas Pakistanies.
11/11/2025

I am really honored to work for overseas Pakistanies.

01/08/2025

اگر مطالعہ کرنے سے بھی آپ کی نفرت اور تعصب میں کمی نہیں آ رہی تو آپ غلط کتابیں پڑھ رہے ہیں!

~ علی عباس جلال پوری

Address

Turner Road
Lahore
54700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lawyer from Supreme Court Bar Association of Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Lawyer from Supreme Court Bar Association of Pakistan:

Share