13/06/2026
سپریم کورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف کے ہتک عزت دعویٰ میں بانی پی ٹی آئی کے حق دفاع کی بحالی کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا
عدالتِ عظمیٰ کا یہ اہم تحریری فیصلہ 25 صفحات پر مشتمل ہے
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دو ایک کی اکثریت سے بانی پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواست منظور کی
بینچ کی سربراہی سینیئر ترین جج جسٹس عائشہ اے ملک نے کی
تین رکنی بینچ میں جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے
سپریم کورٹ کا یہ اکثریتی فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا ہے
بینچ میں شامل جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے اکثریتی فیصلے کے خلاف اپنا اختلافی نوٹ لکھا
ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے قانون کے مطابق تھے، جسٹس ہاشم خان کاکڑ کا اختلافی نوٹ
مقدمے میں فریق کو جواب دینے کے کافی مواقع ملے لیکن بار بار التوا مانگا گیا، اختلافی نوٹ
اکثریتی ججز نے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کرنے کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے
کیس کو دوبارہ ٹرائل کورٹ بھیج رہے ہیں تاکہ فریقین کو جواب کا پورا موقع مل سکے، تحریری فیصلہ
دیوانی مقدمات میں کسی کا دفاع کرنے کا حق بغیر سوچے سمجھے ختم نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ
کسی کا حقِ دفاع ختم کرنا قانونی کارروائی میں موت کی گھنٹی بجانے کے مترادف ہے، عدالت کے ریمارکس
آئین کے آرٹیکل 10A کے تحت ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا بنیادی حق حاصل ہے، سپریم کورٹ
سیاسی ریلی میں گولی لگنے سے زخمی شخص کے لیے حلف نامہ دینا یا وکیل سے مشورہ کرنا جسمانی طور پر ناممکن تھا، فیصلہ
قانون کسی بھی انسان کو ایسے کام پر مجبور نہیں کرتا جو وہ کر ہی نہ سکتا ہو، عدالتِ عظمیٰ
عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں پہلے کم سزا یا جرمانے کا متبادل دیکھنا چاہیے تھا، فیصلہ
کیس میں تاخیر جان بوجھ کر کی گئی یا نہیں، اس کا فیصلہ ماضی کے رویے پر نہیں بلکہ اس دن کے حالات پر ہوگا، سپریم کورٹ
سخت قانونی دفعات کا مقصد سرکش لوگوں کو نظم و ضبط سکھانا ہے، معذوروں کو سزا دینا نہیں، فیصلہ
مخالف فریق کی باقاعدہ تحریری درخواست کے بغیر عدالت خود سے کسی کا حقِ دفاع ختم نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ
انصاف کا تقاضا ہے کہ مقدمات کا فیصلہ تکنیکی بنیادوں پر نہیں بلکہ میرٹ پر کیا جائے، تحریری فیصلہ
درخواست گزار بانی پی ٹی آئی کے وکیل محمد حسین چوٹیا نے عدالت میں دلائل دیے
سیاسی ریلی میں فائرنگ سے زخمی ہونے کی وجہ سے میرا مؤکل جواب جمع نہیں کروا سکا، وکیل محمد حسین چوٹیا
گولی لگنے کے باعث ہسپتال میں داخل مریض پر جان بوجھ کر نادہندگی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا، محمد حسین چوٹیا کے دلائل
مخالف فریق میاں شہباز شریف کی طرف سے نامور وکیل مصطفیٰ رمدے عدالت میں پیش ہوئے
مخالف فریق نے عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کی، وکیل میاں شہباز شریف مصطفیٰ رمدے کا موقف
بانی پی ٹی آئی کی طرف سے جواب جمع کرانے میں جان بوجھ کر تاخیر کی گئی، وکیل مصطفیٰ رمدے
ٹرائل کورٹ نے بار بار موقع دینے کے بعد قانون کے مطابق حقِ دفاع ختم کیا تھا، شہباز شریف کے وکیل کا مؤقف
کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دو ایک کی اکثریت سے بانی پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواست منظور کی
بینچ کی سربراہی سینیئر ترین جج جسٹس عائشہ اے ملک نے کی
تین رکنی بینچ میں جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے
سپریم کورٹ کا یہ اکثریتی فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا ہے
بینچ میں شامل جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے اکثریتی فیصلے کے خلاف اپنا اختلافی نوٹ لکھا
ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے قانون کے مطابق تھے، جسٹس ہاشم خان کاکڑ کا اختلافی نوٹ
مقدمے میں فریق کو جواب دینے کے کافی مواقع ملے لیکن بار بار التوا مانگا گیا، اختلافی نوٹ
اکثریتی ججز نے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کرنے کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے
کیس کو دوبارہ ٹرائل کورٹ بھیج رہے ہیں تاکہ فریقین کو جواب کا پورا موقع مل سکے، تحریری فیصلہ
دیوانی مقدمات میں کسی کا دفاع کرنے کا حق بغیر سوچے سمجھے ختم نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ
کسی کا حقِ دفاع ختم کرنا قانونی کارروائی میں موت کی گھنٹی بجانے کے مترادف ہے، عدالت کے ریمارکس
آئین کے آرٹیکل 10A کے تحت ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا بنیادی حق حاصل ہے، سپریم کورٹ
سیاسی ریلی میں گولی لگنے سے زخمی شخص کے لیے حلف نامہ دینا یا وکیل سے مشورہ کرنا جسمانی طور پر ناممکن تھا، فیصلہ
قانون کسی بھی انسان کو ایسے کام پر مجبور نہیں کرتا جو وہ کر ہی نہ سکتا ہو، عدالتِ عظمیٰ
عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں پہلے کم سزا یا جرمانے کا متبادل دیکھنا چاہیے تھا، فیصلہ
کیس میں تاخیر جان بوجھ کر کی گئی یا نہیں، اس کا فیصلہ ماضی کے رویے پر نہیں بلکہ اس دن کے حالات پر ہوگا، سپریم کورٹ
سخت قانونی دفعات کا مقصد سرکش لوگوں کو نظم و ضبط سکھانا ہے، معذوروں کو سزا دینا نہیں، فیصلہ
مخالف فریق کی باقاعدہ تحریری درخواست کے بغیر عدالت خود سے کسی کا حقِ دفاع ختم نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ
انصاف کا تقاضا ہے کہ مقدمات کا فیصلہ تکنیکی بنیادوں پر نہیں بلکہ میرٹ پر کیا جائے، تحریری فیصلہ