17/03/2026
کالے شيشوں کےحوالےسے حکومتِ پاکستان کی طرف سے نئی پاليسی
اسلامآباد ٹریفک پولیس نے گاڑیوں کے شیشوں پر ٹِنٹ (Tint) کے بارے میں حکومت کی تازہ پالیسی واضح کر دی ہے تاکہ شہریوں کو معلوم ہو سکے کہ کون سی ٹِنٹنگ قانونی ہے اور کون سی سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ممنوع ہے۔
چیف ٹریفک آفیسر کے مطابق گاڑی کے پچھلے شیشوں پر 40 سے 50 فیصد تک ٹِنٹ کی اجازت ہے، تاہم فرنٹ سائیڈ شیشوں پر ٹِنٹنگ کی اجازت نہیں دی جاتی کیونکہ سیکیورٹی چیک کے دوران ڈرائیور کی شناخت واضح ہونا ضروری ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ڈرائیور کی واضح نظر آنا ٹریفک اور سیکیورٹی دونوں کے لیے اہم ہے، اسی لیے فرنٹ ونڈوز پر ٹِنٹ لگانا قانون کے خلاف ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ زیادہ تر گاڑیوں میں پچھلے شیشوں پر کمپنی کی جانب سے فیکٹری فِٹڈ ہلکی ٹِنٹنگ پہلے سے موجود ہوتی ہے، جبکہ مکمل گہرے شیشے عام طور پر گاڑی بنانے والی کمپنیاں فراہم نہیں کرتیں۔ اگر کسی گاڑی میں فیکٹری فِٹڈ ٹِنٹ موجود ہو تو اس کے لیے وزارتِ داخلہ کی امپورٹ دستاویزات موجود ہونا ضروری ہے، جو چیکنگ کے دوران طلب کی جا سکتی ہیں۔
سی ٹی او کا کہنا تھا کہ ٹریفک پولیس صرف حکومتی قوانین پر عملدرآمد کراتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس گاڑیوں کے شیشے توڑتی یا نکالتی نہیں، البتہ فرنٹ شیشوں پر لگائی گئی ٹِنٹ شیٹس یا پیپر موجودہ قوانین کے تحت قابلِ اجازت نہیں ہیں۔
حکام کے مطابق یہ قوانین شہریوں کی پرائیویسی، عوامی تحفظ اور سیکیورٹی ضروریات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اگر ڈرائیور ان ہدایات پر عمل کریں تو وہ جرمانوں سے بھی بچ سکتے ہیں اور ٹریفک قوانین کی مکمل پاسداری بھی کر سکتے ہیں۔