Child Custody Law Services in Pakistan

Child Custody Law Services in Pakistan We advocate shared parenting and protect the rights of non-custodial parents, primarily fathers, involved in child custody litigation.

Our work is child-centric, grounded in justice, due process, constitutional safeguards & paramount welfare of the child

شیرڈ پیرنٹنگ ،اگرچہ آج وہ ننھا سا پودا ہے جس کا پھل شائید میں، اپنی زندگی میں نہ کھا سکوں لیکن مجھے یقین ہے، وہ دن ضرور ...
22/07/2026

شیرڈ پیرنٹنگ ،اگرچہ آج وہ ننھا سا پودا ہے جس کا پھل شائید میں، اپنی زندگی میں نہ کھا سکوں لیکن مجھے یقین ہے، وہ دن ضرور آئے گا جب یہ پودا ایک تناور درخت بنے گا اور خلق خدا کی ایک بہت بڑی تعداد اس سے مستفید ہوا کرے گی
۔۔ ان شاء اللہ

22/07/2026

بچوں کی تحویل (Child Custody) کے ہر مقدمے میں ہمیشہ تین بنیادی کردار ہوتے ہیں: ماں، باپ اور نابالغ بچہ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ عدالت میں صرف دو وکلاء ہوتے ہیں، ایک باپ کی نمائندگی کرتا ہے اور دوسرا ماں کی۔

بچے کا اپنا کوئی وکیل نہیں ہوتا جو صرف اس کے مفاد، اس کے حقوق اور اس کی آواز کی نمائندگی کرے۔

نتیجتاً، بچے کے حقوق اور اس کی فلاح کا فیصلہ اکثر یا تو باپ کے نقطۂ نظر سے کیا جاتا ہے یا ماں کے۔ اس سارے عمل میں ہمارا خاندانی نظامِ انصاف، جو بظاہر "بچے کی فلاح و بہبود" کو مقدم قرار دیتا ہے، اکثر میاں بیوی کی باہمی انا، تنازع اور قانونی کشمکش کی نذر خود اسی بچے کو کر دیتا ہے جس کے مفاد کے تحفظ کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

کتنا عجیب تضاد ہے کہ "بچے کی فلاح" کے نام پر، بعض اوقات سب سے زیادہ قربانی خود بچے ہی کی دی جاتی ہے۔

کاش! میں صرف کسی باپ یا ماں کے حقوق کا وکیل بننے کے بجائے، حقیقی معنوں میں ایک بچے کا وکیل بن سکوں؛ ایسا وکیل جو ہر مقدمے میں صرف بچے کے بہترین مفاد، اس کے بنیادی حقوق اور اس کی آواز کا محافظ ہو۔
فہد احمد صدیقی
ایڈووکیٹ سپریم کورٹ

 صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے تمام نان کسٹوڈیل پیرنٹ متوجہ ہوں !!یاد رہے 2017 میں چائیلڈ کسٹڈی لاء سروسز ان پاکستان کی ...
21/07/2026


صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے تمام نان کسٹوڈیل پیرنٹ متوجہ ہوں !!
یاد رہے 2017 میں چائیلڈ کسٹڈی لاء سروسز ان پاکستان کی جانب سے کی جانے والی بھرپور کوششوں کے نتیجے میں محترم جناب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کیا گیا یہ نوٹیفیکیشن آج بھی اتنا ہی قابل عمل ہے اور موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران, اگر آپ ایک نان کسٹوڈیل پیرنٹ ہیں اور اپکا پرچہ ملاقات ترتیب پا چکا ہے لیکن آپکی نابالغ سے ملاقات بوجوہ تعطل کا شکار ہے تو یاد رہے کہ اس نوٹیفیکیشن کی رو سے موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران آپ اپنے نابالغ بچے سے ملاقات کرنے کے حقدار ہیں۔ کرنا صرف آپ نے اتنا ہے کہ اسکی کاپی اپ نے اپنی درخواست برائے ملاقات نابالغ، کے ساتھ لف کر کے اپنی متعلقہ عدالت میں پیش کرنی ہے

20/07/2026

دو دہائیوں سے زائد عرصے تک پاکستان بھر کی فیملی کورٹس میں پیش ہوتے ہوئے میں بتدریج اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بچوں اور والدین کو تحویل (Custody) اور سرپرستی (Guardianship) کے مقدمات میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان کی بنیادی وجہ خود اصولِ فلاحِ طفل (Welfare Principle) میں کوئی کمی نہیں، بلکہ اس مربوط اور مؤثر طریقۂ کار (Procedural Framework) کا فقدان ہے جس کے ذریعے اس اصول کو عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے۔

خاندانی تنازعات دراصل ایسے انسانی تعلقات سے متعلق ہوتے ہیں جو مسلسل ارتقاء پذیر رہتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے انہیں اکثر ایسے عدالتی طریقۂ کار کے تحت چلایا جاتا ہے جو تجارتی یا جائیداد کے تنازعات کے لیے وضع کیے گئے تھے۔ بچوں کی تحویل کے مقدمات میں بچہ مسلسل نشوونما پاتا ہے، اس کی شخصیت تشکیل پاتی ہے اور والدین سے اس کے جذباتی تعلقات بدلتے رہتے ہیں، جبکہ مقدمات برسوں تک زیرِ التواء رہتے ہیں۔ اس طرح تاخیر صرف ایک انتظامی یا عدالتی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ خود انصاف کے نتائج پر اثر انداز ہونے لگتی ہے۔ بالآخر عدالتیں اکثر اس صورتحال کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں جو خود طویل عدالتی کارروائی کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہوتی ہے، نہ کہ اس تنازعے کا جو مقدمہ دائر ہونے کے وقت موجود تھا۔

اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے سامنے "Proposal for Family Justice Procedural Reform" کے عنوان سے ایک جامع اصلاحی تجویز پیش کی ہے۔

یہ تجویز اس اصول پر مبنی ہے کہ بچے کو اپنے دونوں والدین تک بامعنی رسائی، خاندانی تعلقات کا تحفظ، عدالتی طریقۂ کار میں پیش بینی (Procedural Predictability) اور عدالتی احکامات کا مؤثر نفاذ صرف انتظامی معاملات نہیں بلکہ یہ سب آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 9، 10-A، 14، 25 اور 35 میں دی گئی بنیادی آئینی ضمانتوں سے براہِ راست وابستہ ہیں۔

اس تجویز میں عبوری ملاقاتوں (Interim Contact) کے لیے منظم اور واضح فریم ورک، ملاقات کے احکامات کے مؤثر نفاذ، سمن اور نوٹس کی جدید سروس، فیملی ججز کی بچوں کی نفسیات کے حوالے سے خصوصی تربیت، عدالت سے منسلک ثالثی (Court-Attached Mediation) کے نظام، اور خاندانی انصاف کے نظام میں زیادہ تسلسل اور استحکام جیسے عملی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

یہ تجویز نہ تو اسلامی عائلی قوانین میں کسی تبدیلی کی وکالت کرتی ہے، نہ تحویلِ طفل کے مسلمہ اصولوں میں، اور نہ ہی Guardians and Wards Act, 1890 کے تحت عدالتوں کو حاصل صوابدیدی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ اصولِ فلاحِ طفل کو ایسے مضبوط اور منصفانہ طریقۂ کار کے ذریعے نافذ کیا جائے جو غیر ضروری صوابدید، عدم یکسانیت اور تاخیر کو کم کرے اور بچوں کو طویل مقدمہ بازی کے غیر ارادی نقصانات سے محفوظ رکھے۔

اگر ہمارا قانونی نظام واقعی بچے کی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے تو اسے یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ مقدمات کے دوران والدین اور بچوں کے تعلقات محفوظ رہیں، کیونکہ جب برسوں کی جدائی کسی بچے اور اس کے والد یا والدہ کے درمیان جذباتی رشتہ کمزور کر دیتی ہے تو بعد میں آنے والا کوئی بھی عدالتی فیصلہ، خواہ وہ کتنا ہی مدلل کیوں نہ ہو، اس نقصان کا مکمل ازالہ نہیں کر سکتا۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی خاندانی عدالتی نظیر (Family Jurisprudence) ایک سادہ مگر نہایت اہم حقیقت کو تسلیم کرے کہ بچوں کی تحویل کے مقدمات میں طریقۂ کار (Procedure) محض انصاف تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ اکثر انصاف کے نتیجے کا تعین بھی اسی سے ہوتا ہے۔

ہمارا اصل چیلنج یہ ہے کہ عدالتی فیصلے محض وقت گزرنے کی بنیاد پر نہیں بلکہ شواہد، بچے کی فلاح و بہبود اور آئینی اصولوں کی روشنی میں ہوں۔

میں معزز عدلیہ، وکلاء برادری، جامعات، قانون ساز اداروں اور بچوں کے حقوق سے وابستہ تمام ماہرین کو اس اہم موضوع پر بامعنی مکالمے کی دعوت دیتا ہوں تاکہ ہم مل کر پاکستان کے خاندانی نظامِ انصاف کو بچوں اور خاندانوں کے بہترین مفاد کے مطابق مزید مؤثر، منصفانہ اور انسانی بنا سکیں۔

— فہد احمد صدیقی
ایڈووکیٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان

20/07/2026

Si vis pacem, para bellum:
If you want peace, prepare for war.

19/07/2026



19 ماہ کا بچہ دونوں خاندانوں کی محبت کا حق دار ہے
چائلڈ کسٹڈی لا سروسز اِن پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ بچوں کو کبھی بھی والدین کے باہمی تنازعات کا نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ ہر بچے کا یہ بنیادی حق ہے کہ اگر اس کی فلاح و بہبود کے مطابق ہو تو وہ اپنے والد اور والدہ، دونوں خاندانوں کی محبت، شفقت اور تعلق سے محروم نہ رہے۔
ہمیں یہ بات خوشی دیتی ہے کہ معزز گارڈین کورٹ نے ایک 19 ماہ کے کمسن بچے کی اپنے والد اور دادا دادی سے عدالت کی نگرانی میں ملاقات کا عبوری حکم جاری کیا ہے۔ یہ حکم اس بنیادی اصول کی عکاسی کرتا ہے کہ بچے کی فلاح صرف جسمانی تحویل (Physical Custody) تک محدود نہیں بلکہ اس میں اس کی جذباتی نشوونما، خاندانی شناخت، تعلق کا احساس اور دونوں خاندانوں سے مضبوط رشتہ بھی شامل ہے۔
ہم معزز گارڈین جج صاحبہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے انتہائی متوازن، حساس اور بچہ دوست (Child-Centric) نقطۂ نظر اپناتے ہوئے بچے کی بہترین فلاح کو مقدم رکھا۔ ایسے فیصلے گارڈینشپ کے قانون کی حقیقی روح کی عکاسی کرتے ہیں اور عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔
ہم اپنے ساتھی رانا عمر خاں ایڈووکیٹ کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں، جن کی محنت، باریک بینی اور پیشہ ورانہ لگن نے اس مقدمے کی مؤثر پیروی میں اہم کردار ادا کیا۔

درخواست گزار کی جانب سے Fahad Ahmad Siddiqi ، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ:
• صرف 19 ماہ کے بچے کو اپنے والد اور دادا دادی کی محبت، شفقت اور قربت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
• والدین کے درمیان ازدواجی تنازعات بچے کے اس آزاد اور فطری حق کو ختم نہیں کر سکتے کہ وہ دونوں خاندانوں سے بامعنی تعلق قائم رکھے۔
• دادا دادی بچے کی جذباتی پرورش، خاندانی شناخت، نسب، روایات، اقدار اور احساسِ وابستگی کی تشکیل میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
• عدالت، Parens Patriae کے اختیار کے استعمال میں، صرف بچے کی جسمانی حفاظت ہی نہیں بلکہ اس کی جذباتی، نفسیاتی اور سماجی نشوونما کی بھی محافظ ہے۔
یہ امر نہایت حوصلہ افزا ہے کہ یہ تمام فلاحی اصول عدالت کے عبوری حکم میں نمایاں طور پر جھلکتے ہیں۔
ہر ایسا فیصلہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ چائلڈ کسٹڈی کے مقدمات والدین کی جیت یا ہار کا نام نہیں، بلکہ ایک معصوم بچے کے اس حق کے تحفظ کا نام ہیں کہ وہ محبت، استحکام اور دونوں خاندانوں کے ساتھ مضبوط تعلق کے ماحول میں پروان چڑھے۔
بچوں کو صرف پرورش ہی نہیں، بلکہ اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کا حق بھی حاصل ہے۔ دونوں خاندانوں سے تعلق برقرار رکھنا اسی حق کا بنیادی حصہ ہے۔

Child Custody Law Services in Pakistan
بچوں کے حقوق، فلاح و بہبود اور بہترین مفاد کے تحفظ کے لیے پُرعزم۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ فہد احمد صدیقی صاحب کو اپنے مرحوم والد جناب قدیر احمد صدیقی مرحوم (اللہ پاک اپکو جنت الفردوس ...
19/07/2026

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ فہد احمد صدیقی صاحب کو اپنے مرحوم والد جناب قدیر احمد صدیقی مرحوم (اللہ پاک اپکو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں) کی دی ہوئی تربیت کے نتیجے میں اپنی زندگی میں وہ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ جو مخلوق خدا کے لیئے خیر کا باعث ہوں، جو آسانیاں بانٹنے والا انسان بن سجیں اور ہم اللہ کریم سے دعاگو ہیں کہ جناب فہد احمد صدیقی صاحب کے ہر اچھے عمل میں سے انکے والد مرحوم کو حصہ ملے، اور انہیں انکے والد مرحوم کے لیئے صدقہ جاریہ کا باعث بنائے،
آمین ثم آمین یارب العالمین

السلام علیکم ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں نابالغ کی  گھر کی ملاقات کے حوالے سے جنگی بنیادوں پر تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔ ...
19/07/2026

السلام علیکم
ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں نابالغ کی گھر کی ملاقات کے حوالے سے جنگی بنیادوں پر تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔ ہم نے دیکھا یہ ہے کہ اکثر نان کسٹوڈیل پیرنٹ گارڈین ایکٹ کی دفعہ 12 کی جب درخواست دیتے ہیں تو بچے کی صرف interim custody مانگتے ہیں، اس کے علاؤہ کوئی اور چیز عدالت سے نہی مانگی جاتی ہے، اور اکثر عدالت یہ درخواست خارج کر دیتی ہے اور جب یہ درخواست خارج کرتی ہے تو صرف احاطہ عدالت کی دو گھنٹے کی ملاقات مقرر کر دیتی ہے، جس کی نہ تو کوئی توجیح عدالت دیتی ہے اور نہ ہی اس آرڈر کو عمومی طور پر نان کسٹوڈدیل پیرنٹ کی جانب سے اپیل میں چیلنج کیا جاتا ہے، اس ٹرینڈ کو ختم کرنے کے لیئے نان کسٹوڈدیل پیرنٹ کو specifically عدالت کو ایک ایسی درخواست دینا چاہیئے جس میں گھر کی اور اوور نائٹ سٹے کی نابالغ سے ملاقات مانگنی چاہیئے۔۔۔
ہماری رائے ہے کہ نان کسٹوڈدیل پیرنٹس کو لکیر پیٹنے کی پریکٹس سے ہٹ کر کچھ مختلف کرنا چاہیے تاکہ عدالتیں بھی کچھ مختلف کر سکیں

ہم سمجھتے ہیں کہ اپ سب نان کسٹوڈدیل پیرنٹس کو ہر موقع پر، ہر تہوار پر اور ہر چھٹی کے موقع پر عدالت سے اپنے بچے تک رسائی مانگنا چاہیئے ، ہو سکتا ہے کہ شروع میں اپکی دو چار درخواستیں عدالت خارج بھی کر دے لیکن آہستہ آہستہ عدالت کی جانب سے بہتر آرڈر آنا شروع ہو سکتے ہیں

19 ماہ کا بچہ دونوں خاندانوں کی محبت کا حق دار ہےچائلڈ کسٹڈی لا سروسز اِن پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ بچوں کو ...
18/07/2026

19 ماہ کا بچہ دونوں خاندانوں کی محبت کا حق دار ہے
چائلڈ کسٹڈی لا سروسز اِن پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ بچوں کو کبھی بھی والدین کے باہمی تنازعات کا نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ ہر بچے کا یہ بنیادی حق ہے کہ اگر اس کی فلاح و بہبود کے مطابق ہو تو وہ اپنے والد اور والدہ، دونوں خاندانوں کی محبت، شفقت اور تعلق سے محروم نہ رہے۔
ہمیں یہ بات خوشی دیتی ہے کہ معزز گارڈین کورٹ نے ایک 19 ماہ کے کمسن بچے کی اپنے والد اور دادا دادی سے عدالت کی نگرانی میں ملاقات کا عبوری حکم جاری کیا ہے۔ یہ حکم اس بنیادی اصول کی عکاسی کرتا ہے کہ بچے کی فلاح صرف جسمانی تحویل (Physical Custody) تک محدود نہیں بلکہ اس میں اس کی جذباتی نشوونما، خاندانی شناخت، تعلق کا احساس اور دونوں خاندانوں سے مضبوط رشتہ بھی شامل ہے۔
ہم معزز گارڈین جج صاحبہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے انتہائی متوازن، حساس اور بچہ دوست (Child-Centric) نقطۂ نظر اپناتے ہوئے بچے کی بہترین فلاح کو مقدم رکھا۔ ایسے فیصلے گارڈینشپ کے قانون کی حقیقی روح کی عکاسی کرتے ہیں اور عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔
ہم اپنے ساتھی رانا عمر خاں ایڈووکیٹ کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں، جن کی محنت، باریک بینی اور پیشہ ورانہ لگن نے اس مقدمے کی مؤثر پیروی میں اہم کردار ادا کیا۔
درخواست گزاروں کی جانب سے Fahad Ahmad Siddiqi ، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ:
• صرف 19 ماہ کے بچے کو اپنے والد اور دادا دادی کی محبت، شفقت اور قربت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
• والدین کے درمیان ازدواجی تنازعات بچے کے اس آزاد اور فطری حق کو ختم نہیں کر سکتے کہ وہ دونوں خاندانوں سے بامعنی تعلق قائم رکھے۔
• دادا دادی بچے کی جذباتی پرورش، خاندانی شناخت، نسب، روایات، اقدار اور احساسِ وابستگی کی تشکیل میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
• عدالت، Loco Parentis کے اختیار کے استعمال میں، صرف بچے کی جسمانی حفاظت ہی نہیں بلکہ اس کی جذباتی، نفسیاتی اور سماجی نشوونما کی بھی محافظ ہے۔
یہ امر نہایت حوصلہ افزا ہے کہ یہ تمام فلاحی اصول عدالت کے عبوری حکم میں نمایاں طور پر جھلکتے ہیں۔
ہر ایسا فیصلہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ چائلڈ کسٹڈی کے مقدمات والدین کی جیت یا ہار کا نام نہیں، بلکہ ایک معصوم بچے کے اس حق کے تحفظ کا نام ہیں کہ وہ محبت، استحکام اور دونوں خاندانوں کے ساتھ مضبوط تعلق کے ماحول میں پروان چڑھے۔
بچوں کو صرف پرورش ہی نہیں، بلکہ اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کا حق بھی حاصل ہے۔ دونوں خاندانوں سے تعلق برقرار رکھنا اسی حق کا بنیادی حصہ ہے۔

Child Custody Law Services in Pakistan
بچوں کے حقوق، فلاح و بہبود اور بہترین مفاد کے تحفظ کے لیے پُرعزم۔

 الحمدللہ، لاہور ہائی کورٹ میں ایک اور اہم قانونی کامیابی۔Child Custody Law Services in Pakistan کی قانونی ٹیم نے ایک اہ...
18/07/2026


الحمدللہ، لاہور ہائی کورٹ میں ایک اور اہم قانونی کامیابی۔

Child Custody Law Services in Pakistan کی قانونی ٹیم نے ایک اہم فیملی معاملے میں کامیاب قانونی معاونت فراہم کی، جس میں ایک خاتون اور اس کے کم سن بچے کے مالی حقوق اور مناسب نان و نفقہ سے متعلق اہم قانونی نکات زیرِ بحث آئے۔

اگرچہ ہماری قانونی پریکٹس کا ایک نمایاں حصہ Non-Custodial Fathers کے قانونی حقوق کے تحفظ، والدین اور بچوں کے باہمی تعلق کو برقرار رکھنے اور بچوں کی فلاح و بہبود کے اصول کو فروغ دینے سے متعلق رہا ہے، تاہم ہمارا بنیادی مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ فیملی لاء میں انصاف کسی ایک فریق، صنف یا طبقے تک محدود نہیں۔

جہاں حق اور انصاف کا تقاضا ہو، وہاں ایک باپ، ایک ماں اور بالخصوص ایک بچے کے جائز قانونی حقوق یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔

یہ مقدمہ جناب
Fahad Ahmad Siddiqi
، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان، کی قانونی حکمتِ عملی اور زیرِ نگرانی تیار اور پیروی کیا گیا، جبکہ ہمارے ایسوسی ایٹ جناب معظم خان
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے روبرو مقدمہ نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد معزز لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزار کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی نکات کا جائزہ لیتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیے اور معاملہ قانون کے مطابق ازسرِنو فیصلہ کرنے کے لیے واپس بھجوا دیا۔ معزز عدالت نے عبوری نان و نفقہ اور مقدمے کے جلد فیصلے سے متعلق بھی اہم ہدایات جاری فرمائیں۔

یہ کامیابی ہمارے اس اصول کی عکاس ہے کہ فیملی لاء میں وکالت کا مقصد محض کسی ایک فریق کی حمایت نہیں، بلکہ قانون کی بالادستی، منصفانہ عدالتی عمل اور سب سے بڑھ کر بچے کی فلاح و بہبود کا تحفظ ہونا چاہیے۔

ہم جناب Moazzam Khan ، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کو ان کی مؤثر عدالتی معاونت، بھرپور تیاری اور پیشہ ورانہ محنت پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہماری پوری ٹیم کو انصاف اور قانون کے لیے اسی اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ کام جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Child Custody Law Services in Pakistan

Address

Ground Floor, Siddiqi Plaza, 7/Turner Road, Opposite Lahore High Court
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Child Custody Law Services in Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Child Custody Law Services in Pakistan:

Shortcuts

Share