Amicus Legal Consultants

Amicus Legal Consultants just the justice � Welcome to my page! My expertise includes:

Civil Law: Handling a wide range of civil suits and stay matters.

I am a dedicated and experienced lawyer based in Lahore, Pakistan, with a comprehensive practice that spans multiple areas of law. Criminal Law: Providing robust defense and prosecution services, including criminal appeals and remands. Banking Law: Offering specialized legal services for banking-related issues. FIA and Customs: Skilled in dealing with cases involving the Federal Investigation Agen

cy and customs matters. Family Law: Assisting clients with family disputes, divorce, custody, and other related issues. Bail Matters: Expertise in securing bail for clients in various cases. Taxation: Providing legal advice and representation in tax and sales tax matters. High Court Writs: Filing and arguing writs in the High Court. My practice is committed to delivering justice with integrity and excellence. I aim to provide my clients with clear, reliable, and effective legal solutions. Thank you for visiting my page, and I look forward to serving your legal needs.

🔥 Need Legal Help? 🔥Amicus Legal Consultants , is your solution!💼 Civil, Criminal, Banking, Family, FBR, Tax...🌍 Interna...
01/09/2024

🔥 Need Legal Help? 🔥

Amicus Legal Consultants , is your solution!
💼 Civil, Criminal, Banking, Family, FBR, Tax...
🌍 International Disputes, FIA, Corporate litigation, Company Registration...
✅ Expertise tailored to your needs.
Get the justice you deserve! Contact us now!

07/08/2024
ریپ اور  زنا میں فرق !جسٹس ملک شہزاد احمد خان کا اکثریتی فیصلہ اور جسٹس عائشہ اے ملک کا اختلافی نوٹسپریم کورٹ سے محمد عم...
18/07/2024

ریپ اور زنا میں فرق !
جسٹس ملک شہزاد احمد خان کا اکثریتی فیصلہ اور جسٹس عائشہ اے ملک کا اختلافی نوٹ

سپریم کورٹ سے محمد عمران بنام ریاست پاکستان فیصلہ سنایا گیا جس میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے اکثریتی فیصلہ تحریر کیا اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اس کی تائید کی ہے کہ ملزم محمد عمران پر ریپ کا جرم ثابت نہیں ہوا جبکہ زنا کا جرم ثابت ہوتا ہے اس لیے سزا کو دس سال قید سے کم کر کے پانچ سال کر دیا گیا ۔
جسٹس عائشہ اے ملک نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا اور اس کی بنیاد پر ایک اختلافی نوٹ لکھا جس میں انہوں نے ریپ کے الزام کو مسترد کرنے کی وجوہات کو نامناسب قرار دیا۔

واقعہ کی تفصیلات:
شکایت کنندہ (ممتاز بی بی) نے دعویٰ کیا کہ 11 جولائی 2016 کو رات 8 بجے ملزم محمد عمران نے ان کے بھائی کے گھر میں داخل ہو کر ان کے ساتھ زبردستی ریپ کیا۔ اس واقعہ کی اطلاع ممتاز بی بی نے اپنے بھائی محمد زمان اور محمد وسیم اکرم کو دی۔ اس کے بعد، ممتاز بی بی نے پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کروائی اور انہیں فوری طور پر میڈیکل چیک اپ کے لیے بھیجا گیا۔ جہاں ڈی این اے نمونے لیے گئے۔ ڈی این اے رپورٹ مثبت آئی جس میں ملزم کی شناخت ثابت ہوئی۔ ملزم کو گرفتار کیا گیا اور ٹرائل کورٹ نے اسے ریپ اور گھر میں غیر قانونی داخلے کے الزام میں سزا دی۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ:
اکثریتی بنچ نے فیصلہ کیا کہ شکایت کنندہ ریپ کے الزام کو ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ ڈی این اے رپورٹ مثبت ہونے کے باوجود، یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ یہ عمل زبردستی تھا۔ اکثریتی بنچ نے ریپ کی بجائے زنا (fornication) کے جرم کی تصدیق کی اور سزا کو تبدیل کیا۔ اکثریتی بنچ نے بیان کیا کہ ریپ کے ثبوت کے لیے زبردستی کا عنصر ضروری ہے۔ چونکہ ملزم غیر مسلح تھا اور شکایت کنندہ نے کسی قسم کی جسمانی مزاحمت نہیں کی، اس لیے زبردستی ثابت نہیں ہو سکی۔ ڈی این اے رپورٹ کے باوجود، شکایت کنندہ کی جانب سے رضامندی کی ممکنہ موجودگی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس عائشہ اے ملک کااختلافی نوٹ:
جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ ریپ کے الزام کو مسترد کرنے کے لیے شکایت کنندہ کی جانب سے جسمانی مزاحمت کی عدم موجودگی کو بنیاد بنانا غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبردستی ثابت کرنے کے لیے جسمانی مزاحمت ضروری نہیں، بلکہ مختلف حالات کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہیے۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ ریپ کے مقدمات میں شکایت کنندہ کی گواہی کو اہمیت دی جانی چاہیے اور اس کی سچائی کو محض جسمانی مزاحمت کی عدم موجودگی پر مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ ریپ کے مقدمات میں جسمانی مزاحمت کو ثابت کرنا ضروری نہیں ہے کیونکہ مختلف افراد مختلف طریقوں سے صدمے کا سامنا کرتے ہیں۔ تمام خواتین کو اس سٹیریوٹائپیکل مفروضے پر پرکھنا کہ انہیں کسی خاص شکل میں مزاحمت کرنی چاہیے تاکہ ریپ کو ثابت کیا جا سکے، بالکل بے بنیاد ہے۔ یہ مقدمات اس تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں جس میں متاثرہ کی بیان اور معاون سائنسی شواہد پر انحصار کیا جاتا ہے تاکہ ریپ کو ثابت کیا جا سکے اور جھوٹے مفروضوں، روایات اور سٹیریوٹائپیکل دلائل کو مسترد کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈی این اے رپورٹ اور شکایت کنندہ کی فوری اطلاع کوبنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

جسٹس عائشہ اے ملک کا اختلافی نوٹ کا جائزہ:
جسٹس عائشہ اے ملک کے اختلافی نوٹ نے متاثرہ خواتین کے مقدمات میں انصاف کے پیمانوں کو متاثرہ خواتین کے نظریے سے دیکھنے کا کہا ہے، جہاں انہوں نے متاثرہ خاتون کے نظریہ کو مدنظر رکھتے ہوئے روایتی عدالتی اصولوں سے انحراف کیاہے۔ یہ نوٹ اس بات کا مظہر ہے کہ ریپ (r**e) جیسے سنگین جرائم میں متاثرہ کی گواہی اور تجربے کو کیسے قانونی اہمیت دی جانی چاہیے۔
جسٹس عائشہ اے ملک نے اپنے اختلافی نوٹ میں اس بات پر زور دیا کہ ریپ کے مقدمات میں متاثرہ کی گواہی کو کمزور نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے بیان کیا کہ جسمانی مزاحمت کی عدم موجودگی کو بنیاد بنا کر ریپ کے الزام کو مسترد کرنا غیر منصفانہ ہے۔ جسٹس عائشہ کا موقف ہے کہ ریپ کے مقدمات میں متاثرہ کی گواہی کو ایک اہم ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے، بجائے اس کے کہ جسمانی مزاحمت یا دیگر ثانوی شواہد پر انحصار کیا جائے۔
روایتی نقطہ نظر میں، ریپ کے مقدمات میں زبردستی کے عنصر کو ثابت کرنے کے لیے جسمانی مزاحمت کو ایک اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جسٹس عائشہ اے ملک نے اس نظریہ کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ریپ کے مقدمات میں زبردستی کے عنصر کو ثابت کرنے کے لیے مختلف حالات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ کی گواہی، ڈی این اے (DNA) رپورٹ، اور شکایت کنندہ کی فوری اطلاع جیسے عوامل کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے اس مقدمے کی سماعت میں متاثرہ کی طرف سے پیش کی گئی تفصیلات اور شواہد کو انتہائی سنجیدگی سے لیا۔ ان کے نوٹ میں شامل تمام عوامل جیسے کہ متاثرہ کی فوری شکایت، میڈیکل رپورٹس، اور ڈی این اے شواہد کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔

یہ نوٹ مستقبل کے عدالتی فیصلوں کے لیے ایک مضبوط نظیر بن سکتا ہے، جہاں متاثرہ کی گواہی اور تجربے کو اہمیت دی جائے۔اس نوٹ نے خواتین کے حقوق کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور قانونی نظام میں خواتین کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف ایک مضبوط موقف فراہم کیا ہے۔

یہ نوٹ عدالتی اصولوں کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کرسکتا ہےاور عدالتی نظائر میں تنوع پیدا کرسکنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے مقدمات میں انصاف کے حصول کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس اختلافی نوٹ کے ذریعے ججز اور وکلاء کی تربیت کا کام لیا جاسکتا ہے اس نوٹ کو شامل کر کے انہیں حساس، جامع نقطہ نظر اورمتاثرہ خاتون کے نظریہ پر تربیت فراہم کی جا سکتی ہے۔

29/06/2024

اجرا میں مدیون کو حاضری یا مقدمہ فوجداری میں ملزم کو گرفتاری دینے پر مجبور کرنے کیلئے اسکا قومی شناختی کارڈ بلاک نہ کیا جا سکتا ھے
Section 18 of the National Database Registration Authority Ordinance 2000 does not allow blocking / digital impounding of the CNIC of a person to compel him to appear before the court.

Courts frequently direct digital impounding of the CNIC because it is an effective means to secure presence of a person. Sometimes it even impels a fugitive from law to surrender. Notwithstanding the benefits, this cannot be permitted because it does not have the sanction of law. Such orders are contrary to Article 175(2) of the Constitution and the concept of rule of law. The Federal Government may, therefore, propose the Parliament to amend the Ordinance.
Writ Petition No.21987/2022 Hafiz Awais Zafar Vs. Judge Family Court etc.
Date of hearing
10 .0 5 2022

سپیشل کسٹم عدالت کا ملتان میں قیام جنوبی پنجاب کے سائلین کے لیے خوشخبری
29/06/2024

سپیشل کسٹم عدالت کا ملتان میں قیام
جنوبی پنجاب کے سائلین کے لیے خوشخبری

سپریم کورٹ کے فیصلے میں، شاہ مدار خان بنام طارق داؤد اور دیگر (C.P.L.A.3877/2023) میں جسٹس امین الدین خان نے واضح کیا کہ...
02/06/2024

سپریم کورٹ کے فیصلے میں، شاہ مدار خان بنام طارق داؤد اور دیگر (C.P.L.A.3877/2023) میں جسٹس امین الدین خان نے واضح کیا کہ کسی دستاویز کو چیلنج کرنے کے لئے واضح پلیڈنگز ہونا ضروری ہیں۔ مدعی نے دعویٰ کیا کہ اس نے کبھی کسی کو اپنا وکیل مقرر نہیں کیا اور پاور آف اٹارنی کو جعلی قرار دیا۔ تاہم، مدعی نے خود رجسٹری دفتر سے دستاویز کی کاپی عدالت میں پیش کی اور اپنے دعوے کو ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ عدالت نے مدعی کی جانب سے ابتدائی ذمہ داری پوری نہ کرنے پر مقدمہ خارج کر دیا اور رجسٹرڈ پاور آف اٹارنی کو درست قرار دیا۔

In the case of **Shah Madar Khan v. Tariq Daud and others (C.P.L.A.3877/2023)**, Mr. Justice Amin-Ud-Din Khan issued a significant judgment on 09-05-2024, highlighting the importance of specific pleadings when challenging a document.

The plaintiff claimed he never appointed anyone as his attorney and denied the entire power of attorney document. Despite this, he produced the record from the Sub-Registrar's office, exhibiting the power of attorney as Exh.PW-1/1. The plaintiff did not object to the cross-examination of this record and failed to initiate the legal process to compare signatures and thumb impressions on the impugned document.

The court emphasized that the plaintiff did not discharge the initial onus of negation of the document's registration. As a result, the onus did not shift to the defendant. The court also noted that the plaintiff should have filed a suit for cancellation under Section 39 of the Specific Relief Act, 1877, instead of a suit for declaration under Section 42.

Consequently, the court dismissed the plaintiff's suit, allowed the petition, converted it into an appeal, and set aside the judgments of the revisional and first appellate courts, upholding the trial court's decision.

26/02/2024

گزشتہ دنوں نگران وزیر اعلی صاحب نے الوداعی اجلاس کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک ایکسئین کے ٹرانسفر کیلئے 20 کروڑ روپے رشوت کی آفر کی گئی۔
نگران وزیر اعلی صاحب نے ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ رشوت کی آفر ٹھکرا دی۔

بہت خوب ! لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بطور وزیر اعلی پنجاب کیا اس رشوت کو ٹھکرا کر اپنی ذمہ داری پوری کر لی ؟
کیا ایک صوبے کا سربراہ ہونے کے ناطے ان انہوں نے یہ چیک کیا کہ اتنے پیسے اس ایکسئین کے پاس کہاں سے آئے ؟
وہ ایک مخصوص جگہ پر پوسٹنگ کروانے کیلئے اتنی بڑی رقم کیوں دے رہا تھا؟
اس کا سروس بیک گراؤنڈ کیا ہے ؟
جہاں جہاں اس کی پوسٹنگ رہی وہاں کوئی بے ضابطگیاں یقینا ہوئی ہوں گی ؟ ان کی تفصیل ؟

کیا اس بات کی انکوائری کروانا ضروری نہیں تھا کہ یہ پیسے ایکسئین خود دے رہا ہے یا کوئی اور سپانسر ہے ؟

ان تمام باتوں کا ہمیں تو علم نہیں ہاں البتہ درجہ چہارم کے ملازمین، نائب قاصد، دفتری، سویپر، سینٹری ورکر، کلرک، سٹینو گرافرز، اسسٹنٹ، سپرنٹنڈنٹ، اور دیگر چھوٹے ملازمین کو مطلع کیا جاتا ہے اگر آپ نے 100/200 روپے کی یا کسی سے چائے پینے کی کوشش کی یا دیگر ذرائع سے کرپشن کی تو اگلا قانون آپکی پھانسی کا تیار کیا جائے گا۔ کیونکہ آپ لوگ پہلے ہی ہزاروں میں تنخواہ لے رہے ہو۔

21/02/2024

اگر مجسٹریٹ ملزم کو249A ض ف کے تحت بری کردے تو حکم بریت کیخلاف صرف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔سیشن کورٹ میں نگرانی قابل سماعت نہ ہے۔
حکم بریت کیخلاف رٹ بھی قابل سماعت نہ ہے
Against order of acquittal under section 249-A, Cr.P.C. criminal revision under section 439, Cr.P.C. is not competent. Similarly, writ petition against order of acquittal is also not competent in the light of section 417(2), Cr.P.C.
Criminal Proceedings
59534/22
Hajra javaid Makhdoom Vs Muhammad Tehmas Nasir etc
Mr. Justice Muhammad Tariq Nadeem
19-12-2023
2023 LHC 6869

"Legal Excellence in Civil, Criminal, Banking & Family Matters. Your Trusted Advocate."
18/02/2024

"Legal Excellence in Civil, Criminal, Banking & Family Matters. Your Trusted Advocate."

13/02/2024

کسی بھی مقتول کی کے لیے مجسٹریٹ
کو کوئی بھی اپلیکیشن دے سکتا ہے۔۔۔ اس کے صرف ایک چیز کی ضرورت ہے اور وہ ہے مجسٹریٹ کی
اس بابت سٹسفیکشن کروانا کہ قبر کشائی

معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے۔۔۔ اس درخواست کے دینے کے کیے مقتول کے ساتھ خونی رشتہ۔ہونا۔بھی ضروری نہیں۔۔۔۔یعنی یہ درخواست کوئی بھی اجنبی دے سکتا ہے۔۔۔بشرطیکہ کہ وہ #مجسٹریٹ صاحب کو مطمئن کر سکے۔۔۔۔

👇

13/02/2024

لاہور ہائیکورٹ نے عامر سلیم رانا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی کو بطور کنزیومر جج ضلع لاہور تعینات کر دیا

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Amicus Legal Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share