Wajahat Ali Niazi

Wajahat Ali Niazi Advocate High Court. Expert in Family cases, Criminal and Civil matters. Contact for Legal Issues.

“شوہر نے گھر سے نکالا تو اب FIR بھی ہو سکتی ہے؟”⚖️پاکستان میں خواتین کے قانونی تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئ...
05/09/2026

“شوہر نے گھر سے نکالا تو اب FIR بھی ہو سکتی ہے؟”⚖️

پاکستان میں خواتین کے قانونی تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

Criminal Laws (Amendment) Bill, 2025 کے تحت پاکستان پینل کوڈ میں نئی Section 498D — “Prohibition of Unlawful Eviction of Women” تجویز کی گئی ہے۔

اگر کوئی شوہر یا خاندان کا کوئی فرد بغیر قانونی اختیار یا جائز وجہ کے بیوی کو مشترکہ رہائش گاہ سے زبردستی نکالتا ہے یا نکالنے کی کوشش کرتا ہے تو مجوزہ قانون کے تحت یہ ایک فوجداری جرم ہوگا۔

لیکن یاد رکھیں: یہ اس وقت ایک Bill ہے، قانون بننے کے لیے پارلیمانی مراحل مکمل ہونا ضروری ہیں۔

ایک وکیل کی حیثیت سے میری نظر میں اصل مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ یہ پیغام دینا ہے کہ:

“کسی بھی عورت کو محض گھریلو اختلاف کی بنیاد پر اس کے رہائشی حق سے محروم کرنا معمولی معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔”

30/08/2026

آج عدالت میں قانون کا ایک فیصلہ ہوا… مگر چند معصوم دلوں پر کیا گزری، یہ شاید کوئی فیصلہ نہیں بتا سکتا۔ 💔

باپ سے بچے ماں کے حوالے کیے جا رہے تھے…
اور وہ معصوم بچے رو رو کر صرف ایک ہی بات کہہ رہے تھے:

“بابا… جلدی گھر آنا…”
“بابا… ہمیں چھوڑ کر مت جانا…”

عدالت میں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم تھیں۔
ایک طرف عدالتی حکم تھا، دوسری طرف معصوم بچوں کے آنسو، چیخیں اور اپنے باپ سے جدائی کا خوف۔

ایک وکیل کی حیثیت سے میں جانتا ہوں کہ عدالتیں قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیں،
مگر بعض مناظر ایسے ہوتے ہیں جہاں قانون کی کتاب بند ہونے کے بعد انسان کا دل سوال کرتا ہے۔

طلاق یا علیحدگی صرف دو بڑوں کا مسئلہ نہیں ہوتی…
سب سے گہرا زخم اکثر بچوں کے دل پر لگتا ہے۔

کاش ہر ماں اور باپ یہ سمجھ سکیں کہ
بچے کسی مقدمے کا فریق نہیں ہوتے… وہ صرف محبت، تحفظ اور اپنے ماں باپ دونوں کے محتاج ہوتے ہیں۔

آج ان بچوں کی آواز شاید ہم سب کے لیے ایک سوال ہے:

“ہمارا قصور کیا تھا؟” 💔

اللہ ہر بچے کو اپنے والدین کی محبت، سکون اور تحفظ نصیب فرمائے۔ آمین۔

26/08/2026
From being a Ravian in these corridors to returning to GCU as a Visiting Lecturer at the Department of Law.Some journeys...
19/08/2026

From being a Ravian in these corridors to returning to GCU as a Visiting Lecturer at the Department of Law.

Some journeys come full circle in the most meaningful ways.
Grateful for the opportunity to give back to the institution that shaped me.

"بھائی کہتا ہے: ابو کی جائیداد میرے قبضے میں ہے، اس لیے یہ میری ہے۔" ایک بہن میرے پاس آئی اور یہی سوال پوچھا۔ والد کا ان...
09/08/2026

"بھائی کہتا ہے: ابو کی جائیداد میرے قبضے میں ہے، اس لیے یہ میری ہے۔" ایک بہن میرے پاس آئی اور یہی سوال پوچھا۔ والد کا انتقال ہو چکا تھا۔ جائیداد بھائی کے قبضے میں تھی، کرایہ بھی وہی وصول کر رہا تھا، اور بہنوں سے کہا جا رہا تھا: "آپ کا اس جائیداد میں کوئی حصہ نہیں۔" لیکن صرف قبضہ کسی شخص کو خود بخود مکمل مالک نہیں بنا دیتا۔ وراثتی جائیداد میں ہر وارث کے حقوق کا تعین قانون اور شرعی وراثتی اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر آپ کے خاندان میں بھی: • وراثتی جائیداد تقسیم نہیں ہوئی • بھائی اکیلے جائیداد استعمال کر رہے ہیں • کرایہ صرف ایک وارث وصول کر رہا ہے • آپ کو اپنے حصے سے محروم رکھا جا رہا ہے تو اپنے قانونی حقوق کے بارے میں بروقت معلومات حاصل کریں

انکل... کیا آپ جج صاحب سے صرف ایک بات کروا سکتے ہیں؟آج فیملی کورٹ میں اپنی پیشی کے بعد میں باہر نکل رہا تھا کہ تقریباً آ...
06/08/2026

انکل... کیا آپ جج صاحب سے صرف ایک بات کروا سکتے ہیں؟

آج فیملی کورٹ میں اپنی پیشی کے بعد میں باہر نکل رہا تھا کہ تقریباً آٹھ سال کا ایک بچہ میرے سامنے آ کر رک گیا۔

اس کی آنکھیں نم تھیں، ہاتھ میں ایک ٹوٹی ہوئی کھلونا گاڑی تھی۔

اس نے دھیمی آواز میں پوچھا:

**"انکل... آپ وکیل ہیں؟"**

میں نے مسکرا کر کہا،

**"جی بیٹا۔"**

وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا:

**"کیا آپ جج صاحب سے صرف ایک بات کروا سکتے ہیں؟"**

میں نے پوچھا،

**"کون سی بات؟"**

اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

**"بس اُن سے کہہ دیں... میری امی اور ابو کو دوبارہ ایک ساتھ کر دیں... مجھے اپنا گھر واپس چاہیے۔"**

میرے پاس قانون کی بے شمار کتابیں تھیں...

مگر اُس ایک سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔

پھر اس نے جیب سے ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نکالا۔

اس پر رنگین پنسل سے تین تصویریں بنی تھیں۔

ایک میں وہ اپنے ابو کے ساتھ تھا۔

دوسری میں اپنی امی کے ساتھ۔

اور تیسری میں تینوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے مسکرا رہے تھے۔

وہ تصویر کو دیکھ کر آہستہ سے بولا:

**"انکل... پہلے ہم ایسے تھے... اب یہ صرف کاغذ پر رہ گیا ہے۔"**

اسی لمحے اس کے والد ایک دروازے سے اور والدہ دوسرے دروازے سے باہر آئے۔

دونوں نے بچے کو اپنی طرف بلایا۔

بچہ چند لمحے دونوں کو دیکھتا رہا، پھر خاموشی سے عدالت کی سیڑھی پر بیٹھ گیا... اور رونے لگا۔

اس دن مجھے احساس ہوا...

**عدالتوں میں صرف مقدموں کا فیصلہ نہیں ہوتا، کبھی کبھی ایک معصوم بچے کا پورا بچپن بھی ہار جاتا ہے۔**

**پیغام:**

طلاق اگر ناگزیر بھی ہو، تو اپنی انا کی جنگ میں اپنے بچوں کا بچپن قربان نہ کیجیے۔

**ہر مقدمے میں دو فریق ہوتے ہیں... مگر سزا اکثر اُس معصوم کو ملتی ہے جس کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔**

**اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ بچوں کو والدین کی لڑائی کی قیمت نہیں چکانی چاہیے، تو یہ پیغام ضرور شیئر کریں۔**

پنجاب پراپرٹی اونرشپ پروٹیکشن  ایکٹ کے تحت لاہور سمیت پنجاب بھر کی عدالتوں نے باقاعدہ طور پر کیسسز کی سماعت شروع کردی ہے
17/07/2026

پنجاب پراپرٹی اونرشپ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت لاہور سمیت پنجاب بھر کی عدالتوں نے باقاعدہ طور پر کیسسز کی سماعت شروع کردی ہے

**الحمد للہ رب العالمین**آج صرف ایک مقدمہ ختم نہیں ہوا، بلکہ ایک بے بس انسان کی زندگی نے دوبارہ آغاز کیا۔یہ مقدمہ ایک ای...
15/07/2026

**الحمد للہ رب العالمین**

آج صرف ایک مقدمہ ختم نہیں ہوا، بلکہ ایک بے بس انسان کی زندگی نے دوبارہ آغاز کیا۔

یہ مقدمہ ایک ایسے شخص کا تھا جو لاہور کے ایک انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ **اس پر منشیات کا مقدمہ درج تھا۔** اس کے پاس نہ وسائل تھے، نہ کوئی سفارش، نہ ہی اتنی استطاعت کہ وہ ایک وکیل کی فیس ادا کر سکتا۔ اس کے پاس اگر کچھ تھا تو صرف یہ یقین کہ شاید کہیں نہ کہیں انصاف ابھی زندہ ہے۔

میں نے یہ مقدمہ بلامعاوضہ (Pro Bono) لڑنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ بعض مقدمات صرف قانونی ذمہ داری نہیں ہوتے، بلکہ انسانیت کا تقاضا بھی ہوتے ہیں۔

اس مقدمے کی تیاری میں بے شمار گھنٹے صرف ہوئے۔ ہر قانونی نکتے کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور ہر دلیل پوری ذمہ داری کے ساتھ عدالت کے سامنے پیش کی گئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور عدالت کے منصفانہ فیصلے کے نتیجے میں میرے مؤکل کو باعزت بریت (Acquittal) نصیب ہوئی۔

فیصلہ سننے کے بعد وہ شخص خاموش کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر یہ بے بسی کے نہیں بلکہ آزادی اور شکرگزاری کے آنسو تھے۔

اس نے اپنی جیب سے کچھ رقم نکالی اور نہایت اصرار کے ساتھ میری طرف بڑھائی۔ شاید وہ اس کی پوری جمع پونجی تھی۔ میں نے اس کا ہاتھ تھام کر وہ رقم واپس اس کی جیب میں رکھ دی۔

میں نے اس سے صرف اتنا کہا:

**"یہ رقم اپنے بچوں پر خرچ کریں۔ آج آپ کا آزاد ہونا ہی میری فیس ہے۔"**

ایک وکیل کی زندگی میں کچھ مقدمات ایسے ہوتے ہیں جن کی اصل قیمت فیس سے نہیں، بلکہ کسی بے گناہ کے چہرے پر لوٹ آنے والی امید سے ادا ہوتی ہے۔

وکالت میرے لیے صرف روزگار نہیں، بلکہ قانون کے ذریعے انصاف تک رسائی کا ایک ذریعہ ہے۔ اگر میری محنت کسی مظلوم کو اس کا حق دلانے میں کامیاب ہو جائے تو یہی میرے پیشے کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایک ایسے مقدمے میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق دی، جس میں ایک ضرورت مند شخص کو انصاف ملا۔

**نوٹ:** اس پوسٹ کا مقصد کسی مقدمے کے نتیجے کی تشہیر یا آئندہ مقدمات کے بارے میں کوئی دعویٰ کرنا نہیں۔ ہر مقدمہ اپنے حقائق، شواہد اور قانون کے مطابق الگ بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ مؤکل کی رازداری اور قانونی تقاضوں کا مکمل احترام کیا گیا ہے۔

Address

Niazi Law Associates, Office # 425, Executive Floor Sadiq Plaza Mall Road
Lahore
54000

Telephone

03164188814

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wajahat Ali Niazi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share