Lawyers of Pakistan

Lawyers of Pakistan We have been proudly serving since 2013 and takes great pride in being Pakistan's premier Law Firm.

Lawyers of Pakistan has been proudly serving since 2013 and takes great pride in being Pakistan's premier International Law Firm, operating not only in Pakistan but also in various other countries. Lawyers of Pakistan is dedicated to providing comprehensive legal services tailored to meet your specific needs. Our areas of expertise include court marriage, service matters, tax and corporate affairs, criminal and civil litigation, family matters, resolution of marriage disputes, custody of minors etc

11/09/2026
مسماۃ شری متی ریتا کی شادی سال 2012ء میں راوی کمار سے ہوئی، جس سے دو بیٹیاں جسیکا اور سانیکا پیدا ہوئیں۔ بدقسمتی سے راوی...
08/09/2026

مسماۃ شری متی ریتا کی شادی سال 2012ء میں راوی کمار سے ہوئی، جس سے دو بیٹیاں جسیکا اور سانیکا پیدا ہوئیں۔ بدقسمتی سے راوی کمار نے 20 مئی 2017ء کو خودکشی کرلی۔

شوہر کے انتقال کے بعد ریتا کے پاس اپنی اور اپنی دونوں کمسن بیٹیوں کی کفالت کے لیے کوئی مستقل ذریعہ آمدن موجود نہیں تھا۔ چنانچہ اس نے فیملی کورٹ جیکب آباد سے رجوع کیا اور اپنی نابالغ بیٹیوں کے لیے ان کے دادا رام راج سے نان نفقہ طلب کیا۔

لیکن معاملہ یہ تھا کہ رام راج خود بھی انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہا تھا۔ وہ عمر رسیدہ اور بیمار تھا، اس کا اپنا گھر اور آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اور وہ ایک دھرم شالا (خیراتی پناہ گاہ) میں رہائش پذیر تھا۔

اس کے باوجود فیملی کورٹ نے دعویٰ منظور کرتے ہوئے رام راج کو حکم دیا کہ وہ دونوں نابالغ پوتیوں کو 3,000 روپے ماہانہ فی بچی نان نفقہ ادا کرے، جبکہ اس رقم میں ہر سال 10 فیصد اضافہ بھی کیا جائے۔

رام راج نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی، لیکن اپیل بھی خارج ہوگئی۔ بالآخر اس نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

اس نے بنیادی طور پر دو اعتراضات اٹھائے:

1۔ ہندو فریقین کے درمیان نان نفقہ کے معاملے کی سماعت کا اختیار فیملی کورٹ کو حاصل نہیں تھا۔

2۔ قابلِ اطلاق ہندو قانون کے تحت دادا پر اپنی پوتیوں کی کفالت کی کوئی ذاتی قانونی ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔

یوں یہ مقدمہ صرف نان نفقہ کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس میں یہ اہم قانونی سوال بھی سامنے آیا کہ ہندو قانون کے تحت دادا کی اپنی نابالغ پوتیوں کی کفالت کی قانونی ذمہ داری کس حد تک عائد ہوتی ہے، خصوصاً اس وقت جب بچوں کا والد فوت ہوچکا ہو۔
لیکن یہاں ایک نیا سوال پیدا ہوگیا۔

اگر دادا قانونی طور پر ذمہ دار نہیں، ماں کے پاس آمدن نہیں، اور بچیاں یتیم ہیں، تو پھر ان معصوم بچیوں کی کفالت کون کرے گا؟

ہائی کورٹ نے اس انسانی مسئلے کو نظر انداز نہیں کیا۔ عدالت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 35، 37 اور 38 کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاست کے فلاحی اداروں، خصوصاً پاکستان بیت المال کی طرف توجہ کی۔

ہائی کورٹ نے پاکستان بیت المال کو ہدایت کی کہ دونوں بچیوں کو مستقل مستحقین کے طور پر رجسٹر کیا جائے اور ہر بچی کو 10،000 روپے ماہانہ دیے جائیں، جس میں ہر سال 10 فیصد اضافہ ہو، اور یہ امداد ان کی شادی تک جاری رہے۔

پاکستان بیت المال نے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔

سپریم کورٹ کا اہم اصول

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پاکستان بیت المال ایک ایسے مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد مستحق، یتیم، بیوہ اور ضرورت مند افراد کو مشکل حالات سے نکالنے کے لیے مالی مدد فراہم کرنا ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اگر کسی مقدمے میں کوئی شخص یا بچہ واقعی ایسی مشکلات کا شکار ہو جس کے لیے بیت المال قائم کیا گیا ہے، تو عدالت اس معاملے کو بیت المال کے سامنے رکھ سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے خاص طور پر ان دو بچیوں کی صورتحال کو اہم قرار دیا، کیونکہ ان کے والد دنیا میں نہیں تھے، والدہ کے پاس مستقل آمدن نہیں تھی اور دادا خود انتہائی غربت اور بے بسی کی حالت میں تھے۔

عدالت نے اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھا کہ دونوں بچیاں مذہبی اقلیت سے تعلق رکھتی ہیں اور ایسے حالات میں ان کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

لیکن ایک اہم قانونی وضاحت

سپریم کورٹ نے یہ اصول بھی واضح کیا کہ عدالت کسی مستحق شخص کا معاملہ پاکستان بیت المال کے سامنے ضرور رکھ سکتی ہے، لیکن عام طور پر عدالت خود بیت المال کے لیے مخصوص رقم، سالانہ اضافہ یا امداد کی مدت مقرر نہیں کرے گی۔

بیت المال اپنے قانون، پالیسی، اہلیت کے معیار، درخواست کے طریقہ کار، دستیاب بجٹ اور دیگر متعلقہ عوامل کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرے گا کہ کس شخص کو کتنی اور کس نوعیت کی امداد دی جائے۔

لہٰذا مستقبل میں مناسب طریقہ یہ ہوگا کہ عدالت کسی مستحق شخص یا بچے کا کیس پاکستان بیت المال کو غور کے لیے بھجوائے، جبکہ امداد کی نوعیت اور مقدار کا فیصلہ بیت المال اپنے قانونی و انتظامی طریقہ کار کے مطابق کرے۔

فیصلہ

سپریم کورٹ نے موجودہ کیس میں پاکستان بیت المال کی جانب سے دونوں بچیوں کی مدد کرنے پر آمادگی کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔

یعنی ان معصوم بچیوں کی مدد کا راستہ برقرار رہا، تاہم مستقبل کے مقدمات کے لیے یہ اصول واضح کردیا گیا کہ عدالت مستحق شخص کا کیس بیت المال تک پہنچا سکتی ہے، مگر امداد کی مخصوص مقدار اور مدت کا تعین بنیادی طور پر بیت المال کے قانونی و پالیسی فریم ورک کے مطابق ہوگا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان — Civil Miscellaneous Application No. 1477 of 2023 in Civil Petition No. 5250 of 2023، فیصلہ مورخہ 24 اگست 2026۔

مسمات تبسم طاہرہ کی شادی فیاض احمد سے ہوئی تھی۔ دونوں میاں بیوی کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے اور ان کے درمیان اکثر جھگڑا ر...
06/09/2026

مسمات تبسم طاہرہ کی شادی فیاض احمد سے ہوئی تھی۔ دونوں میاں بیوی کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے اور ان کے درمیان اکثر جھگڑا رہتا تھا۔

25 فروری 2020ء کو تبسم طاہرہ نے فون پر شکایت کنندہ کو بتایا کہ اس کا اپنے شوہر کے ساتھ شدید جھگڑا ہوا ہے۔ شکایت کنندہ اپنی بہن کے گھر گئی تاکہ میاں بیوی کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو حل کیا جا سکے، اور پھر اسی گھر میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔

اگلی صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے گھر سے چیخ و پکار کی آوازیں آئیں۔ شکایت کنندہ، طلحہ فیاض اور زیبا فیاض واش روم کی طرف بھاگے۔

وہاں پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ مسز تبسم طاہرہ زمین پر پڑی ہوئی تھیں جبکہ ملزم فیاض احمد ان پر چھری سے متعدد وار کر رہا تھا۔

🏛️ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ

واقعے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس نے تفتیش مکمل کرکے چالان عدالت میں پیش کر دیا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے گیارہ گواہان پیش کیے۔

ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اسے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ تاہم اس نے اپنے دفاع میں نہ حلف پر اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور نہ ہی کوئی زبانی یا دستاویزی ثبوت پیش کیا۔

ایڈیشنل سیشن جج، گجرات نے 31 جنوری 2023ء کو فیاض احمد کو قتلِ عمد کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی اور مقتولہ کے قانونی ورثاء کو چار لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

⚔️ ہائیکورٹ میں ملزم کے اعتراضات

ملزم کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ مقدمہ درج کرنے میں چھ گھنٹے سے زیادہ تاخیر ہوئی، جبکہ مقتولہ کے پوسٹ مارٹم میں بھی تقریباً دس گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔

یہ بھی مؤقف اپنایا گیا کہ شکایت کنندہ وقوعہ کے گھر کی رہائشی نہیں تھی اور مقتولہ کی بیٹی زیبا فیاض نے اپنی خالہ کے اثر و رسوخ میں آکر ملزم کے خلاف بیان دیا۔

دفاع نے طبی اور عینی شہادت میں مبینہ تضاد، مقتولہ کے کپڑوں پر چھری کے وار کے مطابق کٹ نہ ہونے اور استغاثہ کی جانب سے بعد میں کہانی تیار کیے جانے کا بھی مؤقف اختیار کیا۔

👧 ملزم کی اپنی بیٹی اہم گواہ بن گئی

مقدمے میں سب سے اہم گواہوں میں سے ایک زیبا فیاض، ملزم کی اپنی بیٹی تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ وہ وقوعہ کے وقت گھر میں موجود تھی اور ایک قدرتی گواہ تھی۔ دفاع یہ ثابت نہیں کر سکا کہ وہ وقوعہ کے وقت گھر میں موجود نہیں تھی۔

عدالت نے اس بات کو بھی اہم قرار دیا کہ ایک بیٹی کا اپنی ماں کے قتل کے مقدمے میں اپنے ہی والد کے خلاف جھوٹی گواہی دینا محض الزام کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی گواہی کو عدالت نے قابلِ اعتماد اور سچائی پر مبنی قرار دیا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ قانونِ شہادت کے تحت بعض حالات میں ایک قابلِ اعتماد گواہ کی گواہی بھی کسی ملزم کی سزا کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔

🔪 طبی شہادت پر بھی عدالت نے وضاحت کی

دفاع کی جانب سے کہا گیا کہ ڈاکٹر نے بعض زخم ایسے بیان کیے جو بظاہر چھری سے لگنے والے زخم نہیں تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ کوئی قطعی اصول نہیں کہ چھری سے ایسے زخم پیدا نہیں ہو سکتے۔ زخم کی نوعیت چھری کی قسم، وزن اور جسم کے جس حصے پر وار کیا گیا ہو، اس پر منحصر ہو سکتی ہے۔

لہٰذا عدالت نے طبی اور عینی شہادت میں ایسا تضاد تسلیم نہیں کیا جو استغاثہ کے مقدمے کو مشکوک بنا دے۔

👕 مقتولہ کے کپڑوں پر کٹ کیوں نہیں تھے؟

دفاع نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ مقتولہ کے کپڑوں پر چھری کے وار کے مطابق کٹ موجود نہیں تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ وقوعہ صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے واش روم میں پیش آیا تھا۔ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مقتولہ نہانے کے لیے اپنے کپڑے اتار چکی ہوں۔ ایسی صورت میں کپڑوں پر چھری کے کٹ نہ ہونا قابلِ فہم ہے۔

🩸 خون آلود چھری بھی برآمد ہوئی

ملزم کی نشاندہی پر ایک چھری برآمد ہوئی جس پر خون موجود تھا۔ فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ نے اس پر انسانی خون کی موجودگی کی تصدیق کی۔

عدالت نے اس شہادت کو بھی استغاثہ کے مؤقف کی تائید کرنے والا اہم قرینہ قرار دیا۔

🏭 ملزم نے کہا کہ وہ فیکٹری میں موجود تھا

ملزم نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ وقوعہ کے وقت وہ گھر میں نہیں بلکہ سیمنٹ فیکٹری میں ڈیوٹی پر تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر ملزم واقعی فیکٹری میں موجود تھا تو وہ اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے متعلقہ دستاویزات، کسی ساتھی ملازم یا فیکٹری انتظامیہ کے کسی شخص کو بطور گواہ پیش کر سکتا تھا، لیکن ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

اس لیے عدالت نے اس مؤقف کو ذمہ داری سے بچنے کی کوشش قرار دیا۔

⚖️ گھر میں بیوی کی موت ہو تو قانونی ذمہ داری کا اہم اصول

فیصلے کا سب سے اہم قانونی پہلو بارِ ثبوت سے متعلق ہے۔

عدالت نے قانونِ شہادت کے متعلقہ آرٹیکلز پر تفصیلی غور کرتے ہوئے قرار دیا کہ جب استغاثہ یہ بنیادی حقائق ثابت کر دے کہ:

اول: موت ملزم کے گھر میں ہوئی؛
دوم: موت غیر طبعی تھی؛
سوم: موت کسی مخصوص ہتھیار یا طریقے سے ہوئی؛

تو حالات کے مطابق ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری ملزم کی طرف منتقل ہو سکتی ہے اور اسے ان ثابت شدہ حالات کی وضاحت یا تردید کرنا پڑ سکتی ہے۔

اگر ملزم یہ مؤقف اختیار کرے کہ قتل کے وقت وہ کسی دوسری جگہ موجود تھا تو اس مخصوص حقیقت کو ثابت کرنے کی ذمہ داری اس پر عائد ہو سکتی ہے۔

اسی طرح جو حقیقت کسی شخص کے خصوصی علم میں ہو، اس کے ثبوت کی ذمہ داری بھی اسی شخص پر ہو سکتی ہے۔

❗ ملزم کی خاموشی بھی حالات میں اہم ہو سکتی ہے

عدالت نے قانونِ شہادت کے تحت اس اصول پر بھی غور کیا کہ اگر کسی شخص کے پاس کسی اہم حقیقت کی وضاحت موجود ہو لیکن وہ مناسب وضاحت پیش نہ کرے، تو مقدمے کے دیگر ثابت شدہ حقائق کے ساتھ عدالت اس کے طرزِ عمل سے منفی نتیجہ اخذ کر سکتی ہے۔

تاہم یہ اصول استغاثہ کے بنیادی ثبوت کی جگہ نہیں لیتا؛ پہلے استغاثہ کو اپنے مقدمے کے بنیادی حقائق ثابت کرنا ہوتے ہیں۔

🏛️ لاہور ہائیکورٹ کا حتمی فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کا جرم معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔

چنانچہ عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا برقرار رکھی اور فیاض احمد کی فوجداری اپیل خارج کر دی۔

⚠️ عدالت کا اہم مشاہدہ

فیصلے کے آخر میں عدالت نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ قانون میں ایسے مقدمات کے لیے مزید واضح قانونی دفعات کی ضرورت ہے، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں کسی خاتون کی موت اس کے شوہر کے گھر میں واقع ہو۔

عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین جیسے کمزور طبقے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کے ذریعے مؤثر راستہ نکالا جانا چاہیے۔

مقدمہ: فیاض احمد بنام ریاست
فوجداری اپیل نمبر: 10150-جے/2023
عدالت: لاہور ہائیکورٹ، لاہور
سماعت: 23 ستمبر 2025ء

خالی دستخط شدہ چیک دینے کا قانونی اثرہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے دستخط شدہ خالی چیک کسی دوسرے شخص کے ح...
05/09/2026

خالی دستخط شدہ چیک دینے کا قانونی اثر

ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے دستخط شدہ خالی چیک کسی دوسرے شخص کے حوالے کرتا ہے تو عمومی طور پر یہ تصور کیا جائے گا کہ اس نے وصول کنندہ کو چیک کی ضروری تفصیلات مکمل کرنے کا اختیار دیا تھا۔

بعد ازاں صرف یہ مؤقف اختیار کرنا کہ "چیک خالی تھا" بذاتِ خود مؤثر دفاع نہیں ہوگا، جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ چیک کو بد نیتی، جعل سازی یا اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے استعمال کیا گیا۔

صرف موبائل میں موجود ویڈیو عدالت میں بطور ثبوت قابلِ قبول نہیں!عدالت نے قرار دے دیا کہ اگر کسی ملزم کے موبائل فون سے حاص...
05/09/2026

صرف موبائل میں موجود ویڈیو عدالت میں بطور ثبوت قابلِ قبول نہیں!

عدالت نے قرار دے دیا کہ اگر کسی ملزم کے موبائل فون سے حاصل کی گئی ویڈیو مستند (Authenticated) نہ ہو، اس کا ماخذ واضح نہ ہو اور اس کی فارنزک تصدیق بھی موجود نہ ہو تو اسے محض اسی بنیاد پر گواہ کے سامنے پیش کرکے جرح نہیں کی جا سکتی۔

🔴 اہم نکتہ:
اگر گواہ خود اس ویڈیو کا مصنف یا بنانے والا نہ ہو، بلکہ ویڈیو میں موجود ہی نہ ہو، اور وہ اس کے مندرجات سے بھی لاعلمی ظاہر کرے، تو دفاع کو اس مرحلے پر ویڈیو کے ذریعے اس گواہ سے سامنا کروانے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔

📌 عدالت نے واضح کیا کہ ایسی ویڈیو کو بعد کے مناسب مرحلے پر دفاعی شہادت کے ذریعے ثابت کرنے کا راستہ موجود رہتا ہے۔

⚖️ یعنی: ویڈیو کا موبائل فون میں ہونا کافی نہیں؛ عدالت میں قابلِ قبول ہونے کے لیے اس کی authenticity، source اور forensic verification بھی اہم ہے۔

2026 P Cr. L J 277
PLJ 2026 Cr.C. (Note) 204

⚖️ ایک بچے کی کہانی، جس نے عدالت میں خود بتا دیا کہ وہ حقیقی والدین کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔ایک خاندان میں ایک بچہ پیدا ...
05/09/2026

⚖️ ایک بچے کی کہانی، جس نے عدالت میں خود بتا دیا کہ وہ حقیقی والدین کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔

ایک خاندان میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اس کے حقیقی والدین نے، اپنی رضامندی سے، جب وہ تقریباً 6 ماہ کا تھا تو اس کی پرورش کی ذمہ داری اپنے قریبی رشتہ داروں کو سونپ دی۔ یوں بچہ ایک ایسے گھر میں پروان چڑھنے لگا جہاں اسے ایک ماں، باپ، چھ بہنوں اور ایک بھائی کی محبت ملی۔

وقت گزرتا گیا اور تقریباً 9 سال تک وہ اسی خاندان کے ساتھ رہا۔ اس کی عمر تقریباً 13 سال ہو چکی تھی۔ اس دوران وہ اسی گھر کو اپنا اصل گھر اور وہاں رہنے والے افراد کو اپنے حقیقی والدین اور بہن بھائی سمجھتا رہا۔

پھر اچانک ایک دن اس کے حقیقی والدین نے بچے کی تحویل واپس لینے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا۔

سوچیے، اس بچے کے ذہن پر کیا گزری ہوگی؟

جس گھر کو وہ اپنا گھر سمجھتا تھا، جن لوگوں کو وہ اپنے ماں باپ سمجھ کر بڑا ہوا، اچانک اسے بتایا گیا کہ وہ اس گھر کا حقیقی بیٹا نہیں بلکہ کسی اور خاندان کا بچہ ہے۔

🏛️ معاملہ عدالت تک پہنچ گیا

ماتحت عدالت نے بچے کی تحویل اس کے حقیقی والدین کے حوالے کرنے کا حکم دیا، جس کے خلاف درخواست گزاروں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے اس معاملے کو صرف اس نظر سے نہیں دیکھا کہ بچے کے حقیقی والدین کون ہیں، بلکہ سب سے اہم سوال یہ رکھا:

بچے کی بھلائی اور فلاح کس میں ہے؟

عدالت نے واضح کیا کہ نابالغ کی تحویل کا فیصلہ کرتے وقت سب سے بنیادی اور اہم اصول بچے کی فلاح و بہبود ہے۔ عدالت عمر، ذہنی کیفیت، خاندانی تعلق، ماحول، سرپرست کی صلاحیت اور بچے کی اپنی سمجھ بوجھ سمیت مختلف عوامل کو دیکھ سکتی ہے۔

❤️ پھر بچے کی آواز سنی گئی

تقریباً 13 سالہ بچے کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

جج نے اس سے سوالات کیے تاکہ اس کی ذہنی کیفیت اور سمجھ بوجھ کا اندازہ لگایا جا سکے۔

بچے نے بالکل واضح الفاظ میں بتایا کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے جنہوں نے اسے پالا تھا۔

عدالت نے اسے کچھ عرصہ اپنے حقیقی والدین کے ساتھ رہنے کا موقع بھی دیا تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنی پسند کا اظہار کر سکے۔

ایک ہفتے کے بعد جب بچے کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے ایک مرتبہ پھر واضح طور پر کہا:

وہ اپنے پرورش کرنے والے والدین کے ساتھ ہی رہنا چاہتا ہے۔

⚖️ عدالت نے بچے کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ بچے نے عدالت کے سامنے جس اعتماد اور پختگی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تعریف ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے پرورش کرنے والے خاندان نے اچھے ماحول میں پالا ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ عام طور پر حقیقی والدین کو پرورش کرنے والے والدین پر ترجیح حاصل ہوتی ہے، لیکن بچے کی فلاح و بہبود سب سے مقدم ہے۔

اس معاملے میں حقیقی والدین یہ ثابت نہیں کر سکے کہ بچے کو صرف عارضی طور پر دیا گیا تھا اور کسی مخصوص شرط کے تحت اسے واپس کیا جانا تھا۔ وہ یہ بھی ثابت نہیں کر سکے کہ بچے کو پرورش کرنے والے خاندان میں کوئی ناموافق یا غیر محفوظ ماحول میسر تھا۔

💔 ایک اور اہم پہلو

عدالت نے یہ بھی دیکھا کہ بچہ تقریباً 13 سال سے پرورش کرنے والے خاندان کے ساتھ رہ رہا تھا اور وہاں اس کے چھ بہنوں اور ایک بھائی کے ساتھ مضبوط جذباتی تعلقات قائم ہو چکے تھے۔

ایسے بچے کو اچانک ایک بالکل اجنبی ماحول میں منتقل کرنا اس کی ذہنی اور جذباتی کیفیت پر گہرا اثر ڈال سکتا تھا۔

🏛️ آخرکار عدالت کا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ بچے کی فلاح و بہبود درخواست گزاروں کے ساتھ رہنے میں ہے۔

چنانچہ عدالت نے ماتحت عدالتوں کے احکامات ختم کر دیے اور حقیقی والدین کی جانب سے بچے کی تحویل حاصل کرنے کی درخواست خارج کر دی۔

البتہ حقیقی والدین کو یہ آزادی دی گئی کہ وہ خاندانی یا سرپرستی کی عدالت سے رجوع کرکے بچے سے ملاقات کا باقاعدہ طریقہ کار طے کروا سکتے ہیں۔

🌹 اس فیصلے کا سب سے خوبصورت سبق

بچے کی تحویل کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہوتا کہ حقیقی والدین کون ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ بچے کی زندگی، ذہنی سکون، جذباتی وابستگی اور مستقبل کے لیے کیا بہتر ہے۔

اور کبھی کبھی انصاف کا سب سے اہم ثبوت وہ آواز ہوتی ہے جو خود بچے کے دل سے نکلتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ — فیصلہ مورخہ 28 نومبر 2025ء
سید ارشد شاہ وغیرہ بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وغیرہ
رِٹ پٹیشن نمبر 43188/2023

بابر مسیح نامی ایک شخص کو 6 اکتوبر 2011ء کو بطور صفائی کارکن ملازمت پر رکھا گیا۔ کچھ ہی عرصے بعد، 30 دسمبر 2011ء کو اس ک...
04/09/2026

بابر مسیح نامی ایک شخص کو 6 اکتوبر 2011ء کو بطور صفائی کارکن ملازمت پر رکھا گیا۔ کچھ ہی عرصے بعد، 30 دسمبر 2011ء کو اس کی ملازمت مستقل بھی کر دی گئی۔

لیکن پھر اس کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے اس کی ملازمت بھی چھین لی اور اسے جیل بھی پہنچا دیا۔

اس کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ درج ہوا اور وہ گرفتار ہو کر عدالتی تحویل میں چلا گیا۔ جیل میں ہونے کی وجہ سے وہ اپنی ملازمت پر حاضر نہ ہو سکا۔ محکمہ نے اس کی غیرحاضری کو بنیاد بناتے ہوئے اسے ملازمت سے نکال دیا۔

وقت گزرتا گیا...

آخرکار 11 نومبر 2021ء کو لاہور ہائیکورٹ نے اسے اس فوجداری مقدمہ میں بری کر دیا۔ یعنی جس مقدمے کی وجہ سے وہ جیل گیا تھا، وہ مقدمہ اس کے خلاف ثابت نہ ہو سکا۔

اس کے بعد محکمانہ اپیل میں اسے دوبارہ ملازمت پر بحال کر دیا گیا اور اس کی بحالی 26 نومبر 2012ء سے تصور کی گئی۔

لیکن یہاں ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔

محکمہ نے اسے ملازمت تو واپس دے دی، مگر برطرفی کے درمیانی عرصے کی تنخواہیں اور دیگر مالی مراعات دینے سے انکار کر دیا۔ اس عرصے کو غیر معمولی رخصت قرار دے دیا گیا۔

بابر مسیح نے یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

🏛️ عدالت نے کیا دیکھا؟

عدالت نے دیکھا کہ خود محکمانہ اتھارٹی یہ تسلیم کر چکی تھی کہ بابر مسیح کی غیرحاضری اس کے قابو سے باہر حالات کی وجہ سے ہوئی تھی اور اس کی غیرحاضری دانستہ نہیں تھی۔

مزید یہ بھی سامنے آیا کہ محکمہ ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا کہ اس دوران بابر مسیح کہیں اور ملازمت کر رہا تھا یا کوئی آمدن حاصل کر رہا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایسی صورتحال میں محض یہ کہنا کہ ملازم نے اس عرصے میں ڈیوٹی نہیں دی، اس کے بقایا مالی فوائد روکنے کے لیے کافی نہیں۔

⚖️ عدالت نے ایک اہم اصول بھی واضح کیا

کسی ملازم کو غیر قانونی طور پر ملازمت سے نکالنے کے بعد اگر اسے دوبارہ بحال کر دیا جائے تو بقایا تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات کا دیا جانا عمومی اصول ہے، جبکہ انکار ایک استثنائی عمل ہے۔

اگر اتھارٹی بقایا مراعات نہیں دینا چاہتی تو اسے واضح، ٹھوس اور قابلِ قبول وجوہات دینا ہوں گی۔ فیصلہ من مانی یا بلاجواز نہیں ہو سکتا۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی ملازم کی بحالی کا مطلب صرف اسے دوبارہ کرسی پر بٹھا دینا نہیں، بلکہ بحالی کے نتیجے میں اس کے سابقہ ملازمتی حقوق، سنیارٹی اور دیگر مراعات کے تحفظ کا معاملہ بھی سامنے آتا ہے۔

📜 آخرکار کیا فیصلہ ہوا؟

لاہور ہائیکورٹ نے بقایا مالی مراعات سے انکار کی حد تک متعلقہ محکمانہ احکامات کالعدم قرار دے دیے اور معاملہ دوبارہ متعلقہ اتھارٹی کو بھیج دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ بابر مسیح کے بقایا مالی فوائد کے معاملے پر قانون اور اعلیٰ عدالتوں کے طے شدہ اصولوں کی روشنی میں نئے سرے سے فیصلہ کیا جائے۔

یہ فیصلہ مصدقہ عدالتی فیصلے کی وصولی سے دو ماہ کے اندر کرنا ہوگا۔

🔹 سبق

کسی ملازم کو ایسے حالات کی سزا نہیں دی جا سکتی جو اس کے اختیار سے باہر ہوں۔

اور اگر عدالت یا مجاز اتھارٹی اسے دوبارہ ملازمت پر بحال کر دے تو اس کے مالی اور ملازمتی حقوق کا فیصلہ بھی قانون، انصاف اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق کرنا لازم ہے۔

Allah Nawaz Khosa Adv
(Service & Constitutional Matters)
Lahore Head Office
33/A Queens Road, Behind Queens Centre, Mozang, Lahore.
📞 WhatsApp: 0333-6073636

محمد ریاض اور مدیحہ بی بی نے ٹیکسلا، راولپنڈی کچہری میں ’کورٹ میرج‘ کرلی۔ یہ شادی دونوں کی پسند، مگر مدیحہ کی فیملی کی م...
03/09/2026

محمد ریاض اور مدیحہ بی بی نے ٹیکسلا، راولپنڈی کچہری میں ’کورٹ میرج‘ کرلی۔ یہ شادی دونوں کی پسند، مگر مدیحہ کی فیملی کی مرضی کے خلاف تھی۔ یہ گذشتہ سال 30 مئی کی بات ہے۔ مدیحہ اور ریاض بطور میاں بیوی ہنسی خوشی رہنے لگے کہ 21 جون کو مدیحہ کے گھر والے ریاض کے گھر آئے اور مدیحہ کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ ریاض نے اپنی بیوی کی واپسی کے لیے سیشن کورٹ اسلام آباد میں درخواست دائر کی، جو خارج کردی گئی۔
ریاض نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ جہاں اسکی طرف سے دلائل دیے گئے کہ اگر اسکی بیوی اپنی فیملی کے پاس رہی تو اس کی جان اور عزت کو خطرہ ہے۔ شوہر ہونے کے ناطے وہ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ رکھنے کا حق رکھتا ہے۔ لڑکی کی فیملی کے وکیل نے کہا کہ مدیحہ نکاح کے وقت قانونی طور پر بالغ نہیں تھی، اس لیے یہ نکاح قانون کی نظر میں درست نہیں ہے۔ لڑکی ان کے پاس نہیں ہے۔ سیشن کورٹ کا فیصلہ بالکل درست ہے۔
عدالت کے حکم پر پولیس نے لڑکی کو پیش کیا تو اس نے بیان دیا کہ وہ اپنے شوہر ریاض ہی کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ عدالت نے اسے اسلام آباد کرائسز سنٹر میں رکھنے کا حکم دیا (تاکہ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ماحول مل سکے)۔ 11 جولائی کو لڑکی ایک بار پھر عدالت میں پیش ہوئی اور دو ٹوک بیان دیا کہ اس نے اپنی مرضی سے محمد ریاض سے شادی کی ہے، وہ اسی کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ یوں اس نے اپنے والدین کے پاس واپس جانے سے صاف انکار کردیا۔
ہائیکورٹ میں جسٹس محمد اعظم خان نے کیس کی سماعت کی اور فیصلہ تحریر کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ نکاح نامے پر لڑکی کی عمر ’تقریباً 18 سال‘ لکھی ہے، جبکہ لڑکی کی فیملی کی جانب سے پیش کردہ پیدائش سرٹیفکیٹ (جو نکاح کے بعد بنوایا گیا) کے مطابق لڑکی کی موجودہ عمر 15 سال بنتی ہے۔ عمر کے اس تنازعے کا حتمی فیصلہ شہادت ریکارڈ کیے بغیر نہیں کیا جا سکتا، جو ہائیکورٹ کے آئینی دائرہ سماعت میں نہیں ہے۔
کم عمری کی شادی پر پابندی کے قانون، 2025ء کے تحت کم عمری کی شادی جرم ضرور ہے اور اس کی سزا شادی کروانے والے بالغ افراد کو ملتی ہے، لیکن یہ قانون اس شادی کو بذاتِ خود کالعدم یا باطل قرار نہیں دیتا۔ قانونِ معاہدہ کی وہ شرائط، جن کے تحت قانونی معاہدے کے لیے بالغ ہونا ضروری ہے، وہ شادی کے معاملات پر لاگو نہیں ہوتیں۔
شریعت کے مطابق بلوغت اور رضامندی کی صورت میں نابالغ لڑکی کی شادی جائز ہے۔ نفاذ شریعت ایکٹ 1991ء کے مطابق اگر کسی قانون میں ابہام ہو (جیسے کہ کم عمری کی شادی پر پابندی کے قانون میں شادی کو باطل قرار دینے کی صراحت نہیں)، تو عدالت اس کی تشریح اسلامی اصولوں کے مطابق کرنے کی پابند ہے۔
چونکہ لڑکی شرعی طور پر بالغ ہو چکی ہے اور رضامندی سے شادی کی ہے، اس لیے اس ازدواجی تعلق کو جنسی زیادتی قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اس میں قانونی رشتے اور رضامندی کا عنصر موجود ہے۔ اقوامِ متحدہ کے کنونشن کے تحت بچوں کو ان سے متعلقہ معاملات میں اپنی آزادانہ رائے دینے کا حق حاصل ہے اور ان کی عمر اور سمجھ بوجھ کے مطابق اس رائے کو وزن دیا جانا چاہیے۔
چونکہ لڑکی شرعی لحاظ سے بالغ ہے اور اس نے آزادانہ رضامندی کا اظہار کیا ہے، لہٰذا وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کے لیے آزاد ہے، اور ان کی یہ شادی شریعت یا ملکی قوانین سے متصادم نہیں ہے۔
عدالت نے مدیحہ بی بی کو اپنے خاوند کے ساتھ جانے کی اجازت دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔
تحریر:محمد رضوان ایڈووکیٹ

پانچ ماہ بعد نوکری ختم، مگر عدالت نے پالیسی اور میرٹ کا اصل چہرہ دکھا دیابلوچستان کے محکمہ اسکول ایجوکیشن نے 7 ستمبر 202...
03/09/2026

پانچ ماہ بعد نوکری ختم، مگر عدالت نے پالیسی اور میرٹ کا اصل چہرہ دکھا دیا

بلوچستان کے محکمہ اسکول ایجوکیشن نے 7 ستمبر 2024 کو مختلف کیٹیگریز میں اساتذہ کی بھرتی کے لیے اشتہار جاری کیا۔ اسی اشتہار کے تحت ایک امیدوار نے جونیئر عربی ٹیچر (JAT) کی پوسٹ کے لیے درخواست دی اور 2024 کی نافذ Recruitment Policy کے مطابق بھرتی کے تمام مراحل کامیابی سے مکمل کیے۔

ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی کی سفارش اور سیکرٹری ایجوکیشن کی منظوری کے بعد 19 دسمبر 2024 کو اس کی تقرری کا حکم جاری ہوا۔ امیدوار نے 20 دسمبر کو ڈیوٹی جوائن کرلی اور پانچ ماہ سے زائد عرصہ تک باقاعدگی سے فرائض انجام دیتا رہا، تنخواہ بھی حاصل کرتا رہا۔

پھر اچانک ایک شخص ظہور احمد نے شکایت دائر کردی کہ اس کا تعلق یونین کونسل ہتھیاری سے ہے اور اس کا میرٹ امیدوار سے زیادہ ہے۔

شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے Complaint Redressal Cell (CRC) نے نہ امیدوار کو کوئی نوٹس دیا، نہ کوئی باقاعدہ انکوائری کی اور نہ ہی اسے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا۔ اس کے باوجود اس کی تقرری منسوخ کرنے کی سفارش کردی گئی۔

مزید حیران کن بات یہ تھی کہ منسوخی کے لیے Recruitment Policy 2013 پر انحصار کیا گیا، حالانکہ بھرتی Recruitment Policy 2024 کے تحت ہوئی تھی اور 2024 کی پالیسی پہلے والی پالیسی کی جگہ نافذ ہوچکی تھی۔

عدالت کے سامنے یہ حقیقت بھی ریکارڈ پر آئی کہ اسی اشتہار، اسی بھرتی کے عمل اور اسی 2024 کی پالیسی کے تحت مقرر کیے گئے 41 دیگر امیدوار آج بھی ملازمت کر رہے تھے، مگر صرف اسی امیدوار کی تقرری منسوخ کی گئی۔

عدالت نے کیا قرار دیا؟

عدالت نے قرار دیا کہ جب امیدوار نے شفاف طریقے سے بھرتی کا عمل مکمل کیا، مجاز اتھارٹی سے اس کی تقرری منظور ہوئی، اس نے ملازمت جوائن کی اور کئی ماہ تک فرائض انجام دیے تو اس کے اندر یہ Legitimate Expectation پیدا ہوگئی تھی کہ اس کے ساتھ قانون اور اسی Recruitment Policy کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔

عدالت کے مطابق اچانک ایک پرانی اور غیر متعلقہ پالیسی کی بنیاد پر تقرری منسوخ کرنا اس جائز توقع کو ختم کرتا ہے اور ایسا اقدام برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ خود محکمہ نے تسلیم کیا تھا کہ سوراب کو ضلع کا درجہ ملنے کے بعد انتظامی حدود تبدیل ہوچکی تھیں اور یونین کونسلز کی تعداد 13 سے بڑھ کر 22 ہوگئی تھی۔ لہٰذا 2013 کے پرانے یونین کونسل ڈھانچے کو بنیاد بنانا حقائق کے منافی تھا۔

عدالت نے ایک اہم قانونی اصول بھی دہرایا کہ جب بھرتی کا عمل مکمل ہوجائے، ریکروٹمنٹ کمیٹی سفارش کردے اور مجاز اتھارٹی منظوری دے دے تو ایسی منظوری کو محض من مانی طریقے سے واپس نہیں لیا جاسکتا۔ تقرری ختم کرنے کے لیے ثابت شدہ غیر قانونی اقدام یا فراڈ ہونا ضروری ہے، جبکہ اس مقدمے میں ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہوئی۔

عدالت نے سابقہ عدالتی نظیر Fatima v. Federation of Pakistan, 2018 PLC (C.S.) 292 (Balochistan) کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ انتخاب کا عمل مکمل ہونے کے بعد اسے من مانے اور غیر معقول طریقے سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ میرٹ پر منتخب امیدوار کے حق میں ایک قانونی توقع پیدا ہوجاتی ہے اور سرکاری اتھارٹی بغیر معقول وجہ کے اس توقع کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔

آخری فیصلہ

عدالت نے قرار دیا کہ CRC نے قانونی اختیار کے بغیر کارروائی کی، تقرری کی منسوخی کا حکم غیر منصفانہ، امتیازی اور آئین کے متعلقہ آرٹیکلز کے منافی تھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ:

- امیدوار کو سنے بغیر اس کی تقرری منسوخ کی گئی؛
- Recruitment Policy 2013 اس بھرتی پر لاگو نہیں ہوتی تھی؛
- تقرری Recruitment Policy 2024 کے تحت قانونی طور پر ہوئی تھی؛
- امیدوار نے بھرتی کا عمل کامیابی سے مکمل کرکے تقرری کا حق حاصل کیا تھا؛
- اور اس کے خلاف فراڈ یا کوئی ثابت شدہ قانونی نااہلی موجود نہیں تھی۔

چنانچہ عدالت نے آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے تقرری کی منسوخی کو غیر قانونی، کالعدم اور ابتداءً ہی بے اثر (void ab initio) قرار دے دیا۔

محکمہ کو حکم دیا گیا کہ امیدوار کو فوراً اس کے عہدے پر بحال کیا جائے، سروس کا تسلسل دیا جائے اور تمام متعلقہ مراعات (consequential benefits) بھی فراہم کی جائیں۔

یہ فیصلہ اس بنیادی اصول کی ایک مضبوط مثال ہے کہ سرکاری ملازم کی تقرری کو محض انتظامی من مانی یا پرانی پالیسی کا سہارا لے کر ختم نہیں کیا جاسکتا؛ قانون، میرٹ، شفافیت اور حقِ سماعت کی پابندی ضروری ہے۔
Allah Nawaz Khosa Adv
(Service & Constitutional Matters)
Lahore Head Office
33/A Queens Road, Behind Queens Centre, Mozang, Lahore.
📞 WhatsApp: 0333-6073636

PLD 2026 Lahore 635نادرا کی طرف سے جاری کردہ شناختی کارڈ منقولہ جائیداد نہیں، اس لیے اسے جبری اقدام کے طور پر سول عدالتو...
03/09/2026

PLD 2026 Lahore 635

نادرا کی طرف سے جاری کردہ شناختی کارڈ منقولہ جائیداد نہیں، اس لیے اسے جبری اقدام کے طور پر سول عدالتوں کے ذریعے ضبط، منسوخ یا بلاک نہیں کیا جا سکتا

Address

33/A First Floor Queens Road, Behind Queens Plaza
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lawyers of Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Lawyers of Pakistan:

Shortcuts

Share