Royal Law associates & Legal Advisers

Royal Law associates & Legal Advisers we provide expert legal advisors & consultants with principal office at Lahore , Punjab ,Pakistan.

16/08/2026

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ گرفتاری، ریمانڈ، ضمانت، تفتیش اور چالان… فوجداری مقدمے کا مکمل سفر صرف چند منٹ میں! ⚖️
ایسی ہی آسان قانونی معلومات کے لیے Follow کریں — قانون جانیں، اپنے حقوق پہچانیں۔
#قانون

14/08/2026

Gunshots Terminology.
اگر آپ قانون کا علم سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ہمیں فالو کریں۔

09/08/2026

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ 302 جیسے سنگین جرم میں پولیس ملزمان کو گناہ گار لکھ دے تو عدالت انکی ضمانت قبل از گرفتاری کسی صورت منظور نہیں کرتی۔
یہ تصور غلط ہے بلکہ اگر وکیل کیس کو ایسے انداز سے پیش کرے گے پراسیکیوشن کی بدنیتی عدالت کو نظر آئے تو قبل از گرفتاری ضمانت منظور ہو سکتی ہے۔


معاہدہ بیع ثابت کرنے کا بوجھ (Burden of Proof) کس پارٹی پر ہوتا ہے؟کیا شریک مدعا علیہ کا اقرار دوسرے مدعا علیہ پر لازم ہ...
30/07/2026

معاہدہ بیع ثابت کرنے کا بوجھ (Burden of Proof) کس پارٹی پر ہوتا ہے؟
کیا شریک مدعا علیہ کا اقرار دوسرے مدعا علیہ پر لازم ہے؟

دو حاشیہ گواہوں (Marginal Witnesses) کا پیش کرنا کتنا لازمی ہے؟
قانون شہادت کا Article 81 کب لاگو ہوگا ؟
اس فیصلے میں عدالت نے دعویٰ برائے مخصوص ادائیگی (Suit for Specific Performance)، معاہدہ بیع کے ثبوت، Articles 17، 79 اور 81 قانـونِ شہادت آرڈر 1984 اور پلیڈنگ (Pleadings) سے متعلق متعدد اہم قانونی اصول بیان کیے ہیں۔

1۔ معاہدہ بیع ثابت کرنے کا بوجھ (Burden of Proof)

جب مدعا علیہ معاہدہ بیع (Agreement to Sell) کے وجود، اس کی تنفیذ (Ex*****on) اور رقم کی وصولی کو مکمل طور پر جھٹلا دے تو:

پورا بوجھ مدعی پر ہوتا ہے کہ وہ معاہدہ کو قانون کے مطابق ثابت کرے۔

صرف معاہدہ پیش کر دینا کافی نہیں بلکہ اس کی تنفیذ اور ادائیگی بھی ثابت کرنا ضروری ہے۔

اصول:

> جس شخص نے مخصوص ادائیگی کا دعویٰ کیا ہے، وہ معاہدہ اور اس کی تمام شرائط کو قابل اعتماد شہادت سے ثابت کرے گا۔

---

2۔ مخصوص ادائیگی کے مقدمہ میں صرف معاہدہ کافی نہیں

عدالت نے قرار دیا کہ مدعی کو ثابت کرنا ہوگا کہ:

معاہدہ حقیقتاً ہوا تھا۔

سودا کس جگہ طے پایا۔

کب طے پایا۔

کن افراد کی موجودگی میں طے پایا۔

کتنی رقم ادا ہوئی۔

بقایا رقم ادا کرنے کے لئے مدعی ہمیشہ تیار تھا۔

ان میں سے کسی اہم عنصر کا ثبوت نہ ہونا دعویٰ کمزور کر دیتا ہے۔

---

3۔ پلیڈنگ میں تمام مادی حقائق (Material Particulars) درج کرنا لازم ہے

عدالت نے کہا کہ دعویٰ میں درج ہونا چاہئے:

سودا کہاں طے پایا۔

کب طے پایا۔

کن گواہوں کی موجودگی میں طے ہوا۔

اضافی رقم کب ادا ہوئی۔

کہاں ادا ہوئی۔

کس کے سامنے ادا ہوئی۔

بعد میں شہادت میں نئی باتیں شامل نہیں کی جا سکتیں۔

اصول:

> Evidence beyond pleadings قابل قبول نہیں ہوتی۔

---

4۔ مالی اور آئندہ ذمہ داری والے معاہدوں پر Articles 17 اور 79 لاگو ہوتے ہیں

یہ مقدمہ مالی ذمہ داری اور مستقبل میں رجسٹری کرانے سے متعلق تھا، اس لئے:

Article 17

Article 79

دونوں لاگو ہوئے۔

---

5۔ دو حاشیہ گواہوں (Marginal Witnesses) کا پیش کرنا لازمی ہے

عدالت نے واضح کیا کہ:

اگر معاہدہ قانون کے مطابق دو گواہوں سے تصدیق شدہ ہے تو:

دونوں گواہوں کو عدالت میں پیش کرنا لازم ہے۔

صرف ایک گواہ کافی نہیں۔

جب تک قانون میں موجود استثناء ثابت نہ کیا جائے۔

یہ اصول درج ذیل مقدمات سے بھی اخذ کیا گیا:

Mst. Rasheeda Begum v. Muhammad Yousaf (2002 SCMR 1089)

Abdul Khaliq v. Muhammad Asghar Khan (PLD 1996 Lah. 367)

Federation of Pakistan v. Farrukh International (2023 SCMR 1118)

Khudad v. Syed Ghazanfar Ali Shah (2022 SCMR 933)

---

6۔ ایک گواہ نہ آنے کا بہانہ کافی نہیں

اگر کہا جائے کہ:

> دوسرا گواہ مخالف فریق سے مل گیا تھا۔

تو صرف یہ دعویٰ کافی نہیں۔

عدالت نے کہا:

اس کی بھی شہادت دینی ہوگی۔

کوئی ثبوت پیش کرنا ہوگا۔

محض وکیل کا بیان یا دلیل کافی نہیں۔

---

7۔ Article 81 تب لاگو ہوگا جب دستاویز واقعی تسلیم شدہ ہو

اپیلیٹ کورٹ نے Article 81 استعمال کیا۔

ہائی کورٹ نے کہا:

اگر مدعا علیہ:

دستاویز ہی سے انکار کرے،

دستخط سے انکار کرے،

معاہدہ ہی سے انکار کرے،

تو Article 81 لاگو نہیں ہوگا۔

---

8۔ شریک مدعا علیہ کا اقرار دوسرے مدعا علیہ پر لازم نہیں

اگر:

چار وارث ہیں۔

تین وارث معاہدہ مان لیں۔

ایک وارث انکار کرے۔

تو:

مدعی کو اس انکار کرنے والے وارث کے خلاف بھی معاہدہ قانون کے مطابق ثابت کرنا ہوگا۔

ایک شریک مدعا علیہ کا اعتراف دوسرے کے خلاف ثبوت نہیں بنتا۔

اس اصول کیلئے عدالت نے درج ذیل نظائر پر انحصار کیا:

Shah Muhammad v. Dullah (2000 SCMR 1588)

Allah Rakha through L.Rs. v. Nasir Khan (2007 CLC 154)

---

9۔ متضاد شہادت (Contradictory Evidence) ناقابل اعتماد ہوتی ہے

اگر گواہ:

وقت الگ بتائیں،

جگہ الگ بتائیں،

موجود افراد الگ بتائیں،

شناخت کرنے والے الگ بتائیں،

تو عدالت ایسی شہادت پر اعتماد نہیں کرتی۔

---

10۔ ادائیگی رقم (Consideration) بھی ثابت کرنا ضروری ہے

اگر مدعی کہے:

Rs.75,000 بطور بیعانہ ادا کئے۔

بعد میں Rs.40,000 مزید ادا کئے۔

تو ضروری ہے:

رسید ہو،

یا معتبر شہادت ہو،

تاریخ معلوم ہو،

مقام معلوم ہو،

گواہ موجود ہوں۔

ورنہ ادائیگی ثابت نہیں ہوگی۔

---

11۔ شہادت پلیڈنگ سے باہر نہیں جا سکتی

اگر دعویٰ میں:

جگہ نہیں لکھی،

وقت نہیں لکھا،

گواہ نہیں لکھے،

تو بعد میں گواہی کے ذریعے ان کمیوں کو پورا نہیں کیا جا سکتا۔

---

12۔ اپیلیٹ کورٹ کی مداخلت کب غلط ہوگی؟

اگر اپیلیٹ کورٹ:

شہادت کو غلط پڑھے (Misreading)،

اہم شہادت نظر انداز کرے (Non-reading)،

ناقابل قبول شہادت پر فیصلہ دے،

تو ہائی کورٹ سول ریویژن میں مداخلت کر سکتی ہے۔@

Difference between R**e & Fornication.For more Law updates please follow our page.
19/07/2026

Difference between R**e & Fornication.

For more Law updates please follow our page.

  کے جج جناب جسٹس امجد رفیق صاحب کی عدالت سے 302 کی عبوری   گار لکھنے کے بعد بھی  ۔الحمدللہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ...
16/07/2026

کے جج جناب جسٹس امجد رفیق صاحب کی عدالت سے 302 کی عبوری گار لکھنے کے بعد بھی ۔

الحمدللہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوئی کہ پولیس میں چھپی کالی بھیٹروں کو اور وہ غلط طور پر بھی لکھ دیں تو دلایا جا سکتا ہے ۔
میں اپنے #اللّہ کے فضل و کرم پر بے انتہا ممنون مسرور ہوں کہ سے نوازا۔

میں ، ، اور کا بے حد شکر گزار ہوں جو کہ قدم قدم پر میرا حوصلہ بنے۔

کسی قسم کی قانونی مدد کے لئے رابطہ کریں۔
محمد اسد ریاض بھٹی ایڈووکیٹ (لاہور)
03226666233
مشورہ فیس ....

The Punjab Protection of Ownership of Immovable Property Ordinance/Act کے تحت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو بطور ٹریبو...
13/07/2026

The Punjab Protection of Ownership of Immovable Property Ordinance/Act کے تحت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو بطور ٹریبونل جج نامزد کر دیا گیا ہے۔

اس اہم فیصلے کے بعد اب پراپرٹی ٹریبونلز باقاعدہ فعال ہو چکے ہیں، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

🔹 صرف نئے کیسز کی سماعت: ٹریبونلز میں اب صرف نئے مقدمات کو براہِ راست دائر اور انٹرٹین (Entertain) کیا جائے گا۔

🔹 پرانے کیسز کی منتقلی: پہلے سے موجود اور زیرِ التوا پرانے مقدمات کو قانونی طریقہ کار کے تحت ان متعلقہ ٹریبونلز میں منتقل (Transfer) کیا جائے گا۔

🔹 بیانِ حلفی / سٹیٹمنٹ لازمی: مقدمہ دائر کرتے وقت فریقین کے لیے یہ واضح بیان دینا لازمی ہوگا کہ ان کا یہ کیس پہلے سے کسی اور عدالت میں زیرِ سماعت (Subjudice) نہیں ہے۔

زمینوں کی ملکیت کے تحفظ اور جائیداد کے تنازعات کے فوری حل کے لیے یہ ایک انتہائی اہم اور خوش آئند پیش رفت
ہے۔
& legal advisors

06/07/2026

قبضہ واگزار کروانے کے لیے Complaint درج کرنے کا طریقہ کار

پنجاب تحفظِ حقِ ملکیتِ غیر منقولہ جائیداد (ترمیمی) ایکٹ، 2026 کے ذریعے ایکٹ 2025 کی دفعہ 7 کو ختم کرکے اس کی جگہ نئی دفعہ 7 شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق اس ایکٹ کے تحت کسی جرم کی شکایت صرف غیر منقولہ جائیداد کا قانونی مالک متعلقہ ٹربیونل میں دائر کر سکتا ہے۔ شکایت اسی ٹربیونل میں دائر ہوگی جسے اس علاقے پر علاقائی دائرۂ اختیار حاصل ہو جہاں متعلقہ جائیداد واقع ہے۔

شکایت میں جائیداد کی مکمل اور واضح تفصیلات، جرم سے متعلق تمام اہم حقائق، قانونی ملکیت یا حقِ ملکیت کے ثبوت، اور جہاں تک ممکن ہو مبینہ ملزم یا ملزمان کی معلومات درج کرنا ضروری ہوگا۔

قانون کے مطابق ٹربیونل شکایت موصول ہونے کے تین دن کے اندر اسے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرے گا۔ کمیٹی شکایت کی جانچ پڑتال، حقائق کی چھان بین اور فریقین کے درمیان باہمی رضامندی سے تنازع کے حل کی حوصلہ افزائی اور سہولت فراہم کرے گی۔ مزید برآں، کمیٹی اپنی جانچ مکمل کرکے حوالگی کی تاریخ سے تیس (30) دن کے اندر اپنی رپورٹ ٹربیونل میں پیش کرنے کی پابند ہوگی۔

اس ترمیم کا مقصد جائیداد سے متعلق تنازعات کے فوری، شفاف اور منصفانہ حل کو یقینی بنانا، قانونی مالکان کے حقوق کا مؤثر تحفظ کرنا اور غیر ضروری تاخیر کے بغیر انصاف کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔
Royal law associates & Legal advisors
03226666233

لاہور مبینہ زیادتی کیس: ہسپانوی خاتون کا دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ شدہ بیان منظرِ عام پرلاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ ...
05/07/2026

لاہور مبینہ زیادتی کیس: ہسپانوی خاتون کا دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ شدہ بیان منظرِ عام پر

لاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہسپانوی شہری آسٹرڈ گیبریلا رابنسن بریچو کا ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ کیا گیا تین صفحات پر مشتمل بیان منظرِ عام پر آ گیا ہے۔

بیان کے مطابق متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ان کی عمر 40 سال ہے اور وہ اسپین کے شہر ہونڈاس دی لاس کی رہائشی ہیں۔ انہوں نے حلفاً عدالت کو بتایا کہ ان کا واقعہ دوسری متاثرہ خاتون سٹیفنی کے بیان سے ملتا جلتا ہے، تاہم ان کے ساتھ پیش آنے والے بعض واقعات مختلف تھے۔

خاتون کے مطابق قیام کی پہلی رات چار مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے، دونوں خواتین کو باندھ دیا گیا اور ایک شخص، جس نے کالے کپڑے پہن رکھے تھے، نے مبینہ طور پر ان پر تشدد کیا اور جسمانی دست درازی کی۔ بعد ازاں محمد رضا ڈار نامی شخص آیا اور کمپیوٹر اور رقم کے بارے میں پوچھ گچھ کی، جس پر انہوں نے بتایا کہ مطلوبہ اشیاء سبز رنگ کے بیگ میں موجود ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں خواتین سے مسلسل کمپیوٹر، پاس ورڈز اور رقم کے بارے میں سوالات کیے جاتے رہے۔ متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ اس دوران ان کے سر پر پستول کے بٹ سے وار کیا گیا، جبکہ ایک شخص روانی سے انگریزی بول رہا تھا اور مبینہ طور پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتا رہا۔

متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ محمد رضا ڈار خود کو وزیر علی ڈار کا بیٹا ظاہر کرتا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر بااثر شخصیات کے ساتھ اس کی تصاویر دیکھنے کے بعد اس پر اعتماد کیا تھا۔

خاتون نے مزید الزام عائد کیا کہ بعد ازاں ایک شخص انہیں دوسری منزل پر لے گیا، جہاں ان پر جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ ان کے مطابق انکار کرنے کے باوجود ان کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی۔ شور مچانے پر ملزم رک گیا، انہیں دوبارہ کپڑے پہننے پر مجبور کیا اور واپس کمرے میں لے آیا۔

نوٹ: یہ تمام الزامات متاثرہ خاتون کے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ شدہ عدالتی بیان پر مبنی ہیں۔ ان الزامات کا فیصلہ عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگا، اور ملزمان قانون کی نظر میں اس وقت تک بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں جب تک ان پر جرم ثابت نہ ہو جائے۔

پریزن (جیل) رولز کے مطابق، اگر کسی قیدی کا کوئی قریبی عزیز (Blood Relative) فوت ہو جائے، تو اسے درج ذیل شرائط اور طریقے ...
25/04/2026

پریزن (جیل) رولز کے مطابق، اگر کسی قیدی کا کوئی قریبی عزیز (Blood Relative) فوت ہو جائے، تو اسے درج ذیل شرائط اور طریقے کے تحت جنازے میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے:
1. پیرول پر عارضی رہائی (Release on Parole)
قانون کے تحت صوبائی حکومت یا ہوم ڈیپارٹمنٹ (Home Department) کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی قیدی کو اس کے قریبی رشتہ دار (والدین، بہن بھائی، بیوی یا بچے) کے جنازے میں شرکت کے لیے عارضی طور پر (چند گھنٹوں سے لے کر ایک یا دو دن تک) رہا کر سکے۔
2. ضلعی انتظامیہ کا کردار (Role of Deputy Commissioner)
عام طور پر، قیدی کے ورثاء کو متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر (DC) یا ہوم ڈیپارٹمنٹ کو درخواست دینی ہوتی ہے۔
• درخواست کے ساتھ فوتگی کا ثبوت (ڈیتھ سرٹیفکیٹ یا ہسپتال کی رپورٹ) منسلک کرنا لازمی ہے۔
• انتظامیہ سیکیورٹی کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد پیرول کی منظوری دیتی ہے۔
3. پولیس سیکیورٹی اور حراست (Police Es**rt)
قیدی کو مکمل طور پر آزاد نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے پولیس کی سخت نگرانی (Police Custody) میں جنازے کے مقام تک لے جایا جاتا ہے۔
• قیدی کو ہتھکڑی لگائی جا سکتی ہے (سیکیورٹی رسک کو مدنظر رکھتے ہوئے)۔
• جنازہ پڑھنے یا آخری دیدار کرنے کے فوراً بعد پولیس اسے واپس جیل منتقل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔
4. زیرِ سماعت ملزم اور سزا یافتہ قیدی (UTP vs Convicted)
• زیرِ سماعت ملزم (Under-trial Prisoner): اگر ملزم کا کیس عدالت میں چل رہا ہے، تو اس کا وکیل متعلقہ ٹرائل کورٹ (سیشن جج یا جوڈیشل مجسٹریٹ) میں فوری درخواست دے سکتا ہے۔ جج صاحب انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پولیس کو حکم دیتے ہیں کہ ملزم کو جنازے میں شرکت کروائی جائے۔
• سزا یافتہ قیدی (Convicted): سزا یافتہ قیدی کے لیے جیل انتظامیہ اور صوبائی حکومت (Home Department) سے رجوع کیا جاتا ہے۔
5. دہشت گردی یا سنگین جرائم کے مقدمات
اگر قیدی انتہائی خطرناک ہو یا اس پر دہشت گردی جیسے سنگین مقدمات ہوں، تو انتظامیہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پیرول کی درخواست مسترد بھی کر سکتی ہے، یا پھر انتہائی سخت سیکیورٹی میں صرف چند منٹوں کے لیے جنازہ گاہ لے جانے کی اجازت دیتی ہے۔
خلاصہ (Summary in Points)
• قانون: پاکستان پریزن رولز (پیرول سیکشن)۔
• درخواست: ڈپٹی کمشنر یا ٹرائل کورٹ کو دی جاتی ہے۔
• حق: یہ قیدی کا قطعی حق نہیں بلکہ انتظامیہ کی صوابدید ہے، لیکن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عدالتیں اور حکومتیں عموماً اجازت دے دیتی ہیں۔
• واپسی: جنازے کے فوراً بعد یا مقررہ وقت (مثلاً 12 یا 24 گھنٹے) کے اندر واپسی لازمی ہوتی ہے۔
اگر ایسی صورتحال درپیش ہو، تو سب سے تیز طریقہ متعلقہ عدالت سے "رٹ" یا "درخواست برائے جنازہ" کے ذریعے آرڈر حاصل کرنا ہے، کیونکہ عدالتی حکم پر جیل انتظامیہ فوری عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔

قیدی کے قریبی رشتہ دار کی وفات پر جنازے میں شرکت یا عارضی رہائی (پیرول) کے حوالے سے پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے متعدد بار انسانی ہمدردی اور بنیادی حقوق کو ترجیح دی ہے۔
ذیل میں اس موضوع پر اہم عدالتی نظائر (Case Laws) درج ہیں جنہیں آپ قانونی حوالہ جات کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں:
1. 2021 SCMR 342 (سپریم کورٹ آف پاکستان)
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے پیرول کے تصور کو واضح کیا:
• اصول: عدالت نے قرار دیا کہ پیرول کا مقصد قیدی کو سماجی اور خاندانی بحران (جیسے موت یا شدید بیماری) کے وقت اپنوں کے ساتھ شامل ہونے کا موقع دینا ہے۔
• حکم: اگر کسی قیدی کا قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے تو انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ لکیر کی فقیری چھوڑ کر انسانی بنیادوں پر فیصلہ کرے اور قیدی کو آخری رسومات میں شرکت کی اجازت دے۔
2. PLD 2017 Lahore 712 (لاہور ہائی کورٹ)
یہ ایک انتہائی اہم کیس لا ہے جس میں عدالت نے قیدی کی عارضی رہائی پر زور دیا:
• اصول: عدالت نے قرار دیا کہ کسی قیدی کو اس کے والدین یا اولاد کے جنازے سے محروم کرنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 (انسانی وقار) کی خلاف ورزی ہے۔
• رہنمائی: اگر ہوم ڈیپارٹمنٹ پیرول کی اجازت دینے میں تاخیر کرے تو متعلقہ سیشن جج یا ہائی کورٹ مداخلت کر کے فوری حکم جاری کر سکتی ہے۔
3. 2019 P Cr. L J 455 (سندھ ہائی کورٹ)
اس فیصلے میں "خون کے رشتے" کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا:
• اصول: عدالت نے واضح کیا کہ قیدی کو صرف اس لیے جنازے سے نہیں روکا جا سکتا کہ وہ سنگین جرم میں ملوث ہے۔ اگر پولیس سیکیورٹی فراہم کر سکتی ہے تو اسے ہتھکڑی لگا کر بھی جنازے میں لے جانا ریاست کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
• نتیجہ: ملزم کو اس کے باپ کے جنازے میں شرکت کے لیے 12 گھنٹے کا پیرول دیا گیا۔
4. 2015 MLD 128 (لاہور ہائی کورٹ)
• اصول: اس کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ پیرول پر رہائی صرف حکومت کا اختیار نہیں بلکہ یہ عدالت کے دائرہ اختیار میں بھی آتا ہے۔ اگر ٹرائل کورٹ سمجھے کہ ملزم کے فرار ہونے کا خطرہ نہیں ہے تو وہ پولیس اسکواڈ کی نگرانی میں جنازے میں شرکت کی اجازت دے سکتی ہے۔
قانونی نچوڑ (Legal Gist for Copying)
اگر آپ کو کسی کیس میں یہ حوالہ جات دینے ہوں تو آپ اس طرح تحریر کر سکتے ہیں:

"اعلیٰ عدالتوں کے طے شدہ اصولوں (2021 SCMR 342 اور PLD 2017 Lahore 712) کے مطابق، کسی قیدی کو اس کے قریبی رشتہ دار کے جنازے میں شرکت سے محروم کرنا آئینِ پاکستان کے تحت دیے گئے انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ قانون قیدی کو پیرول پر رہا کرنے کی اجازت دیتا ہے تاکہ وہ اپنی سماجی اور مذہبی ذمہ داریاں پوری کر سکے۔"

وفات کی صورت میں وقت بہت کم ہوتا ہے۔ ایسے میں ہوم ڈیپارٹمنٹ کے بجائے متعلقہ ٹرائل کورٹ (سیشن جج) میں "فوری درخواست برائے جنازہ" دائر کرنا سب سے موثر طریقہ ہے، کیونکہ عدالتیں ایسے معاملات میں اسی وقت (حتیٰ کہ چھٹی والے دن بھی) آرڈر جاری کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔
Royal Law associates & Legal Advisers
03226666233

Address

Principal Office # 87/A , Block B-3 , Nishan Coloney, China Scheme , Gujjar Pura Lahore, Office #2 ; 13/A 2nd Floor, Sadiq Plaza The Mall Road Lahore
Lahore
54000

Telephone

+923226666233

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Royal Law associates & Legal Advisers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Royal Law associates & Legal Advisers:

Shortcuts

Share