Lawyers In Lahore【Official】

i am a practicing lawyer, i can provide civil ,criminal , banking,family,income tax,sales tax, excise and taxation , solutions for information technology other law solutions and also public awareness . business consulting , team building, internet services strategy, social media consulting, recruitment advisory, project management, professional networking and lead generation, social enterprise support.

48 lawyers join the fake degree clubRAWALPINDI: The degrees of 48 lawyers of Rawalpindi district courts were found to be...
19/04/2016

48 lawyers join the fake degree club
RAWALPINDI: The degrees of 48 lawyers of Rawalpindi district courts were found to be fake on Thursday.

Secretary General of District bar Rawalpindi, Khurram Masood Kiyani said these lawyers were practicing for the last 10 to 23 years in the Lahore High Court Rawalpindi Bench.

He stated that lawyers with fake degrees were let off without legal reprisal only after they took an oath not to practice law in the future.

The Secretary General added that cases will be registered against lawyers with fake degrees, while High Court Bar Association’s Joint Secretary Aisamul Haq Satti demanded the concerned authorities to verify degrees of the whole legal fraternity including judges of lower and apex courts.
https://www.facebook.com/lawyersinlahorepakistan/

اسلام آباد ہائیکورٹ نے گریڈ 20 سے 21 میں ترقیوں کے خلاف درخواستوں پر جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دیدیاسلام آباد (وقائع نگ...
29/05/2015

اسلام آباد ہائیکورٹ نے گریڈ 20 سے 21 میں ترقیوں کے خلاف درخواستوں پر جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دیدی
اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاق کو گریڈ 20 سے 21 میں ترقیوں کے خلاف درخواستوں پر جواب داخل کرانے کے لئے مہلت دیتے ہوئے سماعت 10 جون تک ملتوی کر دی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ بیوروکریٹس کی ترقی کے حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری ہو سکتے ہیں جو عدالتی فیصلے سے مشروط ہوں گے۔ جمعرات کو گریڈ 20 سے 21 میں ترقیوں کے خلاف درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کا جواب ابھی موصول نہیں ہوا لہٰذا اس کے لئے کچھ مہلت دی جائے۔ عدالت نے وفاق کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 10 جون تک ملتوی کر دی۔
https://www.facebook.com/lawyersinlahorepakistan

کسٹم عملہ نے ماڈل ایان کیخلاف حتمی چالان عدالت میں جمع کرا دیااسلام آباد (نمائندہ خصوصی) کسٹمز کے عملہ نے ماڈل ایان کے خ...
29/05/2015

کسٹم عملہ نے ماڈل ایان کیخلاف حتمی چالان عدالت میں جمع کرا دیا
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) کسٹمز کے عملہ نے ماڈل ایان کے خلاف حتمی چالان عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔ حتمی چالان میں ماڈل ایان علی اور دو دوسرے افراد کو کرنسی سمگلنگ کیس میں ملوث قرار دیا گیا ہے‘ گزشتہ روز بھی سپیشل جج کسٹمز کے عدم دستیابی کے باعث ایان علی کے خلاف مقدمہ کی سماعت آگے نہیں بڑھ سکی۔ کسٹمز انٹیلی جنس کی طرف سے منی لانڈرنگ کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی سماعت بھی نہیں ہوسکی۔ماڈل ایان کے خلاف مقدمہ کی سماعت اور دیگر معاملات کی سماعت اب 2جون کو ہوگیhttps://www.facebook.com/lawyersinlahorepakistan

29/05/2015

پارلیمنٹ کو آئین کا بنیادی ڈھانچہ بدلنے کا اختیار نہیں ترمیم کر سکتی ہے : سپریم کورٹ
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ میں ملٹری کورٹس کے قےام، 18,سے 21ویں آئینی ترامیم سے متعلق درخواستوں کی سماعت میں عدالت نے قرار دےا حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، مساوات رواداری، آزادی بنےادی حقوق آئین کاحصہ ہیں ،نےا نظام صرف خون بہانے سے ہی نہیں آسکتا ، آئین میں کچھ معاملات میں جو حقوق اقلیتوں کو حاصل ہیں وہ مسلمانوں کو بھی نہیں ،پارلیمنٹ کو ترامیم کا اختےار ہے مگر بنےادی ڈحانچہ تبدیل کرنے کا نہیں، پارلیمنٹ بنےادی انسانی حقوق ختم نہیں کرسکتی ۔دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا آرٹیکل 51 میں اقلیتی نشستوں کی بات کی گئی ہے۔ جنرل نشستوں میں خصوصی نشستوں میں کوئی فرق نہیں۔ جنرل سیٹوں پر مسلمان اور غیر مسلم دونوں کو ٹکٹ دیئے جاتے ہیں ۔دوسری جانب اضافی فائدہ دیا گیا ہے اقلیتوں کو الگ سے بھی نمائندگی دی گئی ہے یہ فائدہ صرف غیر مسلموں کو دیا گیا ہے مسلمانوں کو نہیں دیا گیا ۔ قانون بنانے والوں نے اقلیتوں کو ترجیح دی ہے ، جسٹس جواویس خواجہ نے کہا ہے اقلیتی برادری کے نمائندے وو نہیں ہوتے جو سیاسی جماعتوں کی آشیر باد حاصل کر کے پارلیمنٹ آتے ہیں عام آدمی تو پارلیمنٹ میں منتخب ہوکر آہی نہیں سکتا یہ ارب پتیوں کا کام ہے۔چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں فل کورٹ نے کیس کی سماعت کی تو شمشاد مانگٹ کے وکیل حشمت حبیب نے موقف اختےار کےا 18 ویں ترمیم کے دیباچے میں بھی بنیادی ڈھانچے کی بات کر دی گئی ہے۔ بنیادی ڈھانچے کو محفو ظ رکھا جائے گا ۔انہوں نے کہا آئین لوگوں کا بنا ہوا ہے اس کو لوگ ہی تبدیل کر سکتے ہیں جس کو اختےار ہے وہ کالے کو سفید کر سکتا ہے، قرار داد مقاصد کے مطابق عوامی نمائندے جمہوریت کو اللہ تعالیٰ کا تفویض کردہ اختیار سمجھ کر استعمال کریں گے۔ اقلیتوں کو مذہبی آزادی دی گئی۔ وفاق کی بھی بات کی گئی‘ بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی۔ مساوات‘ سیاسی انصاف‘ آزادی اظہار رائے‘ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ‘ نظام عدلم کی آزادی سمیت حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے اور اس کمیٹی نے اس کو بنیادی ڈھانچے کا حصہ قرار دیا تھا،ہماری پارلیمنٹ نے آئین 102ٓرٹیکلز کو تبدیل کردےا گےا۔ حشمت حبیب نے کہا معاملات کو جس طرح سے ظاہر کیا گیا ہے ویسے نہیں ہیں آمروں کے بنائے ہوئے بعض آرٹیکلز کو بھی شامل رکھا گیاسوال ہے کےا پارلیمنٹ کے پاس آئین میں ترمیم کا اختےار ہے؟کےا عدلیہ کی آزادی کو ترمیم کے زریعے ختم کےا جاسکتا ہے ،1973کا آئین اسلامی رےاست کا مذہب ہے ،اس کا بنےادی ڈحانچہ آئین بنانے والی کمیٹی نے طے کےا تھا جو ریکارڈ پر موجود ہے۔ پارلیمنٹ کو صوبے کے پی کے کا نام تبدیل کرنے کا استحقاق نہ تھا صوبے کا نام صرف ریفرنڈم کے ذریعے ہی تبدیل ہوسکتا ہے ،اس پر جسٹس سرمد جلا ل عثمانی نے کہا پارلیمنٹ کے پاس اختےار ہے وہ نام تبدیل کرسکے ،حشمت حبیب نے کہا کل پارلیمنٹ پاکستان کا نام تبدیل کردے تو؟ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا آپ کو تقریر کا شوق ہے تو اسمبلی جاکرکریں آہستہ بولیں ،حشمت حبیب نے کہا اونچا بول کر آپ گستاخی کررہے ہیں مجھے سننا عدالت کا کام ہے ،پیلے جسٹس ثاقب نثار پھرچیف جسٹس نے کہا ہم آپ کی بات نہیں سنیں گے آپ بیٹھ جائیں اس پر حشمت حبیب نے کہا آپ نے نہیں سننا تو نہ سنیں۔ اس دوران کامران مرتضیٰ نے حشمت حبیب سے استدعا کی ججوں سے براہ راست اس طرح کا مکالمہ نہ کریں جس پر ایڈووکیٹ حشمت حبیب روسٹرم سے ہٹ گئے اور بعد ازاں عدالت سے باہر چلے گئے۔ان کے بعد ایک درخواست گزار کے وکیل ذوالفقار سعید بھٹہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا ضروری نہیں جیتنے والی سیاسی جماعت کے مقرر کردہ اقلیتی نمائندے اپنے لوگوں کی نمائندگی بھی کر رہے ہوں ، اقلیتوں کا معاملہ آئین کے دیباچے میں موجود ہے سےاسی پارٹی کی لیڈر شپ اپنے حامی اقلیتوں کے نمائندوں کو لاتی ہے ،ان کو الگ سے اپنی برادری کے توسط سے بذریعہ الیکشن منتخب ہونا چاہئے ، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا اقلیتی نمائندے قانون کے مطابق منتخب ہوتے ہیں سیاسی جماعتیں ٹکٹ جاری کرتی ہیں اور پورے ملک میں اس کا ایک حلقہ قرار دیا جاتا ہے، کوئی سےاسی پارٹی کامےاب ہوتی ہے تو اس کے امیدوار بھی کامےاب ہوتے ہیں ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا یہ ضروری نہیں اقلیتوں کا لیڈر سےاسی جماعتوں کا بھی منتخب کردہ فرد ہو ،اقلیتی نشستوں پر امیدوار سےاسی طور پر آتے ہیں ۔دوران سماعت شاہد اور کزئی نے کہا پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ ہوتی ہے جو اپنے اختےارات آئین کے مطابق استعمال کرتی ہے مگر کوئی آئین سازی اسلام کے منافی نہ کی جاسکتی ،حدود کے تجاوز سے مسائل جنم لیتے ہیں مگر طاقت کے زور پر ہر کام کےا جاتا ہے جنگل کا قانون نہیں ہونا چاہئے جسٹس آصف کھوسہ نے کہا ایک مسلمان بہت زیادہ مقبول ہے مگر وہ آئین کے مطابق معےار پر پورا نہیں اترتا تو پھر وہ الیکشن نہیں لڑ سکتا بیرونی ملک رہنے والا پاکستانی دوہری شہریت کی وجہ سے بھی الیکشن نہیں لڑ سکتا۔کے پی کے کے وکیل افتخار گیلانی نے کہا آئینی ترامیم سے آئین کمزور نہیں ہوتا آئین کا ایک بنےادی ڈھانچہ ہے جو قران و سنت سے لےا گےا ہے ،انسانی حقوق سے تصادم ترامیم کو عدالت کالعدم قرار دے سکتی ہے آئین سے پاس ہونے والا بل قانون بن جاتا ہے انسانی حقوق کا چیپٹر آئین میں باقی شکوں کے مساوی ہے ،پارلمینٹ کا ترامیم کا اختےار غیر آئینی نہیں آئین کے آرٹیل 9تا28انسانی حقوق سے متعلق ہیں ،جو ختم نہیں ہوسکتے ، جسٹس عظمت سعید نے کہاکےا پارلیمنٹ کو آئین ختم کرنے کا اختےار ہے ،افتخار گیلانی نے کہا جی ہاں ،ترامیم کا اختےار پارلیمنٹ کے پاس ہے عدالت کے پاس نہیں ایک ترمیم کو دوسری ترمیم سے تصادم کی بنےاد پر کالعدم قرار نہیں دےا جاسکتا اقلیتوں کا انتخاب سےاسی معاملہ ہے ،نظام سے متعلق عوام نے طے کرنا ہے کون سا نظام چاہئے۔ جسٹس جواد نے کہا کےا پارلیمنٹ نظام کو تبدیل کر سکتی ہے؟ افتخار گیلانی نے کہا جی کر سکتی ہے۔ جسٹس قاضی عیسیٰ نے کہا اقتدار اعلیٰ اللہ تعالی کے پاس ہے کئی ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی ہے ،اس حوالے سے نےا نظام لاےاگےا ،ایک نےا نظام صرف خون بہانے سے ہی نہیں آسکتا،جرمنی میں پارلیمنٹ ایسا کرتی تو عالمی جنگ چھڑ چکی ہوتی،کےا پاکستان میں غلامی اور تعلیم کے حصول میں رکاوٹ بننے والوں پر پابندی کے بارے میں پارلیمنٹ میں قانون سازی نہیں ہوسکتی ؟جسٹس آصف کھوسہ نے کہا 32ممالک میں اظہار رائے پر پابندی ہے ،4ملکوں میںمحدود آزادی ہے جب19ملکوں میں جذوقتی طور پر نافذ ہوتی اور ختم ہوتی رہتی ہیں ۔افتخار گیلانی نے کہا مذہب معاشروں میں عوام کو حقوق دیئے گئے ہیں جو سلب نہیں کئے جا سکتے، پارلیمنٹ سعودیہ طرز کی بادشاہت یہاں بھی رائج کرنے کا اختےار رکھتی ہے اس حق کی اجازت آئین و قانون نے دی ہے۔ اس کا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے وہ کس طرح کا نظام چاہتے ہیں یہ کوئی طریقہ نہیں۔ ان کے دلائل جاری تھے کہ کیس کی مزید سماعت یکم جون پیر تک ملتوی کردی گئی ہے۔
https://www.facebook.com/lawyersinlahorepakistan

انتظامی افسر ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے، اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور رہیں: ہائیکورٹلاہور (اپنے نامہ نگار...
29/05/2015

انتظامی افسر ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے، اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور رہیں: ہائیکورٹ
لاہور (اپنے نامہ نگار سے) ہائیکورٹ نے پنجاب بھر کے36 اضلاع کے ڈی سی اوز کو اشیا کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے تجزیاتی رپورٹ 3 روز میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ انتظامی افسر ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں اسی لئے اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔ جسٹس فرخ عرفان خان نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملکی سطح پر بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی۔ حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عام آدمی تک منتقل کرنے کے بڑے بڑے دعوے کئے مگر ان دعوؤں کے برعکس حکومت عملی طور پر قیمتوں میں کمی کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ ضروریات زندگی کی عام اشیا مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں جسکی وجہ سے عام شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ضروریات زندگی کی اشیا میں کمی کے حوالے سے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کے لئے مہلت دی جائے۔ کیس کی مزید سماعت15جون تک ملتوی کر دی۔
https://www.facebook.com/lawyersinlahorepakistan

سانحہ ڈسکہ: وکلا سراپا احتجاج، ڈی پی او کی تبدیلی پر سیالکوٹ کے تمام ایس ایچ اوز، انسپکٹرز کا مستعفی ہونیکا اعلان: آر پ...
29/05/2015

سانحہ ڈسکہ: وکلا سراپا احتجاج، ڈی پی او کی تبدیلی پر سیالکوٹ کے تمام ایس ایچ اوز، انسپکٹرز کا مستعفی ہونیکا اعلان: آر پی او کی مداخلت پر واپس لے لیا
ڈسکہ+ سیالکوٹ+ لاہور (نامہ نگاران+ نوائے و قت رپورٹ+ اپنے نامہ نگار سے) سانحہ ڈسکہ کیخلاف و کلا کے احتجاج کا سلسلہ گذشتہ روز بھی جاری رہا۔ وکلا نے مختلف شہروں سے ریلیاں نکالیں اور عدالتی بائیکاٹ کیا۔ ڈسکہ میں جاں بحق و کلا کیلئے تعزیتی ریفرنس ہوا۔ دوسری جانب ملزم ایس ایچ او شہزاد وڑائچ کی گرفتاری اور ڈی پی او سیالکوٹ ڈاکٹر آصف شہزاد کی تبدیلی کیخلاف سیالکوٹ بھر کے ایس ایچ اوز اور انسپکٹروں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ آر پی او وقاص نذیر کی مداخلت پر واپس لے لیا اور چار، چار ماہ کیلئے چھٹی کی درخواستیں بھی واپس لے لیں۔ گوجرانوالہ میں 2 ایس ایچ اوز نے چارج چھوڑ دیا جبکہ دیگر پولیس انسپکٹرز نے عہدوں سے علیحدگی کی دھمکی دی ہے۔ جبکہ ترجمان پولیس نے کہا ہے کہ کسی ایس ایچ اوز نے کام سے انکار نہیں کیا۔ آئی جی پنجاب نے تقرری کے منتظر ایس ایس پی اعجاز احمد کو ڈی پی او سیالکوٹ تعینات کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ مرکزی ملزم شہزاد وڑائچ کو پولیس چوہنگ ٹریننگ سنٹر لاہور منتقل کر دیا گیا۔ ڈسکہ کے تعزیتی ریفرنس میں وائس چیئرمین پنجاب بار، صدر لاہور ہائیکورٹ بار، ممبران پاکستان اور پنجاب بار کونسل کے علاوہ پنجاب بھر کے ہزاروں وکلاء نے شرکت کی۔ ہائیکورٹ بار کے صدر پیر مسعود چشتی نے کہا کہ ہم ملزموں کو تختہ دار تک لٹکانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وائس چیئرپرسن پنجاب بار کونسل فرح اعجاز نے کہا کہ وکلاء میں مکمل اتحاد ہے ہم سپریم کورٹ تک ملزموں کے خلاف جائیں گے۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ سے ڈسٹرکٹ بار گوجرانوالہ کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں بار کے صدر چوہدری خالد لطیف، سیکرٹری رانا غفار احمد اور جوائنٹ سیکرٹری الیاس بٹ شامل تھے۔ وفد نے چیف جسٹس کو ڈسکہ واقعہ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا اور حالات قابو میں رکھنے کیلئے اقدامات کو بھی سراہا۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ ملزموں کو جلد از جلد انکے جرم کی سزا ملنی چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء پر فائرنگ کرنے والے ملزموں کے خلاف قانون حرکت میں آ چکا ہے اور وہ بہت جلد انصاف کے کٹہرے میں ہوں گے۔ شیخوپورہ میں ریلی کی قیادت صدر بار خالد رشید ملک، جنرل سیکرٹری عاصم حمید بھنگو، ملک نصراللہ وٹو، طاہر شہزا د کمبوہ، رانا زاہد محمود اور دیگر وکلاء نے کی احتجاجی ریلی ڈی پی او آفس پہنچی جہاں انہوں نے پولیس کے خلاف سخت نعرے بازی کی ریلی کے شرکاء نے ٹی ایم او آفس پہنچ گئے جہاں گیٹ بند ہونے پر شدید پتھرائو کیا اس کے علاوہ وکلاء کی ریلی کی اطلاع سنتے ہی ضلع کچہری میں متعدد سرکاری دفاتر دوسرے روز بھی بند رہے ان دفاتر کو انتظامیہ کی طرف سے تالے لگا دیئے گئے جس پر ضلع کچہری آنیوالے سینکڑوں لوگ اپنے کام نہ ہونے پر مایوس واپس لوٹ گئے۔ ننکانہ بار کے وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اس موقع پر کوئی بھی وکیل کسی بھی عدالت میں پیش نہ ہوا جس کے باعث دوردراز سے آئے ہوئے سائلوں کو سخت مشکلات کا سامنا رہا۔ ڈسٹرکٹ بار کے صدر رائے محمود حسین کھرل، جنرل سیکرٹری ملک علی عمران اعوان ودیگر وکلاء نے کہا کہ ملزموں کیفرکردار تک پہنچانے تک وکلاء خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ادھر لاہور بار ایسوسی ایشن نے پنجاب بار کونسل کی وائس چیئرپرسن کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات پر شدید تحفظات کا اظہارکیا ہے۔ سانحہ ڈسکہ کے خلاف لاہور کے وکلاء نے چوتھے روز بھی احتجاج کیا۔ وکلا نے پی ایم جی چوک بلاک کر کے زبردست نعرے بازی کی اور مارچ کیا۔ مظاہرین نے حکومت اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ وکلا نے پی ایم جی چوک بلاک کر دیا۔ لاہور بار کی جانب سے وکلا رہنماوں کی وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات پر شدید تنقید بھی کی گئی۔ حافظ آباد میں ریلی میں محمد ارشد، صفدر کھرل، رانا محمد سلیم شاکر، چودھری تجمل رضا، ملک اعظم اعوان، معظم بھٹی اور دیگر نے شرکت کی۔ شرکا نے فوارہ چوک میں ٹائروں کو آگ لگاکر پولیس کیخلاف نعرے بازی کی۔
https://www.facebook.com/lawyersinlahorepakistan

پنجاب کابینہ میں توسیع آج رانا ثناء قانون، ڈاکٹر عائشہ خزانہ کی وزارت کا حلف اٹھائیں گیلاہور (خصوصی رپورٹر) وزیراعلیٰ پ...
29/05/2015

پنجاب کابینہ میں توسیع آج رانا ثناء قانون، ڈاکٹر عائشہ خزانہ کی وزارت کا حلف اٹھائیں گی
لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کابینہ میں توسیع کے اپنے فیصلے پر جزوی طور پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آج جمعہ کو رانا ثناء اللہ خان اور ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ ان دونوں سے گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ حلف لیں گے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف بھی موجود ہوں گے۔ رانا ثناء اللہ خان کو ان کی سابق وزارتیں قانون اور بلدیات دی جارہی ہیں جبکہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالیں گی تاہم دیگر امیدوارانِ وزارت کی امیدوں پر اوس پڑگئی ہے جن کو وزارت دینے کا کہا ضرور گیا لیکن ان سے حلف نہیں لیا جارہا۔ سرکاری ہینڈ آئوٹ کے مطابق کابینہ میں توسیع کا عمل دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ بجٹ سیشن کے پیش نظر پہلے مرحلے میں ضروری وزراء کی تعیناتی کی جارہی ہے۔ بجٹ سیشن کے فوراً بعد پنجاب کابینہ میں مزید توسیع کا اعلان کیا جائے گا۔

لاہور (رفیعہ ناہید اکرام) پنجاب کی پہلی نامزد خاتون وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے میں نے وزارت کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا تاہم کچھ عرصے سے اندازہ ضرور تھا۔ پنجاب حکومت کی طرف سے ایک خاتون کو وزیر خزانہ نامزد کرنا ایک بولڈ فیصلہ ہے، اب وقت بدل رہا ہے اور اللہ کا احسان ہے ہم خواتین کو آگے بڑھنے کا موقع مل رہا ہے، فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے اب بطور قوم ہم میچور ہوگئے ہیں۔ نوائے وقت سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا 12 جون کو صوبائی بجٹ پیش ہوگا تاہم یہ کہنا غلط ہے بجٹ سازی میں سیاستدانوںکا کوئی رول نہیں ہوتا اور بجٹ صرف بیوروکریسی بناتی ہے۔ انہوں نے کہا بیوروکریسی تو وزیراعلیٰ پنجاب و دیگر سیاستدانوںکے وژن اور ترجیحات کے مطابق ہی کام کرتی ہے۔ صوبے کی ترقی کی رفتار میں اضافہ اور روزگار کے مواقع کیلئے وسائل کی ضرورت ہے اسلئے فنانشل مینجمنٹ سسٹم اور فنانسنگ کی ڈیٹا فنکشننگ کی امپروومنٹ ترجیح ہوگی۔ بجٹ میں ویمن ایمپاورمنٹ سمیت زراعت، سوشل ڈویلپمنٹ، تعلیم، صحت و دیگر شعبوں پر فوکس کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا خواتین ارکان اسمبلی کے بارے میں یہ تاثر درست نہیں وہ صرف بیٹھنے یا کورم پورا کرنے آتی ہیں وہ باقاعدہ بچوں، خواتین اور اقلیتوںکے حوالے سے قانون سازی میں سرگرم کردار ادا کررہی ہیں تاہم بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ٹیکنوکریٹ ہوں صرف کام کرنے اور اپنے عمر بھر کے تجربے کو کام میں لانے کیلئے اسمبلی میں آئی اور پالیسی سازی، ریسرچ اور قانون سازی کی خلیج کو ختم کرنے کے مقاصد کیلئے کام کیا۔ انہوں نے بتایا وزارت ملنے کی خبر پر میرے شوہر حفیظ احمد پاشا بہت خوش ہوئے ہم منفرد جوڑا ہیں شوہر وفاقی وزیر خزانہ رہے اور مجھے صوبائی وزیر خزانہ کا قلمدان سونپا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا میں آج جس مقام پر ہوں اس میں میرے شوہر کی مکمل سپورٹ شامل ہے، کوئی عورت چاہے وہ جتنی بھی تعلیم یافتہ ہو وہ شوہر کی سپورٹ کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی، میرے دو بچے ہیں اور دونوں ٹین ایجر ہیں، فارغ وقت انکے ساتھ
گزارنا اچھا لگتا ہے۔
https://www.facebook.com/lawyersinlahorepakistan

Address

Model Town
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lawyers In Lahore【Official】 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Lawyers In Lahore【Official】:

Share