Women Legal Work

Women Legal Work Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Women Legal Work, Legal Service, Lahore.

Women Legal Work is providing legal advice on family and civil matters, training and mentoring services to enhance the knowledge of communities, organisations, staff and individuals and specifically increasing awareness about pro women laws of Pakistan.

27/04/2026

لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ: کیا شوہر کو 12 سال کا پرانا خرچہ دینا پڑے گا؟
​12 سال کا پرانا خرچہ! لاہور ہائی کورٹ نے قانونِ میعاد (Limitation) کا دفاع مسترد کر کے شوہروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی! (W.P. No. 14119/2026)
​عدالت کا حتمی فیصلہ اور قانونی تشریح
​لاہور ہائی کورٹ نے اس سنگ میل فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نان و نفقہ (خرچہ) کے دعوے میں چھ سال کی میعاد (Limitation) کا اصول ہر صورت میں لاگو نہیں ہوتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر ایک شوہر خود عدالت میں "اعادہ حقوقِ زناشوئی" (بیوی کو بسانے) کا دعویٰ دائر کرتا ہے، تو وہ بالواسطہ طور پر یہ تسلیم کر رہا ہوتا ہے کہ نکاح قائم ہے اور بیوی اس کے ساتھ نہیں رہ رہی۔ ایسی صورت میں شوہر یہ نہیں کہہ سکتا کہ بیوی کا خرچہ وقت گزرنے کی وجہ سے ختم ہو گیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ قانون کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ایک طرف بیوی کو بسانا چاہے اور دوسری طرف اسے گذشتہ برسوں کا خرچہ دینے سے انکار کرے۔ اس فیصلے کے تحت، اگر شوہر کی اپنی تحریر یا رویے سے یہ ثابت ہو جائے کہ بیوی نان و نفقہ سے محروم رہی ہے، تو عدالت چھ سال کی حد سے تجاوز کرتے ہوئے 12 سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے کا سابقہ خرچہ دلوانے کا اختیار رکھتی ہے۔ یہ فیصلہ شوہر کے اس دفاع کو ختم کر دیتا ہے کہ خرچہ صرف حالیہ چند سالوں کا ہی دیا جا سکتا ہے۔
​کیس کا پس منظر اور فریقین کا تنازع
​اس کیس کے حقائق کچھ یوں ہیں کہ محمد انور (درخواست گزار) کا نکاح 2003 میں ہوا تھا۔ تقریباً 21 سال بعد، ستمبر 2024 میں بیوی نے تنسیخِ نکاح اور خرچے کا دعویٰ دائر کیا، جس میں جنوری 2012 سے خرچہ طلب کیا گیا۔ فیملی کورٹ نے بیوی کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے 12 سال کا سابقہ خرچہ (جنوری 2012 سے) ادا کرنے کا حکم دیا۔ شوہر نے اس فیصلے کو اپیلٹ کورٹ میں چیلنج کیا لیکن وہاں سے بھی اسے ناکامی ہوئی۔ آخر کار شوہر نے لاہور ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ شوہر کا بنیادی موقف یہ تھا کہ "قانونِ میعاد 1908" کے تحت خرچہ صرف پچھلے چھ سال کا دیا جا سکتا ہے، اس سے پرانا مطالبہ قانونی طور پر ختم ہو چکا ہے۔ تاہم، کیس کی خاص بات یہ تھی کہ دورانِ مقدمہ شوہر نے خود بیوی کو بسانے کا دعویٰ کیا ہوا تھا، جس میں اس نے مانا تھا کہ بیوی 2012 سے الگ رہ رہی ہے۔ اسی اعتراف نے شوہر کے خلاف "اسٹاپل" (Estoppel) کا کام کیا اور عدالت نے اس کی میعاد والی دلیل کو مسترد کرتے ہوئے 12 سال کا خرچہ برقرار رکھا۔
​اہم قانونی نکات (آسان زبان میں)
​اعتراف کی طاقت: اگر شوہر تحریری طور پر مانے کہ بیوی الگ رہی ہے، تو وہ خرچے سے جان نہیں چھڑا سکتا۔
​میعاد کی حد (Limitation): آرٹیکل 120 کے تحت 6 سال کی حد اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب شوہر خود نکاح کی موجودگی اور علیحدگی تسلیم کر لے۔
​تضاد کی ممانعت: قانون ایک وقت میں دو مختلف باتیں (بیوی چاہیے مگر خرچہ نہیں دینا) کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
​عدالتی اختیار: فیملی عدالتیں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے 6 سال سے زیادہ کا خرچہ بھی دلوا سکتی ہیں۔
​اعادہ حقوقِ زناشوئی کا اثر: شوہر کا اپنی بیوی کو واپس بلانے کا دعویٰ اس کے خلاف سب سے بڑا ثبوت بن سکتا ہے۔

​یہ فیصلہ عام لوگوں، خاص طور پر خواتین کے لیے ایک بڑی قانونی ڈھال ہے۔ اب شوہر صرف وقت گزرنے کا بہانہ بنا کر اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بھاگ سکیں گے۔ اگر کوئی عورت سالوں سے اپنے والدین کے گھر بیٹھی ہے اور شوہر اسے نہیں بسا رہا، تو وہ اس فیصلے کی روشنی میں اپنی زندگی کے قیمتی سالوں کا پورا خرچہ وصول کر سکتی ہے۔ یہ فیصلہ شوہروں کو مجبور کرے گا کہ وہ یا تو بیوی کو عزت کے ساتھ بسائیں یا بروقت اس کے حقوق ادا کریں، ورنہ سالوں بعد ایک خطیر رقم (Arrears) کی صورت میں انہیں بھاری مالی بوجھ اٹھانا پڑے گا۔
​متعلقہ قانونی حوالہ جات
​حق میں حوالہ: Muhammad Aslam Chattha v. Shehnaz Akhtar (2025 SCP 426) - اس حالیہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے میعاد اور خرچے کے حوالے سے اصول وضع کیے ہیں۔
​مخالفانہ بحث کا حوالہ: Muhammad Nawaz Vs. Mst. Khurshid Begum (PLD 1972 S.C 302) - اس پرانے فیصلے میں میعاد کی حد پر بحث کی گئی تھی، جسے موجودہ کیس میں حقائق کی بنیاد پر الگ قرار دیا گیا۔

https://humsub.com.pk/n/35523/2026/02/27/jawaria-kashif-advocate/
27/04/2026

https://humsub.com.pk/n/35523/2026/02/27/jawaria-kashif-advocate/

اس آرڈیننس کے تحت پنجاب میں 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔ اس آرڈیننس کے سیکشن تین کے مطابق شادی کی کم از...

پنجاب اسمبلی میں برسوں سے زیر التوا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 منظور کرلیا گیا۔پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 میں کم...
27/04/2026

پنجاب اسمبلی میں برسوں سے زیر التوا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 منظور کرلیا گیا۔
پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 میں کم عمری کی شادی پر سخت سزاؤں کی منظوری دی گئی،18 سال سے زائد عمر کے افراد کا کم عمر سے نکاح کرنے اور والدین یا سرپرست اگر کم عمری کی شادی میں معاونت کریں تو 2 سے 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
Congratulations to all who has worked hard to make this possible...

https://humsub.com.pk/n/35523/2026/02/27/jawaria-kashif-advocate/

تعزیراتِ پاکستان – دفعہ 506جب کوئی شخص کسی کو جان، عزت، جائیداد یا روزگار کے نقصان کی دھمکی دے کر ڈرانے یا مجبور کرنے کی...
27/04/2026

تعزیراتِ پاکستان – دفعہ 506
جب کوئی شخص کسی کو جان، عزت، جائیداد یا روزگار کے نقصان کی دھمکی دے کر ڈرانے یا مجبور کرنے کی کوشش کرے۔ تو یہ Criminal Intimidation ہے اور دفعہ 506 کے تحت جرم ہے۔
اگر کسی خاتون کو دھمکیاں دی جا رہی ہوں تو فوراً ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن کو اطلاع دیں۔
15 ڈائل کریں اور 2 دبائیں۔

22/04/2026

چشتیاں، بہاولنگر کے ایک سکول میں چھٹی کا وقت قریب تھا کہ پرنسپل امداد اللہ نے چوتھی کلاس کے ایک دس سالہ بچے کو اپنے دفتر بلایا، دروازہ بند کیا اور اسے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنا ڈالا۔ بچہ گھر پہنچا تو خوفزدہ اور بخار میں مبتلا تھا۔ باپ نے وجہ پوچھی تو بچہ رونے لگا، بچے نے گواہوں کی موجودگی میں بتایا کہ وہ آئندہ سے سکول نہیں جائے گا کیونکہ اس کا پرنسپل اسے روزانہ اپنے دفتر میں بلا کر اسکے ساتھ جنسی حرکات کرتا ہے اور کسی کو بتانے کی صورت دھمکیاں دیتا ہے، آج بھی اُس نے ایسا ہی کیا ہے۔ یہ 2 فروری 2021ء کا دن تھا۔ بچے کے باپ نے 4 فروری کو وقوعے کی ایف آئی آر درج کروا دی۔

اگلے روز پرنسپل گرفتار ہو گیا، مقامی سیشن کورٹ میں مقدمہ چلا۔ متاثرہ بچے نے بھی گواہی دی۔ ملزم کا موقف تھا کہ اسکی سابقہ بیوی کی طلاق کی رنجش کی وجہ سے سابقہ سسرال والوں نے مدعی کے ساتھ مل کر یہ جھوٹا مقدمہ بنایا ہے۔ تاہم ملزم نے اپنے دفاع میں کوئی ثبوت پیش نہ کیا۔ ٹرائل کورٹ نے 25 اگست 2022ء کو ملزم کو 14 سال قیدِ بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

ملزم امداد اللہ نے اپنی سزا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کر دی جس کی سماعت دو رُکنی بنچ نے کی اور جسٹس طارق سلیم شیخ نے دسمبر 2023ء میں فیصلہ سنایا۔

ہائیکورٹ میں ملزم کی طرف سے دلائل دیے گئے کہ ایف آئی آر کے اندراج میں دو دن کی بلاوجہ تاخیر کی گئی ہے، جس سے معاملہ مشکوک ہوتا ہے۔ ملزم کی سابقہ بیوی کے اکسانے پر یہ جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے۔ وقوعے کا کوئی چشم دید گواہ نہیں۔ بچے کی گواہی قابلِ قبول نہیں کیونکہ ٹرائل جج نے اسکی اہلیت جانچنے کے لیے 'Voir dire' یعنی ابتدائی سوالات کا ٹیسٹ نہیں کیا۔ بچے کی اکیلی گواہی پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے سزا نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے لکھا کہ جنسی ہراسانی کیسز میں ڈر، شرم، ملزم کی دھمکیوں اور لاشعوری کی وجہ سے کیس رپورٹ کرنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ جب تک تاخیر کے پیچھے کوئی بدنیتی ثابت نہ ہو جائے، تاخیر نقصان دہ نہیں ہے۔ بچے کی گواہی میں ابتدائی سوالات اگر نہ کیے جا سکیں تو بچے کی گواہی غیر معتبر نہیں ہوجاتی۔ اس کیس میں متاثرہ بچے نے ملزم کے وکیل کی لمبی جرح کا انتہائی پراعتماد انداز میں جواب دیا جس سے اس کی ذہنی اہلیت ثابت ہوتی ہے۔ چونکہ جنسی جرائم میں چشم دید گواہ ملنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے اگر متاثرہ بچے کی گواہی سچی ہو اور وہ سکھائی گئی معلوم نہ ہو، تو صرف اکیلے بچے کی گواہی کی بنیاد پر بھی ملزم کو سزا سنائی جا سکتی ہے۔

عام طور پر 'سنی سنائی' بات بطور ثبوت قبول نہیں ہوتی، لیکن قانونِ شہادت کے آرٹیکل 21 کے تحت جنسی ہراسانی کا شکار ہونے کے فوراً بعد متاثرہ فرد کا کسی کو واقعے کی شکایت کرنا ایک relevant fact ہے۔ لہٰذا بچے کا وقوعے کے فوراً بعد اپنے والد اور گواہوں کو واقعے کے بارے میں بتانا قانوناً درست شہادت ہے۔ مدعی اور گواہان کا ملزم سے کوئی سابقہ عناد ثابت نہیں ہوا۔

آخر میں عدالت نے لکھا کہ انسداد ریپ ایکٹ کی دفعہ 26 کے تحت متاثرہ بچے کی شناخت ظاہر کرنا منع ہے۔ لیکن اس کیس میں ٹرائل جج نے فیصلے میں بار بار بچے کا پورا نام لکھا جو افسوسناک ہے۔ جج حضرات آئندہ فیصلے لکھتے وقت احتیاط کریں اور متاثرہ فرد کا پورا نام لکھنے کے بجائے مخفف کا استعمال کریں۔ جنسی ہراسانی کے مقدمات کی سماعت بند کمرے میں (In-camera) ہونی چاہیے۔

عدالت نے ملزم امداد اللہ کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ جنسی درندگی کا کسی مخصوص ادارے یا طبقے سے تعلق نہیں ہوتا۔ یہ بھیڑیا صفت لوگ سکول، کالج، یونیورسٹی اور مدرسہ کہیں بھی چھپے ہو سکتے ہیں۔ بچے کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

تمام ایسے (وکلاء) لائسینس ہولڈرز جو لائیسنس حاصل کر کے employment, business or any other vocationمیں ملوث ہیں وہ ایک ماہ...
20/04/2026

تمام ایسے (وکلاء) لائسینس ہولڈرز جو لائیسنس حاصل کر کے
employment, business or any other vocation
میں ملوث ہیں وہ ایک ماہ کے اندر اپنا لائیسنس سرنڈر کر دیں۔ پنجاب بار کونسل نے 15.05.2026 تک مہلت دے دی۔
http://www.facebook.com/Lawyer.pk
تجزیہ وتشریح:
employment, business or any other vocation
مثلاً 👇🏻
جو سکول مالک ہیں اور امور سکول خود باقاعدہ چلاتے ہیں مگر وکالت کا لائیسنس لے رکھا ہے۔، جو ازخود میڈیکل سٹور چلاتے ہیں مگر وکالت کا لائیسنس رکھتے ہیں۔ جو فیکڑی یا کسی بھی انڈسٹری کے ڈائریکڑ ، ورکر یا کوئی بھی عہدہ بھی رکھتے ہیں عملی معاملات سرانجام بھی دیتے ہیں اور وکالت کا لائسنس بھی حاصل کئے ہوئے ہیں۔ چاہے بینکر ہیں، اکاونٹنٹ ہیں، شاپ یا سٹور کے مالک کی حیثیت سے خود سروسز دیتےہیں، مگر وکالت کا لائیسنس بھی حاصل کر رکھا ہے۔ الیکڑانک و پرنٹ میڈیا سے فائدہ اٹھانے والے لائیسنس ہولڈر وکلاء بھی شامل ہیں۔ بیوٹی پارلر اور سیلون چلانے والوں کو بھی استشناء نہی۔۔۔۔
نجی ملازمت نیم یا سرکاری یا بیوروکریسی یا اسٹیبلشمنٹ اداروں میں کام کرتے ہیں جو کہ انکی وکلات کے لائیسنس کے برعکس ہے۔ ریڈر یا عدالتی یا محمکہ جات کے اہلکار بھی ہیں تنخواہیں بھی لیتے ہیں اور لائیسنس حاصل کرکے وکیل بھی کھلوانےہیں، یا ویزہ جات کا کام کرتے ہیں، ایجنٹ ہیں مگر ایڈوائزی کے سوا عملی خود کاروبار میں ملوث ہیں۔ لیگل ایڈوائزری کے سوا دیگر ذرائع آمدن کی اجازت نہی۔ڈاکٹر ہیں، انجینئر ہیں یا ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرتے ہیں، پراپرٹی یا گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں، ڈیلر ہیں، بروکر ہیں یا بزنس ٹائیکون ہیں اور وکالت کے لائیسنس اور لیگل ایڈوائزری کے سوا کوئی دیگر کاروبار نوکری یا پیشہ اپنائے ہوئے ہیں، تو یہ سب employment, business or any other vocation کر زد میں آتا ہے۔
حتیٰ کہ بطور کاروبار زمیندارہ کرتے ہیں اور اجناس کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ ہوٹل یا ریسٹورنٹ کا کاروبار کرتے ہیں، موبائیل انڈسٹری یا شوبز یا دیگر کمائی کے ڈائریکٹ سورسز سے منسلک ہیں جو سپمی عملی پرفارمنس کے نتیجہ آپکو کمائی دے رہی اور لیگل ایڈوائزی کے سوا آپ کو انکم آ رہی ہو۔ آپ لائیسنس لیکر بیرون ملک جا کر نوکریاں کر رہے ہیں یا کاروبار چلا رہے ہیں اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے نہی بلکہ کمائی کے لئے گئے ہوئے ہیں
الغرض وکالت کے علاوہ کوئی بھی نجی ذریعہ آمدن جو آپکی ایکٹیو سروسز چاہے بزنس کے طور پہ، پیشہ کے طور پہ یا ملازمت کے طور پہ آپکو وکالت کے علاوہ آپکو اپنی ایکٹیو حثیت سےحاصل ہو رہی ہیں۔ تو آپ employment, business or any other vocation کی زد میں لازمی آتے ہیں۔ تو آپکے لئے پنجاب بار کونسل کی طرف سے مہلت ہے۔
مشورہ: 👇🏻
آپ اگر مذکور بالا employment, business or any other vocation کی تعریف اور اپنے دیگر کاروبار و پیشہ کے متلعق رائے لینا چاہتےتو پنجاب بار کوںسل سے مزید معلومات حاصل کر لیں کہ آپ جس کام سے جڑے ہوئے یا وہ سائیڈ بزنس کر رہے وہ قوائد و قانون
employment, business or any other vocation کی تعریف میں تو نہی۔
چونکہ کمپیوٹر کا دور ہےاورآپ ٹیکس دہندہ ہو نگے توآجکل شناختی کارڈ نمبر باآسانی آپکی وکالت کے سوا دیگر ذرائع آمدنی اور پیشہ،کاروبار یا ملازمت کو واضع کر دے گا۔ تو آپ پنجاب بار کونسل کے لیٹر مذکور کو خود مطالعہ کر لیں اور اپنے نجی کام کی تفصیل و اجازت کی بابت پہلے اچھی طرح قانونی آگاہی کر لیں ورنہ قانون کا شکنجہ
employment, business or any other vocation سرگرمیوں کی وجہ سے آپ تک پہنچ جائے گا۔
نوٹ:
مزکور بالا تجزیہ ہے اور تشریحا" تحریر ہے وگرنہ پنجاب بار کونسل کا لیٹر آپ خود مطالعہ کر کے اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ 👇🏻

Punjab Bar Council
http://www.facebook.com/Lawyer.pk
Dated: 16-04-2016
ORDER:
1. The Punjab Bar Council, being the regulatory and supervisory body of the legal profession in the province, is committed to uphold the highest standards of integrity and professional conduct. It has been observed that certain individuals, by concealing their employment or business engagements, have obtained or retaining licences to practice law.
2. It is hereby clarified that such persons are not eligible to hold a licence. Their conduct constitutes professional misconduct and entails strict legal consequences. All such individuals are granted a final opportunity to voluntarily surrender their licences within 30 days, i.e., by 15.05.2026.
3. Failure to comply within the stipulated period shall result in strict legal action under the law, including cancellation of licences and registration of criminal cases.
http://www.facebook.com/Lawyer.pk
4. Reference is made to Chapter V of the Punjab Legal Practitioners & Bar Council Rules, 2023, particularly Rules 5.1(6), 5.3(k), 5.3(0), 5.3(q)(3), 5.38, and 5.39, which clearly prohibit enrolment, continuation of practice and retaining the license by persons engaged in employment, business, or any other vocation, and provide for cancellation and prosecution in case of concealment. However, advocates who joined the service in Pakistan as an advocate on the basis of their licences, length of experience and their services are connected with law, need not to suspend their practicing licence.
5. This notice shall be treated as final, and strict compliance is expected in the interest of maintaining the dignity and integrity of the legal profession.
Dated: 16-04-2026,
( KHAWAJA QAISER BUTT)
Vice Chairman, Punjab Bar Council, Lahore.
( FAKHAR HAYAT AWAN)
Chairman Executive, Punjab Bar Council,
Advocates Of Pakistan

20/04/2026

مورخہ 16.04.2026 کے پنجاب بار کونسل کے نوٹس کا تفصیلی قانونی و آئینی تجزیہ:-

پنجاب بار کونسل کی جانب سے جاری کردہ نوٹس، جس کے ذریعے ایسے وکلاء کو جو کسی بھی قسم کی ملازمت، کاروبار یا دیگر پیشے سے وابستہ ہیں، وکالت کا لائسنس رکھنے کے لیے نااہل قرار دیا گیا ہے اور ان کے خلاف لائسنس کی منسوخی اور فوجداری کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے، نہایت احترام کے ساتھ عرض ہے کہ یہ نوٹس قانونی، آئینی اور دائرہ اختیار کے اعتبار سے سنگین نقائص کا حامل ہے۔ ذیل میں اس کی تفصیل پیش کی جاتی ہے:



I. بنیادی قانون (Parent Statute) سے تجاوز — (Ultra Vires)

وکلاء کے پیشے کو منظم کرنے والا بنیادی قانون یعنی
Legal Practitioners and Bar Councils Act, 1973
کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ:
• اس قانون میں:
• انرولمنٹ کا طریقہ کار
• پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق
• تادیبی کارروائیاں

بیان کی گئی ہیں؛

مگر:
• اس میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ:
• کوئی وکیل اگر کاروبار یا دیگر جائز ذریعہ آمدن رکھتا ہو تو وہ لائسنس رکھنے کا اہل نہیں رہے گا۔

لہٰذا:

پنجاب بار کونسل کا یہ اقدام کہ وہ ایک نئی اہلیت کی شرط (disqualification) متعارف کروائے، جو بنیادی قانون میں موجود ہی نہیں، واضح طور پر:

👉 اختیارات سے تجاوز (Ultra Vires) ہے۔

یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ:

ماتحت ادارہ (Subordinate Authority) بنیادی قانون سے باہر جا کر کوئی نئی پابندی یا نااہلی پیدا نہیں کر سکتا۔



II. رولز 2023 کی غلط تشریح اور غیر ضروری توسیع

نوٹس میں پنجاب لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل رولز 2023 کے باب پنجم (Chapter V) کا حوالہ دیا گیا ہے، بالخصوص:
• Rule 5.1(6)
• Rule 5.3
• Rule 5.38
• Rule 5.39

تاہم ان رولز کا درست مفہوم یہ ہے کہ:
• یہ قواعد پیشہ ورانہ بددیانتی (misconduct) اور
• مفادات کے ٹکراؤ (conflict of interest) سے متعلق ہیں؛

یہ قواعد ہر قسم کی ملازمت یا کاروبار پر مکمل پابندی عائد نہیں کرتے۔

درست قانونی پوزیشن یہ ہے کہ:
• صرف وہ سرگرمی ممنوع ہو سکتی ہے:
• جو وکیل کی آزادی کو متاثر کرے
• یا مفادات کے ٹکراؤ کا باعث بنے

جبکہ:
• ہر قسم کا کاروبار یا سرمایہ کاری بذات خود ممنوع نہیں ہے۔

لہٰذا:

👉 نوٹس نے ایک مشروط پابندی کو مکمل پابندی میں تبدیل کر دیا ہے، جو کہ قواعد کی واضح غلط تشریح ہے۔



III. آئین کے آرٹیکل 18 کی خلاف ورزی

آئین پاکستان کا آرٹیکل 18 ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ:

وہ کسی بھی جائز پیشے، کاروبار یا تجارت کو اختیار کر سکے۔

اگرچہ ریاست مناسب پابندیاں عائد کر سکتی ہے، مگر وہ پابندیاں:
• معقول (Reasonable)
• غیر امتیازی (Non-Arbitrary)
• متناسب (Proportionate)

ہونی چاہئیں۔

موجودہ نوٹس:
• مکمل (Blanket) پابندی عائد کرتا ہے؛
• کسی قسم کی درجہ بندی یا فرق نہیں کرتا؛
• مقصد اور پابندی کے درمیان کوئی مناسب تعلق (nexus) قائم نہیں کرتا۔

لہٰذا:

👉 یہ پابندی آئینی معیار پر پورا نہیں اترتی اور آرٹیکل 18 کی صریح خلاف ورزی ہے۔



IV. آرٹیکل 10-A کے تحت حقِ منصفانہ سماعت کی خلاف ورزی

نوٹس میں:
• وکلاء کو نااہل قرار دیا گیا؛
• 30 دن میں لائسنس سرنڈر کرنے کا حکم دیا گیا؛
• اور فوجداری کارروائی کی دھمکی دی گئی؛

مگر:
• نہ کوئی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا؛
• نہ کوئی ذاتی سماعت دی گئی؛
• نہ کوئی انکوائری یا ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا۔

یہ طرزِ عمل:

👉 آئین کے آرٹیکل 10-A (حقِ منصفانہ ٹرائل) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

کیونکہ:

پیشہ ورانہ بددیانتی کا تعین ہمیشہ:
• انفرادی بنیاد پر
• باقاعدہ کارروائی کے ذریعے

کیا جاتا ہے، نہ کہ اجتماعی حکم کے ذریعے۔



V. امتیازی اور من مانی اطلاق (Article 25 کی خلاف ورزی)

اگرچہ نوٹس عمومی انداز میں جاری کیا گیا ہے، مگر عملی طور پر:
• اس کا اطلاق اکثر کمزور اور جونیئر وکلاء پر ہوتا ہے؛
• جبکہ بااثر افراد اور بڑے چیمبرز اس سے مستثنیٰ رہتے ہیں۔

یہ صورتحال:

👉 قانون کے سامنے برابری (Article 25) کے اصول کے خلاف ہے۔

اور بار کونسل کے نظام میں:
• عدم توازن
• اور ادارہ جاتی ناانصافی

کو ظاہر کرتی ہے۔



VI. زمینی حقائق سے لاعلمی (Economic Realities Ignored)

پاکستان میں وکالت کے پیشے کی حقیقت یہ ہے کہ:
• نئے وکلاء کو کئی سال تک معقول آمدن نہیں ملتی؛
• کوئی مؤثر:
• وظیفہ نظام
• ٹریننگ سپورٹ
• یا ویلفیئر سسٹم موجود نہیں

ایسی صورتحال میں:
• اضافی ذریعہ آمدن رکھنا ایک ضرورت ہے، نہ کہ خلافِ قانون عمل۔

یہ نوٹس:

👉 وکلاء کی معاشی مشکلات میں اضافہ کرے گا
👉 نوجوانوں کو اس پیشے سے دور کرے گا

اور:

👉 پیشے کو صرف مراعات یافتہ طبقے تک محدود کر دے گا۔



VII. اندرونی تضاد (Internal Contradiction)

نوٹس میں خود یہ استثناء دیا گیا ہے کہ:

وہ وکلاء جو قانونی نوعیت کی ملازمت میں ہیں، انہیں لائسنس معطل کرنے کی ضرورت نہیں۔

یہ استثناء:
• نوٹس کے بنیادی مؤقف کو کمزور کرتا ہے؛
• واضح کرتا ہے کہ ہر ملازمت ممنوع نہیں ہے؛
• اور ابہام پیدا کرتا ہے کہ:
• کون سی ملازمت جائز ہے؟
• کون اس کا فیصلہ کرے گا؟

لہٰذا:

👉 نوٹس خود اپنے اندر تضاد کا شکار ہے۔



VIII. فوجداری کارروائی کی دھمکی — بغیر قانونی بنیاد

نوٹس میں فوجداری مقدمات درج کرنے کی بات کی گئی ہے، مگر:
• کوئی مخصوص قانون یا دفعہ بیان نہیں کی گئی؛
• نہ ہی یہ بتایا گیا کہ یہ عمل کس جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

قانونی اصول یہ ہے کہ:

کوئی بھی عمل تب تک جرم نہیں ہوتا جب تک قانون اسے واضح طور پر جرم قرار نہ دے۔

لہٰذا:

👉 یہ دھمکی غیر قانونی، غیر ضروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔



IX. اصولِ تناسب (Doctrine of Proportionality) کی خلاف ورزی

اگر بار کونسل کا مقصد پیشے کی ساکھ برقرار رکھنا ہے، تو:
• اس کے لیے کم سخت اقدامات بھی اختیار کیے جا سکتے تھے، جیسے:
• ڈکلیئریشن (Declaration)
• مفادات کے ٹکراؤ کی جانچ
• مشروط اجازت

مگر یہاں:
• براہ راست لائسنس منسوخی
• اور فوجداری کارروائی

جیسے سخت اقدامات اختیار کیے گئے ہیں۔

لہٰذا:

👉 یہ اقدام غیر متناسب (Disproportionate) ہے۔

اسی لئے مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر یہ نوٹس:
بنیادی قانون سے متصادم ہے اور قواعد کی غلط تشریح پر مبنی ہے
• آئین کے آرٹیکل 18، 10-A اور 25 کی خلاف ورزی
• اور مکمل طور پر من مانی و غیر قانونی ہے

18/04/2026

� “نکاح نامہ میں درج مہر کو ہلکا نہ لیں! عدالت کا بڑا فیصلہ
اس آئینی درخواست کے ذریعے درخواست گزار نے فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ جج وہاڑی کے مورخہ 12.10.2024 اور 18.12.2024 کے فیصلوں کو چیلنج کیا ہے، جن کے ذریعے مدعا علیہ نمبر 3 (بیوی) کا حق مہر کی وصولی کا دعویٰ منظور کیا گیا۔

فریقین کی شادی 18.04.2011 کو ہوئی۔ نکاح کے وقت مہر 5000 روپے نقد، 5 تولہ چاندی اور 10 تولہ سونا مقرر ہوا۔ بیوی کا مؤقف تھا کہ مہر ادا نہیں ہوا، اس لیے وہ اس کی حقدار ہے۔ شوہر نے کہا کہ صرف 5000 روپے طے ہوئے اور ادا بھی کر دیے گئے، باقی اندراجات جعلی ہیں۔

ٹرائل کورٹ نے ثبوت سن کر دعویٰ منظور کیا، اپیل میں بھی فیصلہ برقرار رہا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نچلی عدالتوں نے شواہد کو غلط پڑھا اور 10 تولہ سونا دینے کا حکم قانون کے خلاف ہے کیونکہ اس کی قیمت 5 لاکھ روپے درج تھی۔

دوسری طرف بیوی کے وکیل نے کہا کہ نکاح نامہ ایک عوامی دستاویز ہے، جسے درست مانا جاتا ہے، اور شوہر اس کو غلط ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

عدالت نے قرار دیا کہ:
• نکاح نامہ درست ہے اور شوہر نے اس پر دستخط تسلیم کیے۔
• شوہر نے اس کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔
• مہر کی تمام اشیاء (نقد، چاندی، سونا) الگ الگ اور جمعی حیثیت رکھتی ہیں۔

خصوصاً 10 تولہ سونے کے بارے میں عدالت نے کہا کہ:
• اصل چیز سونا ہے، قیمت صرف اندازہ (indicative) ہے۔
• یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صرف رقم ادا کرنی ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ:
• اگر سونا نہ دیا جائے تو اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو وصول کی جا سکتی ہے۔
• نچلی عدالتوں کے فیصلے درست ہیں اور ان میں مداخلت کی ضرورت نہیں۔

لہٰذا درخواست خارج کر دی گئی۔



🔹 خلاصہ (Precise Summary)

یہ کیس حق مہر کی وصولی سے متعلق تھا، جس میں:
• نکاح نامہ کے مطابق مہر = 5000 روپے + 5 تولہ چاندی + 10 تولہ سونا
• شوہر نے سونے اور چاندی کو جعلی قرار دیا
• عدالت نے کہا:
• نکاح نامہ ایک مستند دستاویز ہے
• شوہر اس کو غلط ثابت نہیں کر سکا
• مہر ایک مخلوط (composite) حق ہے (یعنی تمام اجزاء الگ الگ واجب الادا ہیں)

🔸 اہم نکتہ:
• 10 تولہ سونا ایک مستقل حق ہے
• 5 لاکھ روپے صرف اس کی اندازاً قیمت ہے، متبادل نہیں
• اگر سونا نہ دیا جائے تو اس کی مارکیٹ ویلیو (ex*****on کے وقت) ادا ہوگی

🔸 نتیجہ:
• نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار
• آئینی درخواست مسترد

13/04/2026

ماں کی دوسری شادی خود بخود اسے بچیوں کی حضانت (Custody) سے محروم نہیں کرتی۔ اگرچہ اسلامی قانون میں ماں کی دوسری شادی (کسی اجنبی سے) کو ایک اہم نکتہ مانا جاتا ہے، لیکن پاکستانی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے جدید فیصلوں میں "بچے کی فلاح و بہبود" (Welfare of the Minor) کو سب سے مقدم قرار دیا ہے۔
بچیوں کی کسٹڈی اور ماں کی دوسری شادی کے حوالے سے اہم ججمنٹس اور قانونی اصول درج ذیل ہیں:
1. سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: PLD 2018 Supreme Court 341
یہ اس موضوع پر سب سے اہم ججمنٹ ہے، جس میں عدالت نے قرار دیا:
• ماں کی دوسری شادی اسے بچیوں کی کسٹڈی کے لیے نااہل نہیں بناتی۔
• عدالت کو یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا سوتیلا باپ (Step-father) بچیوں کے لیے شفیق ہے؟
• اگر بچیاں ماں کے پاس خوش ہیں، تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور وہاں کا ماحول باپ کے گھر سے بہتر ہے، تو کسٹڈی ماں کے پاس ہی رہے گی۔
2. سپریم کورٹ: 2004 SCMR 1839
اس فیصلے میں عدالت نے "حقِ حضانت" (Hizanat) کے روایتی اصولوں پر "بچے کی فلاح" کو ترجیح دی:
• اگر باپ یہ ثابت نہ کر سکے کہ ماں کی دوسری شادی سے بچیوں کی زندگی، صحت یا اخلاق پر برا اثر پڑ رہا ہے، تو محض شادی کی بنیاد پر بچیاں ماں سے نہیں چھینی جا سکتیں۔
• بچیوں کے معاملے میں ماں کی گود کو سب سے محفوظ جگہ قرار دیا گیا، بشرطیکہ کوئی سنگین خطرہ نہ ہو۔
3. لاہور ہائی کورٹ: 2013 MLD 1339
اس ججمنٹ میں بچیوں کی کسٹڈی کے حوالے سے اہم نکات بیان کیے گئے:
• بچیاں جب بلوغت کے قریب ہوں، تو انہیں ماں کی رہنمائی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
• اگر باپ نے بھی دوسری شادی کر لی ہو، تو عدالت عام طور پر سوتیلی ماں کے مقابلے میں سگی ماں (چاہے اس نے دوسری شادی کی ہو) کو ترجیح دیتی ہے۔
اہم قانونی نکات (Key Points for Court):
عدالت بچیوں کا فیصلہ کرتے وقت ان پہلوؤں کو دیکھتی ہے:
1. بچیوں کی عمر اور مرضی: اگر بچیاں سمجھدار ہیں اور وہ ماں کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں، تو عدالت ان کی خواہش کا احترام کرتی ہے۔
2. سوتیلے باپ کا کردار: کیا سوتیلا باپ بچیوں کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتا ہے؟ کیا گھر کا ماحول پر امن ہے؟
3. باپ کی دوسری شادی: اگر باپ نے بھی دوسری شادی کر لی ہے، تو عدالت یہ دیکھتی ہے کہ سوتیلی ماں بچیوں کا خیال رکھ سکے گی یا نہیں؟ اکثر اوقات عدالت سگی ماں کو بہتر قرار دیتی ہے۔
4. تعلیم اور پرورش: بچیاں کہاں بہتر اسکول جا رہی ہیں اور ان کی سماجی زندگی کہاں بہتر ہے؟
خلاصہ:
اگر آپ عدالت میں یہ کیس لڑ رہے ہیں، تو آپ کو PLD 2018 SC 341 کا حوالہ لازمی دینا چاہیے۔ یہ فیصلہ ماں کے حق میں ایک مضبوط ڈھال ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون کا مقصد ماں کو سزا دینا نہیں (دوسری شادی پر) بلکہ بچے کا مستقبل محفوظ کرنا ہے۔
کیا آپ کو اس حوالے سے کسی مخصوص ججمنٹ کی مزید تفصیل یا کسی وکیل کے لیے قانونی بحث (Arguments) تیار کرنے میں مدد چاہیے؟

Address

Lahore

Telephone

+923234292723

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Women Legal Work posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Women Legal Work:

Share

Category