27/04/2026
لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ: کیا شوہر کو 12 سال کا پرانا خرچہ دینا پڑے گا؟
12 سال کا پرانا خرچہ! لاہور ہائی کورٹ نے قانونِ میعاد (Limitation) کا دفاع مسترد کر کے شوہروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی! (W.P. No. 14119/2026)
عدالت کا حتمی فیصلہ اور قانونی تشریح
لاہور ہائی کورٹ نے اس سنگ میل فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نان و نفقہ (خرچہ) کے دعوے میں چھ سال کی میعاد (Limitation) کا اصول ہر صورت میں لاگو نہیں ہوتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر ایک شوہر خود عدالت میں "اعادہ حقوقِ زناشوئی" (بیوی کو بسانے) کا دعویٰ دائر کرتا ہے، تو وہ بالواسطہ طور پر یہ تسلیم کر رہا ہوتا ہے کہ نکاح قائم ہے اور بیوی اس کے ساتھ نہیں رہ رہی۔ ایسی صورت میں شوہر یہ نہیں کہہ سکتا کہ بیوی کا خرچہ وقت گزرنے کی وجہ سے ختم ہو گیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ قانون کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ایک طرف بیوی کو بسانا چاہے اور دوسری طرف اسے گذشتہ برسوں کا خرچہ دینے سے انکار کرے۔ اس فیصلے کے تحت، اگر شوہر کی اپنی تحریر یا رویے سے یہ ثابت ہو جائے کہ بیوی نان و نفقہ سے محروم رہی ہے، تو عدالت چھ سال کی حد سے تجاوز کرتے ہوئے 12 سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے کا سابقہ خرچہ دلوانے کا اختیار رکھتی ہے۔ یہ فیصلہ شوہر کے اس دفاع کو ختم کر دیتا ہے کہ خرچہ صرف حالیہ چند سالوں کا ہی دیا جا سکتا ہے۔
کیس کا پس منظر اور فریقین کا تنازع
اس کیس کے حقائق کچھ یوں ہیں کہ محمد انور (درخواست گزار) کا نکاح 2003 میں ہوا تھا۔ تقریباً 21 سال بعد، ستمبر 2024 میں بیوی نے تنسیخِ نکاح اور خرچے کا دعویٰ دائر کیا، جس میں جنوری 2012 سے خرچہ طلب کیا گیا۔ فیملی کورٹ نے بیوی کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے 12 سال کا سابقہ خرچہ (جنوری 2012 سے) ادا کرنے کا حکم دیا۔ شوہر نے اس فیصلے کو اپیلٹ کورٹ میں چیلنج کیا لیکن وہاں سے بھی اسے ناکامی ہوئی۔ آخر کار شوہر نے لاہور ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ شوہر کا بنیادی موقف یہ تھا کہ "قانونِ میعاد 1908" کے تحت خرچہ صرف پچھلے چھ سال کا دیا جا سکتا ہے، اس سے پرانا مطالبہ قانونی طور پر ختم ہو چکا ہے۔ تاہم، کیس کی خاص بات یہ تھی کہ دورانِ مقدمہ شوہر نے خود بیوی کو بسانے کا دعویٰ کیا ہوا تھا، جس میں اس نے مانا تھا کہ بیوی 2012 سے الگ رہ رہی ہے۔ اسی اعتراف نے شوہر کے خلاف "اسٹاپل" (Estoppel) کا کام کیا اور عدالت نے اس کی میعاد والی دلیل کو مسترد کرتے ہوئے 12 سال کا خرچہ برقرار رکھا۔
اہم قانونی نکات (آسان زبان میں)
اعتراف کی طاقت: اگر شوہر تحریری طور پر مانے کہ بیوی الگ رہی ہے، تو وہ خرچے سے جان نہیں چھڑا سکتا۔
میعاد کی حد (Limitation): آرٹیکل 120 کے تحت 6 سال کی حد اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب شوہر خود نکاح کی موجودگی اور علیحدگی تسلیم کر لے۔
تضاد کی ممانعت: قانون ایک وقت میں دو مختلف باتیں (بیوی چاہیے مگر خرچہ نہیں دینا) کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
عدالتی اختیار: فیملی عدالتیں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے 6 سال سے زیادہ کا خرچہ بھی دلوا سکتی ہیں۔
اعادہ حقوقِ زناشوئی کا اثر: شوہر کا اپنی بیوی کو واپس بلانے کا دعویٰ اس کے خلاف سب سے بڑا ثبوت بن سکتا ہے۔
یہ فیصلہ عام لوگوں، خاص طور پر خواتین کے لیے ایک بڑی قانونی ڈھال ہے۔ اب شوہر صرف وقت گزرنے کا بہانہ بنا کر اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بھاگ سکیں گے۔ اگر کوئی عورت سالوں سے اپنے والدین کے گھر بیٹھی ہے اور شوہر اسے نہیں بسا رہا، تو وہ اس فیصلے کی روشنی میں اپنی زندگی کے قیمتی سالوں کا پورا خرچہ وصول کر سکتی ہے۔ یہ فیصلہ شوہروں کو مجبور کرے گا کہ وہ یا تو بیوی کو عزت کے ساتھ بسائیں یا بروقت اس کے حقوق ادا کریں، ورنہ سالوں بعد ایک خطیر رقم (Arrears) کی صورت میں انہیں بھاری مالی بوجھ اٹھانا پڑے گا۔
متعلقہ قانونی حوالہ جات
حق میں حوالہ: Muhammad Aslam Chattha v. Shehnaz Akhtar (2025 SCP 426) - اس حالیہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے میعاد اور خرچے کے حوالے سے اصول وضع کیے ہیں۔
مخالفانہ بحث کا حوالہ: Muhammad Nawaz Vs. Mst. Khurshid Begum (PLD 1972 S.C 302) - اس پرانے فیصلے میں میعاد کی حد پر بحث کی گئی تھی، جسے موجودہ کیس میں حقائق کی بنیاد پر الگ قرار دیا گیا۔