20/02/2026
پاکستان ،افغانستان تعلقات
"تاریخ، تلخ حقائق اور مستقبل کے تقاضے"
از بختیار علی سیال ایڈووکیٹ سپریم
افغانستان ایک قدیم تہذیبی مرکز، کثیرالقومی اور کثیرالسانی ریاست ہے۔جس کی جدید سیاسی شناخت بطور افغان ریاست1747ء میں احمد شاہ درانی کی سلطنت کے قیام سے ابھر کر سامنے آئی۔احمد شاہ درانی کی وفات کے بعد افغانستان داخلی خلفشار، انارکی، قبائلی لڑائیوں اور اقتدار کی کشمکش کا شکار رہا۔جس کے باعث مضبوط ریاستی ڈھانچے کی تشکیل کا عمل بارہا تعطل کا شکار ہوا ۔ اس پورے خطے کا تاریخی تناظر بھی قابل غور ہے کہ مختلف ادوار میں افغانستان کا بڑا حصہ برصغیر کے حکمرانوں کے زیر نگین رہا۔افغانستان میں پائے جانے والے بدھ مت کے آثار اور گندھارا تہذیب کے مقامات برصغیر کے حکمرانوں کی طویل سیاسی و ثقافتی بالادستی کا ثبوت ہیں۔
برصغیر خصوصاً پنجاب میں آباد بہت سے پنجابی خاندان اُن قدیم نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں جو یا تو افغان خطے سے بطور حملہ آور آئے یا تجارت، روزگار، سکونت اور تحفظ کی غرض سے یہاں مقیم ہوئے اور پھر اسی سرزمین کے باشندے کہلائے۔ اسی تاریخی آمد و رفت نے دونوں خطوں کو سماجی و خاندانی رشتوں میں جوڑے رکھا۔آج بھی پاک افغان سرحد کے دونوں اطراف لاکھوں لوگ ایک ہی نسل، زبان اور قبیلائی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔
تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ماضی میں جب بھی افغانستان میں سیاسی تبدیلیاں آتیں اور حکمران گھرانے معزول ہوتے تو اکثر انہیں پناہ پنجاب اور ہندوستان کے دیگر علاقوں میں ملتی۔یہاں کی مقامی یاانگریز حکومت انھیں وظائف بھی دیتی،جیسا کہ بعض افغان بادشاہوں کی جلاوطنی کے دور میں ہوا۔اس کے علاوہ بعض افغان حکمرانوں کو بھی انگریزوں کی طرف سے وفاداری اور تابعداری کا صلہ نقد رقوم کی صورت میں ملتا رہا۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ماضی میں افغانستان اور دیگر شمال مغربی علاقوں کی خوشحالی اور ترقی کے ڈانڈے اس دولت سے ملتے ہیں جو بر صغیر سے لوٹ کر لے جائی گئی۔افغانستان کے باشندوں کی کثیر تعداد کی معاش کا سلسلہ پاکستان اور ماضی میں غیر منقسم برصغیر سے جڑا تھا اور یہ صورتحال آج بھی کسی نہ کسی صورت میں برقرار ہے۔اس کے برعکس برصغیر سے افغانستان جانے والوں کے تجربات اکثر تلخ اور غیر دوستانہ رہے۔جو افغان سیاسی و قبائلی نظام کی سخت نوعیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
بد قسمتی سے پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی افغانستان نے ایک ایسے طرز عمل کا آغاز کیا جسے برادران یوسف کا رویہ کہنا بے جا نہیں ہو گا۔(دونوں کا مسلم ممالک ہونے کی وجہ سے یہ فقرہ تحریر کیا گیا ہے ۔)افغانستان واحد ملک تھا جس نے پاکستان کے اقوام متحدہ میں داخلہ کی مخالفت کی اور مسلسل "پشتونستان " کے نام پر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت جاری رکھی۔کابل نے سرد جنگ کے دور میں بھی اکثر پاکستان مخالف بلاکس کی حمایت کی جس کا نتیجہ خطے میں عدم اعتماد اور کشیدگی کی صورت میں نکلا۔اس تمام رویے کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کو برادر ہمسایہ سمجھا اور دوستی اور خیر سگالی کا ہاتھ بڑھایا۔1979ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان نے جس پیمانے پر افغان عوام کی مدد کی وہ تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔اس جنگ کے دوران اور مابعد پاکستان نے چالیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو تقریبا نصف صدی تک پناہ دی۔انہیں تعلیم، صحت، روزگار، نقل و حرکت اور کاروبار کی وہ سہولتیں ملیں جو دنیا کے کسی اور ملک نے نہیں دیں۔
پاکستان نے افغان جہاد میں سیاسی، سفارتی، عسکری اور مالی محاذ پر کلیدی کردار ادا کیا۔ہزاروں پاکستانی باشندوں نے اس جنگ کو جہاد سمجھ کر اپنی جانیں قربان کیں۔جبکہ اس جنگ کے نتیجہ میں پاکستان نے نہ صرف کھربوں روپے کے معاشی نقصانات برداشت کیے اور ہزاروں جانوں کا ضیاع ہوا۔بلکہ دہشت گردی، اسلحے کی بھرمار، منشیات کے پھیلاؤ اور داخلی بدامنی جیسے سنگین نتائج بھی برداشت کیے۔ان تمام قربانیوں کا مقصد صرف یہ تھا کہ افغانستان آزاد، پرامن اور خود مختار رہ سکے۔بدقسمتی سے گزشتہ دو دہائیوں میں یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان پر کیے گئے احسانات، مہربانیوں، خیر سگالی اور قربانیوں کے باوجود افغانستان کی طرف سے اس سطح پر خیر خواہی کا جواب نہیں ملا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں۔پاکستان مخالف عناصر کو افغانستان میں پناہ گاہیں، تربیت اور لاجسٹک سہولتیں میسر ہیں۔پاکستان کے حساس علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی کی اکثر منصوبہ بندی افغان سرزمین پر ہوتی ہے۔موجودہ افغان حکومت بھی ایسے گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے۔ان حالات میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ افغانستان ان گروہوں کی سرپرستی اور پشت پناہی کر رہا ہے۔یہ رویہ نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کے مستقبل کے لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ دہشت گردی کی آگ کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتی۔
پاکستان اور افغانستان کی سرحد تقریبا 2600 کلومیٹر طویل ہے جو جغرافیائی محاذ آرائی نہیں بلکہ باہمی تعاون کی متقاضی ہے۔دونوں ممالک صدیوں سے مذہب، ثقافت، تجارت، زبان اور قبائلی رشتوں کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔دشمنی کی پالیسی نے نہ کبھی افغانستان کو فائدہ دیا اور نہ پاکستان کو، اس کے برعکس اگر دونوں ممالک اعتماد اور برابری کی بنیاد پر باہمی تعلقات مضبوط کریں تو پورا خطہ اس کے ثمرات سمیٹ سکتا ہے۔اس سلسلہ میں مستقبل میں افغانستان کے لیے پاکستان کے ساتھ دوستانہ اور ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنا نہ صرف پاکستان کے مفاد میں ہی نہیں بلکہ خود افغانستان کی سلامتی، معاشی ترقی، علاقائی روابط اور ریاستی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔مندرجہ ذیل نکات دونوں ممالک کے مابین مسائل کے حل کی بنیاد بن سکتے ہیں؛
1۔دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی سرحدوں کااحترام اور ریاستی خود مختاری کی پاسداری کرنا ہو گی۔افغان حکومت کو پاکستان کی سرحد، حدود اور خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ختم کرنی چاہیے۔
2۔پاکستان، افغانستان کا گرم پانیوں تک رسائی کا عملی، آسان اور سستا راستہ ہے۔تجارت کا فروغ افغانستان کی معیشت کو بے حد مضبوط کر سکتا ہے۔
3۔دہشت گردی کےخلاف مشترکہ فورس یا معلومات کے تبادلے کا نظام خطے کے امن کے لیے ضروری ہے۔
4۔عوامی روابط کی بحالی کے لئے تعلیم، صحت، ثقافت اور تجارت کے شعبوں میں عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینے کے اقدامات کرنا جس سے اعتماد سازی میں مدد ملے گی۔
5۔مہاجرین کی باعزت واپسی کے لیے بین الاقوامی برادری کی مدد سے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے۔تاکہ مہاجرین جلداپنے گھروں کو واپس جائیں اور پاکستان غیر ضروری مہمان نوازی اور دیگر معاشرتی و سماجی مسائل سے بچ سکے۔
پاک،افغان تعلقات کا مستقبل دشمنی یا الزام تراشی میں نہیں بلکہ ایک حقیقت پسندانہ اور بالغ نظر پالیسی میں پوشیدہ ہے۔افغانستان اگر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو دوستی، خیر خواہی، پرامن بقائے باہم اور سرحدوں کے احترام کی بنیاد پر استوار کرے تو یہ تبدیلی نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی، تجارت، امن اور استحکام کے نئے دریچے کھول سکتی ہے اور اسی میں افغانستان اور پاکستان دونوں کا محفوظ مستقبل پوشیدہ ہے