09/10/2025
کل رات ایک دوست نے ایک پیٹرول پمپ کے مالک کی ٹیکس ریٹرن کے حوالے سے مجھ سے رابطہ کیا۔
میں نے کہا، ٹھیک ہے، پہلے ان کی پچھلی ریٹرنز دیکھ لیتے ہیں،
پھر فیصلہ کرتے ہیں کہ ان کا گوشوارہ فائل کرنا بھی ہے یا نہیں۔
جب میں نے پچھلے چار سالوں (2021 تا 2024) کی ریٹرنز چیک کیں تو حیران رہ گیا
2021 کی ریٹرن nil فائل تھی،
2022 میں ساڑھے 7 لاکھ روپے کی سیل،
2023 میں 10 لاکھ روپے،
اور 2024 میں بمشکل ساڑھے 7 لاکھ روپے کی سیل ظاہر کی گئی تھی۔
اب آتا ہے اصل نکتہ! جب میں نے 2025 کا PSO سیل سرٹیفکیٹ دیکھا،
تو واضح لکھا تھا کہ ایک سال میں موصوف نے 41 کروڑ روپے کا تیل خریدا ہے،
اور تقریباً 19 لاکھ روپے کی ٹیکس کٹوتی سیکشن 156A کے تحت ہوئی تھی،
جسے وہ FBR سے ریفنڈ لینا چاہتے تھے!
میں نے اپنے دوست کو بتایا کہ یہ ٹیکس Final Discharge of Tax Liability کے تحت آتا ہے،
جس کا ریفنڈ نہیں ملتا۔
دوست نے مزید بتایا کہ یہ صاحب اپنی ٹیکس ریٹرن صرف 1500 روپے میں فائل کرانا چاہتے ہیں۔
میں نے کہا، بہتر ہے کہ گوشوارا اسی “ماہر” سے فائل کروائیں،
جس نے پچھلے سالوں میں ان کے یہ ’’شاہکار‘‘ گوشوارے فائل کیے تھے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے،
اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ ٹیکس گوشوارے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
ان کے نزدیک یہ بس ایک formaltiy ہے تاکہ بینک سے کٹوتی نہ ہو یا وہ late filer کی فہرست میں شامل نہ ہوں۔
جبکہ انہیں اندازہ ہی نہیں کہ غلط گوشوارہ کل کو FBR کے نوٹس، جرمانوں اور شرمندگی میں بدل سکتا ہے۔
دوستو!
گوشوارہ ایسے فائل کرو جیسے آپ اپنا سوٹ کسی ماہر درزی سے بنواتے ہیں
سلیقے سے، درست پیمائش کے ساتھ، اور بہترین کپڑے و کاریگری کے ساتھ۔
ٹیکس ریٹرن صرف ایک فارم نہیں،
آپ کے کاروبار کا آئینہ ہے۔
Copy