28/04/2026
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
ورثاء کو قرض ادا کرنا ہوگا!
(Recovery Case Update)
لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم مقدمہ (RFA No. 63446/2020) میں واضح کر دیا ہے کہ اگر کسی شخص پر قرض واجب الادا ہو، تو اس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء اس قرض کی ادائیگی کے ذمہ دار ہوتے ہیں — مگر صرف ترکے (inheritance) کی حد تک۔
📌 کیس کا خلاصہ (Easy Explanation)
💰 مرحوم فرمان علی نے مدعی طاہر حیات سے 46 لاکھ روپے قرض لیا
📄 اس کے بدلے:
✔ اقرار نامہ (Agreement)
✔ پروناٹ (Pronote)
✔ مختلف چیکس جاری کیے
❌ بعد میں چیکس فنڈز کی کمی کی وجہ سے ڈس آنر ہو گئے
⚖️ ورثاء کا مؤقف کیا تھا؟
✔ ہم نے چیکس پر دستخط نہیں کیے
✔ کچھ ورثاء نابالغ ہیں
✔ اس لیے ہم ذمہ دار نہیں
🏛️ عدالت کا فیصلہ (Key Points)
✔ جب قرض کے دستاویزی ثبوت (چیکس، پروناٹ) ثابت ہو جائیں
👉 تو انکار کرنے کی ذمہ داری مدعا علیہ (ورثاء) پر ہوتی ہے
✔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کا 33 لاکھ روپے ریکوری کا فیصلہ برقرار رکھا
✔ واضح حکم:
👉 ورثاء کو قرض ادا کرنا ہوگا — مگر صرف اتنے حصے تک جتنا ترکہ ملا ہو
📚 اہم قانون
یہ فیصلہ درج ذیل قوانین کے تحت دیا گیا:
✔ Code of Civil Procedure Order 37
✔ Negotiable Instruments Act 1881
💡 اہم قانونی نکتہ (Must Know)
👉 مرنے والے کا قرض ختم نہیں ہوتا
👉 وہ اس کے ترکے کے ساتھ جڑا رہتا ہے
👉 ورثاء انکار کر کے ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے
🚨 سادہ الفاظ میں
“اگر آپ کو وراثت ملی ہے، تو اس کے ساتھ قرض کی ذمہ داری بھی آ سکتی ہے”
Mukhtar Law Firm
0321.9463261