Mukhtar Law Firm

Mukhtar Law Firm Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mukhtar Law Firm, Legal, BM Building, Opposite Family Hospital, 4/Mozang Road, Lahore.

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ  ورثاء کو قرض ادا کرنا ہوگا! (Recovery Case Update)لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم مقدمہ (RFA No...
28/04/2026

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

ورثاء کو قرض ادا کرنا ہوگا!
(Recovery Case Update)

لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم مقدمہ (RFA No. 63446/2020) میں واضح کر دیا ہے کہ اگر کسی شخص پر قرض واجب الادا ہو، تو اس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء اس قرض کی ادائیگی کے ذمہ دار ہوتے ہیں — مگر صرف ترکے (inheritance) کی حد تک۔

📌 کیس کا خلاصہ (Easy Explanation)

💰 مرحوم فرمان علی نے مدعی طاہر حیات سے 46 لاکھ روپے قرض لیا
📄 اس کے بدلے:
✔ اقرار نامہ (Agreement)
✔ پروناٹ (Pronote)
✔ مختلف چیکس جاری کیے

❌ بعد میں چیکس فنڈز کی کمی کی وجہ سے ڈس آنر ہو گئے

⚖️ ورثاء کا مؤقف کیا تھا؟

✔ ہم نے چیکس پر دستخط نہیں کیے
✔ کچھ ورثاء نابالغ ہیں
✔ اس لیے ہم ذمہ دار نہیں

🏛️ عدالت کا فیصلہ (Key Points)

✔ جب قرض کے دستاویزی ثبوت (چیکس، پروناٹ) ثابت ہو جائیں
👉 تو انکار کرنے کی ذمہ داری مدعا علیہ (ورثاء) پر ہوتی ہے

✔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کا 33 لاکھ روپے ریکوری کا فیصلہ برقرار رکھا

✔ واضح حکم:
👉 ورثاء کو قرض ادا کرنا ہوگا — مگر صرف اتنے حصے تک جتنا ترکہ ملا ہو

📚 اہم قانون

یہ فیصلہ درج ذیل قوانین کے تحت دیا گیا:
✔ Code of Civil Procedure Order 37
✔ Negotiable Instruments Act 1881

💡 اہم قانونی نکتہ (Must Know)

👉 مرنے والے کا قرض ختم نہیں ہوتا
👉 وہ اس کے ترکے کے ساتھ جڑا رہتا ہے
👉 ورثاء انکار کر کے ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے

🚨 سادہ الفاظ میں

“اگر آپ کو وراثت ملی ہے، تو اس کے ساتھ قرض کی ذمہ داری بھی آ سکتی ہے”

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

یہ مقدمہ بنیادی طور پر تین اہم نکات کے گرد گھومتا ہے: (i) ہبہ (Gift) کی قانونی حیثیت، (ii) فراڈ (Fraud) کا دعویٰ، اور (i...
28/04/2026

یہ مقدمہ بنیادی طور پر تین اہم نکات کے گرد گھومتا ہے: (i) ہبہ (Gift) کی قانونی حیثیت، (ii) فراڈ (Fraud) کا دعویٰ، اور (iii) قانونِ میعاد (Limitation) کا اطلاق۔ مسلم قانون کے مطابق ایک درست ہبہ کے لیے تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے: ایجاب (یعنی دینے کا اظہار)، قبولیت (یعنی لینے والے کی رضامندی)، اور قبضہ کی منتقلی۔ یہ بھی ایک تسلیم شدہ اصول ہے کہ اگر کسی معاملہ میں خواتین ورثاء کو محروم کیا جا رہا ہو تو عدالت زیادہ احتیاط سے شواہد کا جائزہ لیتی ہے اور مستفید ہونے والے فریق پر ثبوت کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم، یہ جائزہ بھی قانونِ شہادت اور قانونِ میعاد کے اصولوں کے اندر رہ کر ہی کیا جاتا ہے۔

ہبہ (Gift) کے ثبوت کے حوالے سے دیکھا جائے تو فاضل عدالتِ اپیل نے غیر ضروری طور پر بہت سخت (hyper-technical) مؤقف اختیار کیا اور صرف اس بنیاد پر ہبہ کو مشکوک قرار دیا کہ وقت، جگہ اور گواہوں کی تفصیل واضح طور پر بیان نہیں کی گئی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مقدمہ کے مجموعی حالات (circumstances) اور فریقین کے طرزِ عمل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ریکارڈ سے ظاہر ہے کہ انتقالات 1960 میں منظور ہوئے، واهب (دینے والا) نے اپنی زندگی میں کبھی ان کو چیلنج نہیں کیا، متهبان (لینے والے) مسلسل اور کھلے طور پر قابض رہے، اور کئی دہائیوں تک ان انتقالات پر عمل ہوتا رہا۔ اس طرح کا طویل، مسلسل اور بلا رکاوٹ قبضہ بذاتِ خود ایک مضبوط شہادت ہے کہ ہبہ مکمل ہو چکا تھا۔ قانون یہ لازم نہیں کرتا کہ قبضہ کسی خاص طریقے سے دیا جائے، اور نہ ہی اس بنیاد پر ہبہ کو غلط قرار دیتا ہے کہ کچھ ورثاء کو ترجیح دی گئی ہو۔ اس لیے اگرچہ شواہد مکمل نہ بھی ہوں، ان کا مجموعی اثر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ فاضل عدالتِ ابتدائی (Trial Court) نے تمام شواہد کو اکٹھا دیکھ کر جو نتیجہ اخذ کیا، وہ درست اور قانون کے مطابق تھا۔

یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ “رپٹ روزنامچہ” پیش نہیں کیا گیا اور ریونیو افسران کو بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا، جو بظاہر ایک کمزوری ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں یہ حقیقت زیادہ اہم ہے کہ انتقالات 1960 سے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں، ان کی تصدیق ریونیو حکام حتیٰ کہ Board of Revenue تک ہو چکی ہے، اور واهب نے کبھی ان پر اعتراض نہیں کیا۔ قانون کے مطابق سرکاری ریکارڈ کو درست سمجھا جاتا ہے جب تک اس کے خلاف مضبوط ثبوت نہ دیا جائے۔ لہٰذا صرف تکنیکی خامیوں کی بنیاد پر پورے مقدمہ کو رد کرنا درست نہیں۔

فراڈ (دھوکہ دہی) کے دعویٰ کے حوالے سے قانون بالکل واضح ہے کہ اس کو واضح طور پر بیان کرنا (specific pleading) اور مضبوط شواہد سے ثابت کرنا ضروری ہے۔ اس مقدمہ میں مدعا علیہان نہ تو کسی خاص شخص کے خلاف واضح الزام لگا سکے اور نہ ہی کوئی ٹھوس ثبوت پیش کر سکے۔ صرف یہ کہنا کہ فراڈ ہوا ہے، خاص طور پر اتنے طویل عرصہ کے بعد، کافی نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ واهب نے اپنی زندگی میں کبھی اس معاملہ کو چیلنج نہیں کیا، جو اس دعویٰ کو مزید کمزور کرتا ہے۔ اس لیے فاضل عدالتِ ابتدائی نے درست طور پر فراڈ کے دعویٰ کو مسترد کیا، جبکہ عدالتِ اپیل نے اس معاملہ میں غلطی کی۔

قانونِ میعاد (Limitation) اس کیس میں نہایت اہم ہے۔ انتقالات 1960 میں ہوئے اور مدعا علیہان نے خود اس کے خلاف ریونیو حکام کے سامنے کیس کیا، جو 1969 میں Board of Revenue تک جا کر ختم ہو گیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہیں اس معاملہ کا مکمل علم تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک کوئی کارروائی نہیں کی اور بعد میں جا کر دیوانی مقدمات دائر کیے۔ قانون ایسے تاخیر کو قبول نہیں کرتا۔ اس کو قانونی زبان میں laches (بلاجواز تاخیر) اور acquiescence (خاموشی اختیار کر کے حق چھوڑ دینا) کہا جاتا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص اپنے حق کے لیے بروقت کارروائی نہ کرے تو بعد میں وہ اس کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

یہ بھی ایک اہم اصول ہے کہ اگر کوئی معاملہ بظاہر غلط یا غیر قانونی بھی ہو، تب بھی اسے مناسب وقت کے اندر چیلنج کرنا ضروری ہوتا ہے، ورنہ بعد میں عدالت ایسے دعوؤں کو قبول نہیں کرتی۔ اسی طرح وراثتی حقوق بھی اہم ہیں، لیکن انہیں بھی وقت پر استعمال کرنا ضروری ہے، ورنہ پرانے اور ختم شدہ معاملات دوبارہ نہیں کھولے جا سکتے۔

پردہ نشین خواتین کے حوالے سے جو نرمی دی جاتی ہے، وہ اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کیس میں اس کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا کیونکہ مدعا علیہان کو پہلے ہی معاملہ کا علم تھا، وہ پہلے کیس بھی لڑ چکے تھے، اور اس کے باوجود انہوں نے طویل عرصہ تک خاموشی اختیار کی۔

آخر میں، فاضل عدالتِ اپیل نے شواہد کا مکمل اور متوازن جائزہ نہیں لیا بلکہ کچھ اہم حقائق جیسے طویل قبضہ، سابقہ مقدمات، اور سرکاری ریکارڈ کو نظر انداز کر دیا، جس کی وجہ سے اس کا فیصلہ درست نہیں ٹھہرتا۔ اس کے برعکس، فاضل عدالتِ ابتدائی کا فیصلہ قانون اور انصاف کے زیادہ قریب ہے۔

Mukhtar Law Firm
0321.94463261

28/04/2026

وراثت کا دعویٰ 34 سال بعد؟ — لاہور ہائیکورٹ کی اہم وضاحت

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے *2025 PLD 581* میں یہ واضح کر دیا ہے کہ وراثت کے نام پر دہائیوں پرانی رجسٹرڈ دستاویزات کو جب چاہیں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر مورث (والدین/بزرگ) اپنی زندگی میں کسی ٹرانزیکشن (جیسے گفٹ یا فروخت) کو چیلنج نہیں کرتے، تو بعد میں آنے والے وارث محض وراثت کا سہارا لے کر اس تاخیر کو جواز فراہم نہیں کر سکتے—خاص طور پر جب تیسرے فریق کے حقوق پیدا ہو چکے ہوں۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ کوئی نیا قانون نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ قانونی اصولوں جیسے **acquiescence، waiver اور estoppel** کی reaffirmation ہے۔ یہ اصول پہلے بھی PLD 2014 SC 167 میں تفصیل کے ساتھ بیان کیے جا چکے ہیں، جہاں عدالت نے واضح کیا تھا کہ ہر کیس اپنے مخصوص حقائق اور حالات کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے۔

عدالت نے اس کیس میں 34 سال کی تاخیر کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے دعویٰ ناقابلِ سماعت قرار دیا، اور اس بات پر زور دیا کہ قانون ایسے افراد کی مدد نہیں کرتا جو اپنے حقوق کے حوالے سے طویل عرصے تک خاموش رہیں۔ مزید برآں، جہاں جائیداد آگے فروخت ہو کر تیسرے فریق کے حقوق مستحکم ہو جائیں، وہاں پرانے دعوؤں کو کھولنا قانونی استحکام کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

تاہم، عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کچھ استثنائی حالات (مثلاً ثابت شدہ دھوکہ دہی، جائیداد پر مسلسل قبضہ، یا آمدن کا تسلسل) میں قانونِ میعاد مختلف انداز میں لاگو ہو سکتا ہے—لہٰذا ہر کیس کو اس کے اپنے میرٹس پر دیکھنا ضروری ہے۔

**اہم پیغام:**
وراثت ایک حق ضرور ہے، لیکن اس کے حصول کے لیے بروقت قانونی اقدام لازمی ہے۔ طویل خاموشی اکثر حق سے دستبرداری (waiver) یا رضامندی (acquiescence) تصور کی جا سکتی ہے۔

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

“10 دن کی تاخیر… اور پورا کیس ختم! عدالت نے Leave to Defend مسترد کر دی”جسٹس سلطان تنویر احمد::یہ سول ریویژن، جو کہ ضابط...
25/04/2026

“10 دن کی تاخیر… اور پورا کیس ختم! عدالت نے Leave to Defend مسترد کر دی”

جسٹس سلطان تنویر احمد:
:
یہ سول ریویژن، جو کہ ضابطہ دیوانی 1908 کی دفعہ 115 کے تحت دائر کی گئی ہے، مورخہ 28.06.2022 کے حکم کے خلاف ہے، جس کے ذریعے معزز ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کی جانب سے دائر کردہ “Leave to Appear and Defend” کی درخواست اس بنیاد پر خارج کر دی کہ یہ سمن کی وصولی کے بعد مقررہ دس (10) دن کے اندر دائر نہیں کی گئی۔



2. درخواست گزار کے وکیل چوہدری معظم طفیل گجر نے مؤقف اختیار کیا کہ:

* پراسیس سرور کی رپورٹ ناقص ہے،
* اور مزید یہ کہ درخواست گزار کو دعویٰ (plaint) کی نقل فراہم ہی نہیں کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار کو مقدمہ کی معلومات تاریخِ پیشی پر ہوئیں، اور چونکہ دعویٰ کی اضافی نقل منسلک نہیں تھی، اس لیے وہ بروقت درخواست دائر نہ کر سکا۔

مزید یہ کہ 21.03.2022 کو عدالت نے درخواست دائر کرنے کی اجازت دیتے ہوئے اگلی تاریخ 19.04.2022 مقرر کی، جس سے یہ تاثر بنتا ہے کہ درخواست اس تاریخ تک دائر کی جا سکتی تھی، لہٰذا اصول “actus curiae neminem gravabit” (عدالت کا عمل کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا) لاگو ہوتا ہے۔



3. مدعا علیہ نمبر 2 کے وکیل میاں حمید اللہ خان نے مؤقف اختیار کیا کہ:

* سمن 08.03.2022 کو TCS کے ذریعے اور 12.03.2022 کو پراسیس سرور کے ذریعے باقاعدہ طور پر موصول ہوا،
* سروس میں کوئی بے ضابطگی نہیں تھی،
* درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ میں سروس پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا،
* اور اب یہ مؤقف محض تاخیر کے لیے بعد میں اختیار کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ:

* تاخیر معاف کروانے کے لیے Limitation Act کی دفعہ 5 کے تحت کوئی درخواست بھی دائر نہیں کی گئی، جو کہ اس کیس کے لیے مہلک (fatal) ہے۔



4. عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ریکارڈ کا جائزہ لیا۔



5-6. قانونی نکتہ:
Order ###VII کے تحت:

* مدعا علیہ کو دفاع کے لیے عدالت سے اجازت لینا لازمی ہے،
* اور اگر وہ مقررہ مدت میں درخواست نہ دے تو دعویٰ کی تمام باتیں تسلیم شدہ تصور ہوں گی۔

Limitation Act کے آرٹیکل 159 کے مطابق:

* ایسی درخواست 10 دن کے اندر دائر کرنا ضروری ہے،
* اور یہ مدت سمن کی سروس سے شروع ہوتی ہے۔

مزید یہ کہ:

* سمن کے ساتھ دعویٰ کی نقل منسلک ہونا ضروری ہے تاکہ مدعا علیہ کو مکمل علم ہو۔



7. عدالتی نظائر کے مطابق:

* اگر 10 دن میں درخواست دائر نہ ہو تو ہر دن کی تاخیر کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔



8. حقائق کا جائزہ:
ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ:

* سمن 12.03.2022 کو بذریعہ پراسیس سرور وصول ہوا،
* اور 08.03.2022 کو TCS کے ذریعے بھی ڈیلیور ہوا،
* سمن میں واضح لکھا تھا کہ 10 دن میں درخواست دائر کرنی ہے،
* درخواست گزار نے 31.03.2022 کو درخواست دائر کی، جو کہ تاخیر سے تھی۔



9-10. عدالت کا تجزیہ:
21.03.2022 کے حکم میں صرف یہ کہا گیا تھا کہ:

* درخواست “قانون کے مطابق مدت کے اندر” دائر کی جائے،
* اور اگلی تاریخ صرف سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی۔

لہٰذا:

* اس حکم کو مدت میں توسیع سمجھنا غلط ہے،
* اور اصول “actus curiae neminem gravabit” یہاں لاگو نہیں ہوتا۔



11. مزید مشاہدات:
درخواست گزار کے مؤقف میں تضاد پایا گیا:

* پہلے کہا سمن نہیں ملا،
* پھر کہا 21.03.2022 کو علم ہوا،
* مگر یہ نہیں بتایا کہ بغیر سمن کے عدالت میں کیسے حاضر ہوا۔

اسی طرح:

* دعویٰ کی نقل نہ ملنے کا بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا،
* اور نہ ہی عدالت سے اس کی درخواست کی گئی۔



12. اہم قانونی نکتہ:

* درخواست گزار نے تاخیر معاف کروانے کے لیے Limitation Act کی دفعہ 5 کے تحت کوئی درخواست دائر نہیں کی،
* جو کہ لازمی شرط (condition precedent) ہے،
* اور بغیر اس کے عدالت کو تاخیر معاف کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔



13. فیصلہ:
مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر:

* یہ سول ریویژن بلا جواز اور بے بنیاد قرار دے کر خارج کی جاتی ہے،
* اخراجات کے متعلق کوئی حکم نہیں دیا گیا۔

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

In case of ambiguity, executing Courts can look into contents of the order or judgment to ascertain the real nature of t...
25/04/2026

In case of ambiguity, executing Courts can look into contents of the order or judgment to ascertain the real nature of the relief or its extent.
R.A. 35661/23
Umar Farooq Azam Vs Qaisar Rasheed etc
Mr. Justice Sultan Tanvir Ahmad
12-03-2026
2026 LHC 2556

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

(1) Standard of proof in a departmental inquiry and criminal trial is different. (2) Though the Inquiry Officer is not a...
25/04/2026

(1) Standard of proof in a departmental inquiry and criminal trial is different.

(2) Though the Inquiry Officer is not a judicial officer, but the procedure of inquiry should be followed

(3) Inquiry should not be conducted in a perfunctory manner; the stake of the employee is much higher than the employer

(4) If the employee is declared guilty without fair trial, the ultimate sufferer would be the employee.

C.P.L.A.215-L/2024
Syed Baqir Riffat Gardezi v. Secretary to the Government of the Punjab, Lahore & another
Mr. Justice Muhammad Ali Mazhar

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

لاہور ہائیکوررٹ نے حکومت کو ایڈھاک سروس پینشن میں شمار کرنے کا حکم دے دیا۔🔥 لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم اور اصولی فیصلہ د...
24/04/2026

لاہور ہائیکوررٹ نے حکومت کو ایڈھاک سروس پینشن میں شمار کرنے کا حکم دے دیا۔

🔥 لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم اور اصولی فیصلہ دیتے ہوئے سرکاری ملازمین کے حق میں بڑا ریلیف دیا ہے۔

📌 کیس کا خلاصہ:
ڈاکٹر اظہر الحق احمد نے عدالت سے رجوع کیا کیونکہ ان کی ایڈہاک سروس (1985 تا 1990) کو پنشن میں شمار نہیں کیا جا رہا تھا، حالانکہ وہ بغیر کسی وقفے کے بعد میں ریگولر ہو گئے تھے۔

📌 اہم قانونی نکتہ:
عدالت نے واضح کیا کہ:
✔ اگر کوئی ملازم مسلسل سروس کرے
✔ اور بعد میں اس کی سروس ریگولر ہو جائے
تو اس کی ایڈہاک/عارضی سروس بھی پنشن میں شمار ہوگی

📌 عدالت کا فیصلہ:
لاہور ہائی کورٹ نے:
✅ متعلقہ محکموں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے
✅ حکم دیا کہ 1985 سے 1990 تک کی ایڈہاک سروس کو پنشن میں شامل کیا جائے
✅ پنشن اور دیگر مالی فوائد دوبارہ حساب کر کے ادا کیے جائیں

📌 عدالت کی اہم آبزرویشن:
عدالت نے کہا کہ:
👉 ایڈہاک یا کنٹریکٹ سروس دراصل “Temporary Service” ہی کی ایک شکل ہے
👉 جب یہ سروس بغیر وقفے کے ریگولر ہو جائے تو اسے نظر انداز کرنا غیر قانونی ہے
👉 قانون کا مقصد ملازمین کو فائدہ دینا ہے، نہ کہ ان کے حقوق چھیننا

📌 سپریم کورٹ کے فیصلوں کی بھی توثیق:
عدالت نے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ:
✔ ڈیلی ویجز، کنٹریکٹ اور عارضی سروس بھی پنشن میں شامل ہو سکتی ہے
✔ بشرطیکہ سروس مسلسل ہو اور بعد میں ریگولرائز ہو جائے۔

💡 اہم پیغام:
اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کی:
🔹 ایڈہاک / کنٹریکٹ / ڈیلی ویجز سروس
🔹 بعد میں ریگولر ہوئی ہے

تو آپ کو بھی پنشن میں اس سروس کو شامل کروانے کا مکمل قانونی حق حاصل ہے

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

جعلی مچلکے دینے پر اب پولیس پرچہ نہیں کاٹ سکتی! لاہور ہائیکورٹ کا بڑا اور تاریخی فیصلہ (2025 LHC 251)​عدالتِ عالیہ لاہور...
23/04/2026

جعلی مچلکے دینے پر اب پولیس پرچہ نہیں کاٹ سکتی! لاہور ہائیکورٹ کا بڑا اور تاریخی فیصلہ (2025 LHC 251)
​عدالتِ عالیہ لاہور نے ایک انتہائی اہم قانونی نکتے کی وضاحت کر دی ہے کہ اگر کوئی شخص عدالت میں جعلی مچلکے (Bail Bonds) جمع کرواتا ہے تو پولیس اس پر براہِ راست ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ جسٹس محمد امجد رفیق صاحب نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ جعلی مچلکے یا عدالت میں غلط بیانی کے معاملات خالصتاً "انتظامِ انصاف" (Administration of Justice) کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایسے معاملات میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 205 ایک "ناقابلِ دست اندازی" جرم ہے، جس کا مطلب ہے کہ پولیس اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر مچلکے جعلی پائے جائیں تو پولیس کو کیس بھیجنے کے بجائے عدالت کو خود دفعہ 195 اور 476 ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کرنی چاہیے۔ یہ فیصلہ پولیس کے بڑھتے ہوئے اختیارات اور شہریوں کی بلاوجہ گرفتاریوں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوگا۔
​اس کیس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ درخواست گزار تابندہ عدنان اور دیگر کے خلاف الزام تھا کہ انہوں نے عدالت میں جعلی ضمانتی مچلکے پیش کیے۔ معاملہ جب ہائیکورٹ پہنچا تو بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا عدالت ایسے معاملے میں پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دے سکتی ہے؟ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ وہ خود ضمانتی (Sureties) نہیں تھے، اس لیے ان پر براہِ راست بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ مسئلہ یہ تھا کہ کیا عدالتی کارروائی کے دوران پیش کیے گئے دستاویزات پر پولیس کا ایکشن بنتا ہے یا صرف عدالت ہی کارروائی کر سکتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے اس پیچیدہ معاملے کو قانون کی روشنی میں حل کرتے ہوئے ایک نئی نظیر قائم کر دی ہے۔
​عدالت کے اہم قانونی نکات
​دفعہ 205 PPC: یہ ایک ناقابلِ دست اندازی (Non-Cognizable) جرم ہے، جس پر پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی۔
​دفعہ 195 Cr.P.C: عدالتی دستاویزات میں جعل سازی ہونے پر صرف متعلقہ عدالت ہی تحریری شکایت درج کروا سکتی ہے۔
​مچلکے بطور شہادت: قانونِ شہادت کی رو سے ہر وہ دستاویز جو عدالت کے معائنے کے لیے پیش کی جائے وہ "شہادت" (Evidence) کہلاتی ہے، بشمول ضمانتی مچلکے۔
​انتظامِ انصاف میں مداخلت: پولیس کو ایسے معاملات سونپنا عدالت کے اپنے وقار اور انتظامِ انصاف میں بیرونی مداخلت کے مترادف ہے۔
​خصوصی طریقہ کار: جعل سازی ثابت ہونے پر عدالت مچلکے مسترد کر کے نئے مانگ سکتی ہے یا دفعہ 476 کے تحت خود انکوائری کر کے ٹرائل کا آغاز کر سکتی ہے۔
​نجی دستاویزات بمقابلہ عدالتی دستاویزات: نکاح نامہ یا بیع نامہ جیسے کاغذات جو عدالت سے باہر بنتے ہیں ان پر ایف آئی آر ہو سکتی ہے، مگر جو کاغذات عدالتی حکم پر دورانِ سماعت بنیں (جیسے ضمانتی مچلکے) ان پر صرف عدالت کا اختیار ہے۔
​اس فیصلے کے عام عوام پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مخالف فریق معمولی تکنیکی غلطیوں پر پولیس کو ملوث کر کے بندے کو جیل بھجوا دیتے ہیں۔ اب اس فیصلے کے بعد، کوئی بھی شخص کسی دوسرے سے "ذاتی دشمنی" نکالنے کے لیے جعلی مچلکوں کا سہارا لے کر براہِ راست پولیس کے ذریعے کسی کو ہراساں نہیں کر سکے گا۔ یہ فیصلہ عام آدمی کو پولیس گردی سے بچاتا ہے اور انصاف کا ترازو عدالت کے ہاتھ میں رکھتا ہے۔
​مخالف ریفرنس (جو اب اس صورتحال میں لاگو نہیں ہوگا): ایسے تمام مقدمات جن میں عدالت سے باہر تیار کردہ جعلی دستاویزات (جیسے فرضی رجسٹری یا نجی معاہدہ) پر براہِ راست ایف آئی آر کو جائز قرار دیا گیا ہو۔
​حق میں اہم ریفرنس:
​2025 LHC 251 (موجودہ فیصلہ)
​1970 SCMR 10 (چوہدری فیروز دین بنام ڈاکٹر کے ایم منیر - سپریم کورٹ کا فیصلہ جس میں دفعہ 195 کی اہمیت واضح کی گئی)
​میرا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ پولیس کے ان اختیارات پر ایک ضروری قدغن ہے جو وہ اکثر وکلاء یا سائلین کو دبانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ عدالت کے اندر ہونے والی ہر بات کا فیصلہ صرف جج کو ہی کرنا چاہیے، نہ کہ تھانیدار کو؟ کیا ہم ایک ایسے نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں پولیس کا خوف کم اور قانون کا احترام زیادہ ہوگا؟
​عوامی سروے: آپ نے اس فیصلے سے کیا سیکھا؟
​کیا آپ جانتے تھے کہ مچلکے جعلی ہونے پر بھی پولیس براہِ راست گرفتار نہیں کر سکتی؟
​کیا آپ کے خیال میں اس فیصلے سے عدالتوں میں جعل سازی کم ہوگی یا بڑھے گی؟
​کیا کبھی آپ کو پولیس نے کسی عدالتی کاغذ کی بنیاد پر ہراساں کرنے کی کوشش کی؟
​کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دفعہ 195 CrPC کے تحت عدالت کا خود شکایت درج کرنا زیادہ بہتر ہے؟
​کیا یہ فیصلہ عام شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے کافی ہے؟
​اگر آپ کو ہمارے پیج پر دی گئی معلومات سے فائدہ ہو رہا ہے، تو براہِ کرم اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور پیج کو لائک کریں۔ قانون سے آگاہی ہی آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔


Mukhtar Law Firm
0321.9463261

18/04/2026

⚖️ بغیر اجازت دوسری شادی — اختیارِ سماعت صرف فیملی کورٹ کا
📚 2025 MLD 385 — تفصیلی وضاحت
پاکستانی قانون کے مطابق اگر کوئی شوہر پہلی بیوی کی اجازت اور متعلقہ اربیٹریشن کونسل کی منظوری کے بغیر دوسری شادی کرتا ہے، تو یہ معاملہ محض ایک نجی تنازع نہیں بلکہ قانونی خلاف ورزی بھی ہے۔
🏛️ قانونی پس منظر
یہ معاملہ بنیادی طور پر Muslim Family Laws Ordinance 1961 کے تحت آتا ہے، جس کی دفعہ 6 واضح طور پر دوسری شادی کے لیے درج ذیل شرائط عائد کرتی ہے:
✔ پہلی بیوی/بیویوں کی پیشگی اجازت
✔ یونین کونسل کی ثالثی کونسل (Arbitration Council) کی منظوری
⚖️ اہم فیصلہ — 2025 MLD 385
عدالت نے اس کیس میں واضح کیا کہ:
👉 بغیر اجازت دوسری شادی کے معاملے میں سماعت کا اختیار (Jurisdiction) صرف فیملی کورٹ کے پاس ہے۔
یعنی:
✔ ایسے تنازعات کسی اور عدالت (مثلاً سول کورٹ) میں نہیں سنے جا سکتے
✔ متعلقہ فریق کو براہِ راست فیملی کورٹ سے رجوع کرنا ہوگا
🔍 کیس کی قانونی اہمیت
1️⃣ دائرہ اختیار کی وضاحت
عدالت نے یہ کنفیوژن ختم کر دی کہ کیس کہاں دائر ہوگا
👉 صرف فیملی کورٹ
2️⃣ خواتین کے حقوق کا تحفظ
✔ پہلی بیوی کے حقوق کو مضبوط کیا گیا
✔ غیر قانونی دوسری شادی کے خلاف مؤثر قانونی راستہ فراہم کیا گیا
3️⃣ قانونی کارروائی کے آپشنز
متاثرہ فریق (بیوی) درج ذیل اقدامات کر سکتی ہے:
✔ فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کرنا
✔ حق مہر یا نان نفقہ کا مطالبہ
✔ علیحدگی (خلع) یا دیگر ریلیف
⚠️ اہم نکات
📌 بغیر اجازت دوسری شادی:
✔ جرمانہ اور سزا کا باعث بن سکتی ہے
✔ نکاح ختم نہیں ہوتا، مگر قانونی نتائج ضرور ہوتے ہیں
📌 شوہر کے لیے:
✔ قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر کارروائی ممکن
💡 سادہ الفاظ میں
“دوسری شادی خود کرنا آسان ہو سکتا ہے،
لیکن قانون کی نظر میں اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں
اور اس کا فیصلہ صرف فیملی کورٹ کرے گی۔”
📞 قانونی رہنمائی کے لیے رابطہ کریں:

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

پہلی درخواست ضمانت بغیر بحث کیے واپس لی گئی۔ دوسری درخواست ضمانت اسی عدالت کے روبرو قابل سماعت ہے۔Since no arguments wer...
18/04/2026

پہلی درخواست ضمانت بغیر بحث کیے واپس لی گئی۔ دوسری درخواست ضمانت اسی عدالت کے روبرو قابل سماعت ہے۔
Since no arguments were previously advanced, nor was there any decision of the High Court on merits, therefore, in the interest of justice,the matter is remanded to the High Court for decision of the subsequent bail application on merits, after providing an opportunity of hearing to the parties. It is expected that the learned High Court will decide the matter preferably within a period of two weeks after receiving a copy of this order.

Criminal Petition No. 496 of 2026
Muhammad Faisal Versus The State
07-04-2026

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

18/04/2026

سبطِ حسن نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اُس نے نفقہ، جہیز، زچگی اخراجات اور حق مہر کی وصولی کیلئے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کردیا۔ یہ حق مہر نکاح نامہ میں درج ہونے کے بجائے ایک اسٹامپ پیپر پر تھا، جس کیمطابق شوہر نے اقرار کیا کہ طلاق کی صورت میں وہ اپنی بیوی کو 40 لاکھ روپے بطور حق مہر ادا کرے گا۔ فیملی کورٹ نے یہ اسٹامپ پیپر والے حق مہر کا کلیم مسترد کردیا۔ بیوی نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کردی۔ ڈسٹرکٹ کورٹ نے بعد از ریمانڈ کارروائی میں بیوی کا موقف تسلیم کرتے ہوئے اسے 40 لاکھ روپے حق مہر کی حقدار قرار دیا۔ شوہر نے اس کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے فروری 2024ء میں کیس کی سماعت کی۔ جہاں شوہر کے وکیل نے دلائل دیے کہ یہ اسٹامپ پیپر شوہر نے دراصل میڈیکل اسٹور کے لائسنس کی تجدید کیلئے نکلوایا تھا۔ لیکن بیوی نے اسے چوری کرکے اس پر یہ جعلی معاہدہ تحریر کرلیا۔ اور، بالفرض اگر اس معاہدے کو درست تسلیم بھی کرلیا جائے تو چونکہ یہ طلاق کو مالی جرمانے سے مشروط کرنا ہے جو کہ سپریم کورٹ کے "بشیر صدیقی" کیس کی رُو سے درست نہیں۔ بیوی کے وکیل نے کہا کہ یہ طلاق کو جرمانے سے مشروط کرنا نہیں بلکہ حق مہر میں اضافے کا معاہدہ ہے، جو بالکل درست ہے۔

ہائیکورٹ نے لکھا کہ چونکہ یہ متنازعہ معاہدہ بیوی کے حق میں تھا تو عدالت میں اسے ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی اُسی پر تھی۔ خاتون نے اصل معاہدہ کے ہمراہ اس کے دونوں گواہوں کو بھی عدالت میں پیش کیا جنہوں نے اس کے اصل ہونے کی تائید کی۔ دورانِ جرح بیوی سے معاہدے کے جعلی ہونے پر کوئی سوال نہیں کیا گیا۔ جبکہ شوہر نے جرح میں تسلیم کیا کہ اسٹامپ پیپر خود اسی نے نکلوایا تھا اور اسکے دونوں اطراف اسی کے اصل دستخط موجود ہیں۔

پشت پر اسٹامپ پیپر نکلوانے کی غرض میں واضح درج ہے کہ یہ شوہر اور بیوی کے مابین معاہدے کیلئے ہے (نہ کہ میڈیکل سٹور کیلئے)۔ اگرچہ معاہدے کے کاتب اور اسٹامپ فروش کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، لیکن اس کا نقصان شوہر کو ہی ہوا کیونکہ یہ ثابت کرنا اس کی ذمہ داری تھی کہ اسٹامپ میڈیکل سٹور کیلئے لیا گیا تھا۔ شوہر نے چوری کا دعویٰ تو کیا لیکن اس نے نہ تو کوئی FIR یا رَپٹ درج کروائی اور نہ ہی اسٹامپ کی منسوخی کی کوئی درخواست دی۔ لہذا یہ معاہدہ بلاشبہ ثابت شدہ ہے۔

طلاق کی صورت میں 40 لاکھ روپے حق مہر، شادی کو زبردستی قائم رکھنے کی شرط نہیں بلکہ حق مہر میں اضافہ ہے، جو قانونی طور پر جائز ہے ۔"محمدن لا" کے پیرا نمبر 287 اور سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے متعدد فیصلوں کی روشنی میں یہ طے شدہ قانون ہے کہ حق مہر کی رقم شادی سے پہلے اور بعد میں بھی مقرر اور اسمیں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ درست ہے۔

ہائیکورٹ نے بیوی کو 40 لاکھ روپے حق مہر کی حقدار قرار دیتے ہوئے شوہر کی رِٹ پٹیشن خارج کردی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ نکاح نامہ میں یا بعد میں، کسی معاہدے میں یہ لکھوانا کہ"طلاق کی صورت میں شوہر بیوی کو اتنی رقم یا جائیداد دے گا"، درست ہے یا نہیں؟ اس پر اعلی عدلیہ کے فیصلوں میں اختلاف ہے۔ لیکن موجودہ کیس میں بیوی نے غالباََ وکیل سے مشورہ کرکے طلاق سے مشروط اس رقم کو "حق مہر" لکھوا لیا جو بلا اختلاف درست ہے۔ اس لیے معاہدے لکھتے لکھاتے وقت چیٹ جی پی ٹی سے نہیں بلکہ کسی وکیل سے مشورہ کرنا چاہیے۔

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

⚖️ تھانوں میں نیا قانون — بغیر بایومیٹرک تصدیق کوئی انٹری نہیں!اب پولیس اسٹیشنز میں ایک بڑا تبدیلی کا نظام نافذ کیا جا ر...
18/04/2026

⚖️ تھانوں میں نیا قانون — بغیر بایومیٹرک تصدیق کوئی انٹری نہیں!
اب پولیس اسٹیشنز میں ایک بڑا تبدیلی کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے:
👉 بغیر بایومیٹرک ویریفیکیشن (انگوٹھے کے نشان) کے کوئی بھی شخص کیس کا حصہ نہیں بن سکے گا۔
🔹 اب کیا ممکن نہیں ہوگا؟
❌ بغیر تصدیق مدعی درج نہیں ہوگا
❌ بغیر تصدیق ملزم شامل نہیں ہوگا
❌ بغیر تصدیق گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں ہوگا
📌 یعنی:
👉 انگوٹھا نہیں، تو کیس میں انٹری نہیں!
🔹 اس تبدیلی کے اثرات
✔ جعلی نام اور فرضی گواہوں کا خاتمہ
✔ “بناؤٹی ایف آئی آر” درج کروانا مشکل
✔ ہر ریکارڈ ڈیجیٹل اور ٹریس ایبل ہوگا
🔹 اہم ڈیڈ لائن
⏳ تمام تھانوں میں یہ نظام 7 دن کے اندر نافذ کرنا لازمی
📋 متعلقہ افسران کو 7 دن میں رپورٹ جمع کروانا ہوگی
📌 اہم پیغام
⚠️ یہ نظام شفافیت اور انصاف کو بہتر بنانے کے لیے متعارف کروایا گیا ہے
⚠️ اب ہر اندراج تصدیق شدہ اور قابلِ ٹریس ہوگا

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

Address

BM Building, Opposite Family Hospital, 4/Mozang Road
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 08:00 - 18:00
Tuesday 08:00 - 18:00
Wednesday 08:00 - 18:00
Thursday 08:00 - 18:00
Friday 08:00 - 18:00
Saturday 08:00 - 18:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mukhtar Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category