12/09/2020
عبرت ناک سزا یا یقینی سزا
گزشتہ چند سالوں میں پاکستان میں ہونے والے زنا بالجبراورجنسی زیادتی کے مختلف واقعات اور ان کے اثرات کے باعث ایک بحث اور مطالبے نے زور پکڑا ہے کے ایثے واقعات میں ملوث افراد کو سر عام پھانسی. دی جائے اور کچھ دیر تک کسی چوک یا چوراہے پر لٹکا رہنے دیا جائے تاکہ دیگر لوگ اس سے عبرت حاصل کریں. اس ضمن میں بھت سارے ممالک کا امثال بھی پیش کی جاتی ہیں. یہ بات بہت حد تک درست ہے اور یہ ایک مستند مقصد سزا بھی ہے. لیکن ایسی سزاووں کا ایک ہی مقصد مجرم کے انجام کی تشہیر ہوا کرتا ہے تاکہ potential criminal ان کا انجام دیکھ کر ایسے کسی جرم کے ارتکاب سے دور رہے.آج کے اس جدید دور میں یہ کام ٹیلی-ویژن اور جدید ذرائع ابلاغ بطریق احسن انجام دے رہےہیں جہاں ایسے مجرموں کے انجام پر کئ روز تک گھنٹوں پروگرام کر کے ایسے کسی بھی شخص کے انجام کے بارے میں لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود ایسے واقعات میں کمی نہیں آ رہی اور آے دن ہمیں ایسے اندوہناک سانہات سننے کو ملتے ہیں.
یہ بات بھی درست ہے کہ جرم. کو دنیا سے ختم کرنا انتہائ مشکل بلکہ ناممکن عمل ہے لیکن اس میں مناسب حکمت عملی کے ذریعے درجہ بدرجہ کمی ضرور لائ جا سکتی ہے. آج ھم جب بھی جرائم کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم صرف. سنگین جرائم کے اعدادوشمار اکٹھے کر کے اس پر بحث کرتے ہیں کبھی ہم نے جرائم کی پنیری کی بات نہیں کی. آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ جرائم کی پنیری کونسی ہے. جرائم کی پنیری وہ چھوٹے چھوٹے جرائم ہیں جن کو نظر انداز کرنے سے مجرم کا حوصلہ بڑہتا ہے. مثال کے طور پر چھوٹی چھوٹی چوری، ناجائز اسلحہ کو پاس رکھنا، جوا، تھوڑی بہت شراب کا پکڑا جانا دفعہ 144 کی خلاف ورزی، پتنگ بازی، قماربازی وغیرہ وغیرہ.
چھوٹے جرائم کے مرتکب افراد جب بآسانی ان مقدمات میں بری ھو جاتے ہیں تو ان کی نظر میں قانون کسی مزاق سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا اور ان کا حوصلہ بڑھتا ہے. بالکل ایسے ہی جیسے کہا جاتا ہے ایک چور نے کہا تھا کہ میری ماں کو سزا دی جائے کیونکہ اگر اس نے مجھے میری پہلی چوری پر روکا ہوتا تو آج میں اتنا بڑا چور نا ہوتا. کوی بھی بڑے سے بڑا مجرم بھی ابتدا کسی چھوٹے سے جرم کرتا ہے جس میں ملنے والی رعایت اس کے اندر پلنے والے مجرم کو جلا بخشتی ہے.
اس نظریے کو واضح کرنے کے لیے کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں. حال. ہی میں ھم نے دیکھا کہ کورونا وبا سے نمٹنے ک لیے کیے لاک ڈاون میں خلاف ورزی کرنے والے لوگوں کے ساتھ پولیس کے رویے نے لوگوں کو ماسک پہننے پر اور احتیاطی تدابیر اپنانے پر مجبور کیا اور اس کا نتیجہ ہم نے خود دیکھا کہ قوم کتنی بڑی آفت سے محفوظ ہوی. اس سے مراد قطعاً یہ نہیں کہ پولیس کو بے لگام کر دیا جائے مقصد صرف یہ ہے کہ اس بات کو واضح کیا جا سکے کہ ایک چھوٹےسے ماسک نا پہننے کے جرم کی سزا دے کر ایک بہت بڑی آفت سے بچا جا سکتا ہے. ذرا سوچئے ایک شخص جو ڈبل سواری کی خلاف ورزی کے جرم میں دس دن کی سزا بھگت جاے تو کیا وہ یہ نہیں سوچے گا کہ اتنے سے جرم میں یہ سزا بھگتی ہے اگر کوئی بڑا جرم ہو جاتا تو کیا حال ہوتا. اسی طرح ناجائز اسلحہ رکھنے کے جرم میں قید بھگتنے والا یہ سوچنے پر مجبور ہو گا کہ اسلحہ رکھنے کی یہ سزا ہے تو چلانے کی کیا سزا ہو گی. اسی طرح ہزار دو ہزار کی چوری پر سزا دے کر لاکھوں عربوں کی چوری کو ہونے سے بچایا جا سکتا ہے. اس کے دل میں یقیناً قانون کا خوف پیدا ہو گا.لیکن ایسا نا ہونے کی وجہ سے لوگ پر اعتماد ہو کر جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں یوں گئے اور یوں واپس آنے. قارئین مجھ سے اتفاق کریں گے کہ ایسے چھوٹے جرائم میں سزا کا تناسب تقریباً نا ہونے کے برابر ہےجو جرم کی صلاحیت رکھنے والے افراد کی ڈھارس بندھانے کے مترادف ہے.
کسی چھوٹےجرم میں سزا کو یقینی بنا کر بڑے اور سنگین جرائم میں کمی ضرور لائ جا سکتی ہے. نا کہ کسی ایک واقعہ میں سالوں بعد عبرتناک سزا دے کر. ہم نے دیکھا ہے ماضی قریب کی بات ہے زینب کیس میں ملزم کو سزاے موت ملنے کے بعدجس طرح اس کی تشہیر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر کی گئی اس کی مثال نہیں ملتی. ذرا سوچیے
سزائے موت سے بڑھ کر بھی کوئ سزا ہے جس کے بارے میں کسی خاص علاقے میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اعلان کیاگیا ہو.ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کے بعد عصمت دری کا کوئ واقع ہی نا ہوتا لیکن ابھی وہ زخم بھرا نہیں تھا کہ سانحہ چونیاں رونما ہو گیا. اور اس کے علاوہ بھی آے روز ایسے واقعات کی بازگشت سنائی دیتی رہتی ہے. اب؛. پس ثابت یہ ہوا کہ سنگین سزا کے خوف سے جرم نہیں رکتا یا کم نہیں ہوتا ہے بلکہ اس میں بتدریج کمی ایک بہتر معاشرتی حکمت عملی سے لای جا سکتی ہے.
یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے تبدیلی رات بھر میں ممکن ہو گی لیکن یہ عمل معاشرے کی تربیت کا باعث ضرور بنے گا اورقانون کے احترام کی ایک اجتماعی سوچ کو ضرور پروان چڑھاے گا اور معاشرے اجتماعی سوچ سے ہی بنتے ہیں. جب چھوٹے سے چھوٹے جرم میں بھی سزا ملنے کا خوف ہوگا تو بڑے جرائم کا تناسب خود بخود کم ھو نا شروع ہو جائے گا. نا کسی قانون سازی کی ضرورت ہے اور نا ہی کسی تبدیلی کی صرف سوچ کی تبدیلی کی ضرورت ہے.. جرم چھوٹا ہو یا بڑا جرم ہی ہوتا ہے…
اللہ رب العزت پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور امن و سلامتی کا گہوارا بنانے آمین
محمد شہزاد سعید