Kakar Law Associates

Kakar Law Associates Advocate Shahzad Khan Kakar is a distinguished attorney-at-law based in Lahore, renowned for his exceptional legal expertise and commitment to social justice.

He is widely respected among his peers and has a vast network of fellow lawyers.

17/09/2026

Supreme Court decision...
Khula and property...?

Supreme Court 319 PLD 2026 ⚖️

The supreme court of Pakistan held that where a marriage is dissolved through khula, and cruelty by the husband is not proved, the wife may be required to return the dower ( Haq-e-Mar ) received by her.

The principal can also apply where the dower was given in the form of property, such as a plot or house.

Key points: Khula may have legal consequences for property given as dower.

13/09/2026

2026 MLD 1244

​جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ جرائم کو تین زمروں میں تقسیم کرتا ہے:

1- معمولی (Minor)،

2- سنگین (Major)، اور

3- انتہائی سنگین (Heinous)۔

​دفعہ 6(3) [Sec 6(3)]:
اگر کسی کم سن (Juvenile) کو معمولی یا سنگین جرم کے تحت گرفتار یا حراست میں لیا جائے، تو اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا جیسے وہ قابلِ ضمانت (Bailable) جرم کا ملزم ہو۔

​دفعہ 6(4) [Sec 6(4)]:
اگر 16 سال سے زائد عمر کے کم سن کو کسی انتہائی سنگین (Heinous) جرم میں گرفتار کیا جائے، تو جوینائل کورٹ ضمانت سے انکار کر سکتی ہے اگر اس کے پاس یہ باور کرنے کی معقول وجوہات ہوں کہ وہ اس جرم میں ملوث ہے۔

​دفعہ 6(5) [Sec 6(5)]:
قطع نظر اس کے کہ کم سن کی عمر کیا ہے، اگر وہ مسلسل 6 ماہ سے زائد عرصے سے حراست میں ہے اور ٹرائل مکمل نہیں ہوا، تو اسے قانونی حق کے طور پر ضمانت پر رہا کیا جائے گا—بشرطیکہ تاخیر کی وجہ خود کم سن ملزم نہ ہو۔

​سپریم کورٹ کا فیصلہ
​سپریم کورٹ نے "مہران کیس" کا حوالہ دیتے ہوئے اہم قانونی نکات واضح کیے:

​میرٹ بمقابلہ تاخیر:
دفعہ 6(4) ضمانت کا فیصلہ کیس کے میرٹ پر کرتی ہے، جبکہ دفعہ 6(5) محض ٹرائل میں تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کا ایک الگ اور مستقل قانونی حق (Statutory Ground) فراہم کرتی ہے۔

​اطلاق کا دائرہ کار:
چونکہ معمولی (Minor) اور سنگین (Major) جرائم دفعہ 6(3) کے تحت پہلے ہی قابلِ ضمانت قرار دیے گئے ہیں، اس لیے دفعہ 6(5) کی سخت شق کا عملی اطلاق صرف انتہائی سنگین (Heinous) جرائم کے ملزم کم سن بچوں پر ہوتا ہے۔

​ضمانت بعد از گرفتاری (Post-Arrest Bail):
اگر دفعہ 6(5) کی شرائط (6 ماہ سے زائد حراست اور عدم التوا از طرفِ ملزم) پوری ہوتی ہوں، تو انتہائی سنگین جرم میں نامزد کم سن ملزم بعد از گرفتاری ضمانت کا حقدار بن جاتا ہے—خواہ اس کی عمر 16 سال سے کم ہو یا زیادہ۔

لوکل گورنمنٹ پنجاب نے نکاح رجسٹرار کی طرف سے جاری خلاف ورزیوں اور خاص کر کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے باقاعدہ فیلڈ...
08/09/2026

لوکل گورنمنٹ پنجاب نے نکاح رجسٹرار کی طرف سے جاری خلاف ورزیوں اور خاص کر کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے باقاعدہ فیلڈ افسران کو ہدایات جاری کر دی
ان کے مطابق کوئی بھی نکاح رجسٹرار اپنی متعلقہ یونین کونسل کے علاوہ کسی یونین کونسل کا لائسنس نہیں رکھ سکتا
کوئی بھی نکاح رجسٹرار جس کے خلاف کوئی بھی مقدمہ درج ہے وہ اب نکاح رجسٹرار نہیں بن سکتا
کوئی بھی شخص جو سمارٹ فون اور انٹرنیٹ نہیں چلا سکتا وہ نکاح رجسٹرار نہیں بن سکتا
کوئی بھی شخص جو بھی لائسنس حاصل کرنا چاہے گا وہ نکاح رولز، چلڈ رولز وغیرہ کا ٹیسٹ دیے گا اگر 90 فیصد نمبر حاصل ہوں گے تو لائسنس رکھے گا
کوئی بھی غیر کوالیفائڈ انسان نکاح رجسٹرار نہیں رہے گا۔
جو نکاح رجسٹرار کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی ہو گی۔
نکاح رجسٹرار جو بھی نکاح پڑھایے گا اس کے ساتھ باقاعدہ دلہا دلہن کے کاغذات لگا کر متعلقہ یونین کونسل میں جمع کروائیں گا۔
جو نکاح رجسٹرار 7 دن کے اندر نکاح پرت جمع نہیں کروائے گا اس کا لائسنس منسوخ کر کے اس کے خلاف باقاعدہ کاروائی ہو گی
نکاح رجسٹرارز، یونین کونسل سیکریٹریز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے لیے نگران نظام — ایک اہم پیش رفت

تاریخ اجراء: 17 جون 2025
جاری کردہ ادارہ: ڈائریکٹوریٹ جنرل لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈیولپمنٹ (LG&CD) پنجاب، لاہور
مکتوب نمبر: LG&CD/AD(CD)/2(1)/Trg-PLGA/2024

حکومت پنجاب کی جانب سے نکاح رجسٹرارز، یونین کونسل سیکریٹریز اور لوکل گورنمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے کردار پر مؤثر نگرانی کے لیے ایک نیا نگران نظام (Oversight Mechanism) متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف نکاح کی رجسٹریشن کے عمل کو شفاف بنانے کی کوشش ہے بلکہ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے بھی ایک سنجیدہ اور عملی قدم ہے۔

---

نگران نظام کی اہم خصوصیات

یہ نظام تین سطحوں پر عملدرآمد کا تقاضا کرتا ہے:

1. یونین کونسل سیکریٹری

2. نکاح رجسٹرار

3. محکمہ کی جانب سے انکوائری

ہر سطح پر ایک تفصیلی چیک لسٹ تیار کی گئی ہے تاکہ شادیوں کے اندراج کے دوران قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

---

یونین کونسل سیکریٹری کے لیے چیک لسٹ کے اہم نکات

نکاح رجسٹرار کو سیریل نمبر کے ساتھ نکاح رجسٹر فراہم کیا گیا ہو۔

نکاح رجسٹرار باقاعدگی سے نکاح نامہ کی رجسٹرڈ کاپی فریقین کو فراہم کرتا ہو۔

کم عمری کی شادی کی صورت میں نکاح رجسٹرار نے یونین کونسل اور متعلقہ محکموں کو اطلاع دی ہو۔

اگر کسی کیس میں شک ہو تو محکمہ خود انکوائری کرتا ہے اور اس کی رپورٹ تیار کی جاتی ہے۔

نکاح رجسٹرار کی ریٹائرمنٹ یا لائسنس منسوخی کے بعد نکاح رجسٹر جمع کروا دیا گیا ہو۔

نکاح رجسٹرار کے پاس سرکاری مہُر (Stamp) موجود ہو۔

یونین کونسل کے سیکریٹری نے تمام نکاح رجسٹرز کی تحویل کا ریکارڈ محفوظ رکھا ہو۔

---

نکاح رجسٹرار کے لیے چیک لسٹ کے اہم نکات

دلہا، دلہن اور یونین کونسل کو نکاح نامہ کے متعلقہ حصے مقررہ مدت میں فراہم کیے گئے ہوں۔

فریقین کی عمر کی تصدیق کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہوں۔

نکاح کے لیے پیش کیے گئے تمام کاغذات رجسٹرڈ نکاح نامہ کے ساتھ منسلک اور تصدیق شدہ ہوں۔

مشتبہ کیسز کی اطلاع بر وقت متعلقہ اتھارٹی کو دی گئی ہو۔

---

قانونی تناظر اور اہمیت

یہ نگران نظام پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ، مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 اور نکاح رجسٹریشن رولز کے تحت لاگو ہونے والے اصولوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش ہے۔ کم عمری کی شادی ایک سماجی و قانونی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے محض قانون کافی نہیں، اس پر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔

---

مستقبل کے لیے اثرات

یہ اقدام نکاح رجسٹریشن کے عمل کو بہتر بنائے گا، عوام کا اعتماد بڑھے گا اور کم عمری کی شادی جیسے سنگین مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ لوکل گورنمنٹ سسٹم میں جوابدہی اور شفافیت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔

---

نتیجہ

پنجاب حکومت کا یہ نگران نظام ایک قابل ستائش قدم ہے جو نہ صرف قانونی تقاضوں کو پورا کرتا ہے بلکہ معاشرتی ذمہ داری کا بھی مظہر ہے۔ اس پر مؤثر عملدرآمد تمام اسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے تاکہ نکاح کا عمل صاف، شفاف اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ مکمل ہو۔

07/09/2026

2017 PCrLJ Note 151 (Peshawar/ Abbottabad Bench)
Muhammad iqbal and five others vs the state ects

“No provision existed for pre-Registration (of FiR ) inquiry proceedings, by police “

07/09/2026

*2026 P Cr. LJ 1334*

*موضوع: جیو-فینسنگ اور کال ڈیٹا ریکارڈ کی طلبی - پراسیکیوشن ایویڈنس کے دوران دستاویز طلب کرنے کا اختیار*

---

*خلاصہ فیصلہ اردو میں:*

*1۔ کیس کا پس منظر:*
مقدمے کے دوران ملزمان نے درخواست دائر کی کہ پراسیکیوشن کے گواہان کا *Geo-fencing اور Call Data Record / CDR* طلب کیا جائے۔
ملزمان کا موقف تھا کہ چالان میں جن گواہان کو عینی گواہ ظاہر کیا گیا ہے وہ وقوعہ کے وقت موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے CDR اور Geo-fencing ضروری ہے۔

ٹرائیل کورٹ نے یہ درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ "یہ دستاویزات دفاعی شہادت کے وقت طلب کی جا سکتی ہیں، پراسیکیوشن ایویڈنس کے دوران نہیں"۔

ملزمان نے اس حکم کے خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی۔

*2۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ اور قانونی نکات:*

*نکتہ نمبر 1: دفعہ 94 ض ف کا اختیار کسی بھی سٹیج پر استعمال ہو سکتا ہے*
عدالت نے قرار دیا کہ *دفعہ 94 ضابطہ فوجداری* کے تحت ملزم کسی بھی دستاویز یا چیز کی طلبی کر سکتا ہے تاکہ پراسیکیوشن گواہان کی ساکھ کو ختم کیا جا سکے۔
شرط صرف یہ ہے کہ عدالت مطمئن ہو کہ اس دستاویز کی طلبی "مقدمے کے منصفانہ فیصلے کے لیے ضروری یا مناسب" ہے۔

عدالتِ زیریں نے یہ کہہ کر درخواست مسترد کی کہ یہ کام دفاعی شہادت میں ہو گا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ *قانون میں ایسی کوئی پابندی نہیں*۔ عدالت یہ اختیار *ٹرائل کے کسی بھی سٹیج پر* استعمال کر سکتی ہے۔ لہٰذا زیریں عدالت کا مشاہدہ قانون سے متصادم تھا اور اسے کالعدم قرار دیا گیا۔

*نکتہ نمبر 2: آرٹیکل 164 قانون شہادت 1984*
عدالت نے مزید کہا کہ *آرٹیکل 164 قانون شہادت 1984* کے تحت عدالت جدید آلات کے ذریعے ریکارڈ کی گئی شہادت، جیسے *Call Data Record, Geo-fencing, CCTV, Voice Recording* وغیرہ کو بطور شہادت قبول کر سکتی ہے۔

البتہ یہ عدالت کی صوابدید پر ہے کہ کیس کے حالات اور نوعیت کے مطابق اسے قبول کیا جائے یا نہ کیا جائے۔

*نکتہ نمبر 3: صوابدید کا محتاط استعمال*
عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ عدالت کی صوابدید ہے، لیکن اسے *احتیاط اور عدل کے ساتھ* استعمال کرنا چاہیے۔ عدالتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ منصفانہ ٹرائل کو یقینی بنانے کے لیے ہر وہ قدم اٹھائیں جس سے "سچ" سامنے آ سکے۔

*3۔ فیصلے کا نتیجہ:*
1. ٹرائیل کورٹ کا یہ حکم غلط تھا کہ CDR/Geo-fencing صرف دفاعی شہادت میں طلب ہو گی۔
2. ملزم پراسیکیوشن ایویڈنس کے دوران بھی دفعہ 94 ض ف کے تحت CDR طلب کرا سکتا ہے اگر وہ گواہان کی موجودگی/عدم موجودگی کو چیلنج کرنا چاہے۔
3. CDR اور Geo-fencing جدید شہادت ہے اور آرٹیکل 164 کے تحت قابلِ قبول ہے۔

*سادہ الفاظ میں مطلب:*
اگر پولیس کسی شخص کو عینی گواہ بنا کر پیش کرے اور ملزم کو شک ہو کہ وہ موقع پر تھا ہی نہیں، تو ملزم ٹرائل کے دوران ہی عدالت سے اس گواہ کا *کال ڈیٹا ریکارڈ اور جیو-فینسنگ* منگوا سکتا ہے۔
عدالت یہ نہیں کہہ سکتی کہ "یہ بعد میں مانگیں"۔ عدالت کو کیس کے میرٹ پر دیکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ شہادت منصفانہ ٹرائل کے لیے ضروری ہے یا نہیں۔

*اہم Legal Principle:*
*"Production of document is not stage-bound. Court can order it at any stage of trial under Sec 94 Cr.P.C if it is necessary for just decision."*

05/09/2026

⚖️ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ — وکیل کی غفلت کا خمیازہ فریق کو بھگتنا پڑ سکتا ہے
2026 SCMR 1033
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ صرف یہ مؤقف اختیار کرنا کہ وکیل نے مقدمے کی پیروی نہیں کی یا عدالت میں پیش نہیں ہوا، ہر صورت میں فریق کو قانونی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔
عدالت کے مطابق ہر litigant کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مقدمے کی پیش رفت سے باخبر رہے۔ وکیل کی عام غفلت کو اصولاً موکل کی غفلت بھی تصور کیا جا سکتا ہے۔
📌 اہم اصول:
اگر Ex-parte decree ہو جائے تو اسے ختم کرانے کے لیے صرف وکیل کی غفلت کا عذر کافی نہیں؛ فریق کو Sufficient Cause ثابت کرنا ہوگا۔
البتہ اگر وکیل کی عدم حاضری ایسے حالات کی وجہ سے ہو جو اس کے اختیار سے باہر ہوں، مثلاً وفات، شدید معذوری یا دیگر Force Majeure حالات، تو عدالت ان حالات کو الگ طور پر دیکھ سکتی ہے

03/09/2026

*اہم عدالتی اصول*

*2026 LHC 5482*
*Justice Raheel Kamran*

# # **حکومت اپنی مرضی سے ریگولیٹری ادارے کے رکن کو برطرف نہیں کر سکتی.** کسی بھی خود مختار ریگولیٹری ادارے (جیسے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن) کے کمشنر/رکن کو حکومت اپنی "مرضی یا خوشی" (Pleasure) پر بغیر کسی وجہ اور بغیر سنے عہدے سے نہیں ہٹا سکتی۔

کسی **خود مختار ریگولیٹری ادارے** کے کمشنر یا رکن کی مقررہ مدتِ ملازمت کو محض حکومت کی **“خوشی یا مرضی” (Pleasure)** پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

# # # بنیادی قانونی اصول

**1۔ مقررہ مدت کا تحفظ:**
ریگولیٹری ادارے کی آزادی کے لیے اس کے ارکان کی **Tenure Security** ضروری ہے۔ حکومت کو جب چاہے برطرف کرنے کا اختیار ادارے کی خود مختاری کو متاثر کرتا ہے۔

**2۔ منصفانہ سماعت کا حق:**
بغیر **نوٹس، وجوہات بتائے اور صفائی کا موقع** دیے کسی شخص کو عہدے سے ہٹانا آئینی **Due Process اور Fair Hearing** کے اصولوں سے متصادم ہے۔

**3۔ جوابدہی من مانی نہیں ہو سکتی:**
برطرفی کے لیے قانون میں واضح **وجوہات اور طریقۂ کار** ہونا ضروری ہے۔ محض حکومتی صوابدید برطرفی کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتی۔

**4۔ غیر آئینی شق کالعدم:**
عدالت نے **Punjab Healthcare Commission Act** کی متعلقہ شق کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا اور درخواست گزار کی برطرفی کا نوٹیفکیشن بھی غیر قانونی قرار دیا۔

# # # **درخواست گزار کی بحالی کا نتیجہ**

اگرچہ عدالت نے برطرفی کو **غیر قانونی اور کالعدم** قرار دیا، تاہم درخواست گزار کی **تین سالہ مقررہ مدتِ ملازمت دورانِ مقدمہ مکمل ہو چکی تھی**، اس لیے عدالت نے انہیں عہدے پر **عملی طور پر بحال کرنے کا حکم جاری نہیں کیا۔**

# # # **اصولی نتیجہ**

**حکومت کا اختیار بھی قانون اور آئین کے تابع ہے؛ خود مختار اداروں کے ارکان کو من مانی برطرفی سے قانونی تحفظ حاصل ہے۔**

03/09/2026

PLJ 2026 CrC 716

MUST READ JUDGEMENT.
جناب جسٹس سید شہباز علی رضوی کا ڈی این اے ٹیسٹ کے بارے انتہائی معلوماتی فیصلہ۔
ڈی این اے ٹیسٹ کی مختلف تکنیک اور اصلاحات کے بارے میں مکمل معلومات

When a biological sample is collected in a sexual assault investigation, it may contain a mixture of s***m cells (if present) and non-s***m cells.

The sample undergoes differential extraction, a laboratory procedure that separates the sample into two fractions:

1) S***m fraction
2) Epithelial (non-s***m) fraction.

DNA is then extracted separately from each fraction for comparison with reference samples.Epithelial fraction refers to the extraction of the non-s***m cells which can be:-

(I) The “victim” vaginal, cervical, oral mucosal epithelial cells along with some white blood cells.

(II) The “offenders” skin, buccal epithelial cells, white blood cells and immature s***m cells.

Because the non-s***m fraction in vaginal swabs is ordinarily dominated by the victim’s epithelial cells, John M. Butler notes that it is commonly referred to as the female fraction in sexual assault evidence.

The s***m fraction is the fraction enriched for s***m cells following differential extraction.

DNA obtained from this fraction is analyzed to determine the source of the s***m cells recovered from the evidence.

Presence of an offender’s DNA in the epithelial fraction is supportive evidence indicating that the offender’s non-s***m cells were also present in the sample. However, by itself, DNA detected in the epithelial fraction cannot establish that sexual in*******se, ej*******on, or pe*******on occurred. Conversely, recovery of the offender’s DNA from the s***m fraction is consistent with the offender being the source of the s***m cells recovered from the sample. The objective of differential extraction is to separate s***m cells from non-s***m cells. Consequently, when the laboratory procedur is successful, the offender’s DNA may be recovered only from the s***m fraction, while the epithelial fraction may predominantly contain the victim’s DNA. According to the United States National Institute of Justice (NIJ) and John M. Butler’s Advanced Topics in Forensic DNA Typing Methodology, there is no forensic principle requiring an offender’s DNA to be present in both, the s***m fraction and the epithelial (non-s***m) fraction. A DNA profile obtained from the s***m fraction alone may constitute strong forensic evidence, provided that validated laboratory methods were followed, quality assurance standards were met, and the results are interpreted in the context of the entire body of evidence. Hence, absence of the offender’s DNA from the epithelial fraction does not, by itself, invalidate or diminish credibility and probative value of matching DNA profile obtained from the s***m fraction.
Crl. Appeal.31263/22
Manazir Ali Vs The State e

03/09/2026

⚖️ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ

فریقین کے دلائل سننے کے بعد بھی عدالت مزید قانونی معاونت کے لیے کسی ماہر وکیل کو بطور “معاونِ عدالت” (Amicus Curiae) مقرر کر کے اس کی رائے حاصل کر سکتی ہے۔

یہ فیصلہ عدالتی کارروائی میں قانونی معاونت، شفافیت اور انصاف کے تقاضوں کو مزید مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

2026 SCMR 01 — سپریم کورٹ آف پاکستان

#قانون #عدالت

01/09/2026

PLD 2026 Lahore 635

نادرا کی طرف سے جاری کردہ شناختی کارڈ منقولہ جائیداد نہیں، اس لیے اسے جبری اقدام کے طور پر سول عدالتوں کے ذریعے ضبط، منسوخ یا بلاک نہیں کیا جا سکتا
Since the CNIC issued by NADRA cannot be treated as a movable property of its holder, as such it cannot be attached, impounded, cancelled or blocked by the civil courts in civil proceedings as coercive measure. It can only be cancelled or impounded or confiscated by the authority only in the manner and by the circumstances prescribed under Section 18 of the Ordinance, 2000.
LAHORE BAR Lawyers
Overseas Pakistanis Foundation
Pakhtoon Team

Address

1/Turner Road, Maqbool Manzil, , Opposite Lahore High Court
Lahore
54000

Telephone

+924237222786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kakar Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Kakar Law Associates:

Shortcuts

Share