09/04/2019
وکیل کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے جج کے لیے سزا
اگر کوئی جج کسی وکیل کی بے عزتی کرتاہے تو وہ اسی عدالت کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے اور اسکی خلاف توہین عدالت کی کاروائی کرکے سزا دلوائی جاسکتی ہے
ایک مقدمہ اے آئی آر (AIR)1949 کے صفحہ نمبر470 پر لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی جج کسی وکیل کے بے عزتی کرتا ہے تو توہین عدالت کا مرتکب ہوگا
مذکورہ بالا مقدمہ کے حقائق کچھ اسطرح ہیں کہ مجسٹریٹ نے بھری عدالت میں وکیل کو بے وقوف کہا تھا جس پر وکیل نے مجسٹریٹ کے خلاف کاروائی کی تھی اور مجسٹریٹ کو قید کی سزا ہوئی تھی
اس سزا کو مجسٹریٹ نے ہائیکورٹ چیلنج کیا تھااور موقف لیا تھا کہ اسکا یہ عمل توہین عدالت کے ذمرہ میں نہیں آتا مگر ہائیکورٹ نے بھی فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوے قرار دیا تھا کہ وکلاء آفیسر آف دی کورٹ ہیں لہذا اگر کوئی جج وکیل کی بے عزتی کرے گاتو توہین عدالت کا مرتکب ہوگا
لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اب کیس لاء کی شکل اختیار کرچکا ہے اور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ انڈیا میں بھی عدالتوں میں بطور ریفرنس استعال ہورہا ہے
دہلی ہائیکورٹ نے بھی اسی فیصلہ کو ریفرنس استعمال کرتے ہوے اپنے فیصلہ 1984(سی آر ایل جے) کے صفحہ نمبر 481 پر قرار دیاہے کہ وکلاء کو ججز کے رویہ پر ہڑتال کرنے کی بجاے ججز کے خلاف توہین عدالت کی پیٹیشن دائر کرنی چاہیے
If a judge insult an advocate then he is guilty of contempt of court, reliance is placed in AIR 1949 Lahore 470