Family Law Services in Lahore

Family Law Services in Lahore Family law matters such as child custody, khula (Islamic divorce), divorce itself, or maintenance....

18/08/2026

PLD 2026 SC 170

والد پر اولاد کا نان و نفقہ ایک مستقل، مسلسل اور قانونی و شرعی ذمہ داری ہے جو والدین کے درمیان ازدواجی رشتہ ختم ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی بچے کی حضانت ماں کے پاس ہونے سے والد کی ذمہ داری کم ہوتی ہے۔ بچے کے نان و نفقہ کا تعین اس کی مناسب ضروریات اور والد کی مالی استطاعت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا، جس میں خوراک، لباس اور رہائش کے علاوہ تعلیم، علاج معالجہ، ذہنی و جسمانی نشوونما اور خاندان کے معاشرتی معیار کے مطابق دیگر ضروری اخراجات بھی شامل ہیں۔ صرف یہ عذر کہ والد ملازمت نہیں کر رہا یا اس کی موجودہ آمدن کم ہے، جبکہ وہ جسمانی یا ذہنی طور پر کام کرنے کے قابل ہے، بچوں کے نان و نفقہ سے بری ہونے کی جائز وجہ نہیں ہے۔ شرعی اصولوں کے مطابق اگر والد حقیقی طور پر کمانے سے معذور ہو اور وسائل نہ رکھتا ہو تو مناسب حالات میں ذمہ داری والدہ اور اس کے بعد صاحبِ استطاعت دادا تک منتقل ہو سکتی ہے۔ لہٰذا بچے کا حقِ نان و نفقہ اس کے نسب اور فلاح و بہبود سے وابستہ ایک مستقل حق ہے، جو طلاق، خلع، علیحدگی یا حضانت کی تبدیلی سے متاثر نہیں ہوتا۔

Quantum and continuity of maintenance for a child following the dissolution of marriage between the parents.

Under the Islamic jurisprudence1, as well as the settled case law in Pakistan, the father bears a solemn and continuous obligation to provide maintenance for his offspring. This duty, grounded not merely in financial capacity but in the principle of nasab (lineage), persists until the son attains the age of puberty, and in the case of a daughter, until her marriage. Where a son, upon reaching majority, is found to be incapacitated or otherwise unable to earn due to physical or mental limitations, the father remains bound to maintain him. It must be stressed that the obligation to maintain a child is distinct and independent from the obligation to maintain a wife. The latter ceases upon the termination of the marital bond, whereas the former survives the marriage itself and is directly tied to the immutable bond of paternity. However, it has been observed that in certain cases, fathers, upon the dissolution of marriage or after losing custody, become hesitant to discharge their obligation of maintenance, viewing it as contingent upon matrimonial cohabitation or custodial rights. Such a perception is legally flawed and ethically untenable in light of Islamic principles, as the father’s obligation is not lessened by the child being in the hizanat (custody) of the mother.
The determination of the appropriate quantum of maintenance involves two principal considerations:
(i) the nature and extent of the child’s reasonable requirements and
(ii) the father’s financial means.
Maintenance traditionally includes food, raiment, and lodging. However, this list is not exhaustive. Given evolving societal standards and the overarching principle of welfare of the minor, the term must be interpreted broadly to encompass all reasonable expenses necessary for the physical, mental, and emotional development of the child. This includes, interalia, educational costs, healthcare, and other needs consistent with the natural growth and comfort of the minor. The amount awarded should reflect the family's social status, ensuring that the child is not deprived of opportunities for development and well-being solely due to the dissolution of the marriage. The second consideration pertains to the father’s financial capacity to maintain the child. Under Islamic principles, the obligation of maintenance is generally subject to certain conditions. Firstly, the child must be in need. If the child possesses independent means sufficient for his/her own support, the duty of the father to provide maintenance does not arise. Secondly, the child must be unable to earn due to minority or incapacity. Thirdly, the father must possess the means to provide such maintenance. While most Islamic schools of thought agree that the father's financial ability is a necessary precondition, the Hanafi school maintains a distinct view holding that, in the case of children, the obligation to maintain arises irrespective of actual wealth, provided the father has the capacity to earn. Therefore, the mere fact that the father is not working, in the absence of any serious mental or physical challenges, cannot be admitted as a valid justification for his failure to discharge the obligation of maintenance towards his children. In circumstances where the father lacks the means to provide maintenance and is incapable of earning due to genuine limitations, the duty to maintain the children may devolve upon the mother if she is in a position of financial ease. If neither parent possesses sufficient means, the obligation may extend to the paternal grandfather, subject to his financial ability to provide support to the children.
C.P.L.A.5009/2024
Muhammad Imran Baqir v. Mst. Zarnain Arzoo and others

Send a message to learn more

18/08/2026

Citation Name : 2026 CLC 673 ISLAMABAD
Side Appellant : AMNA FAYYAZ
Side Opponent : ADDITIONAL DISTRICT JUDGE (WEST) ISLAMABAD
S.5, Sched.---Legal technicalities---In Family suits involving children the Courts should facilitate justice rather than hinder it through excessive technicalities as well-being of minor children is of utmost importance---Legal procedures should serve as instruments to achieve justice rather than obstruct it---Wherever there is a procedural convenience, subject to the command of the statute, it must be resolved in favor of the women and children

Send a message to learn more

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق عورت کا خلع کا حق استعمال کرنا آئینی حق ہے، اس پر تشدد آئین پر حملہ ہے، خلع مانگنے والی عو...
18/08/2026

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق عورت کا خلع کا حق استعمال کرنا آئینی حق ہے، اس پر تشدد آئین پر حملہ ہے، خلع مانگنے والی عورت پر تشدد کرنے والوں کے ساتھ قانون پوری سختی سے نمٹے گا۔
عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق عورت کا خلع کا حق استعمال کرنا آئینی حق ہے، اس پر تشدد آئین پر حملہ ہے، خلع مانگنے والی عورت پر تشدد کرنے والوں کے ساتھ قانون پوری سختی سے نمٹے گا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 9، 14 اور 25 عورت کو تحفظ اور مساوی حقوق کی کامل ضمانت دیتا ہے، قانونی حق مانگنے پر عورت کا قتل کرنا قانون کے ساتھ کھلی بغاوت اور سفاکی ہے۔
عدالت عظمیٰ کے مطابق ایسے سرد مہری اور منصوبہ بند قتل میں مجرم کسی رعایت کا مستحق نہیں، گھریلو حدود کے اندر ہونے والے جرم میں رشتہ داروں کی گواہی کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے کے مطابق موقع سے ملنے والے خ*ل اور پستول کا فارنزک میچ جرم کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے، ماتحت عدالتوں کے فیصلے میں کوئی نقص نہیں، سزائے موت کا فیصلہ برقرار رہے گا۔
واضح رہے کہ11 اکتوبر 2020 کو ملزم وسیم عباس نے سابقہ بیوی شہناز بی بی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا، خاتون نے فیملی کورٹ سے خلع کی قانونی ڈگری حاصل کی تھی۔
خلع کی ڈگری ملنے کے 48 گھنٹے بعد ملزم نے گھر میں داخل ہو کر خاتون کو قتل کر دیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت اور 10 سال قید کی سزا سنائی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے بھی ملزم کی سزائے موت کی توثیق کی تھی.

25/07/2026

: نکاح نامہ!ہر شق کو سمجھیں اپنے حقوق محفوظ بنائیں
شادی کا پہلا قدم – نکاح نامہ پڑھیں اور سمجھیں/شادی کا قانونی معاہدہ اور آپ کے حقوق

نکاح نامہ – تفصیل اور ہر کالم کی وضاحت
نکاح نامہ ایک قانونی دستاویز ہے جو شادی کے معاہدے کو تحریری شکل دیتا ہے۔ اس میں دولہا، دلہن، گواہان، نکاح خواں، اور نکاح کی شرائط کی تفصیل شامل ہوتی ہے۔ یہ 25 کالمز (شقوں) پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں سے کچھ بنیادی معلومات جبکہ کچھ حقوق اور شرائط سے متعلق ہوتے ہیں۔

نکاح نامے کے تمام کالمز کی تفصیل
1 سے 12 کالم – عمومی معلومات
یہ کالم نکاح کے فریقین (دولہا اور دلہن) اور گواہان سے متعلق معلومات پر مشتمل ہوتے ہیں:

دولہا کا نام، قوم، ذات، عمر، اور پتہ
دولہا کا شناختی کارڈ نمبر
دولہا کی ازدواجی حیثیت (کنوارہ، شادی شدہ، یا مطلقہ)
اگر پہلے شادی شدہ تھا، تو سابقہ بیوی یا بیویوں کی تعداد اور ان کے بارے میں معلومات
دولہن کا نام، قوم، ذات، عمر، اور پتہ
دولہن کا شناختی کارڈ نمبر
دولہن کی ازدواجی حیثیت (کنواری، بیوہ، یا مطلقہ)
دولہن کا ولی (سرپرست) اور اس کا نام، قوم، اور پتہ
ولی کی رضا مندی سے نکاح ہوا یا نہیں؟
نکاح کے گواہان کے نام، قوم، پتہ، اور شناختی کارڈ نمبر
نکاح خواں (مولوی) کا نام، پتہ، اور شناختی کارڈ نمبر
نکاح کی تاریخ اور جگہ (محل وقوع)
13 سے 22 کالم – حقوق و شرائط
یہ نکاح کے قانونی اور مالی پہلوؤں سے متعلق ہوتے ہیں، جو فریقین کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں:

مہر کی قسم اور تفصیل

معجل (فوری ادا کیا جانے والا مہر)
مؤجل (بعد میں ادا کیا جانے والا مہر)
یہ تفصیل درج کرنا ضروری ہے تاکہ بعد میں کسی قسم کا تنازع پیدا نہ ہو۔
مہر کی مقدار (رقم یا جائیداد کی تفصیل)

مہر کا مکمل یا جزوی طور پر ادا ہونے کا ذکر

مہر کی ادائیگی کی شرائط اگر کوئی طے کی گئی ہوں

کوئی اضافی شرائط اگر طے کی گئی ہوں، جیسے جائیداد یا دیگر مالی حقوق

کیا شوہر نے بیوی کو حقِ طلاق دیا؟

اگر دیا ہے تو نکاح نامے میں درج کرنا ضروری ہے۔
حقِ طلاق ہونے کی صورت میں بیوی عدالت کے بغیر بھی طلاق لے سکتی ہے۔
کیا بیوی کو کسی شرط کے تحت طلاق لینے کا حق حاصل ہے؟

اگر مشروط حق طلاق دیا گیا ہے تو وہ شرائط یہاں لکھی جائیں گی، جیسے شوہر کی بے وفائی، مار پیٹ، یا مالی ذمہ داری پوری نہ کرنے کی صورت میں بیوی کو طلاق کا حق حاصل ہوگا۔
نان نفقہ اور دیگر مالی ذمہ داریوں کا تعین

شوہر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ بیوی اور بچوں کا مکمل نان نفقہ ادا کرے۔
اگر کوئی مخصوص شرائط رکھی گئی ہیں، تو وہ یہاں درج کی جائیں گی۔
کیا شوہر کو دوسری شادی کے لیے ثالثی کونسل سے اجازت لینا ہوگی؟

اگر بیوی چاہے تو یہ شرط رکھ سکتی ہے کہ شوہر دوسری شادی کے لیے اس کی اجازت لے گا۔
دوسری شادی کے لیے بیوی کی شرائط

اگر شوہر دوسری شادی کرنا چاہے تو اسے کیا شرائط پوری کرنی ہوں گی، جیسے مالی طور پر مساوی حقوق دینا وغیرہ۔
23 سے 25 کالم – نکاح کی تصدیق
یہ نکاح کی رجسٹریشن اور گواہان کی تصدیق سے متعلق ہوتے ہیں:

نکاح کی تاریخ، وقت، اور جگہ
نکاح کی رجسٹریشن کے متعلق تفصیلات
نکاح خواں (مولوی) کی تصدیق اور دستخط
نکاح نامہ کیوں پڑھنا ضروری ہے؟
شادی صرف ایک رسم نہیں، بلکہ قانونی معاہدہ بھی ہے، اس لیے نکاح نامے کو مکمل سمجھ کر دستخط کریں۔
اگر کسی شق پر اعتراض ہو یا تبدیلی کرنی ہو تو نکاح سے پہلے ہی نکاح خواں کو بتائیں۔
شوہر اور بیوی دونوں کے حقوق کا تحفظ اسی نکاح نامے میں موجود ہے، اس لیے اس پر مکمل دھیان دیں۔
نکاح کے وقت شامل کی جا سکنے والی شرائط
✅ بیوی کو حق طلاق دینا
✅ دوسری شادی کے لیے بیوی کی اجازت کی شرط
✅ مہر کی مکمل وضاحت
✅ نان نفقہ اور دیگر مالی اخراجات
✅ جائیداد یا دیگر مالی حقوق کا تعین

🚨 عیسائی وراثت میں بیٹیوں کو محروم نہیں کیا جا سکتا — بورڈ آف ریونیو پنجاب کا اہم فیصلہ، بیٹے اور بیٹیاں دونوں برابر کے قانونی وارث قرار
📌 کیس کی بنیادی معلومات
حوالہ (Citation): 2016 YLR 2721
فورم: Board of Revenue Punjab
فریقین: Bashir Alam and Others v. Marthan and Others
📝 خلاصۂ فیصلہ
یہ مقدمہ 100 کنال سرکاری الاٹ شدہ زرعی زمین کی وراثت سے متعلق تھا۔ متوفی نوازب مسیح (Nawab Masih) کے انتقال کے بعد ریونیو حکام نے وراثتی انتقال صرف بیٹوں کے نام منظور کر دیا اور بیٹیوں کو وراثت سے محروم کر دیا۔
بیٹیوں نے اس اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بھی قانون کے مطابق برابر کا حق حاصل ہے، جبکہ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ Colonization of Government Lands Act, 1912 کی دفعہ 20 اور پرانے عیسائی رسم و رواج کے مطابق صرف مرد اولاد ہی وارث بنتی ہے۔
بورڈ آف ریونیو نے سپریم کورٹ کے فیصلے PLD 1992 SC 385 پر انحصار کرتے ہوئے قرار دیا کہ عیسائیوں میں پرانا رسمی قانون (Christian Customary Law) اب قابلِ عمل نہیں رہا۔ Succession Act, 1925 کے تحت عیسائی مرد اور عورت دونوں یکساں طور پر وراثت کے حق دار ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی بیٹی کو صرف اس وجہ سے وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ عورت ہے۔ چنانچہ صرف بیٹوں کے نام کیا گیا وراثتی انتقال برقرار نہیں رکھا جا سکتا، اور تمام قانونی وارثوں کے حصے قانون کے مطابق مقرر کیے جائیں گے۔
⚖️ عدالت کا مقرر کردہ اصول (Principle of Law)
عیسائی متوفی کی جائیداد یا وراثتی حقوق میں بیٹے اور بیٹیاں دونوں برابر کے قانونی وارث ہیں، اور کسی بیٹی کو صنف کی بنیاد پر وراثت سے محروم کرنا قانوناً ناجائز ہے.

Send a message to learn more

25/07/2026

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: جہیز کی واپسی کے لیے رسیدیں لازمی نہیں، قابلِ اعتماد زبانی گواہی بھی کافی ہے
سابقہ حوالہ (Citation): 2017 SCMR 393
عدالت: سپریم کورٹ آف پاکستان
کیس: Shafique Sultan v. Mst. Asma Firdous
مقدمے کا خلاصہ
یہ مقدمہ بچوں کے نان و نفقہ اور جہیز کے سامان کی واپسی سے متعلق تھا۔ بیوی نے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا کہ اسے اپنے دو کم عمر بچوں کا نان و نفقہ اور شادی کے وقت ملنے والا جہیز کا سامان واپس دلایا جائے۔ شوہر نے دعویٰ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نہ وہ مناسب نان و نفقہ ادا کر سکتا ہے اور نہ ہی بیوی کو کوئی جہیز دیا گیا تھا۔
فیملی کورٹ نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ دیا کہ:
دونوں بچوں کو ماہانہ نان و نفقہ ادا کیا جائے اور مستقبل میں اس میں سالانہ 10 فیصد اضافہ کیا جائے۔
بیوی کو جہیز کا سامان واپس کیا جائے۔
اگر سامان واپس نہ کیا جا سکے تو اس کی 65 فیصد قیمت ادا کی جائے، جبکہ سونے کے زیورات کی مکمل قیمت ادا کی جائے۔
یہ فیصلہ ہائی کورٹ میں بھی برقرار رہا، جس کے بعد شوہر نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
سپریم کورٹ کے سامنے قانونی سوال
کیا صرف زبانی شہادت (Oral Evidence) کی بنیاد پر جہیز کے سامان کی واپسی کا دعویٰ ثابت کیا جا سکتا ہے، یا رسیدیں اور دیگر دستاویزی ثبوت لازمی ہیں؟
سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے شوہر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیملی کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے اور قرار دیا کہ:
قابلِ اعتماد زبانی شہادت جہیز کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
ہر مقدمے میں خریداری کی رسیدیں پیش کرنا لازمی نہیں۔
اگر شوہر بیوی کی شہادت کو مؤثر انداز میں رد نہ کر سکے اور اپنے مؤقف کے حق میں کوئی مضبوط ثبوت پیش نہ کرے تو صرف انکار کافی نہیں ہوتا۔
فیملی مقدمات میں قانونِ شہادت (Qanun-e-Shahadat Order, 1984) کا سخت اور تکنیکی اطلاق نہیں کیا جاتا۔
اس فیصلے میں قائم ہونے والے اہم اصول (Golden Principles)
جہیز کے سامان کی واپسی کے دعوے میں صرف رسیدوں کی عدم موجودگی دعویٰ مسترد کرنے کی وجہ نہیں۔
قابلِ اعتماد زبانی شہادت بھی مؤثر ثبوت ہو سکتی ہے۔
فیملی مقدمات میں قانونِ شہادت کا سخت اطلاق نہیں کیا جاتا۔
صرف انکار کرنا کافی نہیں، دعویٰ رد کرنے کے لیے مخالف فریق کو بھی ثبوت پیش کرنا ہوگا۔
استعمال شدہ جہیز کی واپسی ممکن نہ ہو تو عدالت اس کی مناسب یا کم شدہ قیمت دلوا سکتی ہے۔
حتمی حکم
سپریم کورٹ نے شوہر کی اپیل مسترد کر دی، فیملی کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے، بیوی کو جہیز کے سامان یا اس کی مقررہ قیمت اور بچوں کے نان و نفقہ کا حق برقرار رکھا۔
یاد رکھنے والا اصول
"فیملی مقدمات میں جہیز کے سامان کی واپسی کے لیے صرف رسیدیں لازمی نہیں، بلکہ اگر زبانی شہادت قابلِ اعتماد ہو تو وہ بھی دعویٰ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، کیونکہ ایسے مقدمات میں قانونِ شہادت کا سخت اطلاق نہیں کیا جاتا۔

Send a message to learn more

14/01/2026

2025 YLR 2669

اس مقدمہ میں ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ نابالغ بچے کی تحویل (custody) کے معاملات میں واحد اور فیصلہ کن اصول “بچے کی فلاح و بہبود” (welfare of minor) ہے، نہ کہ صرف ماں یا باپ کا فطری حق یا ماں کا غیر شادی شدہ ہونا۔
عدالت نے اپیلیٹ کورٹ کے اس نظریے کو غلط قرار دیا کہ اگر ماں نے دوسری شادی نہ کی ہو تو باپ کے لیے کم سن بچے کی تحویل کا کوئی دائرہ باقی نہیں رہتا۔ عدالت کے مطابق ایسا کوئی مطلق اصول موجود نہیں، بلکہ ہر کیس اپنے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے۔ جب باپ یہ ثابت کر دے کہ وہ بہتر تعلیم، بہتر ماحول، بہتر طرزِ زندگی اور بچے کی مجموعی فلاح و بہبود فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس کے حق میں معقول دستاویزی شواہد موجود ہوں، تو محض اس بنیاد پر کہ ماں غیر شادی شدہ ہے، بچے کی تحویل اس سے نہیں چھینی جا سکتی۔
مزید برآں، چونکہ نابالغ لڑکا سات سال کی عمر کے قریب تھا، اس لیے مسلم پرسنل لا کے تحت باپ، بطور قدرتی سرپرست، تحویل کا حق بھی رکھتا ہے، بشرطیکہ بچے کی فلاح اس کے ساتھ وابستہ ہو۔ اسی بنیاد پر ہائیکورٹ نے اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر گارڈین کورٹ کا فیصلہ بحال کیا، جو کہ مکمل طور پر بچے کی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے دیا گیا تھا.

Send a message to learn more

Address

Gulberg 3
Lahore
092

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Family Law Services in Lahore posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share