The Legal Services INC. Lahore, Pakistan.

The Legal Services INC. Lahore, Pakistan. Advocates, Solicitors, Advisors and Revenue Law Consultants
CE: Sameer Ijaz AHC The Legal Services Inc. Our focus at TLS Inc.

(TLS) is a full service law firm based in Lahore, Pakistan. (TLS) is specialized in areas of Land Revenue Laws, Corporate laws, Banking Laws, Excise & Taxation Laws, Business Laws, Consumer Laws, Family Laws, Real Estate Laws, Alternate Dispute Resolution, Civil and Criminal Litigation and seeks to add value to the existing Legal Professional Claims in Pakistan. Our firm has been at the forefront

of managing dispensation of quality legal services on a global basis. Our team of expert attorneys, solicitors and professional consultants very well understand, what it takes to meet client expectations for excellent work and responsive services across different cities of Pakistan and variety of legal systems. Our law firm is an enterprise of outstanding capabilities, unmatched enthusiasms, keen intellects, unyielding integrity and an extraordinary desire to understand and serve clients. is simple, that we are deeply committed to the success of our distinguished roster of clientele. We have built our service approach upon a commitment to excellence. We are fully equipped, vastly experienced, true to our clients' business interests and work in accordance with the highest ethical standards of the profession. All kind of free legal aid is provided for poor and deserving people under the patronage of Abida Khatoon Memorial Trust. Client satisfaction is the core focus of our all activities by rendering prompt, timely and effective integrated services. Continuous education and development programs for our team members are part of our belief system; to keep up with the changing global environment. Our inspiration is to be a renowned and eminent global law firm and to provide swift, reliable and high quality legal services to the foreign investors and Pakistani entrepreneurs. We ensure our clients of the confidentiality and respect for their information and values.

23/03/2025

وراثت کی تقسیم کا قانونی طریقہ کار آسان اردو زبان میں ۔

وراثت کی تقسیم کا مکمل اور جامع قانونی طریقہ کار:

(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.

(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.

(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.

جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار:

(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.

(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی.

(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے گا.
X

(1): شوہر کی جائیداد میں بیوی یا بیویوں کا حصہ:

(١): شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہونگی تو ان میں وہی حصہ تقسیم ہوجاۓ گا.

(٣): اگر شوہر کے اولاد ہے تو جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ بیوی کا ہے، چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر شوہر کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، بیوی کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر شوہر کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیوی کیلئے جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ ہے اور شوہر کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر کے اولاد نہیں ہے تو بیوی کا حصہ چوتھائی (1/4) ہو گا اور باقی جائیداد شوہر کے والدین کی ہوگی.

(٧): اگر کوئی بیوی شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاتی ہے تو اسکا حصہ نہیں نکلے گا.

(٨): اگر بیوہ نے شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے دوسری شادی کرلی تو اسکو حصہ نہیں ملے گا.

(٩): اور اگر بیوہ نے حصہ لینے کے بعد شادی کی تو اس سے حصہ واپس نہیں لیا جاۓ گا.

(2): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ:

(١): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ نصف (1/2) یا چوتھائی (1/4) ہے.

(٢): اگر بیوی کے اولاد نہیں ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور نصف (1/2) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے.

(٣): اگر بیوی کے اولاد ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے، اور چھٹا (1/6) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.

(٤): اگر بیوی کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، شوہر کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد بیوی کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر بیوی کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور بیوی کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر شوہر، بیوی کے والدین کی طرف سے جائیداد ملنے سے پہلے فوت ہو جاۓ تو اس میں شوہر کا حصہ نہیں نکلے گا.

(٧): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے بچے ہیں تو بیوی کا اپنے والدین کی طرف سے حصہ نکلے گا اور اس میں شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا اور باقی بچوں کو ملے گا.

(٨): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

(3): باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): باپ کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): باپ کی جائیداد میں پہلے باپ کے والدین یعنی دادا، دادی کا چھٹا (1/6) حصہ، اور باپ کی بیوہ یعنی ماں کا آٹھواں (1/8) حصہ نکالنے کے بعد جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں، دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، آٹھ واں (1/8) حصہ بیوہ ماں کا ہوگا اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کوملے گا.

(٤): اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے، آٹھواں (1/8) حصہ بیوہ ماں کیلئے ہے اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کیلئے ہے.

(٥): اگر باپ کے والدین یعنی دادا یا دادی جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اگر کوئی بھائی باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا اور اسکی بیوہ اور بچے ہیں تو بھائی کا حصہ مکمل طریقہ سے نکالا جاۓ گا.

(٧): اگر کوئی بہن باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاۓ اور اسکا شوہر اور بچے ہوں تو شوہر اور بچوں کو حصہ ملے گا. لیکن اگر بچے نہیں ہیں تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گ

(4): ماں کی جائیداد میں اولاد کا حصہ:

(١): ماں کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): جائیداد ماں کے والدین یعنی نانا نانی اور باپ کا حصہ نکالنے کے بعد اولاد میں تقسیم ہوگی.

(٣): اور اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، باپ کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد ماں کے والدین کیلئے ہے.

(٤): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، باپ کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور ماں کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر ماں کے والدین تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.

(٦): اور اگر باپ بھی زندہ نہیں ہے تو باپ کا حصہ بھی نہیں نکالا جاۓ گا ماں کی پوری جائیداد اسکے بچوں میں تقسیم ہوگی.

(٧): اگر ماں کے پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہے تو وہ بچے بھی ماں کی جائیداد میں برابر کے حصہ دار ہونگے

(5): بیٹے کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹے کے اولاد ہو تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹے کے اولاد نہیں ہے لیکن بیوہ ہے اور بیوہ نے شوہر کی جائیداد کے تقسیم ہونے تک شادی نہیں کی تو اس کو جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا اور باقی جائیداد بیٹے کے والدین کی ہوگی.

(٤): اگر بیٹے کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٥): اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹا رنڈوا ہے اور اسکے کوئی اولاد بھی نہیں ہے تو اسکی جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور دو تہائی (2/3) حصہ باپ کا ہے اور اگر بیٹے کے بہن بھائی بھی ہوں تو اسکی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور باقی باپ کا ہے.

(6): بیٹی کی جائیداد میں والدین کا حصہ:

(١): اگر بیٹی کے اولاد ہے تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.

(٣): اگر بیٹی کے اولاد نہیں ہے لیکن شوہر ہے تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملے گا اور نصف (1/2) جائیداد بیٹی کے والدین کی ہوگی.

(٤): اور اگر بیٹی کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے ایک چوتہائی (1/4) حصہ اور باقی والدین کا ہے.

(٥): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے چوتہائی (1/4) حصہ اور والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٦): اگر بیٹی بیوہ ہو اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہوگا اور اگر بیٹی کے بہن بھائی ہیں تو ماں کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہوگا اور باقی باپ کو ملے گا.

(7): کلالہ:

کلالہ سے مراد ایسے مرد اور عورت جنکی جائیداد کا کوئی وارث نہ ہو یعنی جنکی نہ تو اولاد ہو اور نہ ہی والدین ہوں اور نہ ہی شوہر یا بیوی ہو.

(١): اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہوں، اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں، اور اگر اسکا صرف ایک سوتیلہ بھائی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے، یا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.

(٢): اگر بہن، بھائی تعداد میں زیادہ ہوں تو وہ سب جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصہ میں شریک ہونگے.

(٣): اور باقی جائیداد قریبی رشتے داروں میں اگر دادا، دادی یا نانا، نانی زندہ ہوں یا چچا، تایا، پھوپھی، خالہ، ماموں میں یا انکی اولادوں میں جو ضرورت مند ہوں ان میں ایسے تقسیم کی جاۓ جو کسی کیلئے ضر رساں نہ ہو.

(8): اگر کلالہ کے سگے بہن بھائی ہوں:

(١): اگر کلالہ مرد یا عورت ہلاک ہوجاۓ، اور اسکی ایک بہن ہو تو اسکی بہن کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلئے ہے.

(٢): اگر اسکی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلیے ہے.

(٣): اگر اسکا ایک بھائی ہو تو ساری جائیداد کا بھائی ہی وارث ہوگا.

(٤): اگر بھائی، بہن مرد اورعورتیں ہوں تو ساری جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی مرد کیلئے دوگنا حصہ اسکا جوکہ عورت کیلئے ہے.

الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اور ہر ترکہ کیلئے جو ماں باپ اور عزیز و اقارب چھوڑیں ہم نے وارث قرار دئیے ہیں اور جن سے تم نے عہد کر لئے ہیں ان کا حصہ ان کو دیدو بیشک الله ہر شے پر گواہ ہے. (4:33)

مردوں کیلئے اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں ایک حصہ ہے اور عورتوں کیلئے بھی اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں تھوڑا یا زیادہ مقرر کیا ہوا ایک حصہ ہے. (4:7)

اور جب رشتہ دار و یتیم اور مسکین تقسیم کے موقع پر حاضر ہوں تو انکو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے نرمی کے ساتھ کلام کرو. (4:8)

الله تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے اور اگر فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو ترکے کا دو تہائی (2/3) ان کا ہے اور اگر وہ ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے نصف (1/2) ہے اور والدین میں سے ہر ایک کیلئے اگر متوفی کی اولاد ہو تو ترکے کا چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کیلئے ترکہ کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور اگر متوفی کے بہن بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے بعد تعمیل وصیت جو وہ کر گیا ہو یا بعد اداۓ قرض کے تم نہیں جانتے کہ تمہارے آباء یا تمہارے بیٹوں میں سے نفع رسانی میں کون تم سے قریب تر ہے یہ الله کی طرف سے فریضہ ہے بیشک الله جاننے والا صاحب حکمت ہے. (4:11)

اور جو ترکہ تمہاری بے اولاد بیویاں چھوڑیں تمہارے لئے اس کا نصف (1/2) حصہ ہے اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے اس ترکہ کا جو وہ چھوڑیں چوتھائی (1/4) حصہ ہے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کی ادائیگی کے بعد اور اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو جو ترکہ تم چھوڑو ان عورتوں کیلئے اس کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور اگر تمہارے اولاد ہو تو ان عورتوں کا اس ترکہ میں آٹھواں (1/8) حصہ ہے جو تم چھوڑو بعد از تعمیل وصیت جو تم نے کی ہو یا قرض کی ادائیگی کے اور اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر وہ تعداد میں اس سے زیادہ ہوں تو بعد ایسی کی گئی وصیت کی تعمیل جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو یا ادائیگی قرض کے وہ سب ایک تہائی (1/3) میں شریک ہونگے یہ وصیت منجانب الله ہے اور الله جاننے والا بردبار ہے. (4:12)

تجھ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دے کہ الله تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا آدمی ہلاک ہوجاۓ جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو پس اس کی بہن کیلئے اس کے ترکہ کا نصف (1/2) حصہ ہے. (اگر عورت ہلاک ہوجاۓ) اگر اس عورت کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کا وارث اس کا بھائی ہوگا اور اگر اس کی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے اس کے ترکہ کا دو تہائی (2/3) ہے اور اگر بھائی بہن مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کیلئے دوگنا حصہ اس کا جو کہ عورت کیلے ہے الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

25/12/2024

زمین کی پیمائش۔۔۔ آسان انداز میں۔۔۔

دو قدم: 1 کرم
1 کرم: 5.5 فٹ
5.5 مربع فٹ (1 مربع کرم): 1 سرسائی
9 سرسائی: 1مرلہ
9 مربع کرم: 1 مرلہ
20 مرلے: 1 کنال
4 کنال: 1 وِگھا (بیگھا، دواڑھا)
2 وِگھے: 1 ایکڑ یعنی 8 کنال (اک پیلی)
36 کرم ضرب 40 کرم
یا 220 فٹ ضرب 198 فٹ: 1 ایکڑ
9 کنال: 1 کیلہ
2.5 کیلے: 1 ہیکٹر
25 کِیلے: 1 مربعہ

انگریز دور والے پیمانے۔۔۔
25 کِیلے: 1 مربعہ
یعنی 40 کرم ضرب 40 کرم
یا 220 فٹ ضرب 220 فٹ
10 کِیلے دی سدھی لمبائی: 1 کوہ (2.5 کلومیٹر)

کلومیٹر سے پہلے کے پیمانے۔۔۔
8 سوتر: 1 انچ
12 انچ: 1 فٹ
3 فٹ: 1 گز
220 گز : 1 فرلانگ
8 فرلانگ : 1میل
یا 1760 گز : 1 میل
بشکریہ بابر خان

دیسی پیمانے۔۔۔

اک انگل
دو انگلاں
تن انگلاں
چپا
گٹھ
ہتھ
قدم
ادھا کروں (کرم)
کروں
ادھواڑ
کلہ
مربعہ
بھاک
میل
کوہ
گھوڑیاں دا کوہ

اصول وراثت
11/11/2024

اصول وراثت

20/10/2024
*فصل ربیع۔**اس سے مراد موسم سرما کی فصلیں ہیں یہ فصلیں موسم سرما کےآغاز میں کا شت کی جاتی ہیں اور موسم گرما میں کاٹی جات...
25/09/2024

*فصل ربیع۔*

*اس سے مراد موسم سرما کی فصلیں ہیں یہ فصلیں موسم سرما کےآغاز میں کا شت کی جاتی ہیں اور موسم گرما میں کاٹی جاتی ہیں گندم چنا، دال مسور ،سرسوں، تارا میرا، توریا، رائی ،جئی، ربیع کی چند فصلیں ہیں۔*

*فصل خریف ۔*
*اس سےمراد موسم گرما کی فصلیں ہیں یہ فصلیں مو سم برسات کے شروع میں یا اس کے دوران کاشت کی جاتی ہیں اور موسم گرما کے آخر یا خزاں میں کاٹی جاتی ہیں۔* *جیسے ،مکئ ،باجرہ، جوار ، دھان، کپاس ،مونگ پھلی ، کماد اور سورج مکھی ۔خریف کی چند فصلیں ہیں۔*

‏زمین کی پیماٸش کے طریقے۔بہت ضروری معلومات ہیں ضرور دیکھیں۔خرید فروخت میں استعمال ہونے والی بنیادی زمینی پیمانے درج ذیل ...
04/09/2024

‏زمین کی پیماٸش کے طریقے۔
بہت ضروری معلومات ہیں ضرور دیکھیں۔
خرید فروخت میں استعمال ہونے والی بنیادی زمینی پیمانے درج ذیل ہیں:

ایک کرم 5.5 فٹ کے برابر
ایک مرلہ 9 مربع کرم کے برابر (272.25 مربع فٹ) (30.25 گز)
ایک کنال 20 مرلہ کے برابر (5,445 مربع فٹ)
ایک کلہ 8 کنال کے برابر (43,560 مربع فٹ = 1 ایکڑ)
بعض علاقوں میں ایکڑ 9 کنال کا ہوتا مثلا ٹوبہ ٹیک سنگھ
ایک بیگھا 4 کنال کے برابر
ایک مربع 25 کلہ کے برابر (1,089,000 مربع فٹ = 25 ایکڑ)
دو قدیم پیمانے

ایک بیسا = 15 مربع کرم؛ 12 بیسا = 1 کنال (605 گز)
ایک بیگھا = 20 بیسا - 1008 مربع یارڈ - 842.68 مربع میٹر (1000 گز)
تمام علاقوں میں ایک جیسی میعاری پیمائش کے لیے کرم یا گتھا 66 انچ مانا جاتا ہے۔
ایک مربع کرم یا سرسائی = 3.3611111 مربع گز
نو (9) سرساہیاں یا ایک مرلہ = 30.249999 مربع گز (30.25 مربع گز)
20 مرلے یا ایک کنال = 604.99996 مربع گز (605 مربع گز)
160 مرلے یا 8 کنال = 4839.99998 مربع گز (4840 مربع گز)
بعض متحدہ علاقوں میں معیاری پیمائش علاقائی ہے، جس کو کچھ غیر متحد علاقے امرتسر، گوادر اسپور (سوائے، شاہ پور ہل سرسلی اور پٹھانکوٹ تحصیل میں چک اندر)، فیروز پور (سوائے فیزاکہ)،اور فرید کوٹ کی سابق شاہی ریاست، اس کے علاوہ لاہور پاکستان کے لیے بھی۔
ایک کرم = 60 انچ
ایک مربع کرم= 2.777777 مربع گز
9 سرسائی یا ایک مرلہ = 24.999999 مربع گز (25 مربع گز)
20 مرلہ یا ایک کنال = 499.9999 مربع گز (500مربع گز)
193.60 مرلہ (9کنال ایک ایکڑ ) = 4880 مربع گز 13 مرلہ 5 سرسائی*

مرلہ کی قدر میں مختلف علاقوں میں اختلاف ہے۔ راولپنڈی اور اس کے نواح میں اس کی قدر 272 مربع فُٹ (25.27 مربع میٹر) بتائی جاتی ہے، جبکہ کچھ علاقوں (بمطابق رسول انجینرنگ کالج) میں 225 مربع فُٹ (20.903 مربع میٹر) سمجھی جاتی ہے۔
ایکڑ کی بین الاقوامی قدر 4046.85642 مربع میٹر سمجھی جاتی ہے۔۔

کرُو ۔ دیسی نظام سے زمین ناپنے کی بنیادی اکائی "کرُو" یا "کرُوں" ہے۔ اردو میں اس کو "کُرم" یا "کرُم" کہتے ہیں۔ ایک کرو برابر ہوتا ہے دو قدم کے۔ جدید حساب کتاب میں ایک کرم ساڑھے پانچ فٹ سے کچھ کم (65 یا ساڑھے 65 انچ) ہوتا ہے۔
سرسائی ۔ ایک مربع کرُو کو ایک سرسائی کہا جاتا ہے۔
مرلہ ۔ نو سرسائی مل کر ایک مرلہ تشکیل پاتی ہیں۔ یعنی تین کرو ضرب تین کرو کا رقبہ۔ یہ 272 جمع ایک بٹا چار مربع فٹ بنتا ہے۔ شہروں میں 250 مربع فٹ کو ایک مرلہ کہا جانے لگا ہے۔ بلکہ بعض جگہ اس سے بھی کم کا سننے میں آنے لگا ہے۔
کنال ۔ اصل دیسی نظام میں 20 مرلے مل کر ایک کنال تشکیل دیتے ہیں۔ البتہ شہروں میں 16 مرلہ رقبے کو بھی ایک کنال قرار دیا جاتا ہے۔
بیگھہ ۔ چار کنال کے برابر
ایکڑ (یا کِلہ) ۔ آٹھ کنال کے برابر
مربعہ ۔ پچیس کِلوں کے برابر

زمینی پیمایش ۔۔
Plot measurement in Pakistan (Marla, Feet, Yard, Metre)
پلاٹ کی پیمائش
پاکستان میں پلاٹ کی پیمائش کے بہت سے طریقے رائج ہیں کچھ علاقوں میں یہ پیمائش فٹ میں کی جاتی ہے کچھ میں گز میں بعض علاقوں میں میٹر میں جبکہ زیادہ تر علاقوں میں مرلے میں کی جاتی ہے مرلہ جو کہ 272.25 فٹ کا ہوتا ہے بعض علاقوں میں 225 اور 250 فٹ کا بھی ہوتا ہے اسلئے لوگ کنفیوز ہو جاتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کیلئے آپ پلاٹ کی پیمائش کسی بھی پیمانے میں آسانی سے کر سکیں ۔۔ بہتر ہے کہ

پلاٹ کا رقبہ معلوم کرنے کیلئے چاروں طرف کی پیمائش فٹ میں دیں

زمین کی ناپ کرنے کا طریقہ
فٹ یعنی feet کے ذریعے یا لمبائی ناپنے والے فیتہ کے
ذریعے
پہلے زمین کی دونوں لمبائیوں کو ناپ کر دو سے تقسیم کریں
پھر زمین کی دونوں چوڑائیوں کو ناپ کر دو سے تقسیم کریں
اب ان دونوں کے جو جواب آئیں ان دونوں کو آپس میں ضرب دیں
اب ضرب کے بعد نکلنے والے جواب کو 272 سے تقسیم کریں
جواب مرلہ کی شکل میں حاضر ہے
دوسرا طریقہ
یہ طریقہ صرف زمین کے ایریا کا اندازہ لگانے کیلیے ہے اور اس طریقے سے زیادہ باریکی سے ناپ نہی کی جا سکتی بس تقریباً کی حد تک اندازہ لگایا جا سکتا ہے
دونوں لمبائیوں کے کرم گن کر دو سے تقسیم کریں
دونوں چوڑائیوں کے کرم گن کر دو سے تقسیم کریں
ان دونوں کے جواب کو آپس میں ضرب دیں
اب ضرب سے ملنے والے جواب کو 9 سےتقسیم کریں
جواب مرلے کی شکل میں حاضر ہے
( ایک کرم سے مراد نارمل قد کے آدمی کے دو قدم )

دائرے کا رقبہ معلوم کرنے کا طریقہ:

دائرے کا رقبہ معلوم کرنا بہت آسان ہے۔ دائرے کا رقبہ یا گھیرا معلوم کرنے کیلئے ایک خاص نمبر کی ضرورت ہوتی ہے جس کو انگلش میں "پائے" Pi کہتے ہیں۔ پائے کو ریاضی میں ایک خاص علامت سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ پائے کی ویلیو ۳.۱۴ ہوتی ہے۔

اگر آپ دائرے کا رقبہ یا گھیرا معلوم کرنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے بنیادی طور پر دو فارمولے استعمال ہوتے ہیں۔
اندراج کیا جاتا ہے۔۔
Copied...

My law book "Colony Manual" is now available in PDF format. Can be downloaded from my website thelegalservicesinc.com
12/08/2024

My law book "Colony Manual" is now available in PDF format. Can be downloaded from my website
thelegalservicesinc.com

Address

71-Hajvery Complex, 2-Mozang Road
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Legal Services INC. Lahore, Pakistan. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to The Legal Services INC. Lahore, Pakistan.:

Share