Law information

Law information This page is very informative for those people who want to get knowledge about law. In this page eve

26/08/2026

کیا روڑ سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیے بغیر صرف یہ کہنا کہ ہم نے اگلے ہی دن مال Malkhana میں جمع کرایا اور PFSA بھیج دیا کافی ہے؟
کیا یہ ثابت کرنے کیلئے کہ پولیس پارٹی patrol duty پر تھی روزنامچہ عدالت میں پیش کیا گیا؟
کیا Case Property کو عدالت میں کھولنا اور display کرنالازمیہے؟
اگر defence de-sealing کا مطالبہ نہ کرے تو کیا trial court parcel کھولنے کی پابند نہیں ؟
یہ فیصلہ منشیات کے مقدمات میں Chain of Custody، Case Property کی باقاعدہ نمائش، گواہوں سے شناخت، اور Roznamcha/Police Rules کی پابندی کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ لاہور ہائی کورٹ، بہاولپور بنچ نے صرف تکنیکی خامیوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایسے نقائص کی بنیاد پر اپیل منظور کی جو استغاثہ کے مقدمے کی بنیادی شہادت اور برآمد شدہ منشیات کی شناخت و حفاظت کو مشکوک بناتے تھے۔

1۔ مقدمے کے بنیادی حقائق

ملزم ذوالفقار علی کے خلاف تھانہ ایئرپورٹ، رحیم یار خان میں مقدمہ درج ہوا۔

پولیس کے مطابق:

ملزم کے قبضے سے 6 کلو گرام چرس برآمد ہوئی۔

چرس پانچ ٹکڑوں میں تھی، ہر ٹکڑا تقریباً 1200 گرام کا تھا۔

ہر ٹکڑے سے 60 گرام نمونہ لے کر پانچ الگ سیل شدہ پارسل بنائے گئے۔

باقی 5700 گرام چرس الگ پارسل میں محفوظ کی گئی۔

نمونے PFSA کو بھیجے گئے اور کیمیائی تجزیے کی رپورٹ مثبت آئی۔

ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 14 سال قید بامشقت اور 4 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی۔

ہائی کورٹ میں دفاع نے بنیادی طور پر کہا کہ:

1. مالِ مقدمہ کی محفوظ تحویل ثابت نہیں ہوئی۔

2. PFSA کو بھیجے گئے نمونوں کی محفوظ ترسیل ثابت نہیں ہوئی۔

3. متعلقہ Roznamcha اور Malkhana ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔

4. مالِ مقدمہ کو عدالت میں کھول کر گواہوں سے شناخت نہیں کروائی گئی۔

5. ملزم کو مالِ مقدمہ سے باقاعدہ confront نہیں کیا گیا۔

6. برآمد شدہ چرس کی شکل کے بارے میں دونوں recovery witnesses کے بیانات مختلف تھے۔

ہائی کورٹ نے یہ اعتراضات تسلیم کر لیے۔

---

2۔ سب سے اہم قانونی نکتہ: Chain of Custody

عدالت نے قرار دیا کہ منشیات کے مقدمے میں Chain of Custody یعنی برآمد شدہ منشیات کی مسلسل، محفوظ اور قابلِ اعتماد تحویل انتہائی اہم ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ prosecution کو ہر مرحلے پر یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ:

برآمدگی → پولیس کے قبضے میں آنا → Malkhana میں جمع ہونا → sample parcels کا نکلنا → PFSA تک پہنچنا → Laboratory examination

کے دوران مال میں تبدیلی، substitution یا tampering کا کوئی امکان نہیں تھا۔

صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ:

> "ہم نے مال Malkhana میں جمع کرایا اور اگلے دن PFSA بھیج دیا۔"

بلکہ اس کا دستاویزی ثبوت بھی ہونا چاہیے۔

---

3۔ Roznamcha کیوں اہم تھا؟

پولیس کا موقف تھا کہ ASI Tayyab Shahid پولیس پارٹی کے ہمراہ patrol duty پر تھا اور اسے مخبری ہوئی، جس کے بعد کارروائی کی گئی۔

لیکن عدالت میں متعلقہ Roznamcha entries پیش نہیں کی گئیں۔

یعنی prosecution نے یہ ثابت کرنے کے لیے documentary record پیش نہیں کیا کہ:

پولیس پارٹی واقعی اس وقت patrol پر تھی؛

وہ Noor-e-Wali Phatak پر موجود تھی؛

وہاں سے raid کے لیے روانہ ہوئی؛

بعد ازاں پولیس اہلکاروں کی movement کیا رہی۔

ہائی کورٹ نے اس omission کو اہم سمجھا۔

عملی قانونی اصول

منشیات کے مقدمات میں پولیس کی movement اور case property کی movement دونوں کو جہاں قانون اور قواعد تقاضا کریں وہاں documentary record سے corroborate کرنا prosecution کے لیے انتہائی اہم ہے۔

---

4۔ Malkhana Register No. XIX کیوں اہم تھا؟

یہ فیصلہ کا نہایت اہم حصہ ہے۔

Malkhana Moharrar نے بیان دیا کہ:

14.11.2023 کو اسے چھ sealed parcels ملے۔

15.11.2023 کو پانچ sample parcels ASI Tayyab Shahid کو PFSA بھیجنے کے لیے دیے۔

باقی مال دوسرے Malkhana میں جمع کروایا۔

لیکن اس نے Register No. XIX کی متعلقہ entries عدالت میں پیش نہیں کیں۔

اس کے علاوہ اس نے بتایا کہ samples:

Road Certificate No. 919/21

کے ذریعے بھیجے گئے تھے، مگر یہ Road Certificate بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

لہٰذا عدالت کے سامنے صرف زبانی بیان رہ گیا۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ محض معمولی procedural lapse نہیں بلکہ Chain of Custody میں serious gap ہے۔

---

5۔ صرف PFSA کی Positive Report کافی نہیں

یہ اصول خاص طور پر یاد رکھنے کے قابل ہے۔

اگر PFSA رپورٹ کہتی ہے کہ sample چرس ہے، تب بھی prosecution کو پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ:

PFSA نے جس sample کا تجزیہ کیا، وہی sample تھا جو ملزم سے برآمد ہوا تھا۔

اگر sample کی identity اور safe transmission ہی مشکوک ہو جائے تو:

> Positive Chemical Report اپنی evidentiary value کھو سکتی ہے۔

یعنی:

Positive PFSA Report ≠ automatically proved prosecution case

جب تک اس sample کی محفوظ اور مسلسل custody ثابت نہ ہو۔

---

6۔ Case Property کو عدالت میں کھولنا کیوں ضروری تھا؟

یہ فیصلہ کا سب سے اہم اور قابلِ استعمال اصول ہے۔

Lahore High Court Rules & Orders کے:

Rule 14-F

کے مطابق ہر ایسی چیز جو circumstantial evidence کا حصہ ہو، مثلاً:

narcotics

weapon

clothes

money

وغیرہ، عدالت میں پیش ہونی چاہیے اور گواہ اس کی:

identity اور connection with the case

ثابت کرے۔

عدالت نے کہا کہ صرف parcel عدالت میں لا کر اسے:

Exhibit P-1

نمبر دے دینا کافی نہیں۔

---

7۔ Sealed parcel کو کھولنا ضروری ہے

عدالت نے بہت واضح طور پر کہا:

اگر case property sealed parcel میں موجود ہے تو trial کے دوران اسے de-seal کیا جانا چاہیے تاکہ:

1. مال عدالت میں display ہو؛

2. recovery witness اسے دیکھے؛

3. witness اس کی شناخت کرے؛

4. یہ ثابت کرے کہ یہی وہ چیز ہے جو ملزم سے برآمد ہوئی تھی؛

5. پھر اسے proper exhibit بنایا جائے۔

یعنی عدالت کے نزدیک:

Exhibition alone is not sufficient.

صرف یہ کہنا کہ:

> "Parcel P-1 پیش ہوا اور exhibit کر دیا گیا"

کافی نہیں۔

---

8۔ اس مقدمے میں اصل غلطی کیا ہوئی؟

PW-3 نے 5700 گرام باقی چرس والا parcel عدالت میں پیش کیا۔

اسے Exh. P-1 بنایا گیا۔

لیکن:

parcel کھولا نہیں گیا؛

اندر موجود چرس گواہوں کو دکھائی نہیں گئی؛

PW-3 نے اندر موجود چرس کو دیکھ کر identify نہیں کیا؛

PW-4 نے بھی اسے identify نہیں کیا؛

ملزم کو بھی اس case property سے confront نہیں کیا گیا۔

لہٰذا عدالت نے کہا کہ witnesses کی identification meaningless ہو گئی۔

---

9۔ چار مرحلوں کا اصول

ہائی کورٹ نے Rule 14-F کو apply کرتے ہوئے case property کی identification کے چار مراحل بیان کیے:

پہلا:

Article کو competent witness کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جائے۔

دوسرا:

اسے open court میں display کیا جائے۔

تیسرا:

Witness اسے identify کرے اور بتائے کہ یہی وہ چیز ہے جو مقدمے سے متعلق ہے۔

چوتھا:

اسے properly mark کرکے exhibit کیا جائے۔

اگر parcel sealed ہو تو:

> trial کے دوران اسے de-seal کرنا ضروری ہے۔

---

10۔ دفاع کے لیے بہت اہم نکتہ

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ:

> "اگر defence de-sealing کا مطالبہ نہ کرے تو trial court parcel نہیں کھولے گی۔"

ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ court کی ذمہ داری ہے۔

یعنی prosecution یا defence کے objection کا انتظار کیے بغیر trial court کو Rule 14-F کے مطابق case property کی proper production اور identification کروانی چاہیے۔

یہ observation دفاعی وکلاء کے لیے بہت اہم ہے۔

---

11۔ Article 10-A بھی شامل ہوگیا

عدالت نے Amjad Siddiqui v. The State (2016 PCr.LJ 1800) پر انحصار کرتے ہوئے کہا کہ case property کو عدالت میں properly expose نہ کرنا Article 10-A، یعنی fair trial کے اصول سے بھی متصادم ہو سکتا ہے۔

کیونکہ عدالت کسی sealed parcel کو دیکھے بغیر یہ فرض نہیں کر سکتی کہ:

> اندر وہی چیز موجود ہے جو prosecution کہہ رہی ہے۔

Prosecution کو evidence کو قانون کے مطابق establish کرنا ہوگا۔

---

12۔ Recovery witnesses کے بیانات میں تضاد

ایک اور اہم circumstance یہ تھا کہ دونوں recovery witnesses نے چرس کی شکل مختلف بیان کی۔

PW-3:

اس نے کہا کہ پانچوں pieces square تھے۔

PW-4:

اس نے کہا کہ پانچوں pieces round تھے۔

ہائی کورٹ نے اس تضاد کو material سمجھا۔

وجہ یہ تھی کہ اگر case property عدالت میں کھول کر witnesses کو دکھائی جاتی تو یہ تضاد واضح یا test کیا جا سکتا تھا۔

لیکن چونکہ parcel کھولا ہی نہیں گیا، اس لیے prosecution کی recovery story مزید مشکوک ہوگئی۔

---

13۔ عدالت نے سزا کیوں ختم کی؟

ہائی کورٹ نے prosecution کے مقدمے میں متعدد اہم doubts پائے:



Roznamcha entries پیش نہیں کی گئیں۔



Malkhana Register No. XIX پیش نہیں کیا گیا۔



Road Certificate No. 919/21 پیش نہیں کیا گیا۔



PFSA samples کی محفوظ transmission مکمل طور پر documentary evidence سے ثابت نہیں ہوئی۔



Chain of Custody میں serious gap پیدا ہوا۔



5700 گرام case property کو de-seal نہیں کیا گیا۔



Witnesses نے case property کو properly identify نہیں کیا۔



ملزم کو case property سے confront نہیں کیا گیا۔



Recovery witnesses نے چرس کی شکل مختلف بیان کی۔

ان تمام circumstances کو ملا کر عدالت نے prosecution case کی integrity پر شک ظاہر کیا۔

---

14۔ سخت سزا کا ایک اور اہم اصول

عدالت نے Ameer Zeb v. The State (PLD 2012 SC 380)، Ahmed Ali v. The State (2023 SCMR 781) اور Jeehand v. The State (2025 SCMR 923) پر reliance کرتے ہوئے کہا:

> جتنی سنگین سزا ہوگی، اتنا ہی prosecution سے مضبوط اور سخت معیارِ ثبوت کا تقاضا ہوگا۔

چونکہ CNSA کے تحت سزا سخت ہوتی ہے، اس لیے prosecution کو معمولی سے زیادہ مضبوط طریقے سے:

recovery + identity + custody + transmission + laboratory connection

ثابت کرنا ہوتا ہے۔

---

15۔ آخر میں Benefit of Doubt

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ prosecution:

continuous and secure chain of custody

ثابت کرنے میں ناکام رہی۔

Case property بھی قانون کے مطابق produce نہیں کی گئی اور recovery witnesses کے بیانات میں material discrepancy بھی موجود تھی۔

لہٰذا doubts پیدا ہوئے۔

پاکستانی فوجداری قانون کا بنیادی اصول ہے:

> ایک معقول شک بھی ملزم کے حق میں جاتا ہے۔

چنانچہ:

اپیل منظور → conviction اور sentence ختم → ملزم بری۔

اور عدالت نے حکم دیا کہ اگر کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہو تو اسے فوراً رہا کیا جائے۔

فیصلے کا Ratio

"صرف مثبت PFSA رپورٹ اور sealed parcel کو exhibit کر دینا کافی نہیں؛ prosecution کو برآمد شدہ narcotics کی محفوظ Chain of Custody، عدالت میں proper production، de-sealing، گواہوں سے شناخت اور اس کی case سے connection قانون کے مطابق ثابت کرنا لازم ہے، ورنہ پیدا ہونے والا reasonable doubt ملزم کے حق میں جائے گا۔"

31/07/2026

معاہدہ بیع ثابت کرنے کا بوجھ (Burden of Proof) کس پارٹی پر ہوتا ہے؟
کیا شریک مدعا علیہ کا اقرار دوسرے مدعا علیہ پر لازم ہے؟

دو حاشیہ گواہوں (Marginal Witnesses) کا پیش کرنا کتنا لازمی ہے؟
قانون شہادت کا Article 81 کب لاگو ہوگا ؟
اس فیصلے میں عدالت نے دعویٰ برائے مخصوص ادائیگی (Suit for Specific Performance)، معاہدہ بیع کے ثبوت، Articles 17، 79 اور 81 قانـونِ شہادت آرڈر 1984 اور پلیڈنگ (Pleadings) سے متعلق متعدد اہم قانونی اصول بیان کیے ہیں۔

1۔ معاہدہ بیع ثابت کرنے کا بوجھ (Burden of Proof)

جب مدعا علیہ معاہدہ بیع (Agreement to Sell) کے وجود، اس کی تنفیذ (Ex*****on) اور رقم کی وصولی کو مکمل طور پر جھٹلا دے تو:

پورا بوجھ مدعی پر ہوتا ہے کہ وہ معاہدہ کو قانون کے مطابق ثابت کرے۔

صرف معاہدہ پیش کر دینا کافی نہیں بلکہ اس کی تنفیذ اور ادائیگی بھی ثابت کرنا ضروری ہے۔

اصول:

> جس شخص نے مخصوص ادائیگی کا دعویٰ کیا ہے، وہ معاہدہ اور اس کی تمام شرائط کو قابل اعتماد شہادت سے ثابت کرے گا۔

---

2۔ مخصوص ادائیگی کے مقدمہ میں صرف معاہدہ کافی نہیں

عدالت نے قرار دیا کہ مدعی کو ثابت کرنا ہوگا کہ:

معاہدہ حقیقتاً ہوا تھا۔

سودا کس جگہ طے پایا۔

کب طے پایا۔

کن افراد کی موجودگی میں طے پایا۔

کتنی رقم ادا ہوئی۔

بقایا رقم ادا کرنے کے لئے مدعی ہمیشہ تیار تھا۔

ان میں سے کسی اہم عنصر کا ثبوت نہ ہونا دعویٰ کمزور کر دیتا ہے۔

---

3۔ پلیڈنگ میں تمام مادی حقائق (Material Particulars) درج کرنا لازم ہے

عدالت نے کہا کہ دعویٰ میں درج ہونا چاہئے:

سودا کہاں طے پایا۔

کب طے پایا۔

کن گواہوں کی موجودگی میں طے ہوا۔

اضافی رقم کب ادا ہوئی۔

کہاں ادا ہوئی۔

کس کے سامنے ادا ہوئی۔

بعد میں شہادت میں نئی باتیں شامل نہیں کی جا سکتیں۔

اصول:

> Evidence beyond pleadings قابل قبول نہیں ہوتی۔

---

4۔ مالی اور آئندہ ذمہ داری والے معاہدوں پر Articles 17 اور 79 لاگو ہوتے ہیں

یہ مقدمہ مالی ذمہ داری اور مستقبل میں رجسٹری کرانے سے متعلق تھا، اس لئے:

Article 17

Article 79

دونوں لاگو ہوئے۔

---

5۔ دو حاشیہ گواہوں (Marginal Witnesses) کا پیش کرنا لازمی ہے

عدالت نے واضح کیا کہ:

اگر معاہدہ قانون کے مطابق دو گواہوں سے تصدیق شدہ ہے تو:

دونوں گواہوں کو عدالت میں پیش کرنا لازم ہے۔

صرف ایک گواہ کافی نہیں۔

جب تک قانون میں موجود استثناء ثابت نہ کیا جائے۔

یہ اصول درج ذیل مقدمات سے بھی اخذ کیا گیا:

Mst. Rasheeda Begum v. Muhammad Yousaf (2002 SCMR 1089)

Abdul Khaliq v. Muhammad Asghar Khan (PLD 1996 Lah. 367)

Federation of Pakistan v. Farrukh International (2023 SCMR 1118)

Khudad v. Syed Ghazanfar Ali Shah (2022 SCMR 933)

---

6۔ ایک گواہ نہ آنے کا بہانہ کافی نہیں

اگر کہا جائے کہ:

> دوسرا گواہ مخالف فریق سے مل گیا تھا۔

تو صرف یہ دعویٰ کافی نہیں۔

عدالت نے کہا:

اس کی بھی شہادت دینی ہوگی۔

کوئی ثبوت پیش کرنا ہوگا۔

محض وکیل کا بیان یا دلیل کافی نہیں۔

---

7۔ Article 81 تب لاگو ہوگا جب دستاویز واقعی تسلیم شدہ ہو

اپیلیٹ کورٹ نے Article 81 استعمال کیا۔

ہائی کورٹ نے کہا:

اگر مدعا علیہ:

دستاویز ہی سے انکار کرے،

دستخط سے انکار کرے،

معاہدہ ہی سے انکار کرے،

تو Article 81 لاگو نہیں ہوگا۔

---

8۔ شریک مدعا علیہ کا اقرار دوسرے مدعا علیہ پر لازم نہیں

اگر:

چار وارث ہیں۔

تین وارث معاہدہ مان لیں۔

ایک وارث انکار کرے۔

تو:

مدعی کو اس انکار کرنے والے وارث کے خلاف بھی معاہدہ قانون کے مطابق ثابت کرنا ہوگا۔

ایک شریک مدعا علیہ کا اعتراف دوسرے کے خلاف ثبوت نہیں بنتا۔

اس اصول کیلئے عدالت نے درج ذیل نظائر پر انحصار کیا:

Shah Muhammad v. Dullah (2000 SCMR 1588)

Allah Rakha through L.Rs. v. Nasir Khan (2007 CLC 154)

---

9۔ متضاد شہادت (Contradictory Evidence) ناقابل اعتماد ہوتی ہے

اگر گواہ:

وقت الگ بتائیں،

جگہ الگ بتائیں،

موجود افراد الگ بتائیں،

شناخت کرنے والے الگ بتائیں،

تو عدالت ایسی شہادت پر اعتماد نہیں کرتی۔

---

10۔ ادائیگی رقم (Consideration) بھی ثابت کرنا ضروری ہے

اگر مدعی کہے:

Rs.75,000 بطور بیعانہ ادا کئے۔

بعد میں Rs.40,000 مزید ادا کئے۔

تو ضروری ہے:

رسید ہو،

یا معتبر شہادت ہو،

تاریخ معلوم ہو،

مقام معلوم ہو،

گواہ موجود ہوں۔

ورنہ ادائیگی ثابت نہیں ہوگی۔

---

11۔ شہادت پلیڈنگ سے باہر نہیں جا سکتی

اگر دعویٰ میں:

جگہ نہیں لکھی،

وقت نہیں لکھا،

گواہ نہیں لکھے،

تو بعد میں گواہی کے ذریعے ان کمیوں کو پورا نہیں کیا جا سکتا۔

---

12۔ اپیلیٹ کورٹ کی مداخلت کب غلط ہوگی؟

اگر اپیلیٹ کورٹ:

شہادت کو غلط پڑھے (Misreading)،

اہم شہادت نظر انداز کرے (Non-reading)،

ناقابل قبول شہادت پر فیصلہ دے،

تو ہائی کورٹ سول ریویژن میں مداخلت کر سکتی ہے۔

⚖️ اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم اور تاریخی فیصلہ: فقہ جعفری کے مطابق طلاق کے طریقۂ کار پر اہم قانونی اصول طے🏛️ عدالت: اسل...
19/07/2026

⚖️ اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم اور تاریخی فیصلہ: فقہ جعفری کے مطابق طلاق کے طریقۂ کار پر اہم قانونی اصول طے
🏛️ عدالت: اسلام آباد ہائی کورٹ
👨‍⚖️ معزز جج: جسٹس محسن اختر کیانی
📅 فیصلہ کی تاریخ: 26 مئی 2025
مقدمے کا پس منظر
درخواست گزار بشریٰ حسین اور ان کے شوہر دونوں فقہ جعفری سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں کی شادی 2 فروری 2020 کو ہوئی۔ بعد ازاں گھریلو اختلافات پیدا ہوئے، جس پر بیوی نے نان و نفقہ کا دعویٰ دائر کیا۔ اسی دوران شوہر نے طلاق کے نوٹس جاری کر دیے۔ بعد میں میاں بیوی کے درمیان صلح ہوگئی اور وہ دوبارہ اکٹھے رہنے لگے، لیکن شوہر نے اس حقیقت کو آربیٹریشن کونسل کے سامنے ظاہر نہیں کیا اور طلاق مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا۔
بیوی نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ دونوں فقہ جعفری سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے طلاق بھی فقہ جعفری کے مطابق ہونی چاہیے تھی، جبکہ عربی صیغۂ طلاق دو اہل مسلمان گواہوں کی موجودگی میں ادا نہیں کیا گیا۔ اس لیے آربیٹریشن کونسل کی جانب سے جاری کیا گیا سرٹیفکیٹ قانون کے مطابق نہیں تھا۔
2021 کی اہم قانونی ترمیم
عدالت نے قرار دیا کہ 2021 میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس، 1961 میں اہم ترمیم کی گئی، جس کے ذریعے فقہ جعفری سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے طلاق کا الگ طریقۂ کار مقرر کیا گیا۔ اس ترمیم کے مطابق:
شوہر اپنی آزاد مرضی سے یا اپنے بااختیار وکیل کے ذریعے عربی صیغۂ طلاق ادا کرے۔
صیغۂ طلاق دو اہل مسلمان گواہوں کی موجودگی میں ادا کیا جائے۔
اگر اس حوالے سے کوئی اختلاف پیدا ہو تو متعلقہ عدالت یا مجتہدِ عالم سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
فقہ جعفری سے متعلق طلاق کے معاملات ان کے ذاتی فقہی قانون کے مطابق طے کیے جائیں گے۔
عدالت کے سامنے بنیادی سوال
عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا فقہ جعفری سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے صرف طلاق کا نوٹس دینا کافی ہے یا 2021 کی ترمیم کے بعد عربی صیغۂ طلاق اور دو اہل مسلمان گواہوں کی موجودگی لازمی ہے؟
لفظ "مے" کی اہم تشریح
جواب دہندگان کا مؤقف تھا کہ قانون میں لفظ "مے" استعمال ہوا ہے، اس لیے عربی صیغۂ طلاق ادا کرنا لازمی نہیں بلکہ اختیاری ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر اس لفظ کو صرف اختیاری سمجھا جائے تو 2021 کی ترمیم کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب قانون کسی مخصوص طبقے کے مذہبی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہو تو لفظ "مے" کو حالات، قانون کے مقصد اور مقننہ کی نیت کو مدنظر رکھتے ہوئے "لازمی" کے معنی میں پڑھا جائے گا۔
عدالت نے واضح کیا کہ بعض اوقات قانون میں استعمال ہونے والا لفظ "مے" بھی "لازمی" کے معنی اختیار کر لیتا ہے تاکہ قانون کا اصل مقصد پورا ہو سکے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ
عدالت نے قرار دیا کہ:
فقہ جعفری میں صرف تحریری طلاق نامہ یا طلاق کا نوٹس کافی نہیں۔
عربی صیغۂ طلاق ادا کرنا لازمی ہے۔
صیغۂ طلاق دو اہل مسلمان گواہوں کی موجودگی میں ادا ہونا ضروری ہے۔
ان شرائط کی تکمیل کے بغیر طلاق مؤثر نہیں ہوگی۔
آربیٹریشن کونسل ان قانونی تقاضوں کی تصدیق کیے بغیر طلاق مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر سکتی۔
عدالت کی مستقبل کے لیے ہدایات
اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام چیئرمین آربیٹریشن کونسلز کو ہدایت دی کہ آئندہ فقہ جعفری کے تمام مقدمات میں:
2021 کی ترمیم پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔
عربی صیغۂ طلاق کی تصدیق کی جائے۔
دو اہل مسلمان گواہوں کی موجودگی کی تصدیق کی جائے۔
ان تمام شرائط کی تکمیل کے بغیر طلاق مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ ہرگز جاری نہ کیا جائے۔
آخری فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ پہلے جاری کیا گیا سرٹیفکیٹ درست نہیں تھا۔ عدالت نے حکم دیا کہ نیا سرٹیفکیٹ اسی تاریخ سے جاری کیا جائے جس دن فقہ جعفری کے مطابق عربی صیغۂ طلاق تمام شرعی اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ادا کی گئی تھی۔
اس فیصلے سے قائم ہونے والے اہم قانونی اصول
✅ 2021 کی ترمیم کے بعد فقہ جعفری سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے طلاق کا الگ قانونی طریقۂ کار نافذ ہے۔
✅ صرف طلاق کا نوٹس یا تحریری طلاق نامہ کافی نہیں۔
✅ عربی صیغۂ طلاق اور دو اہل مسلمان گواہوں کی موجودگی لازمی ہے۔
✅ قانون میں استعمال ہونے والا لفظ "مے" ہر معاملے میں اختیاری نہیں ہوتا، بلکہ قانون کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے اسے "لازمی" بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
✅ آربیٹریشن کونسل قانونی تقاضے پورے کیے بغیر طلاق مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر سکتی۔
✅ یہ فیصلہ فقہ جعفری کے مطابق طلاق کے طریقۂ کار سے متعلق ایک نہایت اہم اور رہنما نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔

19/07/2026

منشیات میں استغاثہ برائے اندراج مقدمہ تھانہ لے جانے والے کانسٹیبل کو گواہ نہ رکھا گیا تھا. ملزم بّری
(2020 YLR 311).
منشیات کیس میں مخبری کے باوجود، نہ تو کوئی فرضی خریدار بھیجا گیا، اور نہ ہی پبلک کا کوئی گواہ شاملِ کاروائی کیا گیا. ملزمان بری.
(2018 MLD 1025).
منشیات کیس میں، اگر تفتیشی کو بطورِ گواہ پیش نہ کیا جائے، تو ملزمان کو سزا نہ ہو گی.
(2017 YLR 1292).
منشیات کیس میں اگر فردِ مقبوضگی اور Sample، جائے برآمدگی پر تیار نہ کیۓ جائیں، تو ملزمان کو سزا نہ ہو گی.
(2015 PCrLJ 1767).
جس گھر یا گاڑی سے منشیات برآمد ہوئی، اس کی ملکیت بارے کوئی ثبوت حاصل نہ کیا گیا تھا.
(2015 PCrLJ 62).

02/06/2026

پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 (The Punjab Child Marriage Restraint Act 2026)، جسے پنجاب اسمبلی نے 27 اپریل 2026 کو پاس کیا اور گورنر پنجاب نے 11 مئی 2026 کو اس کی منظوری دی۔ اس قانون کا بنیادی مقصد پنجاب میں بچوں کی شادیوں کی روک تھام کرنا اور اس سے جڑے دیگر معاملات کو حل کرنا ہے۔

1۔ بنیادی تعریفیں (Definitions)
بچہ (Child): اس قانون کے تحت ہر وہ لڑکا یا لڑکی جس کی عمر 18 سال سے کم ہے، وہ بچہ شمار ہوگا۔
بچوں کی شادی (Child Marriage): ایسا نکاح یا شادی جس میں دونوں فریقین (دلہا اور دلہن) یا دونوں میں سے کوئی ایک بھی بچہ (18 سال سے کم) ہو۔
عدالت (Court): اس قانون کے تحت تمام معاملات اور کیسز کی سماعت سیشن کورٹ (Court of Sessions) میں ہوگی۔

2۔ سزائیں اور جرمانے (Punishments and Fines)
اس قانون کے تحت بچوں کی شادی میں ملوث مختلف افراد کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں:
نکاح رجسٹرار کے لیے سزا: کوئی بھی نکاح رجسٹرار کسی بچے کا نکاح رجسٹر نہیں کرے گا۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اسے 1 سال تک کی قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
بالغ دلہا/دلہن کے لیے سزا: اگر 18 سال سے زائد عمر کا کوئی بالغ شخص کسی بچے سے شادی کرتا ہے، تو اسے کم از کم 2 سال اور زیادہ سے زیادہ 3 سال کی سخت قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
سرپرست یا والدین (Guardians) کے لیے سزا: اگر کوئی سرپرست یا والدین بچے کی شادی کو فروغ دیتے ہیں، اس کی اجازت دیتے ہیں، یا جان بوجھ کر یا غفلت کی وجہ سے اسے روکنے میں ناکام رہتے ہیں، تو انہیں 2 سے 3 سال تک کی سخت قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

3۔ چائلڈ ابیوز اور چائلڈ ٹریفکنگ (Child Abuse & Trafficking)
چائلڈ ابیوز (Child Abuse): بچوں کی شادی کے نتیجے میں 18 سال کی عمر سے پہلے کسی بھی قسم کا ساتھ رہنا (cohabitation) — چاہے وہ رضا مندی سے ہو یا بغیر رضا مندی کے — چائلڈ ابیوز (بچوں کا استحصال) کہلائے گا۔ جو شخص اس کا سبب بنے گا یا مجبور کرے گا، اسے 5 سے 7 سال تک کی قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
چائلڈ ٹریفکنگ (بچوں کی اسمگلنگ): اگر کوئی شخص اس قانون سے بچنے کے لیے کسی بچے کو پنجاب کی حدود سے باہر لے کر جاتا ہے تاکہ وہاں اس کی شادی کرائی جا سکے، تو یہ بچوں کی اسمگلنگ کا جرم ہوگا۔ اس کی سزا 5 سے 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہے۔ جو شخص اس کام میں مدد کرے گا یا بچہ فراہم کرے گا، اسے 3 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

4۔ عدالت کا دائرہ اختیار اور طریقہ کار (Court Jurisdiction & Trial)
مقدمے کی سماعت کا وقت: سیشن کورٹ کیس کا نوٹس لینے کے بعد 90 دنوں کے اندر ٹرائل (سماعت) مکمل کرنے کی پابند ہے۔
شادی روکنے کا حکم (Injunction): اگر عدالت کو یہ اطلاع ملے کہ بچوں کی شادی کا بندوبست کیا جا رہا ہے، تو عدالت اس شادی کو روکنے کے لیے فوری حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) جاری کر سکتی ہے۔
مخبر کی حفاظت: اگر کوئی شخص ایسی شادی کی اطلاع عدالت کو دیتا ہے اور اپنی پہچان چھپانا چاہتا ہے، تو عدالت اس کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔
عدالتی حکم کی خلاف ورزی: اگر کوئی شخص عدالت کی طرف سے شادی روکنے کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو اسے 1 سال تک قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
ناقابلِ ضمانت جرم: اس قانون کے تحت تمام جرائم قابلِ دست اندازیِ پولیس (Cognizable)، ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) اور ناقابلِ راضی نامہ (Non-compoundable) ہیں۔ یعنی پولیس بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتی ہے، اس میں آسانی سے ضمانت نہیں ہوگی اور نہ ہی آپس میں سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔

5۔ بچے کے بہترین مفادات کا تحفظ (Best Interests of the Child)
بچہ مجرم نہیں ہے: کسی بھی بچے کو صرف اس وجہ سے مجرم نہیں مانا جائے گا کہ وہ اس شادی کا ایک فریق تھا۔
بچے کی مرضی حتمی نہیں: اگر کسی بچے کو بہلا پھسلا کر، ڈرا دھمکا کر یا اغوا کر کے شادی کے لیے لے جایا گیا ہو، تو عدالت میں بچے کا یہ بیان کہ "وہ اپنی مرضی سے بالغ شخص کے ساتھ رہنا چاہتا ہے"، حتمی نہیں مانا جائے گا۔ عدالت بچے کی حفاظت، تعلیم اور ذہنی و جسمانی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے خود آزادانہ فیصلہ کرے گی۔
بچے کا تحفظ سب سے اہم: عدالت کسی بھی روایتی رواج، رسم یا مبینہ رضامندی کے مقابلے میں بچے کی جسمانی حفاظت، ذہنی سکون، عزت اور تعلیم کو ترجیح دے گی۔

6۔ پرانے قوانین کا خاتمہ (Repeal and Saving)
اس نئے قانون کے آنے کے بعد پرانا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 اور پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 فوری طور پر ختم (Repeal) ہو گئے ہیں۔ تاہم، ان پرانے قوانین کے تحت جو فیصلے یا احکامات پہلے دیے جا چکے ہیں، وہ اسی طرح برقرار رہیں گے۔

بطور قانون دان اس ایکٹ پر اہم تنقیدی نکات (Critique) درج ذیل ہیں:
1۔ فوجداری دائرہ اختیار کی پیچیدگی (Jurisdictional Complications)
- سیشن کورٹ پر بوجھ: دفعہ 8 کے تحت اس قانون کے تمام جرائم کا ٹرائل کرنے کا اختیار براہ راست سیشن کورٹ کو دیا گیا ہے۔ عام طور پر فوجداری مقدمات کا آغاز مجسٹریٹ کی عدالت سے ہوتا ہے۔ سیشن کورٹس پہلے ہی قتل اور منشیات جیسے سنگین مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ ہر چھوٹے بڑے کیس کو براہ راست سیشن کورٹ بھیجنے سے کیسز کے نمٹنے کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔
- 90 دن کا ٹرائل: دفعہ 11 کے تحت ٹرائل کو 90 دنوں میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن ہماری عدالتی روایات، پولیس تفتیش میں تاخیر اور گواہان کی عدم موجودگی کے باعث عملی طور پر اتنے مختصر وقت میں ٹرائل مکمل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔

2۔ تعزیراتِ پاکستان اور مسلم پرسنل لا سے تصادم (Conflict with Penal and Personal Laws)
- رضامندی کی قانونی حیثیت (Age of Consent): دفعہ 5 کے تحت 18 سال سے کم عمر کی شادی کے نتیجے میں ساتھ رہنے کو "چائلڈ ابیوز" قرار دیا گیا ہے، چاہے اس میں بچے کی رضا مندی ہی کیوں نہ ہو۔ مسلم پرسنل لا (شریعت) کے تحت بلوغت (Puberty) کو شادی اور رضا مندی کا معیار مانا جاتا ہے۔ عدالتوں میں اکثر یہ بحث اٹھتی ہے کہ کیا صوبائی اسمبلی کا بنایا ہوا قانون مسلم پرسنل لا پر فوقیت رکھ سکتا ہے؟ یہ تصادم مستقبل میں اعلیٰ عدالتوں (High Court/Shariat Court) میں آئینی پٹیشنز کا باعث بنے گا۔
- حدود آرڈیننس اور زنا کے قوانین کے ساتھ الجھن: دفعہ 5(2) کے تحت چائلڈ ابیوز کی سزا 5 سے 7 سال قید رکھی گئی ہے۔ قانون دانوں کے لیے یہ نکتہ تشویش ناک ہے کہ کیا اس جرم کو زنا بالجر یا تعزیراتِ پاکستان (PPC) کے دیگر قوانین کے تحت دیکھا جائے گا یا صرف اسی ایکٹ کے تحت؟ قوانین کی یہ بھرمار تفتیشی افسران (IOs) کے لیے الجھن پیدا کرتی ہے۔

3۔ بچوں کی اسمگلنگ (Child Trafficking) کی مبہم تعریف
دائرہ اختیار سے باہر (Territorial Jurisdiction): دفعہ 6 کے تحت اگر کوئی شخص بچے کو پنجاب کی حدود سے باہر لے کر جائے گا تو اسے اسمگلنگ مانا جائے گا۔ لیکن اگر شادی کسی دوسرے صوبے (جیسے سندھ یا خیبر پختونخوا) میں رائج قانون کے مطابق ہو جائے جہاں شادی کی قانونی عمر یا سزائیں مختلف ہوں، تو پنجاب پولیس کے لیے دوسرے صوبے میں جا کر تفتیش کرنا اور جرم ثابت کرنا قانونی طور پر انتہائی پیچیدہ ہو جائے گا کیونکہ دوسرے صوبوں کے اپنے قوانین ہیں۔

4۔ "ناقابلِ ضمانت" جرم کا غلط استعمال (Risk of Misuse)
بلیک میلنگ کا ہتھیار: دفعہ 10 کے تحت اس قانون کے تمام جرائم کو ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) اور ناقابلِ راضی نامہ (Non-compoundable) بنا دیا گیا ہے۔ کسی بھی قانون میں جب راضی نامے کی گنجائش ختم کر دی جائے اور ضمانت انتہائی مشکل ہو، تو خاندانی دشمنیوں یا جائیداد کے تنازعات میں مخالفین کو پھنسانے کے لیے اس کا غلط استعمال بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر والدین اور سرپرستوں (دفعہ 7) کو نشانہ بنانا آسان ہو جاتا ہے۔

5۔ مخبر کی شناخت اور شفافیت (Anonymity vs Due Process)
حقِ دفاع متاثر ہونے کا خدشہ: دفعہ 9(1) کے تحت عدالت مخبر کی شناخت چھپا سکتی ہے۔ قانونِ شہادت (Law of Evidence) اور منصفانہ ٹرائل (Fair Trial - Article 10A of Constitution) کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ملزم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے خلاف الزام کس نے لگایا ہے تاکہ وہ جرح (Cross-examination) کر سکے۔ مخبر کی شناخت مکمل خفیہ رکھنے سے جھوٹی شکایات کا راستہ کھل سکتا ہے۔

6۔ نکاح رجسٹرار پر ضرورت سے زیادہ بوجھ
عمر کی تصدیق کا نظام: دفعہ 3 کے تحت نکاح رجسٹرار کو چائلڈ میرج رجسٹر کرنے پر سزا دی جائے گی۔ عملی طور پر، پاکستان کے دیہی علاقوں میں اب بھی نادرا (NADRA) کا نظام مکمل طور پر مربوط نہیں ہے یا لوگ جعلی برتھ سرٹیفکیٹ بنا لیتے ہیں۔ نکاح رجسٹرار کے پاس عمر کی سائنسی تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ انہیں سخت سزا کا نشانہ بنانا اس وقت تک ناانصافی ہے جب تک نادرا کا بائیو میٹرک نظام نکاح کے وقت لازمی نہ کر دیا جائے۔

حاصلِ کلام (Conclusion)
بطور وکیل، میرا ماننا ہے کہ یہ قانون نیت کے لحاظ سے بہترین ہے، لیکن اس کا مسودہ (Drafting) زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے تیار کیا گیا ہے۔ جب تک اس کے ساتھ نادرا کا لازمی لنک، پولیس کی جدید خطوط پر تربیت، اور سیشن کورٹس کے بجائے فیملی کورٹس یا مخصوص مجسٹریٹس کو یہ اختیارات دینے جیسی ترامیم نہیں کی جاتیں، تب تک اس قانون کا نفاذ صرف کاغذوں تک محدود رہے گا یا پھر یہ محض انتقامی کارروائیوں کا ایک اور ٹول بن کر رہ جائے گا۔

24/04/2026

اچانک اشتعال (Sudden Provocation) فوجداری قانون کا ایک اہم اصول ہے جو خاص طور پر قتل کے مقدمات میں زیرِ بحث آتا ہے۔ اس کا مقصد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا ملزم نے جرم سوچ سمجھ کر کیا یا کسی شدید اور اچانک اشتعال کے نتیجے میں۔
⚖️ قانونی مفہوم
پاکستان میں یہ اصول بنیادی طور پر Pakistan Penal Code, 1860 کی دفعہ 300 (قتل) کے Exceptions میں آتا ہے۔
سادہ تعریف: اچانک اشتعال سے مراد ایسی صورتحال ہے جہاں:
کسی شخص کو اچانک شدید غصہ یا جذباتی صدمہ پہنچے
اور وہ اپنے ہوش و حواس پر قابو کھو بیٹھے
جس کے نتیجے میں وہ فوری طور پر ایسا عمل کر بیٹھے جو عام حالات میں نہ کرتا
📌 اہم عناصر (Essential Ingredients)
کسی کیس میں “Sudden Provocation” ثابت کرنے کے لیے درج ذیل نکات ضروری ہوتے ہیں:
1. اشتعال اچانک ہو
واقعہ غیر متوقع ہو
پہلے سے منصوبہ بندی نہ ہو
2. اشتعال شدید ہو
ایسا عمل یا بات ہو جو ایک عام انسان کو بھی قابو سے باہر کر دے
3. فوری ردعمل ہو
اشتعال اور جرم کے درمیان زیادہ وقت نہ ہو
اگر “cooling time” مل گیا تو یہ دفاع کمزور ہو جاتا ہے
4. ذاتی نوعیت
اشتعال براہِ راست ملزم کو متاثر کرے
⚖️ قانونی اثر (Legal Effect)
اگر عدالت یہ مان لے کہ جرم اچانک اشتعال کے تحت ہوا:
تو جرم قتلِ عمد (Murder) سے کم ہو کر
قتلِ خطا یا کم سنگین جرم (Culpable Homicide not amounting to murder) بن سکتا ہے
یعنی سزا میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔
📖 مثال
اگر کوئی شخص:
اچانک اپنی بیوی کو کسی اور مرد کے ساتھ ناجائز حالت میں دیکھ لے
اور اسی وقت غصے میں آ کر حملہ کر دے
تو عدالت اس کو “sudden provocation” کے تحت دیکھ سکتی ہے (ہر کیس کے حقائق کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے)۔
❌ کن صورتوں میں یہ دفاع قابلِ قبول نہیں
اگر ملزم نے پہلے سے منصوبہ بندی کی ہو
اگر اشتعال کے بعد وقت ملا ہو اور پھر جرم کیا جائے
معمولی بات پر شدید ردعمل دیا جائے
ملزم خود اشتعال پیدا کرے
🧾 عدالتی نقطہ نظر
عدالت ہمیشہ یہ دیکھتی ہے کہ:
کیا ایک “عام سمجھدار انسان” بھی اسی صورتحال میں ایسا ردعمل دے سکتا تھا؟
ملزم کا رویہ فوری اور غیر ارادی تھا یا سوچا سمجھا؟
✔️ خلاصہ
“Sudden Provocation” ایک جزوی دفاع (Partial Defence) ہے جو مکمل بریت نہیں دیتا بلکہ جرم کی نوعیت اور سزا کو کم کر دیتا ہے، بشرطیکہ اس کے تمام قانونی تقاضے ثابت ہوں۔

24/04/2026

جیل کے اندر ملزم یا قیدی سے ملاقات کا عمل پریزن رولز 1978" (Pakistan Prison Rules 1978) کے تحت کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہ ایک جامع ضابطہ ہے جو قیدیوں کے حقوق، ان کی دیکھ بھال اور ملاقاتوں کے طریقہ کار کو واضح کرتا ہے۔
ذیل میں اس کی مکمل تفصیل درج ہے:
1. متعلقہ قانون (The Governing Law)
جیل کے معاملات اور ملاقاتوں کو ڈیل کرنے والا بنیادی قانون "پاکستان پریزن رولز 1978" ہے۔ اس کے علاوہ "پریزن ایکٹ 1894" بھی اس کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
2. ملاقات کا حق (Right of Visitation)
جیل رولز کے مطابق، ہر قیدی (چاہے وہ سزا یافتہ ہو یا زیرِ سماعت ملزم) کو اپنے خاندان، قریبی رشتہ داروں اور قانونی مشیر (وکیل) سے ملنے کا حق حاصل ہے۔
• زیرِ سماعت ملزم (Under-Trial Prisoner): اسے عام طور پر ہفتے میں ایک بار ملاقات کی اجازت ہوتی ہے۔
• سزا یافتہ قیدی (Convicted Prisoner): اسے عام طور پر پندرہ دن یا مہینے میں ایک بار ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے (جیل مینوئل کے مطابق اس میں رولز مختلف ہو سکتے ہیں)۔
3. ملاقات کا طریقہ کار (Procedure)
پاکستان میں جیل کے اندر ملاقات کے لیے درج ذیل طریقہ کار اپنایا جاتا ہے:
• درخواست یا پرچی: ملاقاتی کو جیل کے گیٹ پر موجود "انٹرویو شیڈ" میں جا کر ایک فارم یا پرچی پُر کرنی ہوتی ہے جس میں اپنا نام، شناختی کارڈ نمبر اور قیدی کا نام و ولدیت لکھنا ہوتی ہے۔
• شناخت کی تصدیق: ملاقاتی کے پاس اصل کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) ہونا لازمی ہے۔
• تلاشی کا عمل: جیل کے اندر داخل ہونے سے پہلے ملاقاتی کی مکمل تلاشی لی جاتی ہے تاکہ کوئی ممنوعہ اشیاء (موبائل، نشہ آور اشیاء، اسلحہ وغیرہ) اندر نہ جا سکیں۔
• ملاقات کا کمرہ: ملاقات عموماً ایک مخصوص کمرے میں ہوتی ہے جہاں جالی یا شیشہ لگا ہوتا ہے، یا کچھ حالات میں (سپرنٹنڈنٹ کی اجازت سے) آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے۔
4. ملاقات کے اوقات
ہر جیل میں ملاقات کے دن اور اوقات مقرر ہوتے ہیں (مثلاً صبح 9 بجے سے دوپہر 2 یا 3 بجے تک)۔ عموماً جمعہ یا اتوار کے دن ملاقاتوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں، لیکن یہ ہر جیل کی انتظامیہ کی پالیسی پر منحصر ہے۔
5. جیل سپرنٹنڈنٹ کے اختیارات
پاکستان پریزن رولز کے تحت جیل سپرنٹنڈنٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ سمجھے کہ کسی ملاقات سے جیل کی سیکیورٹی کو خطرہ ہے یا ملزم کی تفتیش متاثر ہو سکتی ہے، تو وہ ملاقات پر عارضی پابندی لگا سکتا ہے یا اسے محدود کر سکتا ہے۔
6. قانونی مشیر (وکیل) سے ملاقات
وکیل سے ملاقات کے رولز تھوڑے مختلف اور آسان ہوتے ہیں کیونکہ یہ ملزم کا آئینی حق ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے اپنے وکیل سے مشورہ کر سکے۔ ایسی ملاقاتیں عموماً جیل کے دفتری اوقات میں کسی بھی دن ہو سکتی ہیں۔
خلاصہ نکات:
• قانون: پاکستان پریزن رولز 1978۔
• لازمی دستاویز: اصل شناختی کارڈ۔
• ملاقات کی فریکوئنسی: زیرِ سماعت ملزم کے لیے ہفتے میں ایک بار (عموماً)۔
• مقصد: رشتہ داروں سے تعلق برقرار رکھنا اور قانونی دفاع کی تیاری۔
اگر آپ کو کسی خاص دفعہ (Section) یا کسی مخصوص جیل کے حوالے سے
معلومات درکار ہوں تو آپ پوچھ سکتے ہیں۔

اگر جیل انتظامیہ ملزم کے ورثاء کو ملاقات کی اجازت نہیں دیتی، تو یہ ملزم کے بنیادی انسانی حقوق اور پاکستان پریزن رولز 1978 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایسی صورت میں ورثاء کے پاس درج ذیل قانونی راستے موجود ہیں:
1. سپرنٹنڈنٹ جیل کو تحریری درخواست
سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو ایک باقاعدہ تحریری درخواست دی جائے، جس میں ملاقات نہ کروانے کی وجہ پوچھی جائے اور قانون کے مطابق ملاقات کا مطالبہ کیا جائے۔ جیل رولز کے تحت وہ ٹھوس وجہ بتانے کا پابند ہے۔
2. انسپکٹر جنرل آف پریزنز (IG Prisons) سے رجوع
اگر سپرنٹنڈنٹ داد رسی نہ کرے، تو ورثاء متعلقہ صوبے کے آئی جی جیل خانہ جات کو شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ آئی جی کے پاس اختیار ہے کہ وہ جیل مینوئل پر عملدرآمد یقینی بنائے اور غفلت برتنے والے عملے کے خلاف کارروائی کرے۔
3. سیشن جج / جوڈیشل مجسٹریٹ کو درخواست
ملزم جس عدالت کے تحت زیرِ سماعت ہے، وہاں اس کا وکیل یا ورثاء ایک درخواست دے سکتے ہیں۔
• ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 491: اگر ملزم کو غیر قانونی طور پر ملاقات سے روکا جا رہا ہے، تو عدالت میں درخواست دی جا سکتی ہے کہ یہ عمل "حبسِ بے جا" کے زمرے میں آتا ہے (کیونکہ حقوق سے محرومی حبسِ بے جا کی ایک قسم ہے)۔
• جج صاحب جیل کا معائنہ کر سکتے ہیں یا جیل انتظامیہ کو ملزم کو عدالت میں پیش کرنے یا ملاقات کروانے کا حکم جاری کر سکتے ہیں۔
4. ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن (Writ Petition)
اگر نچلی سطح پر مسئلہ حل نہ ہو، تو دستورِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی جا سکتی ہے۔
• عدالتِ عالیہ یہ حکم جاری کر سکتی ہے کہ ملزم کو اس کے قانونی حقوق (جو کہ آرٹیکل 9 اور 10-A کے تحت بنیادی حقوق ہیں) سے محروم نہ کیا جائے۔
• عدالت انتظامیہ سے جواب طلب کر سکتی ہے کہ کس قانون کے تحت ملاقات روکی گئی۔
5. محتسبِ اعلیٰ (Ombudsman) کو شکایت
صوبائی محتسب کے دفتر میں انتظامی بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف شکایت درج کی جا سکتی ہے۔
متعلقہ قانونی بنیادیں (Legal Grounds)

اگر آپ جیل انتظامیہ کی جانب سے ملاقات نہ کروانے کے خلاف متعلقہ عدالت (سیشن جج یا جوڈیشل مجسٹریٹ) میں درخواست دینا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے ایک قانونی ڈرافٹ/تحریر ذیل میں دی گئی ہے۔ آپ اسے اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل کر کے کاپی کر سکتے ہیں۔
بعدالت جناب الہیٰ سیشن جج صاحب / جوڈیشل مجسٹریٹ صاحب (متعلقہ شہر کا نام لکھیں)
عنوان: درخواست برائے حصولِ اجازت ملاقات معہ ملزم (ملزم کا نام لکھیں) جو کہ جوڈیشل حوالات میں بند ہے
جنابِ عالی!
سائل حسبِ ذیل عرض گزار ہے:
1۔ یہ کہ سائل کا عزیز مسمی (ملزم کا نام) ولد (والد کا نام) مقدمہ نمبر (ایف آئی آر نمبر لکھیں) بجرم دفعہ (دفعات لکھیں) تھانہ (تھانہ کا نام) میں اس وقت جوڈیشل حوالات (جیل کا نام لکھیں) میں بند ہے۔
2۔ یہ کہ سائل ملزم کا حقیقی (رشتہ لکھیں، مثلاً بھائی/باپ) ہے اور ملزم کے دفاع اور گھریلو حالات کے حوالے سے ملزم سے ملاقات کرنا سائل کا قانونی و آئینی حق ہے۔
3۔ یہ کہ سائل مورخہ (تاریخ لکھیں) کو جیل مینوئل کے مطابق ملاقات کے لیے جیل گیا، مگر جیل انتظامیہ نے بلا جواز اور غیر قانونی طور پر ملاقات کروانے سے انکار کر دیا، جو کہ پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 542 اور 544 کی صریح خلاف ورزی ہے۔
4۔ یہ کہ دستورِ پاکستان کے آرٹیکل 4، 9 اور 10-A کے تحت ہر قیدی کو اپنے ورثاء اور قانونی مشیر سے ملاقات کا بنیادی حق حاصل ہے، جس سے اسے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
5۔ یہ کہ جیل انتظامیہ کا یہ رویہ غیر قانونی، غیر آئینی اور انسانی حقوق کی پامالی کے زمرے میں آتا ہے۔
استدعا:
اندریں حالات نہایت ادب سے استدعا ہے کہ جیل انتظامیہ (سپرنٹنڈنٹ جیل) کو حکم صادر فرمایا جائے کہ وہ سائل کی ملاقات ملزم مسمی (ملزم کا نام) سے جیل مینوئل کے مطابق فوری طور پر کروانے کے انتظامات کرے۔
عرضے:
سائل: (اپنا نام لکھیں)
ولدیت: (والد کا نام)
شناختی کارڈ نمبر: (اپنا کارڈ نمبر لکھیں)
موبائل نمبر: (اپنا نمبر لکھیں)
کاپی کرنے کے لیے ہدایات:
• جہاں بریکٹ ( ) ہے، وہاں اپنی معلومات درج کریں۔
• اگر آپ یہ درخواست ہائی کورٹ میں دینا چاہتے ہیں، تو اسے "رٹ پٹیشن" کی شکل میں وکیل کے ذریعے تیار کروائیں۔
• اس تحریر کو آپ سادہ کاغذ پر لکھ کر یا ٹائپ کروا کر عدالت میں پیش کر سکتے ہیں۔

:
1. سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے
• 2021 SCMR 542 (Shehr Bano vs. Federation of Pakistan):
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جیل میں قید شخص کے بھی انسانی حقوق ہوتے ہیں۔ خاندان سے ملاقات ملزم کی ذہنی صحت اور اس کے دفاع (Fair Trial) کے لیے ضروری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جیل انتظامیہ قیدی کو تنہا (Isolate) نہیں کر سکتی۔
• PLD 1993 SC 341:
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ "زندگی کی آزادی" (Article 9) کا مطلب صرف زندہ رہنا نہیں، بلکہ وقار کے ساتھ رہنا ہے۔ ورثاء سے ملاقات سے محروم کرنا انسانی وقار کے منافی ہے۔
2. ہائی کورٹ کے اہم فیصلے
• PLD 2018 Lahore 634 (Dr. Yasmin Rashid vs. Government of Punjab):
لاہور ہائی کورٹ نے اس کیس میں واضح کیا کہ جیل مینوئل کے تحت ملاقات کا حق ایک قانونی استحقاق (Legal Entitlement) ہے۔ اگر انتظامیہ سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر ملاقات روکے، تو اسے ٹھوس ثبوت پیش کرنا ہوں گے، ورنہ یہ اختیارات کا ناجائز استعمال تصور ہوگا۔
• 2020 YLR 102 (Sindh High Court):
سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ زیرِ سماعت ملزم (Under-trial Prisoner) بے گناہ تصور ہوتا ہے جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے۔ اسے اس کے ورثاء اور وکیل سے ملنے سے روکنا آئین کے آرٹیکل 10-A (حقِ منصفانہ سماعت) کی خلاف ورزی ہے۔
• PLD 2004 Lahore 231:
عدالت نے قرار دیا کہ جیل کے اندر ملاقات کروانا جیل سپرنٹنڈنٹ کی صوابدید نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ اسے روکے گا تو اسے عدالت میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔
اعلیٰ عدالتوں کی طے کردہ قانونی بنیادیں (Legal Principles)

1. منصفانہ ٹرائل اور قانونی دفاع (Right to Fair Trial)
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 10-A ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا حق دیتا ہے۔
• قانونی پہلو: ملزم کو اپنے کیس کی پیروی کے لیے ورثاء سے ملنا ہوتا ہے تاکہ وہ وکیل کی فیس، گواہان کی موجودگی اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے مالی اور اخلاقی مدد حاصل کر سکے۔
• عدالتی موقف: اگر ملاقات روک دی جائے تو ملزم کا اپنے دفاع کا حق مفلوج ہو جاتا ہے، جو کہ انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔
2. ذہنی صحت اور نفسیاتی اثرات
قید بذاتِ خود ایک ذہنی دباؤ ہے، اور اپنوں سے دوری اسے "نفسیاتی تشدد" میں بدل دیتی ہے۔
• تنہائی کا اثر: مسلسل تنہائی ملزم کو ڈپریشن اور ذہنی بے چینی کا شکار کر دیتی ہے، جس سے وہ اپنے کیس پر توجہ دینے کے قابل نہیں رہتا۔
• اعلیٰ عدلیہ کا نظریہ: سپریم کورٹ نے کئی فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ قیدی کو سماجی طور پر کاٹ دینا اسے مستقل ذہنی مریض بنا سکتا ہے، جو کہ ریاست کی ذمہ داری (Welfare State) کے خلاف ہے۔
3. عدالتی مداخلت (Judicial Intervention)
جب جیل انتظامیہ ملاقات سے انکار کرتی ہے، تو عدالتیں درج ذیل بنیادوں پر مداخلت کرتی ہیں:
• آرٹیکل 199 (رٹ پٹیشن): ہائی کورٹ جیل انتظامیہ کو حکم دے سکتی ہے کہ وہ ملزم کے بنیادی حقوق کو پامال نہ کرے۔ عدالت یہ پوچھ سکتی ہے کہ کس قانون کے تحت ملاقات روکی گئی؟
• ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا اختیار: سیشن جج کو اختیار ہے کہ وہ کسی بھی وقت جیل کا دورہ کرے اور قیدیوں کی شکایات سن کر موقع پر احکامات جاری کرے۔
• حبسِ بے جا (Habeas Corpus): اگرچہ ملزم قانونی تحویل میں ہوتا ہے، لیکن اسے بنیادی حقوق (جیسے ملاقات) سے محروم کرنا "حقوق کے حبسِ بے جا" کے زمرے میں آتا ہے۔
4. کاپی کرنے کے لیے اہم قانونی حوالہ (Legal Text)

1. منصفانہ ٹرائل اور قانونی دفاع (Right to Fair Trial)
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 10-A ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا حق دیتا ہے۔
• قانونی پہلو: ملزم کو اپنے کیس کی پیروی کے لیے ورثاء سے ملنا ہوتا ہے تاکہ وہ وکیل کی فیس، گواہان کی موجودگی اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے مالی اور اخلاقی مدد حاصل کر سکے۔
• عدالتی موقف: اگر ملاقات روک دی جائے تو ملزم کا اپنے دفاع کا حق مفلوج ہو جاتا ہے، جو کہ انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔
2. ذہنی صحت اور نفسیاتی اثرات
قید بذاتِ خود ایک ذہنی دباؤ ہے، اور اپنوں سے دوری اسے "نفسیاتی تشدد" میں بدل دیتی ہے۔
• تنہائی کا اثر: مسلسل تنہائی ملزم کو ڈپریشن اور ذہنی بے چینی کا شکار کر دیتی ہے، جس سے وہ اپنے کیس پر توجہ دینے کے قابل نہیں رہتا۔
• اعلیٰ عدلیہ کا نظریہ: سپریم کورٹ نے کئی فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ قیدی کو سماجی طور پر کاٹ دینا اسے مستقل ذہنی مریض بنا سکتا ہے، جو کہ ریاست کی ذمہ داری (Welfare State) کے خلاف ہے۔
3. عدالتی مداخلت (Judicial Intervention)
جب جیل انتظامیہ ملاقات سے انکار کرتی ہے، تو عدالتیں درج ذیل بنیادوں پر مداخلت کرتی ہیں:
• آرٹیکل 199 (رٹ پٹیشن): ہائی کورٹ جیل انتظامیہ کو حکم دے سکتی ہے کہ وہ ملزم کے بنیادی حقوق کو پامال نہ کرے۔ عدالت یہ پوچھ سکتی ہے کہ کس قانون کے تحت ملاقات روکی گئی؟
• ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا اختیار: سیشن جج کو اختیار ہے کہ وہ کسی بھی وقت جیل کا دورہ کرے اور قیدیوں کی شکایات سن کر موقع پر احکامات جاری کرے۔
• حبسِ بے جا (Habeas Corpus): اگرچہ ملزم قانونی تحویل میں ہوتا ہے، لیکن اسے بنیادی حقوق (جیسے ملاقات) سے محروم کرنا "حقوق کے حبسِ بے جا" کے زمرے میں آتا ہے۔
4. کاپی کرنے کے لیے اہم قانونی حوالہ (Legal Text)
عدالتیں مانتی ہیں کہ "قیدی کے ہاتھ بندھے ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے حقوق نہیں"۔ اگر ملاقات نہ کروائی جائے تو یہ ملزم کو ذہنی طور پر توڑنے کی کوشش سمجھی جاتی ہے، جس کے خلاف عدالتِ عالیہ فوری ریلیف فراہم کرنے کی پابند ہے۔

Address

Lahore
54700

Telephone

+923114013792

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law information posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Law information:

Shortcuts

Share