28/11/2024
اس سال ٹیکس امینڈمنٹ ایکٹ 2024 کے نام سے قانون میں تبدیلی کی گئی جس میں ٹیکس قوانین کو کافی حد تک تبدیل کر دیا گیا خاص طور پر ایک ٹیکس پیئر جب کسی آرڈر کے خلاف اپیل کرتا تھا تو اس کی اپیل/ ٹیکس ریفرنس فائل کرنے کی ایک فیس ہوتی تھی جسے گورنمنٹ نے 100 فیصد سے 300 فیصد تک بڑھا دیا اور کچھ کیسز میں یہ اضافہ 49900 فیصد تک کیا گیا ہے اب ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ ٹیکس اپیل اور ٹیکس ریفرنس فائل کرتے ہوئے کس فورم پر کتنا اضافہ ہوا ہے.
1. پہلے جب ٹیکس پیئر ،کمشنر اپیل کے فیصلے کے خلاف ( ATIR )ٹیکس ٹریبونل میں اپیل فائل کرتا تھا تو اس وقت Individual کے لیے فیس 2500 ہزار اور companies کے لیے 5000 ہزار روپے ہوتی تھی۔New Amendment Tax Laws کے نام سےتبدیلی کرتے ہوئے individuals کی فیس کو 2500 سے 5000 ہزار اور کمپنی کی فیس کو 5000 ہزار سے بڑھا کر20000 ہزارکر دیا گیا ہے اسی حساب سے یہ اضافہ بل ترتیب 100 فیصد اور 300 فیصد بنتا ہے۔
2. اگر کسی ٹیکس پیئر کی اپیل ATIR سے reject ہو جاتی تھی تو اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں ریفرنس فائل کرنا ہوتا ہے اس کی پہلے فیس 100 روپیہ ہوتی تھی جسے بڑھا کر 50 ہزار روپے تک کر دیا گیا ہے جو کہ 49900 فیصد اضافہ بنتا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
ٹیکس دہندگان پر ممکنہ اثرات:-
یہ ترامیم ٹیکس دہندگان کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہیں، خاص طور پر ان کے لیے جو مالی طور پر کمزور ہیں یا پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں:
عدالت سے رجوع کرنے کے مواقع محدود ہو جائیں گے:-
زیادہ فیس کی وجہ سے کئی ٹیکس دہندگان اپیل دائر کرنے یا ریفرنس فائل کرنے سے قاصر ہوں گے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ایسے فیصلے قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں گے جو ان کے خلاف ہوں، چاہے وہ فیصلے غیر منصفانہ ہی کیوں نہ ہوں۔
اضافی ٹیکس کی ادائیگی کا خطرہ:-
فرض کریں کہ کسی ٹیکس دہندہ پر 6 لاکھ روپے کا ٹیکس واجب الادا ہے، اور ATIR اس کے خلاف فیصلہ دے دیتا ہے۔
اگر وہ ہائی کورٹ میں ریفرنس دائر نہیں کر سکتا تو اسے وہ رقم ادا کرنی پڑے گی جو شاید حقیقت میں اس پر واجب ہی نہ ہو۔
کاروبار پر منفی اثرات:-
یہ تبدیلیاں خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے مشکلات پیدا کریں گی۔
انصاف کی راہ میں رکاوٹ:-
انصاف تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، لیکن اس قانون کے بعد یہ حق صرف مالی طور پر مضبوط افراد کے لیے رہ جائے گا۔
عام افراد اور چھوٹے کاروباروں کے لیے یہ قانون ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
کیا یہ اضافہ منصفانہ ہے؟
اتنی زیادہ فیس مقرر کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے:
کیا انصاف صرف امیروں کے لیے ہے؟
کیا حکومت عوام کی مشکلات کو سمجھنے میں ناکام ہو رہی ہے؟