HY Law Associates

HY Law Associates We offer services regarding Taxation Law , Croporate Law and business registration etc.

Condonation of time-limit under section 74 of Sales Tax Act 1990. IN THE LAHORE HIGH COURT, MULTAN BENCH MULTANW.P No.15...
25/06/2026

Condonation of time-limit under section 74 of Sales Tax Act 1990.
IN THE LAHORE HIGH COURT, MULTAN BENCH MULTAN
W.P No.15793 of 2022
M/s. Mehr Dastgir Leather and Footwear Industries (Pvt) Limited
Versus
Federation of Pakistan through Secretary Ministry of Finance & others

ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم: ایف بی آر کا غیر تعمیل کرنے والے امپورٹرز کے خلاف 1 جولائی سے سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ۔اسلام آباد: ف...
25/06/2026

ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم:

ایف بی آر کا غیر تعمیل کرنے والے امپورٹرز کے خلاف 1 جولائی سے سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ۔

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے فیصلہ کیا ہے کہ یکم جولائی سے ان امپورٹرز کے خلاف سخت تادیبی کارروائی شروع کی جائے گی جو ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم کی مکمل تعمیل نہیں کر رہے۔ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس نظام میں شفافیت، دستاویزی معیشت اور ریئل ٹائم رپورٹنگ کو بہتر بنانا ہے۔

اہم فیصلے اور اقدامات۔۔۔

ایف بی آر کے مطابق غیر تعمیل کرنے والے امپورٹرز کے خلاف درج ذیل کارروائیاں کی جائیں گی:

جرمانے (Penalty) عائد کیے جائیں گے

سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کی جا سکتی ہے

امپورٹ مرحلے پر گرین چینل سہولت سے اخراج ہوگا

مکمل تعمیل تک امپورٹ کلیئرنس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

گرین چینل سے اخراج۔۔۔۔

ذرائع کے مطابق سب سے سخت اقدام یہ ہوگا کہ غیر تعمیل کرنے والے امپورٹرز کو گرین چینل سہولت سے نکال دیا جائے گا، جو درآمدات کی تیز رفتار کلیئرنس کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

ڈیجیٹل انوائسنگ کی صورتحال۔۔۔

ایف بی آر نے نوٹس لیا ہے کہ:
بڑی تعداد میں امپورٹرز ابھی تک سسٹم سے منسلک نہیں ہوئے۔

کچھ رجسٹرڈ امپورٹرز انوائسنگ سسٹم کے ذریعے ای انوائسز جاری نہیں کر رہے۔

عمل درآمد کی رفتار سست ہے جس پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

قانونی پس منظر۔

ایس آر او 1852(I)/2025 کے تحت:

امپورٹرز کو 25 اکتوبر 2025 تک سسٹم سے انٹیگریٹ ہونا لازم تھا۔

1 نومبر 2025 سے تمام انوائسز ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے جاری کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا۔

حکومتی مؤقف
ایف بی آر حکام کے مطابق یہ معاملہ ٹرانسفارمیشن پلان کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد پورے ٹیکس نظام کو جدید، خودکار اور شفاف بنانا ہے۔

📢 *Tax Alert: Foreign Self-Remittances Are Still Exempt!* 💼✈️If you transfer your own foreign funds into your local bank...
24/06/2026

📢 *Tax Alert: Foreign Self-Remittances Are Still Exempt!* 💼✈️

If you transfer your own foreign funds into your local bank account, the Tax Department *cannot* treat it as "Unexplained Income" or "Income from Other Sources."

According to a landmark Tribunal ruling interpreting the *Income Tax Ordinance, 2001*:

* *No Discrimination:* The law does *not* differentiate between money sent by someone else and money sent by you to yourself.
* *The Rule:* As long as the funds come through *legal banking channels* and are backed by *Proceeds Realization Certificates (PRCs)*, they are fully protected.

> *The Bottom Line:* Bringing your own foreign earnings home is exempt from tax under Section 111. Just ensure your banking paperwork and PRCs are always in order! 🛡️

گفٹ کے ذریعے جائیداد کی منتقلی پر سیکشن 236C اور 236W کا اطلاق نہیں ہوگا۔۔۔۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے اپنے خط نمبر C...
24/06/2026

گفٹ کے ذریعے جائیداد کی منتقلی پر سیکشن 236C اور 236W کا اطلاق نہیں ہوگا۔۔۔۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے اپنے خط نمبر C.No.4(99)IT-Budget/2016-PT-I/24414-R مورخہ 24 فروری 2017 کے ذریعے وضاحت جاری کی ،

کہ Circular No. 10 of 2015 کے تحت سیکشن 236K کے بارے میں دی گئی رعایت اب سیکشن 236C اور 236W پر بھی لاگو ہوگی۔

وضاحت
ایف بی آر کے مطابق اگر کوئی غیر منقولہ جائیداد (Immovable Property) Gift Deed کے ذریعے ان مخصوص افراد کو منتقل کی جاتی ہے جن کا ذکر Circular No. 10 of 2015 میں کیا گیا ہے،

تو ایسی منتقلی پر:
سیکشن 236C کے تحت ایڈوانس ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔
سیکشن 236W کے تحت ایڈوانس ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔
سیکشن 236K کی عدم اطلاق (Non-Applicability) کی
رعایت پہلے سے موجود ہے۔

قانونی اہمیت
یہ وضاحت اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں کے درمیان جائیداد کی بطور تحفہ منتقلی کو تجارتی لین دین تصور نہیں کیا جائے گا،

لہٰذا ایسے معاملات میں مذکورہ بالا ودہولڈنگ ٹیکسز لاگو نہیں ہوں گے، بشرطیکہ گفٹ ٹرانسفر متعلقہ قوانین اور ایف بی آر کے جاری کردہ سرکلر کی شرائط کے مطابق ہو۔

نتیجہ
اگر والدین، اولاد، شریک حیات یا دیگر اہل رشتہ داروں کے درمیان جائیداد بطور تحفہ منتقل کی جاتی ہے تو ایسی منتقلی پر سیکشن 236C، 236W اور 236K کے تحت ایڈوانس ٹیکس عائد نہیں ہوگا، بشرطیکہ معاملہ ایف بی آر کے مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہو۔

: FBR Clarification Letter dated 24 February 2017 regarding Sections 236C & 236W of the Income Tax Ordinance, 2001.

23/06/2026

🔥 بریکنگ نیوز: پنجاب میں کرائے کی جائیدادوں پر نئے ٹیکس قوانین نافذ، دستی ادائیگیاں ختم! 🔥حکومتِ پنجاب نے فنانس بل کے تحت صوبے بھر میں رینٹل پراپرٹی ایکٹ میں اہم ترین ترامیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ٹیکس کا پورا نظام تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یکم جولائی سے تمام کمرشل اور مخصوص رہائشی رینٹل جائیدادوں کو سخت ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے۔📌 نئے رینٹل پراپرٹی ایکٹ کی 5 اہم ترین تفصیلات:1️⃣ 16 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST): یکم جولائی سے کرائے پر دی گئی تمام تجارتی، غیر رہائشی اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی جائیدادوں پر 16% ٹیکس لاگو ہوگا۔2️⃣ E-Pay Punjab سے ڈیجیٹل ادائیگی لازمی: پراپرٹی ٹیکس کی روایتی دستی ادائیگیوں اور چالان کا نظام مکمل ختم کر دیا گیا ہے۔ اب تمام ادائیگیاں صرف اور صرف حکومت کے آفیشل پورٹل یا ایپ کے ذریعے آن لائن جمع ہوں گی۔3️⃣ 5 فیصد خصوصی رعایت (Discount): جو مالکان 'سیلف اسیسمنٹ سکیم' (Self-Assessment) کے تحت اپنی جائیداد کی قیمت اور کرائے کی خود درست معلومات فراہم کریں گے، انہیں ٹیکس میں 5 فیصد کی چھوٹ دی جائے گی۔4️⃣ سخت جرمانے اور سرچارجز: ٹیکس چوری کرنے یا تاخیر سے جمع کرانے والوں پر ہر تین ماہ بعد (31 اکتوبر، 31 جنوری، 30 اپریل اور 31 جولائی) کو اصل ٹیکس کے ساتھ بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔5️⃣ 20 فیصد کیپنگ کی حد: یکم جنوری 2025 سے پہلے کے رجسٹرڈ پرانے ٹیکس دہندگان کے لیے کیپیٹل ویلیو اسیسمنٹ پر 20 فیصد کی حفاظتی حد (Caping) برقرار رکھی گئی ہے۔حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیکس چوری کو روکنا اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنا ہے۔ تاہم، پراپرٹی ڈیلرز اور شہریوں کا ماننا ہے کہ اس سے صوبے میں دکانوں اور مکانات کے کرایوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔⚡

23/06/2026

جعلی رسید نہیں، اصل ٹیکس---پنجاب حکومت نے ٹیکس چوروں اور ٹیکس فراڈ کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا

میرج ہالز ،فوڈ چینز،کاروبار سے فارم ہاؤسز تک ہر ٹرانزیکشن کا حساب ہوگا

پنجاب حکومت کا میرج ہالز، مارکیز اور فارم ہاؤسز اور بڑے فود چینز کی مانیٹرنگ کے لیے کیمرے لگانے کا فیصلہ

جعلی رسیدیں دینے اور سیلز چھپانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی

بڑے ریسٹورنٹس میں کیش وصولی کے بجائے ڈیجیٹل پیمنٹ لازمی کرنے پر غور

اگر دنیا کیش سے ڈیجیٹل پر جا سکتی ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ مریم نواز شریف

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کا خواتین کے جائیدادوں میں وراثتی حقوق کے تحفظ کیلئے ملکی عدالتی تاریخ کا پہل...
19/06/2026

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کا خواتین کے جائیدادوں میں وراثتی حقوق کے تحفظ کیلئے ملکی عدالتی تاریخ کا پہلا اور شاندار فیصلہ۔۔۔۔۔

وفاقی آئینی عدالت نے بی بی امینہ وغیرہ کیس میں خواتین کے وراثتی تنازعات میں راضی نامہ /تحریری مفاہمت کیلئے 13سخت قانونی اصول جاری کر دیئے

آئندہ تمام ملکی عدالتیں، ریونیو حکام خواتین کے وراثتی تنازعات میں درج ذیل اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرینگے

پہلا حکم:تمام عدالتیں اورریونیو حکام خواتین کے وراثتی تنازعات کی دستاویزات پراعلی درجے کی احتیاط اور توجہ دیںگے

دوسرا حکم:کسی تحریری راضی نامہ والی دستاویز کی بنیاد پر انتقال وغیرہ (چاہے تصدیق شدہ ہی کیوں نہ ہو)تب تک درست تصور نہیں کیا جائیگا جب تک اس راضی نامہ کی رضامندی کا آزادانہ ثبوت نہ ہو اور راضی نامہ کے تمام اجزا بارے مکمل آگاہی نہ ہو۔

تیسرا حکم:وراثتی تنازعات میں خواتین کی تحریری مفاہمت /راضی نامہ کے آزادانہ ماحول میں ہونےکو ثابت کرنے کا بوجھ اس فریق پر ہوگا جو اس راضی نامے سے فائندہ لینے والا ہوگا۔

چوتھا حکم: تمام عدالتیں اس بات کو یقینی بنائیںگی کہ کیا ریکارڈ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ خواتین کے وراثتی تنازعات میں راضی نامہ یا وراثت سے دست برداری کی بابت کو خواتین کو مکمل آگاہی اور علم تھا۔

پانچواں حکم: یہ لازمی ثابت ہونا چاہیےکہ وراثتی تنازعات میں راضی نامہ لکھنے والی یا دستبرداری لکھنے والی خواتین کو تحریر سے قبل وراثتی حقوق اور تحریر کی بابت آزادانہ مکمل قانونی رہنمائی دستیاب تھی ۔

چھٹا حکم:وراثتی تنازعات کی مفاہمت کی جانچ پڑتال ایسے کی جائیگی کہ اس میں کسی قسم کا کوئی دبائو، سماجی برتری، فراڈ، غلط بیانی یا دبائو کا عنصر تو شامل نہیں تھا۔

ساتواں حکم:جہاں کہیں معاوضہ کا عنصر شامل ہو تو اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ یہ معاوضہ خواتین قانونی طریقے سے واقعی ہی ملا ہے اور معاوضہ مناسب اور حقیقی ہے کہ نہیں۔

آٹھواں حکم:جو بھی دستاویز لکھی جائیگی، اس دستاویز کے تمام عناصر یا اجزا عام فہم زبان بالخصوص اس زبان میں ہوگی جو خواتین کیلئے آسانی سے سمجھ آنے والی ہو۔

نواں حکم:عدالتی اس امر کی تصدیق کرینگی کہ راضی نامہ یا مفاہمت لکھنے والی خواتین کوجلد بازی یا دبائو کے بغیرمشاورت کا مناسب موقع فراہم کیا گیا ہے۔

دسواں حکم :ہر اس ٹرانزیکشن کو سختی سے مسترد کیا جائیگا جو شعوری نہ ہو، غیرمناسب ہو اور خاتون وارث کے حق متاثر کرتی ہے، تاوقت یہ کہ اس کیخلاف ٹھوس شہادت نہ آ جائے۔

گیارہواں حکم:خواتین کے وراثتی تنازع کے اردگرد کے تمام مشکوک حالات و اقعات کو فائدہ لینے والا قابل اطمینان وضاحت کرے گاورنہ وہ مشکوک حالات اور واقعات فائدہ لینے والے کیخلاف پڑھے جائیں گے۔

بارہواں حکم:خواتین کے وراثتی تنازعات میں انہیں وراثتی حقوق سے مفاہت کے ذریعے دستبربرداری کی بابت فیصلہ دینے سے پہلے عدالتیں لازمی طور پر خواتین کی رضامندی اور آگاہ شدہ آگاہی کی بابت اپنی مثبت فائنڈنگ ریکارڈ کرینگی۔

تیرہواں حکم: تمام ریونیو حکم وراثتی انتقالات درج کرنے سے پہلے آئینی عدالت کے ان12احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں گی۔
Akram

Budget 2026-27
14/06/2026

Budget 2026-27

08/06/2026

Address

Office No 1, Ground Floor, 02 Mozang Road
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when HY Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share