Asif Siddiq Chaudhary Advocate

Asif Siddiq Chaudhary Advocate A&A Law Firm Deals in writs, appeals, civil, criminal, banking, custom and family laws

18/08/2026
ریٹ پٹیشن اور ریویو میں کیا فرق ہے؟ ہائی کورٹ کب جائیں اور ریویو کب دائر کریں؟پاکستان میں اکثر لوگ سنتے ہیں کہ "ہم نے ری...
27/07/2026

ریٹ پٹیشن اور ریویو میں کیا فرق ہے؟ ہائی کورٹ کب جائیں اور ریویو کب دائر کریں؟

پاکستان میں اکثر لوگ سنتے ہیں کہ "ہم نے ریٹ پٹیشن دائر کر دی" یا "ہم ریویو میں چلے گئے"، لیکن بہت سے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ریٹ پٹیشن (Writ Petition) اور ریویو (Review) میں قانونی طور پر کیا فرق ہے۔
آئیے اسے آسان انداز میں سمجھتے ہیں۔

ہائی کورٹ کے ریٹ اختیارات

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کو ریٹ (Writ Jurisdiction) کے اختیارات حاصل ہیں۔

1۔ ریٹ آف ہیبیس کارپس (Habeas Corpus)

اگر کسی شخص کو غیر قانونی طور پر گرفتار یا حراست میں رکھا گیا ہو تو کوئی بھی شخص ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر سکتا ہے کہ فلاں شخص کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے، لہٰذا اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور اگر حراست غیر قانونی ہو تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔

2۔ ریٹ آف پروہیبیشن (Prohibition)

اگر کوئی سرکاری افسر یا ادارہ ایسا اختیار استعمال کر رہا ہو جو قانون نے اسے دیا ہی نہ ہو، یا کسی شخص کو غیر قانونی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہو، تو ہائی کورٹ سے درخواست کی جا سکتی ہے کہ اسے اس غیر قانونی اقدام سے روکا جائے۔

3۔ ریٹ آف مینڈیمس (Mandamus)

اگر کوئی سرکاری افسر یا ادارہ قانون کے مطابق کوئی کام کرنے کا پابند ہو لیکن وہ اپنی قانونی ذمہ داری ادا نہ کر رہا ہو، تو ہائی کورٹ اسے اپنا فرض ادا کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔

4۔ ریٹ آف سرشوراری (Certiorari)

اگر کسی ماتحت عدالت یا ٹریبونل میں غیر قانونی کارروائی، اختیارات سے تجاوز یا کوئی مادی قانونی بے ضابطگی ہو رہی ہو تو ہائی کورٹ اس کارروائی یا حکم کو درست کرنے کے لیے مداخلت کر سکتی ہے۔

5۔ ریٹ آف کو وارنٹو (Quo Warranto)

اگر کوئی شخص قانونی اہلیت یا مقررہ طریقہ کار کے بغیر کسی سرکاری عہدے پر فائز ہو تو کوئی بھی شہری ہائی کورٹ میں اس تقرری کو چیلنج کر سکتا ہے۔

ریویو (Review) کیا ہوتا ہے؟

ریویو مکمل طور پر ایک الگ قانونی تصور ہے۔
اگر کسی عدالتی فورم، ٹریبونل یا عدالت نے فیصلہ دیا ہو اور کسی فریق کو یہ محسوس ہو کہ:

عدالت سے کوئی انسانی غلطی ہوئی ہے،

ریکارڈ کا کوئی اہم حصہ نظر انداز ہو گیا ہے،

یا فیصلہ دیتے وقت کوئی مادی نکتہ زیرِ غور نہیں آیا،

تو وہ اسی عدالت میں ریویو درخواست دائر کر سکتا ہے۔

کیا ریویو میں فیصلہ تبدیل ہو سکتا ہے؟

جی ہاں، اگر عدالت کو واقعی محسوس ہو کہ:

ریکارڈ نظر انداز ہوا،

کوئی واضح قانونی غلطی موجود ہے،

یا فیصلہ میں ترمیم ضروری ہے،

تو عدالت:

پورا فیصلہ تبدیل بھی کر سکتی ہے،

جزوی ترمیم بھی کر سکتی ہے،

یا صرف ضروری اصلاح بھی کر سکتی ہے۔

کیا ہر کیس میں ریویو دائر کرنا چاہیے؟

ضروری نہیں۔
اگر واقعی ریویو کے قانونی بنیادیں موجود ہوں تو ریویو دائر کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر وکیل کو معلوم ہو کہ ریویو کی کوئی گنجائش موجود نہیں تو وہ مؤکل کو غیر ضروری اخراجات اور وقت ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ریویو دائر نہ کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔

ریویو کے بعد کیا ہوتا ہے؟

اگر قانون اپیل کا حق دیتا ہو تو ریویو کے فیصلے کے بعد اگلے فورم پر اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔
اگر کسی اور مؤثر قانونی چارہ جوئی (Adequate Alternate Remedy) کا راستہ موجود ہو تو پہلے وہ اختیار کیا جاتا ہے۔
جب کوئی مؤثر متبادل قانونی راستہ موجود نہ ہو، تب مناسب حالات میں ہائی کورٹ کی ریٹ جیورسڈکشن سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

اہم قانونی نکات

✔ آرٹیکل 199 آئینِ پاکستان ہائی کورٹ کو ریٹ جیورسڈکشن دیتا ہے۔
✔ ریٹ اور ریویو دو مختلف قانونی طریقہ کار ہیں۔
✔ ریویو ہمیشہ اسی فورم میں دائر کیا جاتا ہے جس نے فیصلہ دیا ہو۔
✔ ریٹ عام طور پر تب دائر کی جاتی ہے جب مناسب متبادل قانونی چارہ جوئی موجود نہ ہو یا آئین کے تحت ریٹ اختیار استعمال کرنے کی قانونی بنیاد موجود ہو۔
قانون کو سمجھیں، اپنے حقوق سے آگاہ رہیں، اور ہر قانونی قدم اٹھانے سے پہلے متعلقہ قانون اور مستند قانونی مشورہ ضرور حاصل کریں۔

Follow AMY ScholarNest's WhatsApp Channel. For Books and Judgments download our App and also you can visit to our website.
App: https://play.google.com/store/apps/details?id=com.lawapp.lawapp
Website: www.amyscholarnest.com. Join 293 followers for the latest updates.

(i) A belated supplementary statement implicating a previously unknown accused based on undisclosed sources, vague suspi...
23/07/2026

(i) A belated supplementary statement implicating a previously unknown accused based on undisclosed sources, vague suspicions or unverified informers lacks evidentiary value; relying solely on such material for arrest is an oppressive exercise of power which renders the prosecution's case highly doubtful and entitles the accused to bail under Section 497, Cr.P.C.

(ii) A confession made before the police during an investigation holds no evidentiary value and is strictly inadmissible as substantive evidence under Articles 38 and 39 of the Qanun-e-Shahadat Order, 1984
Crl. Misc.39870/26
Umer Farooq alias Ahtisham Vs The State etc
Mr. Justice Muhammad Tariq Nadeem
16-07-2026
2026 LHC 4789

22/07/2026

منشیات کے مقدمات میں مؤثر جرح اور نیا معیار - سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلہ 2025 SCMR 923 کی روشنی میں ۔

قانونی اعتراضات اور مؤثر Cross-Examination کی عملی گائیڈ

منشیات کے مقدمات میں صرف برآمدگی کافی نہیں۔ استغاثہ پر یہ قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ برآمد شدہ منشیات کی برآمدگی سے لے کر فرانزک تجزیہ اور عدالت میں پیشی تک ہر مرحلے کی محفوظ تحویل (Chain of Custody) ناقابلِ شبہ دستاویزی ثبوت سے ثابت کرے۔

ذیل میں ایسے مؤثر سوالات درج کر رہا ہوں جو تفتیشی افسر، انچارج مالخانہ اور فرانزک ماہر سے جرح کے دوران مقدمے کی خامیاں نمایاں کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں

حصہ اول:

تفتیشی افسر (Investigating Officer / Recovery Officer) سے جرح

کیا آپکو وقوعہ سے قبل کوئی خفیہ یا پیشگی اطلاع موصول ہوئی تھی؟
2. کیا اس اطلاع کا اندراج Rule 22.49 Police Rules 1934 کے مطابق رجسٹر نمبر II (روزنامچہ) میں کیا گیا؟
3. کیا آپ عدالت کو اس اندراج کا نمبر اور وقت بتا سکتے ہیں؟
4. کیا آپ نے دفعہ 20 قانون انسدادِ منشیات 1997 کے تحت سرچ وارنٹ حاصل کیا؟
5. اگر سرچ وارنٹ حاصل نہیں کیا گیا تو کیا اس کی وجوہات روزنامچہ میں درج کی گئیں؟
6. کیا موقع پر دو غیرجانبدار اور آزاد گواہوں کو شامل کیا گیا؟
7. اگر نہیں، تو انکار کی وجوہات کیا ہیں اور کیا وہ بھی روزنامچہ میں درج ہیں؟



B۔ برآمدگی، وزن اور سیلنگ

8. برآمد شدہ منشیات کس ترازو سے تولی گئی؟
9. کیا اس ترازو کی Calibration یا Verification Certificate موجود ہے؟
10. تین نمائندہ نمونے کس وقت، کس مقام پر اور کس کی موجودگی میں تیار کیے گئے؟
11. کیا نمونے آپ نے تیار کیے یا محرر/کسی اور اہلکار نے؟
12. کیا ہر نمونے پر مقدمہ نمبر، تاریخ، مقام، دستخط اور مہر موجود ہے؟
13. باقی مال کس نے سیل کیا؟
14. کیا Form 22.70 پر Sample Seal محفوظ کی گئی؟
15. کیا آپ عدالت میں وہ Sample Seal دکھا سکتے ہیں؟



C۔ Chain of Custody کا آغاز

16. برآمدگی کے فوراً بعد مال کس کے قبضے میں رہا؟
17. مالخانہ میں جمع کرانے تک وہ کس کی تحویل میں تھا؟
18. کیا اس دوران کسی مرحلے کا تحریری ریکارڈ موجود ہے؟



حصہ دوم

محرر / انچارج مالخانہ (Moharrir / Malkhana Incharge) سے جرح

سپریم کورٹ کے مطابق Chain of Custody کی بنیاد

1. کیا آپ متعلقہ تھانے کے انچارج مالخانہ ہیں؟
2. کیا آپ نے مقدمہ کی ضبط شدہ پراپرٹی وصول کی؟
3. تاریخ، وقت اور مقام بتائیں۔
4. کیا اس کا اندراج رجسٹر نمبر XIX میں کیا گیا؟
5. رجسٹر کا Serial Number کیا ہے؟
6. کیا رجسٹر عدالت میں پیش کیا گیا ہے؟
7. کیا اس اندراج کی مصدقہ نقل موجود ہے؟
8. کیا لیبارٹری بھیجنے سے پہلے Road Certificate (Form 10.17 / Rule 22.72) تیار کیا گیا؟
9. روڈ سرٹیفکیٹ نمبر کیا ہے؟
10. نمونے لے جانے والے اہلکار کا نام کیا ہے؟
11. وہ کس تاریخ اور وقت روانہ ہوا؟
12. کیا اس کی روانگی اور واپسی دونوں کا اندراج رجسٹر میں موجود ہے؟
13. کیا لیبارٹری سے واپسی پر نیا روڈ سرٹیفکیٹ تیار کیا گیا؟
14. کیا مقدمہ کی پراپرٹی کی ہر نقل و حرکت کا مکمل دستاویزی ریکارڈ عدالت میں موجود ہے؟

انتہائی اہم سوال

15. اگر رجسٹر XIX اور روڈ سرٹیفکیٹ عدالت میں موجود نہیں تو کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ محفوظ تحویل (Chain of Custody) دستاویزی طور پر ثابت نہیں کی جا سکتی؟



اہم عدالتی نکتہ

اگر گواہ زبانی یادداشت سے جواب دے تو فوراً اعتراض کریں:

“جناب والا! آرٹیکل 102 قانونِ شہادت کے مطابق جب دستاویزی ثبوت موجود ہونا چاہیے تو زبانی شہادت ناقابلِ قبول ہے۔ پہلے متعلقہ رجسٹر اور روڈ سرٹیفکیٹ پیش کیے جائیں۔”



حصہ سوم

فرانزک / PFSA / Chemical Examiner سے جرح

1. پارسل آپ کو کس شخص نے فراہم کیا؟
2. کیا اس کے ساتھ Road Certificate موجود تھا؟
3. اس کا نمبر کیا تھا؟
4. پارسل وصول کرتے وقت کیا مہر صحیح اور سالم حالت میں تھی؟
5. کیا آپ نے Sample Seal کا موازنہ کیا؟
6. وصولی کا اندراج کس رجسٹر میں کیا گیا؟
7. کیا وہ رجسٹر عدالت میں موجود ہے؟
8. تجزیہ مکمل ہونے کے بعد پارسل کس کے حوالے کیا؟
9. واپسی کے روڈ سرٹیفکیٹ کا نمبر کیا تھا؟
10. کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ Road Certificate یا Chain of Custody کے کسی بھی مرحلے کی عدم موجودگی نمونے کی Integrity پر سوال اٹھا دیتی ہے؟
11. کیا یہی اصول سپریم کورٹ نے 2025 SCMR 923 میں اختیار کیا ہے؟



حصہ چہارم

ناقص اور نامکمل تفتیش

سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ محض ایک مبینہ پیڈلر کی گرفتاری مؤثر تفتیش نہیں۔

مندرجہ ذیل سوالات اس خامی کو نمایاں کرتے ہیں:

1. کیا آپ نے معلوم کیا کہ منشیات کا اصل سپلائر کون تھا؟
2. کیا آپ نے خریدار یا وصول کنندہ کی نشاندہی کی؟
3. کیا کسی بڑے نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا؟
4. کیا موبائل فون، کال ریکارڈ یا ڈیجیٹل شواہد حاصل کیے گئے؟
5. کیا بینک اکاؤنٹس اور مالی لین دین کی جانچ کی گئی؟
6. کیا دفعہ 26 CNSA کے تحت اثاثوں اور جائیداد کی تحقیقات کی گئیں؟
7. کیا کسی شریک ملزم کو گرفتار کیا گیا؟
8. کیا کسی منشیات فروش گروہ یا مینوفیکچرر تک پہنچنے کی کوشش کی گئی؟
9. اگر نہیں، تو کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ تفتیش صرف ایک شخص کی گرفتاری تک محدود رہی؟



سپریم کورٹ کے فیصلے 2025 SCMR 923 سے اخذ کردہ تین مضبوط قانونی اعتراضات

1۔ آرٹیکل 102 قانونِ شہادت

“جناب والا! استغاثہ Chain of Custody زبانی شہادت سے ثابت کرنا چاہتا ہے جبکہ قانون دستاویزی ثبوت کا تقاضا کرتا ہے۔ رجسٹر نمبر XIX، روزنامچہ اور Road Certificate پیش کیے بغیر زبانی شہادت قابلِ قبول نہیں۔”



2۔ آرٹیکل 129(g) قانونِ شہادت

“استغاثہ نے وہ دستاویزات پیش نہیں کیں جو اس کے قبضے میں تھیں، لہٰذا عدالت منفی مفروضہ قائم کر سکتی ہے کہ اگر یہ ریکارڈ پیش کیا جاتا تو وہ استغاثہ کے مؤقف کے خلاف ہوتا۔”



3۔ محفوظ تحویل (Chain of Custody) ثابت نہ ہونا

“استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ برآمد شدہ منشیات برآمدگی سے لے کر فرانزک تجزیہ اور عدالت میں پیش ہونے تک ہر مرحلے پر محفوظ اور غیر تبدیل شدہ حالت میں رہیں۔ لہٰذا فرانزک رپورٹ اپنی قانونی اہمیت کھو دیتی ہے۔”



سنہری اصول (Golden Rule of Cross-Examination)

سوال ہمیشہ مختصر، واضح اور Leading ہوں۔
ہر سوال کا جواب صرف “ہاں” یا “نہیں” تک محدود رکھیں۔
گواہ کو غیر ضروری وضاحت دینے کا موقع نہ دیں۔
جہاں ممکن ہو گواہ کو متعلقہ دستاویز دکھا کر سوال کریں۔
اگر دستاویز موجود نہ ہو تو فوراً اعتراض ریکارڈ کروائیں۔



جرح کا فیصلہ کن سوال

آخر میں گواہ سے لازماً یہ اقرار ریکارڈ کروانے کی کوشش کریں:

“میں تسلیم کرتا ہوں کہ رجسٹر نمبر XIX، متعلقہ Road Certificate، اور Chain of Custody ثابت کرنے والی تمام دستاویزات معزز عدالت میں پیش نہیں کی گئیں۔

عدالتی راضی نامے سے مکرنے والوں کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ! 🚨 اب سمجھوتہ توڑنا مہنگا پڑے گا!کیا عدالت میں فریقین کے ...
18/07/2026

عدالتی راضی نامے سے مکرنے والوں کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ! 🚨 اب سمجھوتہ توڑنا مہنگا پڑے گا!
کیا عدالت میں فریقین کے درمیان ہونے والا راضی نامہ یا سمجھوتہ صرف ایک عام نجی معاہدہ ہوتا ہے؟ اگر کوئی فریق عدالت میں راضی نامہ ریکارڈ کروانے کے بعد اپنی بات سے مکر جائے، تو کیا دوسرا فریق بے بس ہو جاتا ہے؟ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سول مقدمات میں عدالتی سمجھوتے (Compromise) کی قانونی حیثیت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور واضح فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں یہ بڑا قانونی اصول طے کیا ہے کہ اگر کسی بھی مقدمے میں فریقین عدالت کے سامنے باہمی رضامندی سے سمجھوتہ کر لیں اور عدالت اس کی بنیاد پر مقدمہ نمٹا دے، تو وہ راضی نامہ محض ایک نجی کاغذ نہیں رہتا۔ عدالت کے ریکارڈ پر آتے ہی وہ ایک مکمل قانونی حیثیت رکھنے والا عدالتی حکم بن جاتا ہے، جس کی پابندی کرنا تمام فریقین پر لازم اور فرض ہے۔
اس فیصلے کا سب سے بڑا ریلیف یہ ہے کہ عدالت نے واضح کیا کہ اگر سمجھوتے کی بنیاد پر باقاعدہ فارمل ڈگری تیار نہ بھی کی گئی ہو، تب بھی عدالت کے ریکارڈ پر موجود وہ راضی نامہ اور تحریری یقین دہانی اپنی پوری قانونی قوت برقرار رکھتے ہیں۔ اگر کوئی فریق اس کی خلاف ورزی کرے، تو دوسرا فریق نیا کیس دائر کرنے کے بجائے اسی راضی نامے کو لے کر براہِ راست عدالتِ عمل درآمد یعنی ایگزیکیوٹنگ کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے اور اس پر زبردستی عمل درآمد کروا سکتا ہے۔
کیس کے حقائق کے مطابق، سابقہ کارروائی کے دوران دی گئی تحریری یقین دہانی اور عدالت کے روبرو ریکارڈ ہونے والا سمجھوتہ دونوں مل کر فریقین کے درمیان ایک حتمی اور لازم عدالتی فیصلہ بن چکے تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے اس سمجھوتے پر عمل درآمد کے لیے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا کر بالکل درست اور قانونی راستہ اختیار کیا ہے، کیونکہ عدالت کے سامنے کیا گیا وعدہ قانوناً نافذ العمل ہوتا ہے۔
اس تاریخی فیصلے نے ان لوگوں کا راستہ روک دیا ہے جو عدالتوں میں جھوٹا راضی نامہ کر کے وقت حاصل کرتے ہیں اور بعد میں اپنے کیے ہوئے وعدے سے مکر جاتے ہیں۔ اب عدالت کے سامنے دی گئی زبان اور دستخط قانون کا لوہا بن چکے ہیں جس سے انحراف ممکن نہیں۔
سول لاء اور جائیداد کے تنازعات سے جڑی اس اہم ترین قانونی پیش رفت کو اپنے دوستوں، کاروباری شراکت داروں اور وکلاء برادری کے ساتھ لازمی شیئر کریں۔

13/07/2026

گواہ کے بیان کو من و عن ریکارڈ کرنا منصفانہ ٹرائل کا لازمی تقاضا ہے — سپریم کورٹ آف پاکستان

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ فوجداری مقدمات میں گواہ کا بیان درست، مکمل اور لفظ بہ لفظ (Verbatim) ریکارڈ کرنا محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ منصفانہ ٹرائل (Fair Trial) کا بنیادی تقاضا ہے۔ ضابطہ فوجداری (Cr.P.C.) کے باب XXV اور بالخصوص سیکشن 360 کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ عدالت میں دیا گیا ہر بیان درست طریقے سے قلمبند ہو تاکہ کسی بھی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

عدالت نے واضح کیا کہ سیکشن 360(1) ضابطہ فوجداری کے مطابق جب گواہ اپنا بیان مکمل کر لے تو اس بیان کو گواہ کے سامنے، ملزم یا اس کے وکیل کی موجودگی میں پڑھ کر سنایا جائے۔ اگر گواہ محسوس کرے کہ اس کے بیان میں کوئی غلطی، کمی یا تحریف ہوئی ہے تو اسے فوراً درست کیا جائے۔ اس طریقہ کار کا مقصد یہ ہے کہ گواہ کے دستخط لینے سے پہلے اس کا اصل مؤقف ہی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنے۔

سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ سیکشن 360(2) ضابطہ فوجداری گواہ کو یہ قانونی حق دیتا ہے کہ اگر وہ یہ اعتراض کرے کہ اس کا بیان لفظ بہ لفظ ریکارڈ نہیں کیا گیا یا اس میں کوئی غلطی موجود ہے، تو ٹرائل کورٹ اس اعتراض کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ قانون عدالت پر لازم کرتا ہے کہ وہ گواہ کے اعتراض کا ایک میمورنڈم (Memorandum) ریکارڈ کرے، اس پر اپنے مشاہدات اور وجوہات تحریر کرے اور جہاں ضرورت ہو، گواہ کے بیان کی درست صورت بھی ریکارڈ کرے۔

عدالت نے زور دیا کہ فوجداری قانون میں مقرر کردہ طریقۂ کار محض تکنیکی ضابطے نہیں بلکہ انصاف کے مؤثر نفاذ کا ذریعہ ہیں۔ ان قواعد کا مقصد قانونی کارروائی کو شفاف، منصفانہ اور آئین کے تقاضوں کے مطابق بنانا ہے تاکہ ہر شخص کو آرٹیکل 10-A کے تحت حاصل منصفانہ ٹرائل اور Due Process کے بنیادی حق کا مکمل تحفظ حاصل رہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی آبزرو کیا کہ جج کو صرف تکنیکی بنیادوں پر انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی گواہ واضح طور پر یہ مؤقف اختیار کرے کہ اس کا بیان صحیح طور پر قلمبند نہیں ہوا تو عدالت پر لازم ہے کہ وہ اپنے قانونی اختیار کو استعمال کرے۔ اگر عدالت ایسا نہ کرے تو گواہ کے بیان کی قانونی حیثیت اور شہادتی قدر (Evidentiary Value) متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مقدمے کے منصفانہ فیصلے پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

عدالت نے نہایت اہم اصول بیان کرتے ہوئے کہا کہ "ضابطہ کار (Procedural Law) کا اصل مقصد انسانی تکلیف اور حقائق کو آواز دینا ہے، انہیں خاموش کرنا نہیں۔" لہٰذا عدالتی طریقۂ کار کو انصاف کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ ایسے انداز میں جس سے انصاف کی راہ میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا ہو۔

📍قانونی اصول (Legal Principle):

فوجداری مقدمات میں اگر گواہ یہ اعتراض کرے کہ اس کا بیان درست یا لفظ بہ لفظ ریکارڈ نہیں کیا گیا تو ٹرائل کورٹ پر لازم ہے کہ وہ سیکشن 360(2) ضابطہ فوجداری کے مطابق اس اعتراض کا میمورنڈم ریکارڈ کرے، اپنی وجوہات تحریر کرے اور ضرورت پڑنے پر بیان کی درستگی کرے۔ ایسا کرنا منصفانہ ٹرائل، شفاف عدالتی کارروائی اور آرٹیکل 10-A کے تحت بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

12/07/2026

بچوں کی کسٹڈی کے مقدمات میں سپریم کورٹ کی اہم آبزرویشن
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ Guardians and Wards Act, 1890 کی دفعات 12، 17 اور 25 کے تحت بچوں کی کسٹڈی کے مقدمات میں بچے کی رائے کو سننا نہایت اہم ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ:
✅ بچے کی بات سننا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ انصاف کے تقاضوں کا بنیادی حصہ ہے۔
✅ بچے کی رائے سننے سے اس کے بہترین مفاد (Best Interest of the Child) کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔
✅ بچے کے خیالات کو صرف نوٹ کرنا کافی نہیں، بلکہ ان پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔
✅ بچے کی بات سننے کا مطلب ہر صورت اس کی خواہش پر عمل کرنا نہیں، بلکہ اس کے نقطۂ نظر کو سمجھ کر اس کے بہترین مفاد میں فیصلہ کرنا ہے۔
حوالہ: PLD 2026 Supreme Court 238
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

12/07/2026

Jurisprudence
(علمِ اصولِ قانون) کیا ہے؟
کہ:
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
قانون کیوں بنایا جاتا ہے؟

قانون کا اصل مقصد کیا ہے؟

انصاف (Justice) کیا ہے؟

حقوق (Rights) اور فرائض (Duties) کی بنیاد کیا ہے؟

عدالتیں قوانین کی تشریح کس اصول کے تحت کرتی ہیں؟

سادہ الفاظ میں، Jurisprudence قانون کا فلسفہ (Philosophy of Law) اور نظریاتی بنیاد (Theoretical Foundation of Law) ہے۔

عدالتی مقدمات میں Jurisprudence کا استعمال کیسے ہوتا ہے؟
عملاً ہر مقدمے میں Jurisprudence کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتی ہے، خاص طور پر ان حالات میں:

1. قانون کی تشریح (Interpretation of Statutes):
جب کسی قانون کے الفاظ مبہم ہوں تو عدالت Jurisprudence کے اصولوں کی روشنی میں اس کی درست تشریح کرتی ہے۔
2. قانونی خلا (Legal Lacuna):
اگر کسی معاملے پر واضح قانون موجود نہ ہو تو عدالت انصاف، مساوات، اور قانونی اصولوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔
3. نظائر (Precedents):
اعلیٰ عدالتوں کے سابقہ فیصلوں سے اخذ کیے گئے قانونی اصول Jurisprudence کی بنیاد پر لاگو کیے جاتے ہیں۔
4. بنیادی حقوق کا تحفظ:
آئینی مقدمات میں عدالت آزادی، مساوات، وقارِ انسانی اور انصاف جیسے نظریاتی اصولوں کو سامنے رکھتی ہے۔
5. صوابدیدی اختیارات (Judicial Discretion):
جہاں قانون جج کو اختیار دیتا ہے، وہاں فیصلہ Jurisprudence کے اصولوں، انصاف اور معقولیت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
مثال
فرض کریں قانون میں کسی اصطلاح کی واضح تعریف موجود نہیں۔ اس صورت میں جج صرف الفاظ پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ قانون کے مقصد (Purpose)، انصاف (Justice) اور مقننہ کی نیت (Legislative Intent) کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔ یہی Jurisprudence کا عملی استعمال ہے۔
Jurisprudence
کی اہم مکاتبِ فکر (Schools of thought)

Natural Law School of thought— قانون کی بنیاد اخلاقیات اور انصاف پر ہے۔

Analytical/Positivist School of thought — قانون وہی ہے جو ریاست نے نافذ کیا ہو۔

Historical School of thought— قانون معاشرتی تاریخ اور روایات سے ارتقا پاتا ہے۔

Sociological School of thought— قانون کا مقصد معاشرے کی ضروریات پوری کرنا ہے۔
Realist School — عملی طور پر عدالتیں جو فیصلہ کرتی ہیں، وہی قانون کی حقیقی صورت ہے۔
ایک وکیل کے لیے Jurisprudence کی اہمیت
ایک کامیاب وکیل صرف قانونی دفعات (Sections) نہیں جانتا بلکہ ان کے پیچھے موجود فلسفہ اور اصول بھی سمجھتا ہے۔ یہی سمجھ اسے:
*مؤثر قانونی دلائل دینے،

*نظائر کو صحیح انداز میں استعمال کرنے،

*قوانین کی مضبوط تشریح پیش کرنے،

اور جج کو انصاف پر مبنی فیصلہ دینے میں مدد دیتی ہے۔
Jurisprudence
قانون کی روح ہے، جبکہ قانونی دفعات اس کا جسم ہیں۔ ایک بہترین جج یا وکیل وہی ہوتا ہے جو قانون کے الفاظ کے ساتھ ساتھ اس کے مقصد، فلسفے اور اصولوں کو بھی سمجھتا ہو، کیونکہ یہی عناصر انصاف پر مبنی عدالتی فیصلوں کی بنیاد بنتے ہیں
Copied
Nasir Ali Bukhari
MA English LLM
Advocate High Court.....

11/07/2026

منشیات کے مقدمات میں جرح

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے 2025 SCMR 923 کی روشنی میں

ذیل میں دیے گئے سوالات منشیات کے مقدمات میں براہِ راست تفتیشی افسر (I.O.)، محرر/انچارج مالخانہ اور فرانزک ماہر سے جرح کے دوران استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

حصہ اول: تفتیشی افسر / برآمد کنندہ افسر سے جرح

دفعہ 20 قانون انسدادِ منشیات 1997 اور پیشگی اطلاع کے متعلق

1۔ کیا آپ کو وقوعہ سے قبل کوئی پیشگی اطلاع موصول ہوئی تھی؟
2۔ کیا اس پیشگی اطلاع کا اندراج رول 22.49 پولیس رولز 1934 کے مطابق رجسٹر نمبر II میں کیا گیا؟
3۔ کیا آپ نے دفعہ 20 قانون انسدادِ منشیات 1997 کے تحت سرچ وارنٹ حاصل کیا؟
4۔ اگر نہیں، تو اس کی کیا وجہ تھی؟ کیا یہ وجہ روزنامچہ میں درج کی گئی؟
5۔ کیا آپ نے موقع پر دو آزاد گواہوں کو شامل کیا؟ اگر ہاں، ان کے نام بتائیں۔

برآمدگی اور قبضہ کے متعلق

6۔ برآمد شدہ منشیات کس ترازو سے تولی گئی؟ کیا اس ترازو کا تصدیقی سرٹیفکیٹ موجود ہے؟
7۔ تین نمائندہ نمونے کب اور کہاں تیار کیے گئے؟ کیا وہ آپ کی موجودگی میں تیار ہوئے یا محرر نے تیار کیے؟
8۔ کیا ہر نمونے پر مقدمہ نمبر، تاریخ، آپ کے اور گواہوں کے دستخط موجود ہیں؟
9۔ نمونے لینے کے بعد باقی مال کو کس نے سیل کیا؟ کیا فارم 22.70 پر نمونہ مہر موجود ہے؟

حصہ دوم: محرر / انچارج مالخانہ سے جرح

2025 SCMR 923 کا بنیادی اصول: محفوظ تحویل (Chain of Custody)

1۔ کیا آپ متعلقہ تھانے کے انچارج مالخانہ ہیں؟
2۔ کیا آپ نے مقدمہ کی ضبط شدہ پراپرٹی وصول کی؟ تاریخ اور وقت بتائیں۔
3۔ کیا اس کا اندراج رجسٹر نمبر XIX میں کیا گیا؟ براہِ کرم رجسٹر عدالت میں پیش کریں۔
4۔ متعلقہ اندراج کا سیریل نمبر کیا ہے؟ کیا اس کی مصدقہ نقل پیش کر سکتے ہیں؟
5۔ کیا لیبارٹری بھیجنے سے قبل رول 22.72 کے مطابق روڈ سرٹیفکیٹ (فارم 10.17) تیار کیا گیا؟
6۔ نمونے لیبارٹری لے جانے والے پولیس اہلکار کا نام، تاریخ اور وقت کیا ہے؟ اس کا اندراج کہاں موجود ہے؟
7۔ کیا لیبارٹری سے واپسی کا روڈ سرٹیفکیٹ بھی موجود ہے؟
8۔ کیا مالخانہ سے لیبارٹری، لیبارٹری سے واپسی اور بعد ازاں عدالت تک مقدمہ کی پراپرٹی کی ہر نقل و حرکت کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے؟
9۔ اگر نہیں، تو کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ 2025 SCMR 923 کی روشنی میں مقدمہ کی محفوظ تحویل ثابت نہیں ہوتی؟

نوٹ: اگر گواہ زبانی یادداشت کا سہارا لے تو آرٹیکل 102 قانونِ شہادت کے تحت اعتراض کیا جائے کہ دستاویزی ثبوت کی موجودگی میں زبانی شہادت قابلِ قبول نہیں۔

حصہ سوم: فرانزک / لیبارٹری کے گواہ سے جرح

1۔ آپ کو پارسل کس شخص نے فراہم کیا؟ کیا اس کے ساتھ روڈ سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا؟
2۔ کیا پارسل وصول کرتے وقت اس کی مہر صحیح اور سالم حالت میں تھی؟
3۔ پارسل وصولی کا اندراج کس رجسٹر میں کیا گیا؟
4۔ تجزیہ مکمل ہونے کے بعد پارسل کس کے حوالے کیا گیا؟ متعلقہ روڈ سرٹیفکیٹ نمبر کیا تھا؟
5۔ کیا آپ اس امر سے اتفاق کرتے ہیں کہ روڈ سرٹیفکیٹ کی عدم موجودگی میں Chain of Custody ٹوٹ جاتی ہے، جیسا کہ 2025 SCMR 923 میں قرار دیا گیا؟

حصہ چہارم: ناقص تفتیش سے متعلق جرح

1۔ کیا آپ نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ منشیات ملزم کو کس نے فراہم کی؟
2۔ کیا آپ نے یہ تفتیش کی کہ منشیات کس شخص تک پہنچائی جانی تھیں؟
3۔ کیا آپ نے دفعہ 26 قانون انسدادِ منشیات کے تحت ملزم کے بینک اکاؤنٹس، اثاثوں یا جائیداد کی جانچ کی؟
4۔ کیا آپ نے اصل سپلائر، مینوفیکچرر یا بڑے منشیات فروشوں تک پہنچنے کی کوشش کی؟
5۔ کیا آپ نے اس مقدمہ سے متعلقہ نشہ کے عادی افراد کو تلاش کر کے بحالی مراکز بھیجنے کی کوشش کی؟
6۔ اگر نہیں، تو کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ تفتیش نامکمل رہی اور صرف ایک مبینہ پیڈلر کی گرفتاری تک محدود رہی، جیسا کہ 2025 SCMR 923 میں نشاندہی کی گئی؟

2025 SCMR 923 کی روشنی میں تین اہم قانونی اعتراضات

اول: آرٹیکل 102 قانونِ شہادت
"جناب والا! گواہ مقدمہ کی پراپرٹی کی تحویل زبانی شہادت سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ قانون کے مطابق رجسٹر نمبر XIX اور روڈ سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازم ہے۔ ان دستاویزات کے بغیر زبانی شہادت قابلِ قبول نہیں۔"

دوم: آرٹیکل 129(g) قانونِ شہادت
"استغاثہ نے رجسٹر نمبر XIX اور روڈ سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیے، لہٰذا قانون کے مطابق یہ منفی مفروضہ قائم ہوتا ہے کہ اگر یہ دستاویزات پیش کی جاتیں تو استغاثہ کے مؤقف کے خلاف ہوتیں۔"

سوم: محفوظ تحویل ثابت نہ ہونا
"استغاثہ Chain of Custody ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ مقدمہ کی پراپرٹی کب مالخانہ میں جمع ہوئی، کب فرانزک لیبارٹری بھیجی گئی اور کب واپس آئی، اس کا کوئی مستند دستاویزی ثبوت موجود نہیں۔ لہٰذا مقدمہ کی پراپرٹی کی سالمیت ثابت نہیں ہوتی۔ (2025 SCMR 923)"

عملی مشورہ

گواہ سے صرف "ہاں" یا "نہیں" میں جواب حاصل کریں اور غیر ضروری وضاحت کی اجازت نہ دیں۔ آخر میں گواہ سے یہ اقرار ضرور ریکارڈ کروائیں:

"میں تسلیم کرتا ہوں کہ رجسٹر نمبر XIX اور متعلقہ روڈ سرٹیفکیٹ معزز عدالت میں پیش نہیں کیے گئے۔"

08/07/2026

📌 **مرحوم کا قرض ورثاء کے ذمے**

⚖️ **قانونِ وراثت و قرض – لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ**

کیا قرض یا کاروباری لین دین کا چیک جاری کرنے والا شخص وفات پا جائے تو اس کا قرض ختم ہو جاتا ہے؟ لاہور ہائی کورٹ نے نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ اور قانونِ شہادت کے تحت واضح کیا کہ مقروض کے انتقال کے بعد بھی قرض ختم نہیں ہوتا، بلکہ قانونی ورثاء مرحوم کے ترکے کی حد تک اس کی ادائیگی کے پابند ہیں۔ 🏛️

**عدالت کے 6 اہم اصول:**

1️⃣ **ذمہ داری ترکے کی حد تک محدود** — ورثاء کی ذاتی ذمہ داری نہیں بنتی، لیکن مرحوم سے ملنے والی جائیداد کی حد تک وہ قرض کی ادائیگی سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔

2️⃣ **چیک تسلیم ہونے پر قانونی مفروضہ** — اگر ثابت ہو کہ چیک مرحوم کے دستخط سے جاری ہوا، تو قانون فرض کر لیتا ہے کہ یہ کسی جائز قرض کے عوض دیا گیا۔ اس مفروضے کو غلط ثابت کرنے کا بوجھ ورثاء پر ہے۔

3️⃣ **"خالی چیک" کا محض زبانی دعویٰ ناکافی** — ایسے دعوے کے لیے ٹھوس دستاویزی شہادت درکار ہے، ورنہ فیصلہ چیک ہولڈر کے حق میں ہوگا۔

4️⃣ **وکیل کی زبانی دستاویز پیش کرنا ناکافی** — ہر دستاویز کو اہل گواہ کے ذریعے کٹہرے میں ثابت کرنا ضروری ہے۔

5️⃣ **جائیداد نہ چھوڑنے کا زبانی انکار قابلِ قبول نہیں** — یہ دعویٰ بھی ثبوت سے ثابت کرنا ہوگا۔ اس کیس میں مرحوم کی جائیداد ثابت ہونے پر 6 لاکھ روپے کی وصولی کا حکم برقرار رکھا گیا۔

6️⃣ **وفات کے بعد ورثاء پر براہِ راست مقدمہ قابلِ سماعت** — ورثاء نے جواب دعویٰ دے کر کیس لڑا، اس لیے انہیں کوئی قانونی نقصان نہیں پہنچا۔

یہ فیصلہ ان تمام افراد کے لیے بڑی راحت ہے جن کے پیسے کسی کے انتقال کی وجہ سے پھنس جاتے ہیں۔ حقوقِ العباد اور جائز قرض کبھی ضائع نہیں جاتا۔

📄 **RFA No.108/2016**

Address

2nd Floor Yaqoob Chambers13 Fane Road Near Lahore High Court Lahore
Lahore
54000

Telephone

+923004735835

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asif Siddiq Chaudhary Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Asif Siddiq Chaudhary Advocate:

Shortcuts

Share