27/07/2026
ریٹ پٹیشن اور ریویو میں کیا فرق ہے؟ ہائی کورٹ کب جائیں اور ریویو کب دائر کریں؟
پاکستان میں اکثر لوگ سنتے ہیں کہ "ہم نے ریٹ پٹیشن دائر کر دی" یا "ہم ریویو میں چلے گئے"، لیکن بہت سے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ریٹ پٹیشن (Writ Petition) اور ریویو (Review) میں قانونی طور پر کیا فرق ہے۔
آئیے اسے آسان انداز میں سمجھتے ہیں۔
ہائی کورٹ کے ریٹ اختیارات
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کو ریٹ (Writ Jurisdiction) کے اختیارات حاصل ہیں۔
1۔ ریٹ آف ہیبیس کارپس (Habeas Corpus)
اگر کسی شخص کو غیر قانونی طور پر گرفتار یا حراست میں رکھا گیا ہو تو کوئی بھی شخص ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر سکتا ہے کہ فلاں شخص کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے، لہٰذا اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور اگر حراست غیر قانونی ہو تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔
2۔ ریٹ آف پروہیبیشن (Prohibition)
اگر کوئی سرکاری افسر یا ادارہ ایسا اختیار استعمال کر رہا ہو جو قانون نے اسے دیا ہی نہ ہو، یا کسی شخص کو غیر قانونی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہو، تو ہائی کورٹ سے درخواست کی جا سکتی ہے کہ اسے اس غیر قانونی اقدام سے روکا جائے۔
3۔ ریٹ آف مینڈیمس (Mandamus)
اگر کوئی سرکاری افسر یا ادارہ قانون کے مطابق کوئی کام کرنے کا پابند ہو لیکن وہ اپنی قانونی ذمہ داری ادا نہ کر رہا ہو، تو ہائی کورٹ اسے اپنا فرض ادا کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔
4۔ ریٹ آف سرشوراری (Certiorari)
اگر کسی ماتحت عدالت یا ٹریبونل میں غیر قانونی کارروائی، اختیارات سے تجاوز یا کوئی مادی قانونی بے ضابطگی ہو رہی ہو تو ہائی کورٹ اس کارروائی یا حکم کو درست کرنے کے لیے مداخلت کر سکتی ہے۔
5۔ ریٹ آف کو وارنٹو (Quo Warranto)
اگر کوئی شخص قانونی اہلیت یا مقررہ طریقہ کار کے بغیر کسی سرکاری عہدے پر فائز ہو تو کوئی بھی شہری ہائی کورٹ میں اس تقرری کو چیلنج کر سکتا ہے۔
ریویو (Review) کیا ہوتا ہے؟
ریویو مکمل طور پر ایک الگ قانونی تصور ہے۔
اگر کسی عدالتی فورم، ٹریبونل یا عدالت نے فیصلہ دیا ہو اور کسی فریق کو یہ محسوس ہو کہ:
عدالت سے کوئی انسانی غلطی ہوئی ہے،
ریکارڈ کا کوئی اہم حصہ نظر انداز ہو گیا ہے،
یا فیصلہ دیتے وقت کوئی مادی نکتہ زیرِ غور نہیں آیا،
تو وہ اسی عدالت میں ریویو درخواست دائر کر سکتا ہے۔
کیا ریویو میں فیصلہ تبدیل ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، اگر عدالت کو واقعی محسوس ہو کہ:
ریکارڈ نظر انداز ہوا،
کوئی واضح قانونی غلطی موجود ہے،
یا فیصلہ میں ترمیم ضروری ہے،
تو عدالت:
پورا فیصلہ تبدیل بھی کر سکتی ہے،
جزوی ترمیم بھی کر سکتی ہے،
یا صرف ضروری اصلاح بھی کر سکتی ہے۔
کیا ہر کیس میں ریویو دائر کرنا چاہیے؟
ضروری نہیں۔
اگر واقعی ریویو کے قانونی بنیادیں موجود ہوں تو ریویو دائر کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر وکیل کو معلوم ہو کہ ریویو کی کوئی گنجائش موجود نہیں تو وہ مؤکل کو غیر ضروری اخراجات اور وقت ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ریویو دائر نہ کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔
ریویو کے بعد کیا ہوتا ہے؟
اگر قانون اپیل کا حق دیتا ہو تو ریویو کے فیصلے کے بعد اگلے فورم پر اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔
اگر کسی اور مؤثر قانونی چارہ جوئی (Adequate Alternate Remedy) کا راستہ موجود ہو تو پہلے وہ اختیار کیا جاتا ہے۔
جب کوئی مؤثر متبادل قانونی راستہ موجود نہ ہو، تب مناسب حالات میں ہائی کورٹ کی ریٹ جیورسڈکشن سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
اہم قانونی نکات
✔ آرٹیکل 199 آئینِ پاکستان ہائی کورٹ کو ریٹ جیورسڈکشن دیتا ہے۔
✔ ریٹ اور ریویو دو مختلف قانونی طریقہ کار ہیں۔
✔ ریویو ہمیشہ اسی فورم میں دائر کیا جاتا ہے جس نے فیصلہ دیا ہو۔
✔ ریٹ عام طور پر تب دائر کی جاتی ہے جب مناسب متبادل قانونی چارہ جوئی موجود نہ ہو یا آئین کے تحت ریٹ اختیار استعمال کرنے کی قانونی بنیاد موجود ہو۔
قانون کو سمجھیں، اپنے حقوق سے آگاہ رہیں، اور ہر قانونی قدم اٹھانے سے پہلے متعلقہ قانون اور مستند قانونی مشورہ ضرور حاصل کریں۔
Follow AMY ScholarNest's WhatsApp Channel. For Books and Judgments download our App and also you can visit to our website.
App: https://play.google.com/store/apps/details?id=com.lawapp.lawapp
Website: www.amyscholarnest.com. Join 293 followers for the latest updates.