hi,
I am practicing here in Lahore,Punjab since 2005 as my area of the practice is civil,criminal,family,and custom law,as well as copyright.i am also a legal advisor of Anjuman-e-Tajran Electronics Hall Road Lahore.
23/05/2025
پاکستان کی تقدیر میں صرف قرض لینا باقی ہے ۔اگر قرض کی مخالفت کریں تو پاکستان کی تقدیر سے کھیلنا قرار پائے گا۔لہذا قرض لیں اور پاکستان کی تقدیر سے نہ کھیلیں
سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کہتے ہیں آئی ایم ایف سے بات نہیں کریں گے، کیا ان کو پاکستان کی تقدیر سے کھیلنے دیں گے۔
تفصیل پہلے کمنٹ میں دیکھیں۔۔۔۔۔۔
15/01/2025
اگر ملک میں ترقی ہورہی ہو اور مہنگائی کم ہورہی ہو اور اسٹاک ایکسچینج مارکیٹ آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہو تو پھر ایسے میں ہر 15 دن بعد پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہونا تمہاری نام نہاد ترقی پر سوالیہ نشان ہے
بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہلچل مچ گئی ہے، اور اس کا اثر پاکستانی عوام پر پڑنے والا ہے! اطلاعات کے مطابق کل، 16 جنوری 2025 سے پٹرول کی قیمت میں 3.53 روپے اور ڈیز...
19/06/2024
میری سادگی دیکھ میں کیا چاہتا ہوں
میری تمنا دیکھ میں کیا اشتہاء کرتا ہوں ۔
میری طلب دیکھ اور پھر تماشا دیکھ
16/03/2024
کے چھینے ہوئے مینڈیٹ کی آڑ میں غرا رہے ہیں ۔
24/01/2024
اگر نواز شریف عوام کا لاڈلہ ہوتا تو 4 سال ملک سے باہر نہ گزارتا ۔نواز شریف کسی اور کا لاڈلہ ہے
29/11/2023
معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے والے جملے میں بھی جھوٹ اور بددیانتی ہے۔
چیف آرگنائزرمسلم لیگ ن مریم نواز کا ٹویٹ۔
29/11/2023
لنڈے کا ارسطور یہ جانتا نہیں کہ اب دور 1989 کا نہیں رہا ۔اسٹیبلمنٹ گلیوں /محلوں میں گھس کر سیاست کے اکھاڑے میں داخل ہو چکی ہے ۔
29/11/2023
فراڈیا ایف بی آر تم کو جں اسمگلروں /کرپٹ مافیا /لوٹ مار کرنے والے اژدھا کے خلاف ایکشن لینا چاہئے وہاں پر تمہاری ٹانگیں لڑکھڑاتی ہیں۔
14/08/2023
جب سے آے ہو ایک ہی جملہ دھرا رہے ہو۔اتنا شک ؟
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کا یوم آزادی کے موقع پر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ سے خطاب۔
14/08/2023
مقدر میں عوامی ذلت /رسوائی/شرمندگی/نفرت تو ملی ہی تھی مگر ایک فاہدہ یہ ہوا کہ قانون کیساتھ کھیل کے اپنے اہل خانہ کے منی لانڈرنگ کے کیس ختم کرواگیا اور عوام کو مہنگائی کا تحفہ دے کر عنقریب آبائی ملک لندن روانہ ہو جاے گا
میری تجویز پر قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد وفاقی کابینہ کا وجود ختم ہو گیا ہے۔ عدم اعتماد کے آئینی عمل کے ذریعے اتحادی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے گزشتہ 16 ماہ کا جائزہ لے کر قوم کے ساتھ اپنا نکتہ نظر بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
جمہوری ارتقاء کا ایک عمل:
جن سیاسی جماعتوں نے حکومت تشکیل دی، ان کے سیاسی منشور اور ایجنڈے مختلف ہیں۔ سیاسی حریف ہونے کے باوجود ہم نے ریاست اور عوام کے مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے قومی ایجنڈے پر مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا جو ہم سب کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔ پچھلے سولہ مہینوں کے دوران ہم نے اتفاق رائے سے فیصلے کرنے کی روایت کو پنپتے ہوئے دیکھا، میں اسے اپنے ملک کے جمہوری ارتقا میں ایک اہم پیش رفت سمجھتا ہوں۔
چیلنجز:
اول، کچھ بحران ایسے تھے جو ذاتی طور پر میرے لئے راتوں کی نیند اڑا دینے والا ایک بڑا چیلنج تھے، ان بحرانوں میں بالخصوص ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا اور بالعموم ملکی معیشت کو مستحکم کرنا شامل تھا۔ میں خود کو ہرگز معاف نہ کرپاتا اگر خدانخواستہ میرے دور میں ڈیفالٹ کی صورتحال پیدا ہوجاتی۔ ہمیں اب بھی عالمی ذمہ داریاں پورا کرنے میں ناکام ہونے والے ممالک میں بھیانک نتائج کو مکمل طور پر سمجھنا ہوگا۔
دوئم، اقوام عالم میں ایک قابل اعتماد شراکت دار اور دوست کے طور پر پاکستان کے وقار، عزت اور ساکھ کو بحال کرنا ایک بڑا چیلنج تھا جس سے ہم اجتماعی طور پر نبردآزما ہوئے۔ ہماری اجتماعی کوششوں کی بدولت پاکستان کو پہنچنے والے بڑے پیمانے پر نقصان کا ازالہ ممکن ہو سکا ہے اور پاکستان عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ہم نے اپنے برادر ممالک بشمول چین، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اعتماد کو بحال کیا ہے۔ CPEC کو نہ صرف دوبارہ پٹڑی پر ڈالا بلکہ اس کے دوسرے مرحلے پر بھی کام کا آغاز ہو چکا ہے۔
پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ تباہ کن سیلاب کے باعث ہونے والے انسانی اور مادی نقصانات کی صورت میں پہلے سے شدید مشکلات کا شکار ہماری معیشت کو ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ موسمیاتی سفارت کاری سے حکومت نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ملک کے طور پر پیش کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر عالمی کوششیں شروع کیں۔ ہم نے اپنے وسائل سے بڑے پیمانے پر امداد، بحالی اور تعمیر نو کی سرگرمیاں شروع کیں۔ جی ۔ 77 پلس چائنہ کے سربراہ کے طور پر پاکستان نے ماحولیاتی انصاف کی فراہمی کے اپنے تقاضے کے لئے عالمی کوششوں کی قیادت کی۔ اس ضمن میں ہمارے اہم کردار نے عالمی ردعمل کو تقویت بخشی اور COP27 میں Loss and Damage Fund قائم ہوا۔ لاکھوں ڈالر کی بین الاقوامی امداد انتہائی شفاف طریقے سے خرچ کی گئی۔
ایس آئی ایف سی ۔ آگے بڑھنے کا راستہ:
باہمی تعاون کے تحت قائم کردہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) نے قومی معیشت کے پانچ اہم شعبوں کو ترجیح دی ہے، یعنی زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی و معدنیات، دفاعی پیداوار اور توانائی۔ اس ادارہ جاتی انتظام میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی نمائندگی موجود ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لئے 'ون ونڈو' کی سہولت فراہم کرتا ہے تاکہ منتخب شعبوں میں مواقع فراہم کئے جا سکیں۔ ایس آئی ایف سی معاشی بحالی کا منصوبہ ہے جس پر مکمل غور و خوض کیا گیا اور اس پر مکمل حکومتی لائحہ عمل کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے۔
ان سولہ ماہ کے دوران جس چیز نے مجھے شدید دباؤ میں رکھا، وہ آئی ایم ایف پروگرام کی کڑی شرائط، بین الاقوامی منڈیوں میں اشیاء کی آسمان کو چھوتی قیمتیں اور جغرافیائی و سیاسی ہلچل جیسے عوامل کے مجموعی طور پر پاکستان کے غریب عوام پر پڑنے والے اثرات تھے۔ ہم نے اس صورتحال میں ایک توازن اپنا کر عوام پر بوجھ کم کرنے کی کوشش کی، مجھے ان کے مصائب اور مشکلات کا پوری طرح احساس ہے۔ کسی بھی حکومت کے لئے معاشرے میں ابھرتی ہوئی تقسیم اور سیکورٹی خطرات سے بڑھ کر اور کوئی مشکلات نہیں ہو سکتیں۔
وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر توجہ دیتے ہوئے معاشی عدم استحکام کا خاتمہ کیا جائے۔ پورے یقین سے کہتا ہوں کہ جادو کے کسی چراغ سے یہ سب نہیں ہوگا کہ راتوں رات سب بدل جائے۔ لیکن گر پاکستان کے عوام پاکستان مسلم لیگ (ن) کو منتخب کرتے ہیں تو ہمارا وعدہ ہے کہ آپ کی منتخب حکومت عوامی قیادت میں ترقی کے اس ماڈل پر عمل یقینی بنائے گی جس میں ان کی فلاح و بہبود ہی سب کچھ ہو۔ ہمارا معاشی انقلاب نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم فراہم کر کے ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے ہوگا جس سے بڑے پیمانے پر روزگار پیدا ہو گا اور جدید زرعی صنعت فروغ پائے گی۔
اگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ ہے۔۔۔ کام، کام اور بس کام
10/06/2023
استحکام پاکستان
فی الفور مینار پاکستان میں عوامی قوت کا مظاہرہ کرے
Be the first to know and let us send you an email when Asif Asghar Adv.Hc posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.
Dear Fellows & Lawyers Community:-
I am practicing here in Lahore,Punjab Since 2005 as my area of the practice is Civil Law,Criminal Law,Family Law & Custom Law,as well as copyright.i am also a legal advisor of Anjuman-e-Tajran Electronics Hall Road Lahore & other multinational Companies.
My favorite Subject is , Civil Procedure Code, Muhammadan Law & Etymology & Syntax as well as Islamic Jurisprudence & Law of Inheritance.
any one , who want to know about Law of Inheritance can ask any type of Question.
any one, who want to know about Islamic Jurisprudence can ask any type of Question.
Any one who want to know about Jurisprudence can ask any type of Question.
Any one who want to know about procedural law, can ask ask any Question.
Anyone who want to know about Drafting can ask any question