The Lawyer's Foundation For Justice

The Lawyer's Foundation For Justice The organization is non-commercial/non-political committed to undertake the goals of ISLAMIC Justice,rule of law to serve the mankind

08/08/2021

Black Day 8th August 2016.

07/08/2021
29/06/2020

It takes great pain for us to announce that founder of The Lawyer's Foundation for Justice, Mentor Of Mentors, Honorable Abdullah Khan Dogar ASC passed away. Fatherly Figure of legal fraternity is no more with us.

Meeting held at Head office of The Lawyers Foundation for Justice in Chairmanship of Mr. A.K. DOGAR SB ASC along with al...
30/10/2018

Meeting held at Head office of The Lawyers Foundation for Justice in Chairmanship of Mr. A.K. DOGAR SB ASC along with all the Cabinet Members and Advocates. Discussed the way forward in respect of struggle for Implementation of Fundamental Rights as per Constitution of Islamic Republic of Pakistan 1973 and for Public Interest Litigation. 🇵🇰

AHC Rab Nawaz Baloch
LFJ

05/10/2018
Congratulations to "The Lawyers Foundation for Justice" specially Chairman Honourable Mr. A.K Doggar Sb Senior Advocate ...
25/04/2018

Congratulations to "The Lawyers Foundation for Justice" specially Chairman Honourable Mr. A.K Doggar Sb Senior Advocate Supreme Court & President Mr. Feroz Shah Gillani Sb MashALLAH best of Luck👍😍👍😍❤

Quetta Attack August 8th
08/08/2017

Quetta Attack August 8th

Team LFJ
08/09/2016

Team LFJ

27/08/2016

ریاست کی حاکمیت یا اللہ کی حاکمیت ؟ دو تصورات کا تصادم
ریاستِ پاکستان میں قصاص و دیت کے قانون کے نفاذ سے پہلے قتل کا جرم ناقابل راضی نامہ تھا اور دیگر جرائم کی طرح اس جرم میں معافی کا اختیار صرف ریاست کے پاس تھا۔ 1990ء میں قصاص و دیت آرڈی نینس کے نفاذ کے بعد اسلامی قانون کے قواعد کی روشنی میں یہ قانون طے کیا گیا کہ عفو کا اختیار مقتول کے ورثا کے پاس ہے۔ تاہم دستور کی دفعہ 45 کے تحت سربراہِ ریاست ہر سزا کو معاف کرسکتا ہے اور چونکہ دستور کو تمام قوانین پر بالادستی حاصل ہے اس لیے مقتول کے ورثا کی مرضی کے بغیر بھی سربراہِ ریاست قاتل کو معاف کرسکتا ہے، یا اس کی سزا میں تخفیف کرسکتا ہے۔
غور کی بات یہ ہے کہ اگرچہ دستور کو دیگر قوانین پر بالادستی حاصل ہے ، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خود دستور میں قرآن وسنت کی بالادستی کی بات کی گئی ہے، بالخصوص جبکہ قرارداد مقاصد کو، جس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلی (sovereignty) کا اقرار کیا گیا ہے، دفعہ ۲۔ الف کے ذریعے دستور کا باقاعدہ حصہ بنادیا گیا ہے۔
چنانچہ ”حاکم خان کیس“ (PLD 1992 SC 595) میں سپریم کورٹ کے سامنے یہ مسئلہ آیا اور دل چسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے مان لیا کہ دستور کی دفعہ 45 اور دفعہ ۲۔ الف میں تصادم ہے کیونکہ دفعہ ۲۔ الف کے تحت اللہ تعالیٰ کا قانون بالادست ہے جس کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ قصاص میں معافی کا اختیار مقتول کے ورثا کے پاس ہی ہے ۔ البتہ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ مان لینے کے بعد بھی کہ دستور کی دودفعات کے درمیان تصادم پایا جاتا ہے،سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ان میں سے ایک دفعہ کو دوسری دفعہ پر فوقیت نہیں دی جاسکتی کیونکہ دستور ایک اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کورٹ نے قرار دیا کہ اس تصادم کو دور کرنے کا فورم پارلیمنٹ ہے۔ 24 سال گزرنے کے بعد بھی ابھی تک پارلیمنٹ اس تصادم کو دور کرنے کی طرف متوجہ نہیں ہوئی ۔
تعبیرِ قانون کے اصولوں کی روشنی میں دیکھیے تو یہ فیصلہ کئی لحاظ سے انتہائی غلط ہے:
اولاً: جب عدالت نے طے کیا کہ ان دفعات کے درمیان تصادم موجود ہے تو یہ اس کی ذمہ داری ہوگئی کہ وہ دستور کی اس طرح تعبیر کرے کہ ان دفعات کے درمیان تصادم دور ہوجائے۔ عدالت نے یہ معاملہ پارلیمنٹ کے سپرد کرکے درحقیقت اپنی دستوری ذمہ داری پوری کرنے سے گریز کیا ہے۔
ثانیاً: عدالت نے کئی مواقع پر دستور کی دو دفعات کے درمیان پایا جانے والا ظاہری تعارض رفع کیا ہے۔ چنانچہ کبھی عدالت ایک دفعہ کو عام اور دوسری کو خاص قرار دے کر عام کی تخصیص کردیتی ہے، اور کبھی ایک کو مطلق اور دوسری کو مقید قرار دے کر مطلق کو مقید پر محمول کردیتی ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر عدالت نے دستور کی ایک دفعہ کو اس بنیاد پر معطل بھی کیا ہے کہ یہ دستور کی ایک دوسری دفعہ سے متصادم ہے۔ مثال کے طور پر دستور کی دفعہ 209 کی ذیلی دفعہ ۷کے تحت قرار دیا گیا ہے کہ اعلی عدالتوں سے ججوں کو صرف سپریم جیوڈیشل کونسل کے فیصلے ہی کے ذریعے برطرف کیا جاسکتا ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے جب وفاقی شرعی عدالت بنائی تو دستور میں آٹھویں ترمیم کرکے دفعہ 203۔ سی کی ذیلی دفعہ ۵ بھی شامل کی جس میں قرار دیا کہ اگر ہائی کورٹ کے کسی جج کو شریعت کورٹ ٹرانسفر کیا جائے اور وہ وہاں چارج لینے سے انکار کرے تو اسے اپنے عہدے سے برطرف سمجھا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے مشہور کیس الجہاد ٹرسٹ بنام وفاق پاکستان، جو ”ججز کیس“ کے نام سے مشہور ہے، (PLD 1996 SC 324) میں طے کیا کہ اس مؤخر الذکر دفعہ پر عمل نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ دستور کی اصل دفعہ 209 سے متصادم ہے اور موجودہ پارلیمنٹ دستور میں ایسی ترمیم نہیں کرسکتی جو دستور کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لائے کیونکہ اس پارلیمنٹ کے پاس قانون ساز ی کا اختیار تو ہے لیکن نئی دستور سازی کا اختیار اس کے پاس نہیں ہے ۔ اب دفعہ 203۔ سی کی ذیلی دفعہ ۵ دستور میں موجود ہے لیکن عملاً غیر مؤثر ہے۔ بہ الفاظ دیگر یہ دفعہ باقی التلاوۃ منسوخ الحکم ہے!
ثالثاً: قرارداد مقاصد کو دفعہ ۲۔الف کے ذریعے دستور کا باقاعدہ حصہ بنانے کے پیچھے واحد سبب یہی تھا کہ سپریم کورٹ نے ضیاء الرحمان کیس (PLD 1973 SC 49) میں طے کیا تھا کہ دستور کا دیباچہ ہونے کی وجہ سے اسے دستور کے متن پر فوقیت نہیں دی جاسکتی۔ چاہیے یہ تھا کہ عدالت mischief rule کے تحت قرار دیتی کہ پارلیمنٹ نے قرارداد مقاصد کو اس لئے دستور کا باقاعدہ حصہ بنایا ہے کہ وہ اسے دستور کی دیگر دفعات پر فوقیت دینا چاہتی ہے۔ اگر باقاعدہ حصہ بنادینے کے بعد بھی اس کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آیا تو پھر اس ترمیم کی ضرورت کیا تھی؟ یہ تعبیر قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ مجلس قانون ساز کی طرف بے فائدہ اور لغو کام کی نسبت نہیں کی جائے گی۔
رابعاً: اگرچہ عدالت نے قرار دیا ہے کہ دستور کی ایک دفعہ کو دوسری دفعہ پر فوقیت نہیں دی جاسکتی لیکن عملاً ہوا یہ ہے کہ دفعہ 45 کو دفعہ ۲۔ الف پر فوقیت دے دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عدالت نے ان دفعات کے درمیان تصادم کے اعتراف کے باوجود اس تصادم کو دور نہیں کیا تو گویا اب ایک ہی کام ایک دفعہ کے تحت جائز اور دوسری دفعہ کے تحت ناجائز ہے۔ اگر صدر نے قصاص کے مقدمے میں مقتول کے ورثا کی مرضی کے بغیر قاتل کو معاف کیا تو کیا یہ فعل اس کے لئے جائز ہوگا؟ دفعہ ۲۔ الف کے تحت وہ اس کام کا اختیار نہیں رکھتا جبکہ دفعہ ۵۴ کے تحت اس کا یہ اقدام دستور کے عین مطابق ہوگا!
در اصل عدالت اس مسئلے کو اس وجہ سے حل نہیں کرسکی کہ یہ تصادم صرف دو دفعات کے درمیان نہیں ہے بلکہ درحقیقت تصادم دو مختلف نظام ہاے قانون کے اصولوں کے درمیان ہے جن کو مصنوعی طریقے سے ایک جگہ سمونے کی کوشش کی گئی ہے۔ بہ الفاظ دیگر، اصل مسئلہ دو مختلف نظام ہاے قانون کے اصولوں کے درمیان تلفیق کا ہے۔ دفعہ 45 میں مذکور اصول دراصل انگریزی دستوری قانون کے ایک قاعدے کا لازمی نتیجہ ہے۔ وہ قاعدہ یہ ہے کہ ریاست حاکمیت اعلی کی حامل ہے۔ ظاہر ہے کہ حاکمیت اعلی پر کوئی قدغن نہیں لگائی جاسکتی۔ نیز چونکہ حاکمیت اعلی ہی عدل اور قانون کا سرچشمہ ہے اس لئے حاکمیت اعلی کے حامل کی جانب سے کیا گیا ہر کام جائز ہوتا ہے (The king can do no wrong!)۔ ریاست کا سربراہ ریاست کی حاکمیت اعلی کا مظہر ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے پاس عفو کا یہ مطلق اختیار ہوتا ہے۔ برطانیہ اور پاکستان میں وزیراعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے جبکہ ریاست کی سربراہی برطانیہ میں ملکہ کے پاس اور پاکستان میں صدر کے پاس ہوتی ہے۔ چنانچہ برطانیہ میں عفو کا یہ اختیار ملکہ کے پاس اور پاکستان میں صدر کے پاس ہوتا ہے۔ امریکہ میں صدر بیک وقت ریاست کا بھی سربراہ ہوتا ہے اور حکومت کا بھی، اس کے باوجود وہاں یہ اختیار صدر ہی کے پاس ہوتا ہے۔ دوسری طرف قرار داد مقاصد کے پہلے پیرا میں قرار دیا گیا ہے کہ حاکمیت اعلی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ چنانچہ اصل میں تصادم دو جزئیات کے درمیان نہیں بلکہ دو بنیادی تصورات کے درمیان ہے۔ شاید عدالت اس تصادم کو اس وجہ سے دور نہیں کرسکی کہ وہ خود اس معاملے میں تذبذب یا الجھن کا شکار تھی۔
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسا مرے آگے!

06/08/2016

"KASHMIR IS SHAHRAGH OF PAKISTAN" Kashmir is Pakistan and Pakistan is Kashmir InshALLAH & Ameen... Yaa Hayyu Yaa Qayum

The Lawyer's Foundation for Justice in Pakistan sends their respect to the Turkish Nation. At the end of the day Rule of...
17/07/2016

The Lawyer's Foundation for Justice in Pakistan sends their respect to the Turkish Nation. At the end of the day Rule of Law Prevails.A new Dawn mirroring the Will of People .

17/07/2016

There is no space for Military Coup and Western Slavery in Rising Nations Like Turkey and Pakistan ..
Long Live Pak-Turk Friendship.
Long Live the Rule Of Law.
------------------------
Team LFJ

Address

239 C Upper Mail Scheme
Lahore

Telephone

+923214364444

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Lawyer's Foundation For Justice posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to The Lawyer's Foundation For Justice:

Share