Online Advocate Help,Legal Awareness

Online Advocate Help,Legal Awareness law firm

2025 CLC 1158ہبہ کو قانونی طور پر ثابت کرنے کے لیے آٹھ لازمی شرائطہائی کورٹہائی کورٹ میں ایک مقدمہ زیر غور آیا، جس میں ا...
17/02/2026

2025 CLC 1158

ہبہ کو قانونی طور پر ثابت کرنے کے لیے آٹھ لازمی شرائط

ہائی کورٹ

ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ زیر غور آیا، جس میں ایک بھائی نے اپنے والد کی جائیداد سے بہن کو اس کے شرعی حق سے محروم کرنے کے لیے ہبہ (Gift) کا جعلی دعویٰ کیا۔ ابتدائی عدالت اور اپیلٹ کورٹ نے بھائی کے مؤقف کو قبول کرتے ہوئے فیصلہ اس کے حق میں دے دیا، لیکن عدالتِ عالیہ نے دونوں فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بہن کے حق میں فیصلہ صادر کیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ جو فریق کسی معاملے سے فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے، اسی پر اس معاملے کو ثابت کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ چونکہ بھائی ہبہ کا مستفید ہونے والا تھا، اس لیے اس پر لازم تھا کہ وہ ہبہ کو قانونی اور معتبر شہادت سے ثابت کرے۔

عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی ہبہ کو قانونی طور پر تسلیم کرانے کے لیے درج ذیل آٹھ بنیادی شرائط پورے ہونا ناگزیر ہیں:

1. ایجاب (Offer): ہبہ کرنے والے کی جانب سے واضح اور غیر مبہم اعلان۔

2. قبول (Acceptance): ہبہ لینے والے کی جانب سے صریح قبولیت۔

3. قبضہ (Delivery of Possession): جائیداد کا حقیقی قبضہ ہبہ لینے والے کے سپرد ہونا۔

4. ہبہ کنندہ کی نیت (Donor’s Intention): ہبہ خلوصِ نیت پر مبنی ہو، فراڈ یا دھوکے سے پاک۔

5. آزادیٔ ارادہ (Free Consent): ہبہ کسی دباؤ، جبر یا دھوکے کے بغیر کیا گیا ہو۔

6. گواہان کی موجودگی (Witnesses): ایجاب و قبول معتبر گواہوں کے روبرو ہوا ہو۔

7. محکمہ مال میں درست اندراج (Mutation in Revenue Record): لینڈ ریونیو ایکٹ کے مطابق جائیداد کی قانونی منتقلی اندراج شدہ ہو۔

8. شہادت میں مطابقت (Consistency in Evidence): گواہان کے بیانات اور سرکاری ریکارڈ میں کوئی تضاد نہ ہو۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ بھائی کے پیش کردہ گواہوں کے بیانات آپس میں متضاد تھے۔ روزنامچہ واقعاتی اور ایجاب و قبول کے وقت کے بارے میں واضح تضاد پایا گیا۔ مزید برآں، بیٹے کی بطور گواہ شہادت ناقابلِ قبول تھی کیونکہ وہ ایجاب و قبول کے وقت موجود نہیں تھا۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967 کی دفعہ 42 کے تحت عوامی اعلان (Public Attestation) کا ثبوت فراہم نہیں کیا جا سکا، جو ہبہ کے قانونی ثبوت کے لیے لازمی ہے۔ نتیجتاً، دعویٰ شدہ ہبہ قانونی طور پر تسلیم نہ کیا جا سکا۔

---

2025 CLC 1158

Eight Essential Ingredients Required to Prove a Valid Gift

High Court

The High Court examined a case in which a brother, with the intention of depriving his sister of her lawful Islamic share in their father’s property, filed a false claim of gift (Hiba). Both the trial court and the appellate court had ruled in favour of the brother; however, the High Court set aside these judgments and decreed in favour of the sister.

The Court emphasized that the burden of proof lies on the party seeking to derive benefit from a fact. Since the brother was the alleged beneficiary of the gift, it was incumbent upon him to establish the gift through credible and lawful evidence.

The Court held that to legally prove a gift, the following eight essential conditions must be strictly satisfied:

1. Offer: A clear and unequivocal declaration by the donor.

2. Acceptance: An explicit acceptance by the donee.

3. Delivery of Possession: Actual delivery of the property to the donee.

4. Donor’s Intention: The gift must be genuine, made in good faith, and free from fraud or deception.

5. Free Consent: The gift must be voluntary, without coercion, undue influence, or misrepresentation.

6. Witnesses: Offer and acceptance must take place in the presence of credible witnesses.

7. Mutation in Revenue Record: Proper mutation in accordance with the Land Revenue Act.

8. Consistency in Evidence: There must be no contradictions between witness statements and official records.

Upon evaluation, the Court observed that the brother’s witnesses gave mutually contradictory statements. Clear inconsistencies were also noted regarding the Roznamcha Waqiati and the timing of the offer and acceptance. Additionally, the testimony of the son was deemed inadmissible, as he was not present at the relevant time.

The Court further noted that the requirement of public attestation under Section 42 of the Land Revenue Act, 1967, was not established, which is a mandatory prerequisite for legal proof of a gift. Consequently, the alleged gift could not be legally sustained.

10/02/2026
03/02/2026

ایک روز ایک طوائف میرے دفتر آئی۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، آواز کپکپا رہی تھی۔ کہنے لگی:
“صاحب! سولہ برس سے قرعہ ڈال رہی تھی، اس سال میرا نام حج کے لیے نکل آیا ہے۔ دل خوشی سے بھر گیا تھا، مگر اب ایک نیا خوف جان کھائے جا رہا ہے۔ اگر میں حج پر چلی گئی تو میرے محلے والے میرے گھر پر قبضہ کر لیں گے۔ میں اکیلی عورت ہوں، کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اس لیے میں آپ کے پاس آئی ہوں۔ یہ سونے کے کنگن رشوت سمجھ لیجیے، بس اتنا کر دیجیے کہ جب تک میں حج سے واپس نہ آؤں، آپ اپنے کسی سرکاری ملازم کو میرے گھر پر تعینات کر دیں۔”
میں نے اس کے ہاتھ میں تھرتھراتے ہوئے کنگن دیکھے، پھر اس کے آنسوؤں میں بھیگی آنکھوں کو دیکھا۔ دل میں عجیب کشمکش پیدا ہوئی۔ وہ عورت معاشرے کی ٹھکرائی ہوئی تھی، مگر اس کے دل میں بیت اللہ کی طلب جاگ اٹھی تھی۔ میں نے نرمی سے کہا:
“میں رشوت نہیں لیتا، اور نہ ہی تمہارے کنگن مجھے چاہییں۔ مگر اگر تم میری ایک شرط مان لو تو میں تمہارا مسئلہ حل کر دوں گا۔”
وہ فوراً بولی:
“صاحب! جو شرط کہیں گے، منظور ہے۔ بس مجھے حج پر جانے سے نہ روکیں۔”
میں نے کہا:
“شرط یہ ہے کہ حج پر جانے سے پہلے تم ایک رات اپنے رب کے حضور سچے دل سے سجدے میں گزارو۔ نہ کسی انسان سے مانگو، نہ کسی وسیلے کا سہارا لو۔ بس اللہ سے کہو کہ اے اللہ! میں گناہوں میں ڈوبی رہی، لوگوں نے مجھے پہچان اسی نام سے دی، مگر اب تو نے خود مجھے اپنے گھر بلایا ہے۔ اگر تو نے مجھے قبول کر لیا تو میرے لیے سب آسان کر دے۔”
یہ سن کر وہ عورت ساکت ہو گئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو تھم گئے، اور چہرے پر حیرت چھا گئی۔ چند لمحوں بعد اس نے آہستہ آواز میں کہا:
“صاحب! میں نے ساری زندگی لوگوں کے دروازوں پر سر جھکایا ہے، مگر کبھی اللہ کے سامنے سر رکھ کر نہیں روئی۔ اگر یہی شرط ہے تو میں ضرور پوری کروں گی۔”
وہ کنگن میز پر رکھ کر چلی گئی۔
چند دن بعد وہ پھر آئی۔ اس بار اس کا چہرہ بدلا ہوا تھا۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی تھی، آواز میں سکون تھا۔ اس نے آتے ہی کہا:
“صاحب! میں نے وہ رات سجدے میں گزار دی۔ میں نے اللہ سے کچھ نہیں مانگا، بس اتنا کہا کہ اگر تو مجھے اپنے گھر بلا رہا ہے تو میری حفاظت بھی خود ہی کرنا۔”
میں نے خاموشی سے اس کی بات سنی، پھر اسی دن انتظام کروا دیا کہ ایک سرکاری ملازم اس کے گھر پر تعینات کر دیا جائے۔ نہ کنگن لیے، نہ کوئی احسان جتلایا۔ وہ عورت حج پر روانہ ہو گئی۔
مہینے بھر بعد جب وہ واپس لوٹی تو سیدھی میرے دفتر آئی۔ اب اس کے ہاتھ خالی تھے، مگر چہرہ نور سے بھرا ہوا تھا۔ کہنے لگی:
“صاحب! میں حج کر آئی ہوں، مگر اصل بات حج نہیں۔ اصل بات وہ رات تھی جو میں نے اللہ کے سامنے گزاری۔ اس ایک رات نے میری زندگی بدل دی۔”
میں نے حیرت سے پوچھا:
“کیسے؟”
وہ بولی:
“جب میں حج پر تھی تو محلے والوں نے میرے گھر کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ الٹا لوگ خود ہی اس ملازم کو کہتے رہے کہ گھر کا خیال رکھنا، یہ اللہ کی مہمان گئی ہوئی ہے۔ اور صاحب! میں نے وہاں جا کر محسوس کیا کہ اللہ کے گھر میں کوئی طوائف نہیں ہوتا، کوئی بدکار نہیں ہوتا، وہاں سب بندے ہوتے ہیں۔”
اس کی آنکھوں سے پھر آنسو بہنے لگے، مگر اب وہ آنسو ندامت کے نہیں، شکر کے تھے۔ اس نے کہا:
“میں واپس آ کر اس پیشے میں دوبارہ نہیں جا سکتی۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ باقی زندگی کسی چھوٹے موٹے کام میں گزار دوں گی، مگر وہ زندگی نہیں جیوں گی جو میں نے پہلے جی تھی۔”
میں نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس دن مجھے یہ سبق ملا کہ اللہ جسے چاہے ہدایت دے دیتا ہے، اور جب وہ بلاوا دے تو بندے کی پچھلی پہچان ختم ہو جاتی ہے۔ اصل تبدیلی انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہے، اور ایک سچا سجدہ انسان کو وہاں پہنچا دیتا ہے جہاں برسوں کی عبادت بھی کبھی کبھی نہیں پہنچا پاتی۔
قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں:
“اس واقعے نے مجھے یقین دلا دیا کہ اللہ کی رحمت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ بند صرف انسان کے دل ہوتے ہیں، اور جب دل کھل جائے تو تقدیر بھی بدل جاتی ہے۔”

02/02/2026

Address

30. Civil Courts Wazirabad, Hassan Chambers Turner Road
Lahore
52030

Telephone

+923217444347

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Online Advocate Help,Legal Awareness posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Online Advocate Help,Legal Awareness:

Share