489F cheque

489F cheque For more information call or whatsapp +92-3244010279)
we are law firm from Lahore. Adv Mahar Ghulam Murtaza

22/08/2026

غلام یاسین ایک شیعہ مسلمان تھے اور ان کے پاس تقریباً 600 کنال ایک مرلہ زمین تھی۔ ان کی ایک ہی بیٹی، مسماۃ حسینہ بی بی، تھی جبکہ انہوں نے اپنی بیوی کو اپنی زندگی میں طلاق دے دی تھی۔
غلام یاسین نے وفات سے کچھ عرصہ پہلے ایک وصیت نامہ تحریر کیا جس میں واضح کیا کہ وہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی تدفین شیعہ طریقے کے مطابق کی جائے اور ان کی بیٹی ہی ان کی واحد قانونی وارث ہے۔
مرحوم کے بعض رشتہ داروں نے اس وصیت کو جعلی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ غلام یاسین سنی تھے اور آخری دنوں میں منہ کے کینسر میں مبتلا ہونے کی وجہ سے بات بھی نہیں کر سکتے تھے۔
عدالت میں بیٹی نے وصیت نامہ، اس کے کاتب اور گواہوں کو پیش کیا۔ متعدد گواہوں نے بھی تصدیق کی کہ غلام یاسین وفات تک شیعہ مسلک اختیار کر چکے تھے۔ مخالفین مرحوم کے منہ کے کینسر یا وصیت کے وقت بولنے سے معذوری کا کوئی طبی ریکارڈ پیش نہ کر سکے۔
عدالت نے قرار دیا کہ کسی شخص کا پیدائشی طور پر سنی ہونا اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ بعد میں شیعہ مسلک اختیار کرے۔ اسلامی قانون کے مطابق بالغ مسلمان اپنا مسلک تبدیل کر سکتا ہے اور پھر نئے مسلک کے قانون کے تابع ہوتا ہے۔
چونکہ غلام یاسین کی واحد بیٹی فرسٹ کلاس کی وارث تھی جبکہ مخالفین تیسرے درجے کے دور کے رشتہ دار تھے، اس لیے بیٹی نے انہیں وراثت سے خارج کر دیا۔
آخرکار پشاور ہائی کورٹ، ڈی آئی خان بینچ نے ماتحت دونوں عدالتوں کے فیصلوں کو درست قرار دیتے ہوئے نظرثانی کی درخواست خارج کر دی۔
اہم نکات
اہم نکتہ 1: بالغ مسلمان اپنا مسلک تبدیل کر سکتا ہے اور پھر نئے مسلک کے قانون کے تابع ہوتا ہے۔
اہم نکتہ 2: جس فریق نے کسی حقیقت کا دعویٰ کیا، اسے اس دعوے کا ثبوت بھی دینا ہوگا۔
اہم نکتہ 3: مرحوم کے منہ کے کینسر اور وصیت کے وقت بولنے سے معذوری کا کوئی طبی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا، اس لیے یہ اعتراض ثابت نہ ہو سکا۔
اہم نکتہ 4: وصیت کے کاتب اور گواہوں کی شہادت سے وصیت ثابت ہوئی۔
اہم نکتہ 5: شیعہ قانونِ وراثت میں قریبی درجے کا وارث دور کے وارث کو خارج کر دیتا ہے۔
اہم نکتہ 6: مرحوم کی اکلوتی بیٹی فرسٹ کلاس کی وارث تھی، جبکہ درخواست گزار تیسرے درجے کے دور کے رشتہ دار تھے۔
اہم نکتہ 7: عدالت نے دونوں ماتحت عدالتوں کے متفقہ فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں پائی۔
عدالتی فیصلہ
پشاور ہائی کورٹ، ڈی آئی خان بینچ نے قرار دیا کہ مرحوم کا شیعہ مسلک اختیار کرنا ثابت تھا، وصیت بھی ثابت ہوئی اور اکلوتی بیٹی قریبی درجے کی وارث ہونے کی وجہ سے دور کے رشتہ داروں کو وراثت سے خارج کرتی ہے۔ چنانچہ نظرثانی کی درخواست میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے خارج کر دی گئی۔

21/08/2026

پہلے فوت شدہ بھائی کے بچوں کا وراثتی حق — بلوچستان ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
واقعہ کیا تھا؟
مرحوم کی کوئی اولاد یا والدین نہیں تھے۔ اس کی وفات کے بعد اس کے بھائی بہن اور ایک پہلے فوت ہو جانے والے بھائی کے دو بیٹے موجود تھے۔ پہلے فوت شدہ بھائی کے بیٹوں نے بھی مرحوم کے ترکے میں حصہ مانگا۔
عدالت نے کیا قرار دیا؟
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 4 پہلے فوت شدہ بھائی کے بچوں پر لاگو نہیں ہوتی۔ یہ دفعہ مخصوص حالات میں پہلے فوت ہونے والے بیٹے یا بیٹی کی اولاد سے متعلق ہے۔
بھائی کے بچوں کو حصہ کیوں نہیں ملا؟
عدالت نے قرار دیا کہ مسلمانوں کی وراثت کے اصول واضح ہیں۔ چونکہ مرحوم کے اپنے بھائی بہن زندہ تھے، اس لیے پہلے فوت شدہ بھائی کے بچوں کو بطور دور کے رشتہ دار (Distant Kindred) ترکے میں حصہ نہیں مل سکتا تھا۔
حتمی فیصلہ
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں نے پہلے فوت شدہ بھائی کے بچوں کا دعویٰ درست طور پر مسترد کیا تھا۔ چنانچہ سول ریویژن خارج کر دی گئی۔
حوالہ: 2026 MLD 807, Balochistan — Nawab Bahi Khan Gichki and others v. Bibi Kalsoom
Hashtags

21/08/2026

پہلے فوت شدہ بھائی کے بچوں کا وراثتی حق — بلوچستان ہائی کورٹ کا اھم فیصلہ

مرحوم کی کوئی اولاد یا والدین نہیں تھے۔ اس کی وفات کے بعد اس کے بھائی بہن اور ایک پہلے فوت ہو جانے والے بھائی کے دو بیٹے موجود تھے۔ پہلے فوت شدہ بھائی کے بیٹوں نے بھی مرحوم کے ترکے میں حصہ مانگا۔

عدالت نے کیا قرار دیا؟

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 4 پہلے فوت شدہ بھائی کے بچوں پر لاگو نہیں ہوتی۔ یہ دفعہ مخصوص حالات میں پہلے فوت ہونے والے بیٹے یا بیٹی کی اولاد سے متعلق ہے۔

بھائی کے بچوں کو حصہ کیوں نہیں ملا؟

عدالت نے قرار دیا کہ مسلمانوں کی وراثت کے اصول واضح ہیں۔ چونکہ مرحوم کے اپنے بھائی بہن زندہ تھے، اس لیے پہلے فوت شدہ بھائی کے بچوں کو بطور دور کے رشتہ دار (Distant Kindred) ترکے میں حصہ نہیں مل سکتا تھا۔

حتمی فیصلہ

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں نے پہلے فوت شدہ بھائی کے بچوں کا دعویٰ درست طور پر مسترد کیا تھا۔ چنانچہ سول ریویژن خارج کر دی گئی۔

حوالہ: 2026 MLD 807, Balochistan — Nawab Bahi Khan Gichki and others v. Bibi Kalsoom

Hashtags

#وراثت

21/08/2026

زمین کے حصول پر معاوضہ: صرف مارکیٹ ویلیو کافی نہیں
⚖️ دونوں فریقوں کا موقف
حکومت اور متعلقہ محکمہ مقررہ معاوضے کو درست قرار دے رہے تھے، جبکہ زمین مالکان کا مؤقف تھا کہ انہیں زمین کی اصل قدر اور مستقبل کی اہمیت کے مطابق زیادہ معاوضہ ملنا چاہیے۔
🏛️ ریفرنس کورٹ کا فیصلہ
ریفرنس کورٹ نے معاوضے کا تعین کیا، جس کے خلاف زمین مالکان اور سرکاری محکمہ دونوں نے اپیلیں دائر کیں۔
📌 ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
عدالت نے قرار دیا کہ معاوضہ طے کرتے وقت صرف موجودہ مارکیٹ ویلیو نہیں بلکہ زمین کا محلِ وقوع، اردگرد کا علاقہ اور مستقبل میں ترقی کی صلاحیت بھی مدنظر رکھی جائے گی۔
💰 معاوضے کی رقم
عدالت نے قرار دیا کہ زمین مالکان 5 لاکھ روپے فی کنال معاوضے کے حق دار ہیں۔ سرکاری اپیلیں مسترد جبکہ زمین مالکان کی اپیل جزوی طور پر منظور کر لی گئی۔
حوالہ: 2026 MLD 942, لاہور ہائی کورٹ (راولپنڈی بینچ)

20/08/2026

صرف بری ہونا بدنیتی پر مبنی مقدمہ ثابت نہیں کرتا

2026 MLD 962 — بلوچستان ہائی کورٹ

بلوچستان ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی شخص کا فوجداری مقدمے میں بری ہو جانا، بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس کے خلاف مقدمہ بدنیتی سے قائم کیا گیا تھا۔

مقدمہ کیا تھا؟

درخواست گزار کے خلاف ایک شخص کی موت کے واقعہ میں فوجداری مقدمہ درج ہوا۔ مقدمے کی تفتیش کے بعد چالان پیش کیا گیا اور باقاعدہ ٹرائل ہوا، جس کے نتیجے میں درخواست گزار بری ہوگیا۔

اس کے بعد اس نے Malicious Prosecution (بدنیتی پر مبنی مقدمہ) کا دعویٰ کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس کے خلاف مقدمہ بلاجواز اور بدنیتی سے قائم کیا گیا تھا۔

بدنیتی پر مبنی مقدمہ ثابت کرنے کے لیے کیا ضروری ہے؟

عدالت کے مطابق مدعی کو بنیادی طور پر یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ:

- اس کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔
- مقدمہ بالآخر اس کے حق میں ختم ہوا۔
- مقدمہ چلانے کی کوئی معقول اور قابلِ قبول وجہ موجود نہیں تھی۔
- مقدمہ مخالف فریق نے غلط یا بدنیتی پر مبنی مقصد کے تحت قائم کیا تھا۔

صرف بری ہونا کافی نہیں

عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی شخص کو مقدمے کے اختتام پر بری کر دیا جائے تو اس کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں کہ مقدمہ جھوٹا یا بدنیتی پر مبنی تھا۔

آسان الفاظ میں: بری ہونا اور بدنیتی ثابت ہونا دو الگ باتیں ہیں۔

مدعی کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ مخالف فریق کے پاس مقدمہ قائم کرنے کی مناسب وجہ نہیں تھی اور اس نے جان بوجھ کر غلط نیت سے کارروائی کی۔

اس مقدمے میں کیا ہوا؟

عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی آر کے مندرجات سے درخواست گزار کے ملوث ہونے کا شبہ پیدا کرنے کے لیے معقول بنیاد موجود تھی۔ مقتول کو گولیاں لگی تھیں اور بعد میں وہ زخموں کی وجہ سے جاں بحق ہوا۔

مزید یہ کہ ایف آئی آر سیکشن 22-A ضابطۂ فوجداری کے تحت Ex-Officio Justice of Peace کے حکم پر درج ہوئی، باقاعدہ تفتیش ہوئی، چالان پیش کیا گیا اور مقدمے کا مکمل ٹرائل ہوا۔

اس لیے صرف درخواست گزار کی بریت کی بنیاد پر یہ قرار نہیں دیا جا سکتا تھا کہ اس کے خلاف مقدمہ بدنیتی سے قائم کیا گیا تھا۔

بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ

بلوچستان ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار معقول اور قابلِ قبول وجہ کے فقدان اور بدنیتی، دونوں کو ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

چنانچہ عدالت نے نظرثانی کی درخواست خارج کر دی۔

اہم قانونی اصول

فوجداری مقدمے میں بری ہونا خود بخود بدنیتی پر مبنی مقدمہ ثابت نہیں کرتا۔ بدنیتی کا دعویٰ کرنے والے شخص کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ مقدمہ بغیر معقول وجہ کے اور غلط نیت سے قائم کیا گیا تھا۔

Citation: 2026 MLD 962, Balochistan High Court

20/08/2026

پہلے فوت ہونے والے بیٹے یا بیٹی کی اولاد کا وراثتی حق

قانونی اصول

سندھ بورڈ آف ریونیو نے قرار دیا کہ مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کی دفعہ 4 کے تحت اگر مورث کا بیٹا یا بیٹی اس کی وفات سے پہلے انتقال کر جائے تو اس کی اولاد اپنے فوت شدہ والد یا والدہ کا وہ حصہ حاصل کرے گی جو وہ زندہ ہوتے تو حاصل کرتے۔

مقدمے کا پس منظر

مورث کا انتقال 17 جنوری 2017 کو ہوا۔ اس کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔ ان کی اولاد نے مورث کی جائیداد میں اپنے والدین کے حصے کا دعویٰ کیا، لیکن ریونیو حکام نے پہلے سے درج وراثتی انتقالات منسوخ کرکے نئے سرے سے وراثتی تقسیم کا حکم دے دیا۔

بورڈ آف ریونیو کا فیصلہ

بورڈ نے قرار دیا کہ پہلے فوت ہونے والے بیٹے یا بیٹی کے بچے اپنے والد یا والدہ کا حصہ فی کس نہیں بلکہ اس حصے کی نمائندگی کرتے ہوئے حاصل کریں گے جو ان کے والد یا والدہ کو ملتا۔ اسے قانونی اصطلاح میں حصہ بہ حصہ نمائندگی (Per Stirpes) کہا جاتا ہے۔

صرف ریونیو ریکارڈ میں انتقال کی منسوخی سے ان کے قانونی وراثتی حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے۔

اہم فیصلہ

بورڈ آف ریونیو نے سابقہ حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کر لی اور قرار دیا کہ پہلے فوت ہونے والے بیٹے یا بیٹی کی اولاد قانون کے مطابق مورث کی جائیداد میں اپنے والد یا والدہ کا حصہ حاصل کرنے کی حقدار ہے۔

حوالہ: Mst. Bibi Kashaf v. Syed Pir Ameer Ali Shah and others, 2026 C I. C. 851 (Board of Revenue, Sindh).

#وراثت #دفعہ4

19/08/2026

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا: پرنسپل یا اٹارنی کی وفات کے بعد متعلقہ پاور آف اٹارنی بے کار ہو جاتا ہے۔
پاور آف اٹارنی، سمجھوتہ اور اصولِ استاپل: لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
مقدمے کا پس منظر
درخواست گزار نے بورڈ آف ریونیو پنجاب کی کارروائی کو چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں متنازعہ اراضی کا انتقال مدعا علیہ کے حق میں کیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے انتقال اور اس کی بنیاد بننے والے سمجھوتے کی حیثیت پر اعتراض کیا۔
12 کروڑ روپے وصول کرکے سمجھوتے پر دستخط
ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار نے دیگر افراد کے ساتھ سمجھوتہ نامے پر دستخط کیے اور اس کے عوض 12 کروڑ روپے وصول کیے۔ بعد ازاں اسی سمجھوتے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے انتقال کو چیلنج کرنے کی کوشش کی گئی۔
اصولِ استاپل کا اطلاق
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ جو شخص کسی سمجھوتے پر دستخط کرکے اس کا فائدہ حاصل کر چکا ہو، وہ بعد میں اپنے سابقہ طرزِ عمل کے برخلاف مؤقف اختیار نہیں کر سکتا۔ درخواست گزار نے نہ تو سمجھوتے کو مناسب قانونی کارروائی کے ذریعے چیلنج کیا اور نہ ہی فراڈ ثابت کیا۔
پاور آف اٹارنی کے بارے میں اہم اصول
عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قرار دیا کہ پرنسپل یا اٹارنی میں سے کسی ایک کی وفات کی صورت میں کسی مخصوص شخص کے حق میں اختیارات تفویض کرنے والا پاور آف اٹارنی بے کار ہو جاتا ہے۔
معاہدہ اور قانونی حق
عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی معاہدہ کسی فریق کے موروثی یا قانونی حق کو متاثر کرتا ہو تو اس کے نفاذ کا سوال الگ قانونی کارروائی میں اٹھایا جا سکتا ہے، لیکن متاثرہ شخص کو اپنے حق کے تحفظ کے لیے مناسب قانونی طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
درخواست گزار کی ناکامی
درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ مدعا علیہ کی جانب سے فراڈ کیا گیا تھا یا درخواست گزار کو مذکورہ کارروائی شروع کرنے کا قانونی حق حاصل تھا۔ اس لیے ہائی کورٹ نے آئینی درخواست میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا۔
فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے آئینی درخواست خارج کردی۔
حوالہ: 2026 MLD 986, Ch. Sadaqat Ali v. Member (Judicial-II), Board of Revenue, Punjab and others, فیصلہ مورخہ 19 نومبر 2025۔

19/08/2026

پاور آف اٹارنی، سمجھوتہ اور اصولِ استاپل: لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
مقدمے کا پس منظر
درخواست گزار نے بورڈ آف ریونیو پنجاب کی کارروائی کو چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں متنازعہ اراضی کا انتقال مدعا علیہ کے حق میں کیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے انتقال اور اس کی بنیاد بننے والے سمجھوتے کی حیثیت پر اعتراض کیا۔
12 کروڑ روپے وصول کرکے سمجھوتے پر دستخط
ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار نے دیگر افراد کے ساتھ سمجھوتہ نامے پر دستخط کیے اور اس کے عوض 12 کروڑ روپے وصول کیے۔ بعد ازاں اسی سمجھوتے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے انتقال کو چیلنج کرنے کی کوشش کی گئی۔
اصولِ استاپل کا اطلاق
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ جو شخص کسی سمجھوتے پر دستخط کرکے اس کا فائدہ حاصل کر چکا ہو، وہ بعد میں اپنے سابقہ طرزِ عمل کے برخلاف مؤقف اختیار نہیں کر سکتا۔ درخواست گزار نے نہ تو سمجھوتے کو مناسب قانونی کارروائی کے ذریعے چیلنج کیا اور نہ ہی فراڈ ثابت کیا۔
پاور آف اٹارنی کے بارے میں اہم اصول
عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قرار دیا کہ پرنسپل یا اٹارنی میں سے کسی ایک کی وفات کی صورت میں کسی مخصوص شخص کے حق میں اختیارات تفویض کرنے والا پاور آف اٹارنی بے کار ہو جاتا ہے۔
معاہدہ اور قانونی حق
عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی معاہدہ کسی فریق کے موروثی یا قانونی حق کو متاثر کرتا ہو تو اس کے نفاذ کا سوال الگ قانونی کارروائی میں اٹھایا جا سکتا ہے، لیکن متاثرہ شخص کو اپنے حق کے تحفظ کے لیے مناسب قانونی طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
درخواست گزار کی ناکامی
درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ مدعا علیہ کی جانب سے فراڈ کیا گیا تھا یا درخواست گزار کو مذکورہ کارروائی شروع کرنے کا قانونی حق حاصل تھا۔ اس لیے ہائی کورٹ نے آئینی درخواست میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا۔
فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے آئینی درخواست خارج کردی۔
حوالہ: 2026 MLD 986, Ch. Sadaqat Ali v. Member (Judicial-II), Board of Revenue, Punjab and others, فیصلہ مورخہ 19 نومبر 2025۔

Address

Jail Road
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 489F cheque posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category