23/06/2026
آخری موقع کے بعد مزید مہلت نہیں دی جا سکتی — آرڈر XVII رول 3 CPC کی لازمی پابندی
⚖️ تعارف
PLJ 2025 Civil (Note) 53 میں عدالت نے آرڈر XVII رول 3 ضابطۂ دیوانی (CPC) کی اہم تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ ایک تعزیری (Penal) شق ہے، جس کا اطلاق سختی سے کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی فریق کو ثبوت پیش کرنے کے لیے آخری موقع دیا جا چکا ہو اور اسے نتائج سے بھی خبردار کیا گیا ہو، تو اس کے بعد مزید مہلت دینا قانون کے منافی ہے۔
📌 فیصلے کے اہم نکات
⚖️ آرڈر XVII رول 3 CPC ایک تعزیری شق ہے، اس لیے اس کی سخت تشریح ضروری ہے۔
⚖️ جب کسی فریق کا معاملہ اس شق کے دائرہ کار میں آ جائے تو اسے مزید رعایت نہیں دی جا سکتی۔
⚖️ عدالت اپنی صوابدیدی طاقت استعمال کرتے ہوئے بھی غیر ضروری مہلت نہیں دے سکتی۔
⚖️ "مقدمہ میرٹ پر فیصلہ ہونا چاہیے" کا اصول وہاں لاگو نہیں ہوتا جہاں آرڈر XVII رول 3 CPC واضح طور پر نافذ ہو رہا ہو۔
⚖️ قانون پر عمل کرنا محض تکنیکی کارروائی نہیں بلکہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4 کے تحت عدالت کی آئینی ذمہ داری ہے۔
⚖️ جب عدالت کسی فریق کو "آخری موقع" دیتی ہے تو یہ ایک عدالتی حکم ہوتا ہے جس پر عمل درآمد لازمی ہے۔
⚖️ آخری موقع دینے کے بعد مزید التواء دینا عدالتی حکم اور قانون دونوں کے خلاف ہے۔
⚖️ اگر آخری موقع کے باوجود ثبوت پیش نہ کیے جائیں تو عدالت کے پاس کارروائی کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔
⚖️ آخری موقع کے ساتھ دی گئی وارننگ کو ہر صورت نافذ کرنا عدالت کی ذمہ داری ہے۔
⚖️ آخری موقع اور واضح وارننگ کے باوجود ثبوت پیش نہ ہونے پر حقِ شہادت بند کرنا لازمی ہے۔
⚖️ ایسے حالات میں مزید مہلت دینا قانون کی روح اور عدالتی نظم و ضبط کے خلاف ہے۔
⚖️ اس اصول کا مقصد مقدمات میں غیر ضروری تاخیر اور بار بار التواء کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
📖 خلاصۂ فیصلہ
عدالت نے قرار دیا کہ جب کسی فریق کو آخری موقع دے کر واضح طور پر خبردار کر دیا جائے کہ آئندہ تاریخ پر ثبوت پیش نہ کرنے کی صورت میں اس کا حقِ شہادت بند کر دیا جائے گا، تو پھر عدالت مزید مہلت نہیں دے سکتی۔ ایسی صورت میں حقِ شہادت بند کرنا لازمی ہوگا تاکہ عدالتی احکامات کی پابندی اور قانون کی بالادستی برقرار رہے۔
⚖️ قانونی اصول
جب کسی فریق کو آخری موقع دے کر نتائج سے خبردار کر دیا جائے اور وہ پھر بھی ثبوت پیش نہ کرے تو عدالت لازماً اس کا حقِ شہادت بند کرے گی اور مزید مہلت نہیں دے گی۔
hashtags