22/08/2026
غلام یاسین ایک شیعہ مسلمان تھے اور ان کے پاس تقریباً 600 کنال ایک مرلہ زمین تھی۔ ان کی ایک ہی بیٹی، مسماۃ حسینہ بی بی، تھی جبکہ انہوں نے اپنی بیوی کو اپنی زندگی میں طلاق دے دی تھی۔
غلام یاسین نے وفات سے کچھ عرصہ پہلے ایک وصیت نامہ تحریر کیا جس میں واضح کیا کہ وہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی تدفین شیعہ طریقے کے مطابق کی جائے اور ان کی بیٹی ہی ان کی واحد قانونی وارث ہے۔
مرحوم کے بعض رشتہ داروں نے اس وصیت کو جعلی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ غلام یاسین سنی تھے اور آخری دنوں میں منہ کے کینسر میں مبتلا ہونے کی وجہ سے بات بھی نہیں کر سکتے تھے۔
عدالت میں بیٹی نے وصیت نامہ، اس کے کاتب اور گواہوں کو پیش کیا۔ متعدد گواہوں نے بھی تصدیق کی کہ غلام یاسین وفات تک شیعہ مسلک اختیار کر چکے تھے۔ مخالفین مرحوم کے منہ کے کینسر یا وصیت کے وقت بولنے سے معذوری کا کوئی طبی ریکارڈ پیش نہ کر سکے۔
عدالت نے قرار دیا کہ کسی شخص کا پیدائشی طور پر سنی ہونا اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ بعد میں شیعہ مسلک اختیار کرے۔ اسلامی قانون کے مطابق بالغ مسلمان اپنا مسلک تبدیل کر سکتا ہے اور پھر نئے مسلک کے قانون کے تابع ہوتا ہے۔
چونکہ غلام یاسین کی واحد بیٹی فرسٹ کلاس کی وارث تھی جبکہ مخالفین تیسرے درجے کے دور کے رشتہ دار تھے، اس لیے بیٹی نے انہیں وراثت سے خارج کر دیا۔
آخرکار پشاور ہائی کورٹ، ڈی آئی خان بینچ نے ماتحت دونوں عدالتوں کے فیصلوں کو درست قرار دیتے ہوئے نظرثانی کی درخواست خارج کر دی۔
اہم نکات
اہم نکتہ 1: بالغ مسلمان اپنا مسلک تبدیل کر سکتا ہے اور پھر نئے مسلک کے قانون کے تابع ہوتا ہے۔
اہم نکتہ 2: جس فریق نے کسی حقیقت کا دعویٰ کیا، اسے اس دعوے کا ثبوت بھی دینا ہوگا۔
اہم نکتہ 3: مرحوم کے منہ کے کینسر اور وصیت کے وقت بولنے سے معذوری کا کوئی طبی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا، اس لیے یہ اعتراض ثابت نہ ہو سکا۔
اہم نکتہ 4: وصیت کے کاتب اور گواہوں کی شہادت سے وصیت ثابت ہوئی۔
اہم نکتہ 5: شیعہ قانونِ وراثت میں قریبی درجے کا وارث دور کے وارث کو خارج کر دیتا ہے۔
اہم نکتہ 6: مرحوم کی اکلوتی بیٹی فرسٹ کلاس کی وارث تھی، جبکہ درخواست گزار تیسرے درجے کے دور کے رشتہ دار تھے۔
اہم نکتہ 7: عدالت نے دونوں ماتحت عدالتوں کے متفقہ فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں پائی۔
عدالتی فیصلہ
پشاور ہائی کورٹ، ڈی آئی خان بینچ نے قرار دیا کہ مرحوم کا شیعہ مسلک اختیار کرنا ثابت تھا، وصیت بھی ثابت ہوئی اور اکلوتی بیٹی قریبی درجے کی وارث ہونے کی وجہ سے دور کے رشتہ داروں کو وراثت سے خارج کرتی ہے۔ چنانچہ نظرثانی کی درخواست میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے خارج کر دی گئی۔