Best Pakistani Lawyers

Best Pakistani Lawyers Best Pakistani Lawyers Law Firm Overview

A&A LAW Associates is a Top Law firm of Pakistan, having its head office at Lahore.

Our firm has excelled in the field Law since its i

29/04/2026

..if any friend have number of this reporter please share
لاہور ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ حبس اور انسانی سانسوں کی گرمی نے فضا کو بوجھل بنا رکھا تھا، لیکن اس بوجھل پن میں ایک عجیب سی چہل پہل اور جوش و خروش چھپا تھا۔ میں، جو برسوں سے کورٹ رپورٹنگ کے کٹھن کام سے وابستہ ہوں، اپنی ڈائری تھامے ایک کونے میں کھڑا تھا۔ آج کا دن شاید تاریخ میں ایک الگ باب رقم کرنے والا تھا۔

جسٹس خالد اسحاق صاحب نے ابھی کرسی سنبھالی ہی تھی کہ درجنوں سائلین، بیوائیں، مظلوم قیدی اور برسوں سے انصاف کے منتظر بوڑھے باپ اپنی عرضیاں سینے سے لگائے پرامید نظروں سے دیکھنے لگے۔ مگر اچانک عدالت کا رخ ایک ایسی سمت مڑ گیا جس کا کوئی انسان تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

ترجیحات کا المیہ: انسان بمقابلہ کتا
عدالت میں موجود سب سے پہلا کیس جو پکارا گیا، وہ کسی مظلوم کی فریاد نہیں تھی، نہ ہی کسی بے گناہ کی رہائی کا پروانہ۔ وہ کیس تھا "کتوں کی فلاح و بہبود" کا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے نامور قانون دان اور پیپلز پارٹی سے وابستہ ایک خاتون وکیل، جو انسانی حقوق کے بجائے آج "سگ حقوق" کی چیمپئن بن کر آئی تھیں، روسٹرم پر کھڑی ہو گئیں۔

عدالت کا ماحول بدلا ہوا تھا۔ جج صاحب کے چہرے پر ان کیسوں کے برعکس ایک خاص قسم کی دلچسپی اور مسرت تھی جو عام طور پر قتل یا چوری کے مقدمات میں مفقود ہوتی ہے۔ جج صاحب نے ریمارکس دیے:

"کتوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے فلاں خاتون ڈی ایس پی کی کارکردگی اور تجربہ مثالی ہے۔ وہ ایک قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں، ہمیں اس کیس میں ان کی ماہرانہ رائے اور مدد لینی چاہیے۔"

میں دنگ رہ گیا۔ میرے اردگرد کھڑے وہ لوگ جن کی زندگیوں کے فیصلے برسوں سے لٹکے ہوئے تھے، ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ کیا اس ملک میں کتا ہونا، انسان ہونے سے زیادہ معتبر ٹھہرا؟

نظامِ عدل کا تازیانہ
کتوں کی فلاح و بہبود پر تفصیلی گفتگو اور احکامات کے بعد باری آئی ایک "انسان" کی۔ ایک سائل، جس کے چہرے پر تھکن اور آنکھوں میں برسوں کی بے خوابی تھی، آگے بڑھا۔ اس نے بڑے ادب سے گزارش کی:

"جنابِ عالی! میرا کیس کافی عرصے سے التوا کا شکار ہے، میری زندگی بیت رہی ہے، براہِ کرم اس کی جلد سماعت کا حکم فرما دیں۔"

ابھی اس کے الفاظ پورے بھی نہ ہوئے تھے کہ عدالت کا جاہ و جلال جو تھوڑی دیر پہلے کتوں کے ذکر پر نرم تھا، اچانک غیظ و غضب میں بدل گیا۔ جج صاحب نے فرمایا کہ عدالت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ ہر ادارے کو ڈائریکشن دیتی پھرے، اور اس "گستاخی" کی پاداش میں اس غریب سائل پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا تاکہ وہ دوبارہ عدالت کا وقت ضائع کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔

کاش میں کتا ہوتا!
عدالت برخاست ہوئی، اور روزانہ کی طرح درجنوں کیسز 'لیفٹ اوور' (Left Over) ہو گئے۔ وہ سائلین جو دور دراز کے شہروں سے کرایہ ادھار لے کر آئے تھے، ایک بار پھر نئی تاریخ کا بوجھ کندھوں پر لادے باہر نکلنے لگے۔

میں نے دیکھا کہ وہ شخص جس پر 50 ہزار کا جرمانہ ہوا تھا، ہائی کورٹ کی سیڑھیوں پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے، بلکہ ایک وحشت تھی۔ اس نے میری طرف دیکھا اور بھری ہوئی آواز میں کہا:

"صاحب! کاش میں اس ملک میں انسان نہ ہوتا، کاش میں کتا ہوتا!"

اس کے الفاظ میرے کانوں میں ہتھوڑوں کی طرح لگے۔

"کاش میں کتا ہوتا، تو آج میرا کیس بھی پہلے نمبر پر پکارا جاتا۔"

"کاش میں کتا ہوتا، تو ملک کے نامور وکیل میری فلاح و بہبود کے لیے مفت میں بحث کر رہے ہوتے۔"

"کاش میں کتا ہوتا، تو جج صاحب میری حالت پر ہمدردی جتاتے اور کسی ڈی ایس پی کو میری خدمت پر مامور کرتے۔"

ایک تلخ حقیقت
یہ صرف ایک کہانی نہیں، اس نظامِ انصاف کا نوحہ ہے جہاں جانوروں کے حقوق کے لیے تو فوری عدالتیں لگتی ہیں، مگر انسان انصاف مانگتے مانگتے قبرستان پہنچ جاتا ہے۔ جہاں انصاف مانگنا "جرم" قرار پائے اور 50 ہزار کا جرمانہ مقدر بن جائے، وہاں انسان کا اپنے وجود پر شرمندہ ہونا فطری ہے۔

دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں انسانوں کی چیخیں 'لیفٹ اوور' کی نذر ہو جاتی ہیں اور کتوں کی خوراک و رہائش پر گھنٹوں بحث ہوتی ہے۔

پاکستان کے اس نظامِ عدل میں اگر آپ انسان ہیں، تو آپ کو اپنی باری کا انتظار کرنا ہوگا، ذلیل ہونا ہوگا اور شاید جرمانہ بھی بھرنا ہوگا۔ لیکن اگر آپ خوش قسمتی سے "کتا" ہیں، تو مبارک ہو، آپ وی آئی پی ہیں اور پورا عدالتی نظام آپ کی فلاح کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

آج اس رپورٹر کا قلم بھی شرمندہ ہے اور ضمیر بھی زخمی۔ ---(اسلم راہی کورٹ رپورٹر )

10/03/2026

ایران اپنے بیلسٹک میزائل کس طرح فائر کرتا ہے؟

ویڈیو میں جو دکھایا جاتا ہے اس کے برعکس، عام طور پر صرف 2 سے 3 میزائل لانچرز بیس سے نکلتے ہیں اور قریب کے لانچ پوائنٹس کی طرف جاتے ہیں۔

تقریباً 5 سے 10 منٹ کے اندر میزائل فضا میں جا چکے ہوتے ہیں، اور لانچرز دوبارہ بیس کی طرف واپس آ جاتے ہیں۔

اگر قریب کوئی امریکی یا اسرائیلی ڈرون موجود نہ ہو جو بروقت خبردار کر سکے، اور کوئی تیز رفتار طیارہ فوری مداخلت کے لیے دستیاب نہ ہو، تو انہیں روکنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

اگر آپ دیر سے ردِعمل دیں — یعنی جب میزائل پہلے ہی فضا میں جا چکے ہوں — تو اس وقت تک لانچرز وہاں سے نکل کر فرار ہونا شروع ہو چکے ہوتے ہیں۔

یہ ایک مہلک “بلی اور چوہے کا کھیل” ہے:
امریکہ کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ مغربی یورپ جتنے بڑے ملک میں پھیلے درجنوں میزائل اڈوں کو ہر لمحہ دباؤ میں رکھ سکے۔ ڈرون گرائے جا سکتے ہیں اور انہیں فوری طور پر دوبارہ اسلحہ سے لیس کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔

کبھی کبھی کوئی بیس کئی دن تک خاموش رہتا ہے، پھر اچانک میزائل فائر کر دیتا ہے — جو بالکل غیر متوقع ہوتا ہے۔ اس طرح دشمن کو مسلسل اپنے وسائل استعمال کرنے پر مجبور رکھا جاتا ہے۔

10/03/2026

As things kept getting worse, Trump is now blaming Hegseth, Jared, Witkolf and even Rubio for a decision to attack Iran.

He’s throwing them under the bus. Pretty amazing.
#الامارات #السعودية

10/03/2026

Israelis no longer receiving proper warnings of Iranian strikes.

Iran has wiped out the entire US THAAD and Patriot radar system in the Gulf using $50k drones. It will cost billions and take a decade to replace.

#الامارات #السعودية

10/03/2026

The true size of Israel

‎ ‎ ‎ ‎ ‎ ‎ ‎ #الامارات ‎ ‎ ‎ #السعودية ‎ ‎ ‎ ‎

10/03/2026

Hundreds of men murdered on an unarmed ship thousands of miles from
Iran.

Trump: "I said, 'Why don't we just capture the ship? He said, 'It's more fun to sink them."

These are war crimes and they laugh like it's a computer game.

#الامارات #السعودية

10/03/2026

The Iran war is not going as Donald Trump had expected."

explains how the U.S. president's shifting justifications and expectations for a quick resolution to the Iran conflict have cost him support beyond his loyal base.

#الامارات #السعودية

Address

69 The Mall Road Sadiq Plaza Suite # 9 First
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Best Pakistani Lawyers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Best Pakistani Lawyers:

Shortcuts

Share