10/03/2026
ایران اپنے بیلسٹک میزائل کس طرح فائر کرتا ہے؟
ویڈیو میں جو دکھایا جاتا ہے اس کے برعکس، عام طور پر صرف 2 سے 3 میزائل لانچرز بیس سے نکلتے ہیں اور قریب کے لانچ پوائنٹس کی طرف جاتے ہیں۔
تقریباً 5 سے 10 منٹ کے اندر میزائل فضا میں جا چکے ہوتے ہیں، اور لانچرز دوبارہ بیس کی طرف واپس آ جاتے ہیں۔
اگر قریب کوئی امریکی یا اسرائیلی ڈرون موجود نہ ہو جو بروقت خبردار کر سکے، اور کوئی تیز رفتار طیارہ فوری مداخلت کے لیے دستیاب نہ ہو، تو انہیں روکنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔
اگر آپ دیر سے ردِعمل دیں — یعنی جب میزائل پہلے ہی فضا میں جا چکے ہوں — تو اس وقت تک لانچرز وہاں سے نکل کر فرار ہونا شروع ہو چکے ہوتے ہیں۔
یہ ایک مہلک “بلی اور چوہے کا کھیل” ہے:
امریکہ کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ مغربی یورپ جتنے بڑے ملک میں پھیلے درجنوں میزائل اڈوں کو ہر لمحہ دباؤ میں رکھ سکے۔ ڈرون گرائے جا سکتے ہیں اور انہیں فوری طور پر دوبارہ اسلحہ سے لیس کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی کوئی بیس کئی دن تک خاموش رہتا ہے، پھر اچانک میزائل فائر کر دیتا ہے — جو بالکل غیر متوقع ہوتا ہے۔ اس طرح دشمن کو مسلسل اپنے وسائل استعمال کرنے پر مجبور رکھا جاتا ہے۔